عورت و مرد

مرد و عورت کے دائرہ کار کا صحیح شعور

جنگ احد ختم ہوگئی اور مسلمان دشمنوں کے سازوسامان پر قبضہ کررہے ہیں، مگر یہ کیاہوا؟ انھوںنے تو پہاڑ کی دوسری جانب سے دوبارہ حملہ کردیا۔ اس وقت رسول پاک ﷺ ان کے حملے کی زد میں ہیں۔ چند پروانے ان گرد حصار دفاع بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں یہ ام عمارہ بھی ہیں جو اس شان سے تلوار چلا رہی ہیں کہ دشمن تتر بتر ہوجاتے ہیں۔ ان کی تلوار زنی کی مہارت کا عالم یہ ہے کہ انھوںنے مشہور شہ سوار اور تلوار زن کی گردن تن سے جدا کردی ہے۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: اس دن میں اپنے دائیں جانب دیکھتا تو ام عمارہ نظر آتی۔ بائیں جانب دیکھتا تو بھی ام عمارہ ہی نظر آتی۔
یہ حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی اور زوجۂ رسولؐ کی بہن اسماء ہیں جو بھری محفل میں وقت کے جابر حجاج بن یوسف کو کھری کھری سنا رہی ہیں اور یہ ہیں حضرت رفیدہ جن کے خیمے حضرت سعد کو رکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ وہ اچھی جراح اور طبیب ہیں تاکہ حضرت سعد کا بہترین علاج کرسکیں۔
سیرت و تاریخ کی کتابوں میں بے شمار ایسی تصویریں ہمیں ملتی ہیں جن کو دیکھ کر ’’عورت کے دائرئہ کار‘‘ کی بحث سمٹتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
ان بیان کردہ تصویروں میں انسان کی اس سلیم فطرت کو مرد اور عورت، دونوں میں بغیر کسی تفریق اور تقسیم کے دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔اسلام کے عطا کردہ مرد اور عورت کے حقوق، گویا وہ آئینہ ہے جس کے ذریعہ ہر انسان اپنی حقیقی فطرت سے واقفیت حاصل کرسکتا ہے۔ آئینہ جیسے صاف وشفاف اور مبنی بر حقیقت ہوتا ہے بالکل و ہی معاملہ ان حقوق کا ہے جو مرد اور عورت کو ان کے اپنے اپنے میدان کار اور ذمہ داریوں سے واقف کراتے ہیں۔اب معاملہ صرف اس شعور اور حکمت کا رہ جاتا ہے جو ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم خود اپنی ترجیحات کو متعین کرسکیں اور اس خاص صورت حال کا مقابلہ بھی کرسکیں جو کسی بھی سماج اور معاشرے کو کسی بھی وقت پیش آسکتی ہیں۔
مردکو نظام خاندان میں قوام کی حیثیت حاصل ہے۔(النساء:34)مرد کی قوامیت سے مراد، خاندانی پس منظر میں ذمہ داریوں کی ادائیگی لی جانی چاہیے۔ رہی بات دنیا کی، جہاں مرد وعورت اپنے خالق و مالک کی فرمانبرداری کررہے ہیں، دونوں ایک ہیں۔ اعمال کی انجام دہی میں مردکی قوامیت کا زیادہ عمل دخل نہیں رہتا۔جو بھی نیک عمل کرے گا، مرد ہوکہ عورت، اس کو اللہ تعالیٰ اپنے اجر وثواب سے نوازتا ہے۔(النحل:97)
دنیا میں نظام خاندان کے بکھرنے یا ٹوٹنے کا ایک اہم سبب مرد اور عورت کے مقام اور حقوق سے متعلق غیر معتدل رویہ ہے۔اس نظام خاندان میں عورت کی حیثیت دوسرے درجے کی متعین کر لی گئی ہے۔اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ اس کے حقوق کی بازیافت کے لیے کہیں اس کو بااختیار (empowered) بنانے کے لیے تو کہیں اس کو آزادی دلانے کے لیے الگ سے کوششیں کی جارہی ہیں۔ اب دنیا میں عورت کا وجود انہیں دو انتہائوں کے درمیان ڈول رہا ہے۔یعنی یا تو عورت دوسرے درجے ہی میں خوش رہے یا پھر مردوں کے شانہ بہ شانہ، آزادی نسواں کا نعرہ بلند کرتے ہوئے، معاشرتی جدوجہد میں لگ جائے۔
ان دونو ں انتہائوں کے کڑوے کسیلے پھل ہی ہیں جو آج نئی نئی شکل وصورت میں سامنے آرہے ہیں۔ گھر میں عورت کی ثانوی حیثیت تسلیم کرنا ہی گھریلو تشدد (domestic violence) کی ایک اہم وجہ ہے۔ لاک ڈائون کی وجہ سے تو گھریلو تشدد میں اچھی خاصی شدت رونما ہوئی جوپچھلے دہے کہ بالمقابل کہیں زیادہ مانی جاتی ہے۔(دی ہندی: 24؍جون 2020 کی رپورٹ)
دوسری جانب عورت کو با اختیار بنانے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس کی وجہ سے گھر سے اس کا تعلق یا تو کمزور ہوگیایا پھر برائے نام رہ گیا۔ اس ضمن میں طلاق اور تنہا مائوں کی کثرت،کام کرنے کی جگہوں پر خواتین کا استحصال، ملازم خواتین کو لے کرمردوں کی بے روزگاری پر تشویش جیسے اموراز خود واضح کرتے ہیں کہ عورت کی حیثیت کے غلط تعین سے سماج کو کس قدر بھاری نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ خواتین پر مظالم اور ان کی حق تلفی سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے ملکی تناظر میںحکومت ہند کے ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیوریو (NCRB) اور عالمی تناظر کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی ویب سائٹس سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
اللہ کے رسولﷺنے عورت کا دائرہ کار متعین فرماکر(المرأۃ راعیۃ—- بخاری و مسلم) اس کو حقیقی معنوں میں بااختیار (empowered) کردیا ہے۔وہ خوب اچھی طرح جان سکتی ہے کہ اس کا مقام‘ مرتبہ اور ذمہ داریوں کا دائرہ کا ر کیا ہے۔پھر اس دائرہ کار کی وضاحت کے بعد یہ بات بھی اچھی طرح سمجھادی گئی کہ مرداور عورت ان معنوں میں ایک نہیں ہیںجن معنوں میں انہیں دنیا ایک سمجھتی ہے یا ان معنوں میں مختلف نہیں ہیں جن معنوں میں انہیں دنیا مختلف سمجھتی ہے۔بلکہ عورت کا صاف وشفاف تصوریہ ہے کہ اس کو مرد کی پسلی سے بنایا گیا ہے۔ عورت، مردکے لیے ہے اور مرد،عورت کے لیے۔ دونوںایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ یعنی مرداور عورت کا جوڑا،ایک دوسرے کے واسطے سکون واطمینا ن کے لئے ہے۔ (الروم:21) سورہ النساء کی پہلی آیت… يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا…کی تفسیر میں امام النسفیؒ فرماتے ہیں:
یعنی اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم ؑ کی پسلی سے پیدا فرمایا اور اس کے بعد دیگر عورتوں کو مردوں کے صلب سے پیدا کیا۔(آیت میں) مِنْ،گویا ایک تمہید ہے (جس کا مطلب ہے کہ یہ عورت)تمہاری ہم جنس ہے کسی اور کی جنس سے نہیں۔اس لحاظ سے یہاں مِنْ بیانیہ بھی ہے اس لئے کہ مرداور عورت، دونوں ہم جنس ہوں تو ہی ان کے درمیان محبت اور سکون قائم رہ سکتاہے۔
عورت کو مرد کی پسلی سے تشبیہ دینے سے مراد یہ کہ وہ صنف نازک مرد کے لیے باعثِ سکون، اطمینان اور راحت ہے۔جس طرح پسلیاں سارے جسم کے اعتدال اور سکون میں رہنے کا باعث بنتی ہیں، جیسے وہ دل کی حفاظت کرتی ہیں، ایک عورت کا مرد کی زندگی میں بھی وہی رول ہوتا ہے۔اس سے مراد یہ بات بھی لی جاسکتی ہے کہ عور ت کا وجود، مرد سے مل کر ہی سراپا سکون اور رحمت بن سکتا ہے۔ عورت کی مرد کے لیے وہی حیثیت ہے جو بیج کی زمین سے ہوتی ہے۔عورت کے دائرہ کار اور اس کے حقوق واختیارات کے لیے پسلی سے تشبیہ دینے سے مراد یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ ایک خوشگوار گھر اور مثالی خاندان کے لیے اس صنف نازک کا رول انتہائی اہم ہے۔ لہٰذا اس کی اچھی طرح دیکھ بھال اور نگرانی ہونی چاہیے۔کسی بھی قیمتی اور اہم شئے پر handle with careکا لیبل لگانا، اس کی اصل حیثیت ظاہر کرتا ہے۔ اس شئے کے ساتھ برتائو میں کن آداب اور رعایتوں کا لحاظ رکھنا چاہیے وہ بھی از خود واضح ہوجاتا ہے۔دنیا میں کوئی نادان شخص ایسا نہیں ہوگا جو اس لیبل کا مطلب یہ لیتا ہو کہ جو چیز اندر ہے وہ انتہائی کمزورہے یا اس میںنقائص پائے جاتے ہیں۔غرض پسلی سے تشبیہ سے مرادیہ بھی ہے کہ عورت سے کوئی امتیازی سلوک ہرگز روانہیں رکھا جاسکتا ہے کہ وہ ویسے ہی پیدا کی گئی ہے جیسے مردتخلیق کئے گئے ہیں۔ انما النساء شقائق الرجال۔ بلا شبہ عورتیں اور مرد ایک جیسے ہیں۔ (ابوداؤد، عن عائشہؓ)
رسول اللہ ﷺنے سورہ النساء کی پہلی آیت کے نزول کے وقت فرمایا کہ عورت کو مرد سے پیدا کیا گیا ہے۔لہٰذا عورت کا مقصد وجود مرد سے مل کر ہی مکمل ہوسکتا ہےاور مرد کو مٹی سے پیدا کیا گیا لہٰذا اس کی فکر مٹی (ہی سے متعلق)ہوتی ہے۔
لیکن آج کی دنیا کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کو با اختیار، مرد کے دجود کے بغیر بنانا چاہتی ہےلیکن یہ ہرگز ممکن نہیں۔بھلا فضا میں تھوڑے ہی بیج اگایا جاسکتا ہے؟ ہم دنیا کو یہی سمجھاناچاہتے ہیں کہ ’’عورت کی حیثیت پسلی کی سی ہے‘‘ سے مراد وہ ہرگز کمزور نہیں بلکہ وہ انتہائی اہم اور نازک رول ادا کرنے والی اور حساس ہے۔ اس کے ساتھ حسن سلوک، گھر، خاندان اور سماج کے لیے بھلائی کا موجب ہوگا۔ یعنی عورت گھر کی رانی ہے۔اس کے ساتھ حسن سلوک ہی سے ایک مرد کی اخلاقی ساکھ کا تعین ہوسکتاہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے کسی مرد کے اچھے ہونے کا معیار، اس کی اپنی بیوی سے اچھے سلوک کو قرار دیا ہے۔ (خیر کم خیرکم لاہلہ)
مرد اور عورت کا رشتہ ازدواج میں بندھنا، پر سکون زندگی گزارنا، بدلتے ماہ وسال کے ساتھ ساتھ آپسی رحم و کرم محسوس کرنا، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ سورہ الروم کی آیت 27 اسی سے متعلق ہے۔اس آیت کا آغاز وَمِنْ آیَاتِہِ سے ہوتا ہے اور آگے بڑھتے بڑھتے آیت، آیات ہوجاتی ہیں اورکلام کی تکمیل إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ پر ہوتی ہے۔اگر مرد اور عورت کے رشتہ کا تقدس نگاہوں سے اوجھل ہو یا وہ ٹھوس اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر استوار نہ کیا گیا ہو تو بس ایک مذاق کا موضوع بن کر رہ جاتا ہے۔ موجودہ دور میں شوہر اوربیوی سے متعلق لطائف اور مختلف میم (meme) وغیرہ کا عام ہونا،اسی وجہ سے ہے۔
عہدِ نبوی میں ہمیں خواتین کا ہمہ جہت سماجی، معاشی، معاشرتی ، فوجی اور دعوتی رول نظر آتا ہے۔ اس میں ہمیں کچھ چیزیں وقت نوعیت کی نظر آتی ہیں اور کچھ مستقل نوعیت کی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وقتی نوعیت کی چیزوں کو مستقل مان لیتےہیں اور مستقل نوعیت کی چیزوں کو غیر اہم جانتے ہوئے، انہیں بنیادی ترجیحات ہی سے ہٹا دیتے ہیں۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جو چیزیں وقتی نوعیت کی ہیں ان کے لیے پہلے سے تیاری اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ یہ وقت ضرورت کام نہ چل سکے گا۔
عہد رسالت کے معاشرےکا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل بحث یہ نہیں کہ عورت کیا کیا کرسکتی ہے۔ وہ بہت کچھ کرسکتی ہے بلکہ سب کچھ کرسکتی ہے اور اسی اس کا اہل ہونا چاہیے اور معاشرہ کو اسے اس کا اہل بنانا چاہیے۔ اس سے جو بات ہمیں سیکھنی چاہیے اور شعور حاصل کرنا چاہیےوہ یہ ہے کہ بہ حیثیت عورت، عورت کی ترجیحات کیا ہوں۔ ترجیحات کے الٹ پھیر نے ہی موجودہ معاشرے میں بحران پیدا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

عورت و مرد کی کشمکش

عورت اور مرد

 

شیئر کیجیے
Default image
محمد عبداللہ جاوید

Leave a Reply