کسان

کسانوں کی فتح

چند روز قبل وزیرِ اعظم نے زرعی قوانین کی واپسی کا اچانک اعلان کرکے ملک کے عوام کو چونکا دیا۔ جو لوگ وزیر اعظم کے بارے میں یہ سوچ رکھتے تھے کہ وہ جو فیصلے لیتے ہیں وہ اٹل ہوتے ہیں، یقیناً حیران اور کچھ پریشان ہوئے ہوں گے۔

محترم وزیر اعظم کے اس اعلان سے کسانوں ہی میں نہیں عوام میں بھی خوشی کی لہر دوڑی۔ ایک دو دن ’کم از کم قیمت خرید‘ پر بحث و تکرار کے بعد متعلقہ وزارت نے ’سنیکت کسان مورچے‘ کو اس سلسلے میں تحریری یقین دہانی بھی کرادی جس کے ساتھ ہی کسانوں کی احتجاجی تحریک ختم ہوگئی۔ لیکن …اس کے ساتھ ہی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگیا۔ کسانوں کی اس تحریک نے جس اتحاد و یک جہتی، صبر و تحمل، جہد مسلسل، حکومتی جبروتشدد پر صبر وثبات ، جانی، مالی نقصان اور مصائب و مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اس تحریک کو جاری رکھا اور بالآخر کامیاب ہوئے ،وہ اس تاریخ کے اہم عنوانات ہیں اور آنے والا مورخ ان کا ضرور تذکرہ کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کا ہر مرحلہ اور ہر دن اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے اور ملک کے چپہ چپہ پر، خصوصاً دہلی کے بارڈر پر اس تاریخ کے ابواب رقم ہیں اور ان لوگوں کے لیے قدم قدم پر منھ توڑ جواب ہیں جنھوں نے ان احتجاجی کسانوں کے لیے خالصتانی، دہشت گرد اور ملک دشمن جیسے الفاظ کا ورد جاری رکھا تھا۔ اس حیثیت سے اس تحریک کا کامیاب ہونا ظلم پر انصاف کی فتح اور سرمایہ دارانہ نظریہ پر محنت کش ان داتاؤں کی اخلاقی ہی نہیں عملی جیت ہے جس سے ملک کے عوام اور وقت کی حکومتیں دونوں بہت کچھ سبق حاصل کرسکتی ہیںاور انہیں کرنا چاہیے۔

حکومت نے ان قوانین کو حق و انصاف کے تقاضوں کے تحت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، اس کا امکان بہت کم ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ قوانین بہت پہلے ہی واپس لے لیے گئے ہوتے او ر کسانوں کو سال بھر سے زیادہ مدت تک گرمی، سردی اور برسات کے شدید موسموں کی مار نہ جھیلنی پڑتی۔ اس تناظر میں تجزیہ نگار یہی کہہ رہے ہیں اور بہ ظاہر اس کے پیچھے جو بات نظر آرہی ہے وہ سیاسی جمع تفریق زیادہ ہے۔

ملک یہ جانتا ہے کہ بہت جلد کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں اور ان میں پنجاب اور اترپردیش غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایسے میں شایدحکومت کو اس بات کا اندیشہ رہا کہ اگر کسانوں کی یہ تحریک اور جاری رہی تو ملک کی کئی ریاستیں ان کے ہاتھ سے جاسکتی ہیں اور ان انتخابات میں حکومتیں بچانے کے لیے ایک ’تُرپ چال‘ کے طور پر قوانین کی واپسی کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس پورے سیاسی تناظر میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ حکومت وقت اس عمل سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اور اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس کے نقصانات انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوجائیں۔ یہ فیصلہ تو وقت آنے پر ہی کیا جاسکے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس تحریک کی شروعات میں جو کچھ کسانوں کے ساتھ کیا گیا، جس طرح ڈرایا دھمکایا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور جس طرح کسانوں کے اتحاد کو توڑنے اور اسے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، اسے کسان ضرور یاد رکھیں گے۔ سرسا اور لکھیم پور کے زخموں کو ویسے بھی بھرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

اس تحریک سے متعلق کئی اہم حقائق ملکی اور عالمی سطح پر تسلیم کیے گئے ہیں ان میں اہم ترین بات یہ ہے کہ اگر ملک کے کسان جو استحصال، غربت و افلاس اور حکومتی بے اعتنائی کی بولتی تصویر نظر آتے رہے ہیں ایک بڑی طاقت ہیں، ایسی طاقت جو اگر مجتمع ہوجائے تو حکومت کو جھکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ یعنی سیاسی استحصال کا مقابلہ اتحاد ویک جہتی ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ دوسری اہم بات صبر و تحمل اور جہدمسلسل ہے جو انفرادی زندگی میں ہی نہیں اجتماعی زندگی میں بھی کامیابی کا لازمی عنصر ہے۔ جبکہ عدم تشدد اور تشدد کے مقابلے میں صبر ایسی طاقت ہے جو تحریک کو کامیاب بناتی ہے۔ اس حیثیت سے کسانوں کی یہ تحریک ایک آئیڈیل ہے کہ ایسے دور میں جب حکومتی اور عوامی دونوں سطحوں پر تشدد اور فسادکا بھڑک اٹھنا معمول کی بات ہے، وہاں انھوں نے نہ صرف جذبات کو بھڑکنے سے بچائے رکھا بلکہ اس کے برخلاف نہایت شفقت و محبت کا مظاہرہ ان لوگوں کے لیے بھی کیا جو کسانوں پر لاٹھیاں برساتے تھے۔ احتجاج کے مقامات پر احتجاجیوں کے لنگر سے لوگوں کو پولیس والوں کو کھانا کھلاتے اور چائے پلاتے دیکھا گیا اور ایسا کیوں کیا جارہا تھا، اس کا جواب تھا کہ ’’یہ بے چارے تو سسٹم کے غلام ہیں اور ہیں تو ہمارے ہی بیٹے۔‘‘

اب جبکہ سنگھو بارڈر، غازی پور بارڈر اور جہاں جہاں احتجاجی کسان سال بھر سے زیادہ دنوں سے جمع تھے وہاں ایک ویرانہ نظر آتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر ایک نوجوان لڑکی جذباتی ہوکر بلک کر رو پڑی۔ وہاں پر موجود چند کسانوں نے بڑی شفقت سے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ ’’سب کچھ اجڑ گیا۔‘‘ واقعی وہاں پر سب کچھ اجڑ گیا مگر یہ اجڑ جانا ایک بڑی آباد کاری کا سبب ہوگا۔ حقیقت میں تو سب کچھ اس صورت میں اجڑ جاتا اگر وہاں کسانوں کو اور کچھ وقت پڑے رہنا ہوتا۔ اب جبکہ تینوں زرعی قوانین واپس ہوگئے ہیں اور MSP پر تحریری یقین دہانی مل گئی ہے، کسان فتح کا جشن منارہے ہیں اور انہیں منانا چاہیے کہ یہ ان کا حق ہے۔

مزید اداریہ پڑھیں!

بہادری اور عزم و حوصلہ کی جانب!

کورونا کی دوسری لہر میں بچھڑوں کا غم!

گھر اور خاندان کی فکر

 

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply