پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت

عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ﷺ نَھَی اَنْ یُّبَالَ فِی الْمَاءِ الرِّاکِدِ۔ (مسلم)

ترجمہ:’’حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔

تشریح: اسلام میں تمام عبادات کی قبولیت کا انحصار طہارت پر ہی ہے۔ اسی لیے تمام فقہاء و محدثین اپنی کتابوں میں ایمان اور اسلام کے دوسرے احکام بیان کرنے سے پہلے طہارت کے مسائل سے بحث کرتے ہیں۔ اسلام میں طہارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طہارت کو آدھا ایمان کہا گیا ہے۔ ایمان جس طرح دل کی صفائی سے تعلق رکھتا ہے اسی طرح جسمانی صفائی سے بھی جڑا ہے۔ دونوں سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے اور حصول طہارت کا بنیادی ذریعہ پانی ہے۔

پانی کے مختلف طریقے سے استعمال کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اس میں پیشاب کرنا ایک پاکیزہ دل اور پاکیزہ فکر و خیال کے آدمی کو ناگوار معلوم ہوتا ہے۔ اس ناگواری کا احساس عام طور سے اس پانی میں پیشاب کرنے سے ہوتا ہے جو قابلِ استعمال ہو۔ پانی کا تقدس اپنی جگہ مسلّم ہے۔ پانی پر پوری کائنات کی حیات کا دارومدار ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کی طرح پیڑ پودوں کے لیے بھی پانی بہت ضروری ہے۔ انسان کے جسم میں اگر مطلوبہ مقدار سے پانی کم ہوجائے تو زندگی خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ اسی لیے مال کی طرح پانی میں بھی اسراف سے منع کیا گیا ہے۔

اسلام نے پانی کے صحیح استعمال پر بہت زور دیا ہے۔ عرب کے ریگستان میں پانی کی بہت ہی قلت تھی۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے وضو اور غسل میں پانی کے استعمال کا طریقہ بتایا، نیز اس کی مقدار بھی بتادی تاکہ انسان کی ضرورت بھی پوری ہوجائے اور پانی بھی کم سے کم خرچ ہو۔ اگر اسلام کے وضع کردہ اصول کی پابندی کی جائے تو بہت فائدے حاصل ہوں گے۔ آج عالمی پیمانے پر پانی کے جو مسائل کھڑے ہوئے ہیں ان کا بنیادی سبب صاف ستھرے پانی کا گندے اور زہریلے مادوں کی گرفت میں آجانا ہے جسے عرفِ عام میں واٹر پولیوشن کہا جاتا ہے۔ اس طرح سے دنیا کے بڑے بڑے دریاؤں کا پانی ناقابلِ استعمال ہوکر رہ گیا ہے۔ رسول پاک ﷺ کی یہ تنبیہ ہمیں اسلام کے نظریہ کی بنیادوں سے آگاہ کرتی ہے اور ہمیں بتاتی ہے کہ پانی کے استعمال میںجس طرح احتیاط لازمی ہے اسی طرح کا تحفظ بھی بھی اہمیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں!

غیبت

قرآن اور صدقہ کی تمثیل

تکبر کیا ہے؟

شیئر کیجیے
Default image
محمد اسلام عمری

Leave a Reply