3

بھیک اور غربت

ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیاایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجااور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے کے لیے بازاربھیجا،شام کو بھکاری بچہ آٹھ سواور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا۔

اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔دراصل بحیثیت قوم،ہم بھیک مانگنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیںاور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیںاور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی۔

ہمارے علاقے میں جو صد فیصد مسلم علاقہ ہے درجنوں لوگ بھیک مانگتے ہیں۔ ان میں سے اکثر مائیک لگا کر بھیک مانگتے ہیں۔ ایک معذور شخص رکشہ پر پڑا ہوتا ہے اور دوسرا صحت مند اس رکشہ کو کھینچ رہا ہوتا ہے۔ یہاں فقیر وہ نہیں جو رکشہ میں معذوری کی حالت میں پڑا ہے بلکہ اصل میں وہ ہے جو رکشہ کھینچ رہا ہے۔ ایک پورا کاروبار اور گٹھ جوڑ ہے بھیک کے نام پر۔

ہم نے بارہا ان اللہ کے نام پر مانگنے والوں اور بظاہر مسلمان نظر آنے والوں سے بات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ یہ مسلمان حقیقت میں ہیں بھی یا نہیں۔ ہر بار یہی تجربہ ہوا کہ انہیں کلمہ تک معلوم نہیں۔ بات صاف ہے کہ وہ مسلمان کے بھیس میں دوسرے لوگ ہوتے ہیں اور بدنام مسلمانوں کو کرتے ہیں۔ یہی حال نقاب پوش عورتوں کا بھی ہے، جو محض مسجد کے سامنے بھیک مانگنے کے لیے نقاب لگالیتی ہیں حالانکہ وہ مسلمان نہیں ہوتیں۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیںاور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں۔ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد بھی دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنے آجاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تووہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری بھی کرے گا اور اپنے آپ کو خود کفیل بنانے کی کوشش بھی۔

کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ اس طرح لوگوں کی مدد کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں۔ مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر کسی ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں۔

اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں۔ صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔

یاد رکھئے!بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،بلکہ بڑھتی ہے۔خیرات دیں، منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی۔باقی مرضی آپ کی!

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: نظام الدین بدر فاروقی

تبصرہ کیجیے