بچے

بچے کا رویہ جانئے!

اکثرایسا ہوتا ہے کہ بچے سن بلوغت تک پہنچتے پہنچتے بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ ماں باپ پہلے پریشان اور پھر رنجیدہ ہوکر اولاد سے بددل ہوجاتے ہیں۔ اگر ماں باپ تھوڑا سا صبر و تحمل سے کام لیں اور تدبر کا مظاہرہ کریں تو ایسی صورت حال سے بچا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے کی پرورش بھی ایک فن ہے جو ماں باپ اس فن سے آشنا ہوجائیں وہ اپنے اور گھر کے لیے خوشگوار مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں۔ اس تعمیر کی پہلی اینٹ اس وقت رکھی جاتی ہے، جب ایک ننھا منا وجود گھر میں آتا ہے۔

آپ اسے چھوٹا سابے بس بچہ نہ سمجھئے۔ وہ ایک مکمل شخصیت ہے جسے اتنی ہی بھر پور توجہ کی ضرورت ہے جتنی کسی بالغ کو۔ اس کا اندازہ آپ کو یوں بھی ہوسکتا ہے کہ چند ہفتے کا بچہ آواز وں سے مانوس ہوجاتا ہے۔ چند ماہ کی عمر میں ہی وہ غصے اور محبت کے جذبات کو سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ آواز دینے پر گردن گھما کر دیکھتا اور مسکراتا ہے۔

کہتے ہیں کہ پوت کے پاؤں پالنے ہی میں پہچانے جاتے ہیں۔ اس کی عادات و اطوار کا اندازہ شیرخوارگی ہی میں بہ خوبی ہوجاتا ہے۔ آپ اس کی طرف سے بے پروائی کا برتاؤ کریں تو رو کر، چیخ کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ بچے میں عزت نفس کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔ بعض مائیں وقت بے وقت دوسروں کی موجودگی میں بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر دیتی ہیں۔ بچے کی شخصیت کے لیے یہ بڑا منفی رویہ ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس سے بچہ خفت محسوس کرتا ہے، جسے بعد میں وہ کسی منفی انداز سے ظاہر کردیتا ہے جو آپ کو بھی ناگوار گزرتا ہے۔ مثلاً جان بوجھ کر دوسروں کی موجودگی میں نافرمانی کا مظاہرہ، ایسی حرکات و شرارتیں کرنا جو عموماً وہ اکیلے میں نہیں کرتا، لیکن جیسے ہی گھر میں کوئی مہمان آئے یا گھر کے ہی لوگ کسی وقت اکٹھے بیٹھے ہوں تو بچہ اپنی من مانیاں شروع کردیتا ہے اور بعض اوقات صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ وہ جان بوجھ کے کررہا ہے۔ آپ حیران ہوتے ہیں کہ اس سے پہلے تو بچے نے ایسی حرکت کبھی نہیں کی، ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو یہ بالکل ٹھیک تھا، آرام سے بیٹھا ہوا تھا، پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ اس کے اندازو اطوار ہی بدل گئے۔ کبھی آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ کچھ مخصوص حرکات بچہ توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی کرتا ہے یا پریشان کرنے کے لیےبھی۔ یہ جاننے کے لیے آپ بغور اس کا مشاہدہ کریں۔ اگر وہ اپنے آپ میں مگن ہے اور شرارتیں کرتے ہوئے اسے قطعاً پتا نہیں کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں یا اور کوئی اس کی طرف متوجہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شرارت بچے کی فطری ہے، لیکن اگر آپ یہ دیکھیں کہ وہ آپ کی آنکھوں میں دیکھتے اور مسکراتے ہوئے کچھ ایسا کرنے جارہا ہے جس سے آپ کو غصہ آسکتا ہے یا آپ اسے پہلے بھی ایسی حرکت یا شرارت سے منع کرچکے ہیں، تو جان لیں کہ بچہ یہ صرف اور صرف آپ کو تنگ کرنے کی نیت سے کررہا ہے۔ اسے بخوبی اندازہ ہے کہ اس حرکت سے آپ کو مہمانوں کے سامنے سبکی یا پریشانی اٹھانی پڑسکتی ہے تو سمجھ لیں کہ یہ اس کی معصوم انتقامی کارروائی ہے۔ ہوسکتا ہے اس سے پہلے آپ نے کبھی انہی لوگوں کی موجودگی میں سرزنش کی ہو یا چیخ کر غصے کا اظہار کیا ہو یا مہمانوں کے سامنے یہ کہا ہو کہ یہ بچہ تو بہت شرارتی ہے، کبھی بات نہیں سنتا، میں تو تنگ آگئی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ بات بچے کے دماغ میں کہیں رہ جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ آپ کو تنگ کرتا ہے اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے۔ زیادہ تر ماں باپ ایسے بچوں کی ان حرکات کو شیطانی یا نافرمانی کے زمرے میں ہی لیتے ہیں مگر شاید کوئی کوئی ماں باپ ہی ہوں گے جو یہ سمجھ پائیں کہ یہ جوابی کارروائی ہے۔ ایسے بچوں میں حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ کبھی دیکھ لیں کہ بچے نے نہ صرف آپ کا رویہ یاد رکھا ہے، بلکہ وہ مزید جارحانہ مزاج اپناتا جارہا ہے تو سنبھل جائیں، کیوںکہ ایسے بچے بہت حساس اور نازک مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں بہت توجہ اور رہنمائی کی ضرورت ہے اور ذرا سی توجہ دینے سے ایسے بچے کو کندن بنایا جاسکتا ہے، کیوں کہ ایسے بچے ذہین ہوتے ہیں او رماحول، گفتگو اور نظروں کی ہلکی سی جنبش کو بھی پہنچاننے کی خاص صلاحیت رکھتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عافیہ جہانگیر

تبصرہ کیجیے