5

ادھورا کون؟

میں نے پہلی بار ایمن مُراد کو اُس کی وہیل چیر کے ساتھ ایڈمن آفس میں دیکھا تھا۔ وہ انٹرویو کے لیے آئی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اُسے مسترد کر دیا جائے گا۔ بھلا جسمانی طور پر ایک معذور لڑکی کس طرح ایک اسکول ٹیچر منتخب ہو سکتی ہے؟ پرنسپل صاحبہ تو اچھے اچھوں کو گھاس نہیں ڈالتی تھیں پھر یہ ایمن کس کھیت کی مولی تھی؟ مگر جس پُراعتماد انداز میں وہ ایڈمن والوں سے گفتگو کر رہی تھی اُسے دیکھ کر کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اپنی معذوری کو لے کر کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہے۔ وہ سارا دن میں نے ایمن کے متعلق مختلف قسم کے مفروضے مرتب کرتے ہوئے گزارا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ ایمن کے متعلق میں اتنا کیوں سوچ رہی ہوں؟ شاید میں اُس سے مرعوب ہو چکی تھی مگر میرا دل اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اگلے ہی روز مجھے ایمن کے منتخب ہونے کی خبر مل گئی اور اُسی روز سے ایمن مُراد سے میری چپقلش کا آغاز ہو گیا۔

’’مس زارا، آپ آج سے نویں جماعت کو نہیں پڑھائیں گی۔‘‘

کوارڈینیٹر َزرتاج کے اس جملے پر میں نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔

آج سے مس ایمن کو ہم نے نویں جماعت کا انچارج بنا دیا ہے۔ اب سے سینئر کلاسز وہی دیکھیں گی۔ اُن کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ آپ سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ کو فی الحال ہم جونیئر سیکشن میں بھیج رہے ہیں۔ نئے ٹائم ٹیبل میں آپ کو اُوپر لے آئیں گے.

مس زرتاج کے یہ جملے مجھے آسمان سے زمین پر لانے کے لیے کافی تھے۔ میں نے نفرت بھری ایک نگاہ ایمن پر ڈالی اور بغیر کسی احتجاج کے آفس سے باہر نکل آئی۔

’’مس ایمن میری فیورٹ ٹیچر ہیں۔‘‘

’’مس ایمن کا کام بہت صاف ہوتا ہے۔‘‘

’’مس ایمن کا کلاس کنٹرول بہت بہترین ہے۔‘‘

یہ وہ چند جملے تھے جو میں روزانہ ہی سنتی تھی۔ ایمن مُراد کے آنے سے صرف میری ہی اہمیت میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ بہت سی اُستانیوں کے لیے مسائل کھڑے ہو گئے تھے۔ اب معمولی کاموں پر اُنھیں وہ پزیرائی نہیں ملتی تھی جو پہلے اُنھیں اکثر مل جایا کرتی تھی۔ ہم سب ایمن کی جسمانی معذوری کو لے کر روزانہ اُس کی جانب کوئی نہ کوئی فقرہ اُچھال دیا کرتے مگر وہ یہ سب باتیں نظرانداز کر کے اپنے کاموں میں مصروف رہا کرتی۔

پرنسپل صاحبہ نے ایمن کو اسکول کے بہت سے کاموں کا انچارج بنا دیا تھا۔ ہم سب کی لاکھ کوشش کے باوجود ایمن کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی اور پھر ایک روز ہمیں ایمن کو نیچا دکھانے کا موقع مل گیا۔

ہمارے ادارے کا سالانہ فنکشن اپنے عروج پر تھا۔ حسب توقع اس بار مس ایمن ہی تمام تر انتظامات دیکھ رہی تھیں۔ سب بہت اچھا چل رہا تھا کہ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ مس ایمن ہال میں موجود نہیں۔ میں اسٹاف روم میں گئی تو وہاں مس ایمن پریشانی کے عالم میں فائلیں آگے پیچھے کر کے دیکھتی جا رہی تھیں۔

’’کیا ہوا مس ایمن! خیریت؟‘‘

میں نے اپنے لہجے میں دنیا جہان کی ہمدردی سمیٹتے ہوئے پوچھا۔

’’مس زارا۔ میری کلاس کے بچوں کے رزلٹ کارڈز نہیں مل رہے۔ میں نے ادھر ہی فائل کے اندر رکھے تھے۔‘‘

ایمن یہ کہتے ہوئے رو پڑی تھی۔

’’ اوہ مس ایمن، آپ پریشان نہ ہوں۔ میں بھی آپ کے ساتھ مل کر ڈھونڈتی ہوں۔ مل جائیں گے۔‘‘

میں نے ایمن کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’مس ایمن! آپ کو میم بُلا رہی رہیں۔ آپ فنکشن چھوڑ کر ادھر آ گئیں۔ آپ سے اس قدر غیر ذمہ داری کی اُمید نہیں تھی۔ آپ تقریب چھوڑ کر اسٹاف روم میں آ گئیں۔ حد ہے غیرذمہ داری کی۔ آپ نیچے آئیں۔‘‘

زرتاج انتہائی غصے کے عالم میں اسٹاف روم میں آئی تھی اور غصے کے عالم میں بولتی ہوئی نیچے چلی گئی تھی۔

اُس روز ایمن کی خوب بے عزتی ہوئی اور مجھ سمیت بہت سی ٹیچروں کے دلوں کو سکون مل گیا۔ ایمن کے جو رزلٹ کارڈز میں نے چھپائے تھے، وہ واپس اُنھی فائلوں میں رکھ کر میں گھر لوٹ آئی تھی۔ اُس روز میں بہت خوش تھی اور گھر پہنچ کر ایک اور خوشی کی خبر میری منتظر تھی۔

’’زارا بیٹا! اب تم گھر بیٹھنے کی تیاری کرو۔ تمہارے رشتے کے لیے اسفند نے ہاں کر دی ہے اور یہ سب تمہاری کولیگ ایمن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔‘‘

’’کیا…مگر…‘‘

حیرت کے باعث مجھ سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔

’’ہاں نا۔ ڈاکٹر اسفند کی والدہ تمہارے بارے میں پوچھنے کل تمہارے اسکول جا پہنچی تھیںاور وہاں تمہاری مس ایمن نے اسفند کی والدہ کے سامنے تمہاری اتنی تعریفیں کیں کہ اُنھیں ماننا ہی پڑا۔‘‘

امی نے مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا۔

’’یہ سب آپ کو اسفند کی والدہ نے بتایا ہے؟‘‘ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔

’’ہاں! اُن کے علاوہ اور کون بتا سکتا تھا؟ میرے لیے تو وہ لڑکی فرشتہ ثابت ہوئی ہے اور اُنھوں نے مجھے بتایا کہ وہ لڑکی دونوں ٹانگوں سے معذور تھی۔

بے اختیار میں بول اُٹھی:

’’معذور وہ نہیں ہے۔ وہ تو مکمل ہے۔ ادھورا تو وہ ہے جو اُسے معذور سمجھتا ہے۔‘‘

امی نے تو شاید اور بھی بہت کچھ کہا تھا مگر میرے کانوں کے آس پاس امی کی زبان سے نکلا ہوا آخری جملہ ٹھہر گیا تھا۔ مجھے معلوم تھا اب میں ایمن سے معافی مانگوں گی۔

میں جانتی تھی وہ تو مجھے معاف بھی کر دے گی مگر ایمن کے رویے سے مجھے اتنا ضرور معلوم ہو گیا تھا کہ ادھورا کون ہے؟

(مرسلہ : ڈاکٹر اقبال احمد ریاض، اردو ڈائجسٹ لاہور سے ماخوذ)

مزید افسانے

گواہی

بابا نور

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے