3

مشورہ حاضر ہے!

سفید بال

میری عمر اکیس سال ہے۔ میرے آدھے سے زیادہ بال سفید ہوچکے ہیں۔ میری منگنی ہوچکی ہے اور پریشان ہوں کہ کب تک سر چھپاؤں گی؟ بال رنگنا بھی نہیں چاہتی۔ میرا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ (ش-الف)

lبال کئی وجوہ کی بنا پر سفید ہوتے ہیں۔ پریشانی، غم، صدمے اور حادثے سے بھی بال سفید ہونے لگتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو وراثت میں بھی ملتے ہیں۔ وٹامن اے اور ڈی کی کمی اور نزلہ زکام بھی اس کی وجہ ہوتی ہے۔ کئی نوجوانوں کو دیکھا کہ صدمے یا حادثے سے ان کے بال یکدم سفید ہوگئے۔ بہرحال اچھا تیل لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ بھارت میں برسوں سے ایک خاص تیل مستعمل ہے۔ آپ بھی بناکر آزمائیےرتن جوت، مہندی کے پتے، بھنگرہ کے پتے، آم کی سوکھی گٹھلی اور آملہ اسّی اسّی گرام، چندن کا برادہ بیس گرام اور سوا کلو سرسوں کا تیل۔

تیل کے علاوہ سب اشیا ہاون دستے میں باریک کوٹ کر لوہے کی کڑاہی میں ڈال دیں۔ پانی اتنا ڈالیے کہ دو انگلی بھر اونچا رہے۔ دودن کے لیے بھیگنے دیں۔ تیسرے دن پانی ابلنے رکھ دیں۔ اچھی طرح جوش آجائے تو اتارلیں۔ پانی چھلنی سے چھانئے پھر تیل ملا کر پکائیے۔ نیز صبح شام ایک عدد آملے کا مربہ کھائیں۔

ثابت گیہوں پانی میں ابال کر رکھ لیجیے۔ ناشتے میں تھوڑے سے گیہوں دودھ کے ساتھ پکاکر دلیے کی طرح کھائیے۔ غذا میں تھوڑے سے تل شامل کیجیے۔ دوسرے تیسرے دن میتھی پکاکر کھائیے۔ بند گوبھی، ککڑی سلاد اور غذا میں شامل کریں۔

مزید براں کسٹرائل میں ایک چمچ چندن کا برادہ، ایک چمچ کافی، ایک چمچ بھنگرے کا عرق اور ایک چمچ پسے آملے ملا کر ہلکی آنچ پرپکائیے۔ پانچ سات منٹ بعد اتار کر ٹھنڈا ہونے دیں۔ پھر چھان کر رکھ لیں۔

ایک چمچ سرسوں کا تیل اور ایک چمچ درج بالا تیل ملا کر رات کو بالوں کی جڑوںمیں ہلکا نیم گرم لگائیے اور صبح سر دھولیجیے۔ نوجوانی میں بال سفید ہونے کی شکایت ہومیوپیتھی سے بھی دور ہوجاتی ہے۔کسی اچھے ہومیوپیتھی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ناخن خراب ہورہے ہیں

میرے ناخن پہلے ٹھیک تھے، اب چند ماہ سے ان میں کھردار پن آگیا ہے اور وہ جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔ نیل پالش لگاؤں تو یہ بدنمائی چھپ جاتی ہے۔ کوئی ٹوٹکا بتائیے جس سے ناخن پہلے کے مانند صحیح ہوجائیں۔

بی بی! آپ نیل پالش لگانے کے بعد اسے لوشن سے اتارتی ہوں گی۔ بارہا یہ عمل دہرانے سے ناخنوں کی سطح کمزور ہوجاتی ہے۔ دوسرے نیل پالش مسلسل لگی رہے تو ناخنوں کی چمک ختم ہوجاتی ہے۔ آپ ایک دو ہفتے کے لیے نیل پالش نہ لگائیے تاکہ انہیں تازہ ہوا لگے۔ بادام کے تین چمچ تیل میں آدھا لیموں نچوڑ کر رکھئے۔ روئی سے ناخنوں پر اچھی طرح تیل لگائیے۔ انہیں غذایت ملی گی۔ کیلشیم کھائیے، یہ بھی مفید ہے۔ ایک دیسی ٹوٹکا یہ ہے کہ مہندی کے پتے پیس لیں مگر اس میں پانی کے بجائے پھلوں کا سرکہ ڈالیے اور ناخنوں پر لگائیے۔ ہفتے میں ایک بار کافی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ چھ ثابت لہسن لے کر شیشے کے پیالے میں بھگوئیے۔ پانی لہسن سے ایک انگلی اوپر رہے۔ اگلے دن لہسن چھیل لیجیے۔ یوں بھی ناخن مضبوط ہوتے ہیں۔

زیتون کے تیل میں دو تین قطرے لیموں کا رس ملا کر ناخنوں پر لگائیے۔ کپڑے وغیرہ دھونے کے بعد لگائیے تو بہتر ہے۔ خوراک میں ہری سبزیاں، موسمی پھل، دودھ، پنیر، دہی اور کیلا شامل کیجیے۔ خیال رہے کہ نیل پالش لگی رہے، تو وضو نہیں ہوتا۔ ہم لوگ مسلمان ہیں، پھر نہ جانے کیوں خواتین ایسی چیزیں استعمال کرتی ہیں جن کے باعث عبادت نہیں ہوپاتی۔ تقریبات میں لگائیے پھر اتاردیجیے۔ یاد رہے ناخن میں پھپھوندی لگ جائے تو مشکل سے ٹھیک ہوتی ہے۔

چہرے پر جھریاں

میں دو تین ماہ بیمار رہا۔ پہلے میرا چہرہ بالکل ٹھیک تھا، اب دبلا ہونے سے اس پر جھریاں پڑگئی ہیں۔ سب لوگ ’بابا‘ کہہ کر چھیڑتے ہیں حالانکہ میری عمر بائیس سال ہے۔ میرا چہرہ کیسے ٹھیک ہوگا؟

آپ تو ماشاء اللہ نوجوان ہیں، پھر کیوں فکر کرتے ہیں؟ بیماری کے باعث چہرہ اکثر مرجھا جاتا ہے۔ آپ تازہ پھل کھائیے، خصوصاً کیلے۔ صحت ٹھیک ہوگی تو چہرہ بھرجائے گا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ پریشانی سے جھریاں بڑھ جائیں گی۔ صبح سویرے نماز پڑھ کر سیر کیجیے۔ گیہوں کا دلیہ دودھ میں پکا کر ناشتا کیجیے۔ اس میں شہدڈال لیں تو زیادہ بہتر ہے۔ شہد کمزوری کا بہترین علاج ہے۔ آپ صبح شام شہد کھائیے اور ڈاکٹر سے مشورہ کرکے کوئی دوا تجویز کرائیے۔

پپیتہ مل جائے تو پکے پھل کا گودا دو چمچ لے کر اسے خوب گودئیے پھر چہرے پر لیپ کردیں۔ پندرہ منٹ تک لگائیے پھر تازہ پانی سے منہ دھولیں۔ دو ہفتے لگاکر دیکھئے، چہرے کی جلد صاف ہوجائے گی۔ نیز جھریوں سے بھی چھٹکارا ملے گا۔

سیاہ شہتوت کا شہد

میرے دوست نے سیاہ شہتوت کا شہد لاکر دیا ہے۔ اس کا رنگ گہرا مٹیا لا ہے۔ اس شہد کے کیا فائدے ہیں؟ یہ نقصان تو نہیں دے گا؟ (حامد میر)

اس شہد کے بہت سے فوائد ہیں مثلاً گلے کی بیماریوں میں اکسیر ہے اورخون پیدا کرتا ہے، سیاہ شہتوت پیاس دور کرتا اور دماغ کو متاثر کرنے والی گیس سے چھٹکارا دلاتا ہے۔ ورم حلق کے لیے بے انتہا مفید ہے۔ دیہاتی شہتوت کے پتے ابال کر اس سے غرارے کرتے ہیں۔ پانی نیم گرم ہونا چاہیے۔ یوں گلے کے ورم، درد اور مسوڑھوں کی تکلیف میں افاقہ ہوتا ہے۔ آپ اسے قدرت کا تحفہ سمجھ کر ضرور کھائیے، نقصان نہیں ہوگا۔

دماغ اور نظر کی کمزوری

میرے چھ بہن بھائی ہیں۔ ہمیں شاید وراثت میں دماغی کمزوری ملی ہے۔ اوائل عمر ہی میں سبھی کو عینک لگ گئی اور اعصابی کمزوری کی وجہ سے زیادہ کام بھی نہیں کرسکتے۔ میرے والدین کا دماغ بھی کمزور تھا۔ اب ہماری شادیاں ہوچکی ہیں، کیا ہمارے بچے اس موروثی بیماری سے بچ سکتے ہیں؟ (لیاقت حسین)

دماغ اور بصارت کی کمزوری میں بادام مفید ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ بادام سات سے گیارہ کے درمیان ہوں، اس سے زیادہ کھانا مناسب نہیں۔ گلے میں بلغم رہے اور ہر وقت گلا صاف کرنا پڑے، تو تین بادام اور تین کالی مرچ خوب چبا کر صبح کی نماز کے بعد کھائیے۔اوائل عمری سے یہ عمل شروع کیا جائے تو دماغی اور اعصابی کمزوری نہیں چمٹتی اور نظر بھی صحیح رہتی ہے۔ آپ بچوں کو یہ بے ضرر نسخہ استعمال کرائیے، فائدہ ہوگا۔

رات کو بادام کے سات دانے ایک گلاس پانی میں بھگوئیے، اس میں تین عدد انجیر بھی ڈال دیجیے۔ صبح انجیر اور بادام باری باری چبائیے، آخر میں بچا ہوا پانی پی لیجیے۔ یہ نسخہ دماغی کمزوری دور کرکے اعصاب مضبوط کرتا ہے۔ آپ سب بہن بھائی استعمال کیجیے۔ بچوں کو تین بادام اور کالی مرچ کھلائیے۔ کہنے کو بادام معمولی چیز ہے، مگر اس کے فوائد بہت ہیں۔ برہمی بوٹی بھی حافظے کے لیے اچھی ہے۔

بچہ بہت روتا ہے

میرا بچہ بہت روتا ہے۔ میرے سوا گھر میں کوئی بھی نہیں جو اسے سنبھال سکے۔ شوہر شام کو آتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ بچے روتے کیوں ہیں اور انہیں کیسے چپ کرایا جائے؟ چھ ماہ کا صحت مند بچہ ہم دونوں کو تھکا دیتا ہے۔ اسے کیسے سنبھالنا ہے؟

بچے پالنا آسان نہیں، ماں کا درجہ اسی لیے بلند ہے۔ بچے یوں ہی نہیں روتے، کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ دودھ پلانے کے بعد آپ اسےکندھے سے لگا کر آہستہ آہستہ تھپکی دیں تاکہ ڈکار آجائے۔ ڈکار رک جائے تو بچے روتے ہیں اور پیٹ میں درد ہو تب بھی۔ بھوکا بچہ بھی دہائی دیتا ہے۔ بچے دانت نکالتے ہوئے بھی چڑچڑے ہوجاتے ہیں ۔ بازار سے تھوڑا سا سہاگا منگائیے، پنساری سے ملے گا۔ توا گرم کرکے سہاگا ڈال دیں۔ پھول کر سفید ہوجائے گا۔ اتار کر کسی بوتل میں محفوظ کرلیں، چٹکی بھر سہاگا آدھی چمچی شہد میں ملا کر بچے کو چٹائیے۔ مسوڑھوں پر بھی مل دیجیے۔ بچے کا ہاضمہ درست رہے گا۔

بچے کو گیلا مت رہنے دیں، وہ تب بھی روتا ہے۔ بچے کو تھوڑی تھوڑی ٹھوس غذا دینی شروع کیجیے۔ آپ کی تھوڑی سی احتیاط بچے کو رونے نہیں دے گی۔

آواز خراب ہوگئی

کھٹی چیزیں کھانے سے میری آواز عجیب سے ہوگئی ہے اور کسی طرح ٹھیک نہیں ہورہی ہے۔ (محمد سلیم)

کھٹی اشیاء تو لڑکیاں کھاتی ہیں، آپ نے کیوں کھالیں؟ بہرحال دو پہر کو تین چھوارے تھوڑے سے پانی میں بھگوئیے۔ رات کو ایک گلاس دودھ میں چھوارے ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیے۔ خوب گل جائیں تو سوتے وقت کھالیجیے۔ اس کے بعد کچھ نہ کھائیے، نہ پانی پیجئے۔ چھ سات دن کھائیے۔ ملیہٹی، خولنجان اور مصری کے علیحدہ موٹے دانے گھر میں رکھیے، تھوڑی ملیہٹی ، خولنجان اور مصری منہ میں رکھ لیں۔ آہستہ آہستہ چوستے رہیں، اس سے بھی آواز صاف ہوتی ہے۔ آئندہ کھٹی اشیا نہ کھائیے، ورنہ آواز بالکل خراب ہوجائے گی۔ زیادہ گرم اور ٹھنڈا کھانے سے بھی پرہیز کیجیے۔ کچھ لوگ گرم کھانا کھاکر پانی پئیں، تب بھی آواز خراب ہوجاتی ہے۔

دمے کا مرض

دمے کے سلسلے میں کئی خط آئے ہیں۔ یہ اصحاب ساٹھ سال سے زائد عمر کے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ گھریلو ٹوٹکوں سے آرام نہیں آسکتا، آپ سب باقاعدہ علاج کرائیے۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور حکیم صاحبان سے رابطہ کیجیے۔

غذا کا خاص خیال رکھیں اور ٹھنڈی و ترش اشیاء نہ کھائیں۔ صبح کی نماز پڑھ کر سیر کیجیے اور جب سورج طلوع ہونے لگے تو ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں وہ بالکل سامنے رہے۔ اب الٹا نتھنا انگلی سے بند کرکے سیدھے نتھنے سے گہرا سانس لیں۔ کچھ لمحے سانس اندر رہنے دیں اور پھر آہستہ آہستہ خارج کردیں۔ دس دفعہ ایسا کیجیے پھر سیدھا نتھنا بند کرکے الٹے نتھنے سے سانس لیں، روکیں اور پھر آہستہ آہستہ نکال دیں۔ آخر میں دونوں نتھنوں سے سانس لے کر نکال دیجیے۔ سانس کی اس ہلکی سی ورزش سے سینہ مضبوط ہونے کے علاوہ توانائی کا احساس ہوگا۔ لیکن یہ عمل صرف سورج نکلنے کے وقت کرنا ہے، بعد میں فائدہ نہیں ہوگا۔

علم النفس کے ماہر یوگی آج بھی اس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان پر موسم اثر انداز نہیں ہوتا۔ وہ سانس کی آمدورفت اپنے بس میں کرلیتے ہیں۔ ویسے بھی دمے کے مریضوں کو گہرے سانس لینے چاہئیں تاکہ تکلیف نہ ہو۔ علاج باقاعدگی سے کرائیے، اللہ تعالیٰ شفا دینے والا ہے۔ آپ کو شہد موافق آتا ہے، تو اسے روز مرہ غذا میں شامل کیجیے۔ اس میں تھوڑی سی دار چینی ملا لیجیے۔ گندم کی بھوسی ایک گلاس پانی میں ابلنے رکھ دیجیے۔ بعد ازاں ایک چٹکی کلونجی اور بانسہ (اروسہ) تین چار پتے ڈالیے۔ پانی خوب ابل جائے تو اسے چھانیے اور شہد ملا کر پی لیجیے۔ دو ہفتے استعمال کرکے دیکھئے، میتھی دانے کی چائے بھی مفید ہے۔

گرائنڈر کی بدبو

گرائنڈر میں لہسن پیاز پیسنے کے بعد اس میں ان کی بدبو رچ جاتی ہے۔ وہ کیسےد ور ہوسکتی ہے؟

کچھ خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ لہسن پیس کر فوراً گرینڈر کا جگ نہیں دھوتیں، یہ بدبوآنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ آپ جگ میں استعمال شدہ پتی ڈال کر تھوڑا سا پانی ڈالیں اور ایک منٹ کے لیے چلادیں، بدبوختم ہوجائے گی۔ پھر تھوڑا سا میٹھا سوڈا لے کر صابن سے جگ دھودیں۔ اسی طرح انڈے کی پلیٹ سے بدبو آتی ہے۔ اسے بھگانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ استعمال شدہ پتی پلیٹ میں ڈال کر کچھ دیر بعد دھولیجیے۔ بچی پتی کے کئی فائدے ہیں۔ مثلاً اس سے غرارے کیے جائیں، تو دکھتے گلے کو آرام آتا ہے۔ سفید چنے ابالتے وقت اس میں ایک چمچی پتی ڈال دیں تو ذائقہ اور رنگ بہتر ہوجاتا ہے۔ استعمال شدہ پتی کے پانی میں مہندی گھولیں تو رنگ بہتر آتا ہے۔

بعض دفعہ زیادہ کام کرنے کے باعث آنکھیں درد کرتی اور سرخ ہوجاتی ہیں۔ تکان دور کرنے کے لیے بھی پتی سے مدد لیجیے۔ ململ کے پرانے کپڑے سے ان کی چھوٹی چھوٹی پوٹلیاں بنالیں(موسم گرما میں یہ پوٹلیاں فریج میں رک دیں)۔ ٹھنڈے پانی میں بھگوکر آنکھوں پر رکھ کر لپیٹ لیں۔ دو تین بار ایسا کرنے سے آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔

لیموں کیسے محفوظ کریں؟

لیموں بہت جلد سوکھ جاتے ہیں، انہیں تازہ اور محفوظ رکھنے کے سلسلے میں کچھ بتائیے۔

آپ لیموں کا رس نکال کر برف جمانے والے سانچے میں ڈالیے، فریج میں محفوظ کرنے کا یہ آسان طریقہ ہے یا شیشے کی بوتل میں ڈال کر تقریباً ایک انچ جتنا زیتون یا سرسوں کا تیل ڈال دیجیے، یا پھر کسی شیشے کے مرتبان میں ٹھنڈا پانی بھر کے لیموں ڈالیے، وہ کئی دن ٹھیک رہیں گے۔ مرتبان فریج میں رکھئے اور تیسرے چوتھے دن پانی بدل دیا کریں۔ جب استعمال کرنے ہوں، تو لیموں ایک بڑے پیالے میں گرم پانی ڈال کر ڈھانپ دیجیے۔ تین گھنٹے بعد انہیں نکال کر عرق نکالیے یا ویسے ہی استعمال کرلیں، کھانے کے قابل ہوجائیں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

تبصرہ کیجیے