خوف سے حوصلہ کی طرف

ہم جانتے ہیں کہ کوئی ہار آخری نہیں ہوتی۔ ہار تو اصل میں کامیابی کی تمہید ہوتی ہے۔ یہ حیرت انگیز راز سب کے پاس ہوتا ہے لیکن پہلے پہل ہمیں سجھائی نہیں دیتا۔ ہار کا تازہ ترین غم اور شعلہ پوش اداسی کا کہرا سب منظروں کو دھواں دھواں کردیتا ہے۔ جبکہ ناکامی ہی وہ یقینی منزل ہے جہاں سے دنیا جیت لینے کی راہیں نکلتی ہیں۔ آئیے ہم اور آپ مل کر جیت کے راز پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی محاذ پر ناکام ہوتے ہی ہم جن مراحل سے گزرتے ہیں ان میں چار اہم موڑ ہوتے ہیں:
1- انکار شکست 2-خوف 3- برہمی 4- اداسی اور 5- احساس ِمحرومی
انکار شکست
سب سے پہلے شکست کے غیر امکانی منظر میں گھر تے ہی ہم اس کو قبول نہیں کرتے کہ ہمیں شکست ِ فاش ہوئی ہے۔ ہمارا رد عمل ہوتا ہے کہ ’’ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ہے‘‘۔ وجوہات کی نئی نئی تعبیریں ہم گھڑنے لگتے ہیں۔ جیسے انٹرویو میں فیل ہوتے ہی ہم کبھی ذات پات‘ زبان‘ علاقہ اور اپنے مذہب کو بیچ میں لے آتے ہیں۔ امتحان میں فیل ہوتے ہی پرچہ میں دھاندلی‘ممتحن کی سختی‘ لاپروائی‘ اپنے پرچے کی گمشدگی کے احساس سے اپنے دل کوجلاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان جرائم سے ہماری دنیا خالی ہے۔ لیکن ایسے خدشات کی اصولی جانچ کروانا الگ چیز ہے اور ہوائی تصورات میں زندہ رہ کر اپنی شخصیت کو برباد کرنا اور ہی سرگرمی ہے۔ ایک دل چسپ سبب تو ہماری ذات میں چھپی توہمات کی پرانی حویلی ہے۔ جہاں خوف ناک منفی تصورات کی بھٹکی ہوئی بلائیں جو دورکہیں تحت الشعور کے پاتال میں ہم نے پال رکھی ہیں، جہاں ہمارے بھٹکے ہوئے خیالات رہتے ہیں۔ وہاں سے ایک گم راہ کن ’’وسوسا‘‘ ہمیں دہلا دیتا ہے۔ توہمات یوں دلیلیں ترتیب دیتے ہیں کہ فلاں دن‘ شخص‘ گھڑی‘ حرکت یا جانور (بلی، اُلو) کی نحوست کے سب ناکامی ہوئی۔ یا کبھی ہم اپنی حماقت سے بیماریوں کو بلاوا بھیج کر اس کو ’’نظر ِبد‘‘ کانام دیتے ہیں۔ کبھی کسی کے حسد کا فسانہ گھڑ کر بے سبب اپنی ذات میں الجھے رہتے ہیں۔ اپنی ناکامی پر یہ سوچنا کہ ضرور کسی دوسرے سبب سے ہوا ہے اور اُس سبب کی تلاش میں ہم اپنی خاصی توانائیاں ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ فوراً اس شکست کو مشروط انداز میں قبول کرلیں اور ایک بار لگی ٹھوکرسے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر اٹھ کھڑے ہوں اور پھرکمر ِہمت کَس کراپنے منصوبوں کی خبر لیں۔
خوف (کا قہر)
خوف زدہ چہرہ چاہے قائد کا ہو‘ وہ جھوٹا اور ارادوں سے بزدل لگتا ہے۔ اس کے بے قابو جذباتی اُبال سے لوگوں کو ابکائی آتی ہے۔ خوف سے دل دہلادینے والی دھک دھک پر جس کا قابو نہ ہو وہ اوروں کے دلوں پر کیا حکمرانی کرسکتا ہے۔ دلوں کی راج دھانی میں صرف یقین کے سکے چلتے ہیں۔ خوف کے کھوٹے سکے نہیں چلتے۔ جس شخص کو ڈر کی دیمک چاٹ رہی ہو اُس عمارت میں کس کو پناہ مل سکتی ہے۔ دراصل یہ اَنا کی جھاڑ جھنکاڑ ہے۔ خوف زدہ شخص اَنا کی دلدل کے سڑے ہوئے کیڑے کھا کر زندہ رہتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم بڑی قیمت دے کر اس بدترین لعنت کوخریدتے ہیں۔ یہ ایک بدبو ہے۔ اور تو اور ’’غصہ‘‘ بھی خود اس کے خمیر سے اٹھا ہوا تعفن ہے۔ یہ بدبو دار پانی آپ کی روح کے زم زم کے چشمے کو سڑا دیتا ہے۔ اس کو فوراً بند کریں۔ جب جب خوف کی ’’دماغی ڈکاروں‘‘کی آوازیں روح میں گونجنے لگیں تو اس کو فوراً میوٹ کریں۔ یہ اندیشوں سے لرز کرکمزور کے وجود میں گھس پڑتا ہے۔ اپنے آپ سے خوف زدہ شخص سے بے جا توقع بھی بے کار ہے۔ اسے خوف ، خاردار جھاڑیوں میں کھدیڑ دیتا ہے۔
جب ہم ذرا ہمت اکٹھی کرکے اپنی روح کو ٹٹولیں گے تو پتا چلے گا کہ یہ دنیا اتنی خوف ناک نہیں بلکہ محبت بھری وادی ہے۔ جہاں پہنچتے ہی روح گنگنا اٹھتی ہے۔ اگر ہم اپنی وادیٔ جاں کی خبر نہیں لیں گے تو یہ خوف ہمار ے متاعِ یقین کو مٹا دے گا۔ کاہلی تو اس کا بہروپ ہے۔
خوف سے حوصلے کی طرف
کسی بھی ناکامی پرایک زنجیر ہمیں خوف کی پہننی پڑتی ہے۔ خوف سے ہمارا پورا وجود لرز اٹھتا ہے۔ شکست ہمیں دہشت زدہ کرکے ہماری ساکھ دہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اپنوں اور پرایوں کے طنز اور طعنوں کے خوف ناک آتش فشاں دہانے کھل پڑتے ہیں اور حوصلے کھوجاتے ہیں۔ ایسے میں تسلی بھی اچھی نہیں لگتی۔ ڈھارس ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اپنی ذات پر بنایا ہوا یقین لرز اٹھتا ہے۔ ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ بھول جاتے ہیں کہ ’’اعتماد‘‘ اپنی ذات کی ایک ایسی چوکی ہے جس پر باہر کا دشمن کبھی بھی حملہ نہیں کرسکتا۔ یہاں پر خود ہماری غفلت سے بارودی سرنگ بچھتی ہے۔ یہاں حملہ انجانے دشمن کا نہیں بلکہ اپنے ہی تصورات کے ترشے ہوئے دیو سے ہوتا ہے،باہر کا خوف اتنا شدید اور ہمہ گیر نہیں ہوتا جتنا اندر کا ہوتا ہے۔
خوف سے چھٹکارا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ہمیں شک کا خوانچہ ہاتھ میں تھما کر خوف کی گھنٹی ہاتھ میں دے کر گلی گلی گھماتا ہے۔ جب کہ ہم تواس دنیا میں یقین کی مہمات کے امین و پیامبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
خوف سے کھائی روٹی غذا اور خون تو بن جاتی ہے لیکن زندگی کو مطلوب شخصیت یا کردار نہیں بنا سکتی۔ ہم اسی مقام پر رک کرخوف کے تمام بہروپ کو دیکھ لیتے ہیں کہ اس کریہہ جذبہ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ کیسے خوف کا کن کھجورا ہزار قدموں سے ہماری روح میں گھس سکتا ہے۔
زندگی کی گاڑی کا اندھا ڈرائیور
خوف کی رہنمائی تو جیسے اندھے ڈرائیور پر یقین کر کے اس کے ساتھ سفر کرناہے۔ اس کے برباد انجام پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آپ کو کھا ئی میں اتار دے گا۔ کیوں کہ نہ اس کو رفتار پر قابو ہے نہ گفتار پر گرفت اور نہ فیصلوں میں فراست۔ بنیادی طور پر خوف کا مزاج رد عمل کا ہوتا ہے۔ کسی امکانی چیلنج کو ذہن جب بے حد کڑا سمجھے تو ردعمل بھی اتنا ہی اکھڑا ہوا ہوگا۔ سفر اندازوں پر نہیں ہوتا، قیاس پر قدم نہیں اٹھتے، گمانوں پر گمراہی یقینی رہتی ہے۔ کوئی سفر ہو پہلا قدم خوف کی چھاتی پر رکھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔
اُمید جنت اور خوف جہنم
اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھ لی کہ سوائے ’’خوفِ خدا‘‘ کے جو ہمیں اپنے عمل کی جواب دہی کے سلسلے میں ہوتا ہے اس کے علاوہ ہرخوف عقل و دانش کا دشمن ہے اور خوفِ خدا تو عقل و دانش کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر خوف اندیشوں، خدشات اور فریب کا پروردہ ہوتا ہے۔ سارے ’’ڈر‘‘ اَنا کے کھیت کے زہریلے کانٹے ہوتے ہیں۔ جیسے ’’زقوم‘‘ کے پھل۔ ان کانٹوں میں گتھے گندم کی چبائی ہوئی روٹی سے زندگی کو مطلوب نہ تازہ خون ملتا ہے نہ شخصیت اور کردار میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ رب کا ڈر علم کے سائے میں رہتا ہے‘ جہل کی گود میں نہیں۔ اور جہل کا پروردہ ڈر خدا پرستوں کی بستیوں میں گھسا ہوا غارت گر ڈاکو ہوتا ہے۔ یہ ابلیسی سفیر ہمارے ذہن کو یرغمال بنا کر اپنی شرطیں منواتا ہے۔ جیسے کوئی آپ کے کعبۂ دل میں شک و شبہات کے بدشکل بت گاڑ دے اور اس کے طواف پر مجبور کردے، جس کا بوجھ آپ اپنی چھاتی پر وزنی پتھر سا محسوس کریں۔ اس لیے خوف زدہ رہنا گناہ ِ عظیم ہے۔ خوف سے جتنی دوری اور اُمید سے جتنی قربت بڑھے گی اتنا ہی ہماری شخصیت میں نکھار آئے گا۔ ’’اُمید‘‘ جنت کی شہریت دلاتی ہے اور ’’خوف‘‘جہنم زار کا غلام بناتی ہے۔
ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
تو ہے خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر
( اسمعٰیل میرٹھی)

مزید پڑھیں!

بہتر سے بہترین بننے کے گُر

مطالعہ کیسے کریں؟

توجہ کے بھٹکاؤ کو روکئے!

شیئر کیجیے
Default image
نعیم جاوید

Leave a Reply