بچوں کو کہانیاں سنانا: تفریح بھی-تربیت بھی

چھوٹے بچوں کو کہانیاں سننا بہت اچھا لگتا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ والدین اس طریقے کو اپناکر اپنے بچوں کو بہت کچھ دے سکتے ہیں کیونکہ یہ کہانیاں ان کےخیال، فکر، کردار اور شخصیت سازی میں بہت اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بچوں کو اپنے انداز میں کہانیاں سنا کر ہم اپنی زندگی کے تجربات، اپنی سوچ وفکر، اپنی تمنائیں اور نظریات، اپنی دینی، تہذیبی اور معاشرتی و اخلاقی روایات کو اگلی نسلوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔ کہانیاں سنانے کا یہ عمل والدین اور بچوں کے درمیان پیار و محبت اور جذباتی تعلق کو مضبوط بھی کرتا ہے اور ان کی فکر کو مضبوط و مستحکم اور شخصیت کو پراعتماد بناتا ہے۔

بدقسمتی سے اب بچوں کو کہانیاں سنانے کی روایت ہمارے سماج میں پہلے کمزور پڑی اور اب ختم ہوگئی۔ بچوں کو زندگی کا سلیقہ کون سکھائے، ان کے اخلاق و کردار کو کیسے بنایا اور سنوارا جائے اور اپنے علم و تجربے، زندگی کے اتار چڑھاؤ، مشکلات اور ان کا حل عائلی اور معاشرتی زندگی کی اقدار، سماجی تربیت اور زندگی کا سلیقہ وہ کیسے سیکھیں اور ان کا انٹرٹینمنٹ کیسے ہو؟ والدین کو ٹی وی، لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے فرصت نہیں، بچوں کی تربیت کا خیال نہیں، ایسے میں وہ بھی انہی چیزوں میں دل بستگی اور انٹرٹینمنٹ تلاش کرتے ہیں۔ والدین اور اہلِ خانہ سے تعلق اور جذباتی وابستگی میں کمی آئی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ دور کے والدین نئی نسل کے سلسلے میں بغاوت اور نافرمانی کی نہ صرف شکایت کرتے ہیں بلکہ عملاً اس کیفیت کو کسی نہ کسی صورت میں جھیلتے بھی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی اس قدیم روایت کو جاری رکھا ہوتا تو ہم ان کی اخلاقی تربیت بھی کرپاتے اور اپنی دینی، اخلاقی، سماجی اور معاشرتی اقدار کو بھی ان میں بہتر انداز سے منتقل کرپاتے اور آج یہ کہنے کی نوبت نہ آتی کہ پرانے زمانے میں ایسا ہوتا تھا، ویسا ہوتا تھا اور ہم تو اپنے بچپن میں ایسے تھے اور یوں رہتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس تحریر کا مقصد والدین کو اور سماج کو بچوں کو کہانیاں سنانے کی روایت کو آگے بڑھانا اور اس کے مقاصد اور نتائج سے واقف کرانا ہے۔ اس طرح ہم اپنی نئی نسل کی تربیت کا ایک مضبوط طریقہ کار پالیں گے اور انہیں ویسا بناسکیں گے جیسا ہم چاہتے ہیں کیونکہ قصے کہانیاں اور وہ بھی بچپن کی عمر میں سنی جانی والی، شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کی شخصیت سازی میں، خواہ وہ مثبت ہو یا منفی، اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اچھی کہانیاں اور اچھے واقعات بچوں میں مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں اور بری اور مخرب اخلاق کہانیاں اور واقعات منفی اخلاقی رویوں اور سوچ کو بنانے کا سبب بنتے ہیں۔

اگر آپ ماں باپ میں سے کوئی ایک ہیں تو خاص طور پر اور گھر میں آپ بچوں سے کوئی بھی رشتہ رکھتے ہیں، مثلاً دادی، دادا، نانی، نانا، چچی، چچا، خالو خالہ، پھوپھا، پھوپھی، یا بڑے بہن بھائی وغیرہ تو عام طور پر یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔ آپ اپنے گھر کے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت اور تعمیر شخصیت و اخلاق و کردار سازی کے لیے رات کے وقت یا فرصت کے اوقات میں اس چیز کو اختیار کریں تو بہترین نتائج حاصل ہوں گے۔

یہ کام کیسےکریں!

بچوں کو کہانیاں سنانے کا کام بعض لوگوں کے لیے دشوار ہوسکتا ہے، ایسا اس وجہ سے ممکن ہے کہ انھوں نے خود بچپن میں کہانیاں نہ سنی ہوں اور نہ پڑھی ہوں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آپ پہلے خود اچھی کہانیاں پڑھیں اور بچوں کو سنائیں۔ آپ کیسی کہانیاں پڑھیں یہ آپ کی سوچ، مزاج اور پسند پر منحصر ہے مگر یہ ضروری ہے کہ کہانی بچوں کے لیے دلچسپ ہو اور بچوں کے لیے کوئی نہ کوئی سیکھ یا تربیتی تاثیر رکھتی ہو تاکہ وہ اس سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی میں اسے اپنا سکیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ کہانی سنانے کا انداز دلچسپ اور الفاظ اور کہانی کا مقصد بچوں کی سطح اور فہم کے مطابق ہو۔ بھاری اور مشکل الفاظ اور فلسفیانہ نتیجہ اگر بچہ نہ سمجھ سکے تو کہانی بے کار ہے۔

جیسا کہ ہم نے اوپر کہا کہ کہانی کا انتخاب سنانے والے کی سوچ، مزاج اور پسند پرمنحصر ہے، اور اس بات پر منحصر ہے کہ وہ بچے کو کیا سبق دینا چاہتا ہے، چنانچہ بچے کو سبق دینے والی کہانیوں کے موضوعات کنکر پتھر کی طرح ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ آپ نے کسی جیب تراش کو دیکھا کہ لوگ اسے پکڑ کر پیٹ رہے ہیں، یہ ایک کہانی ہے۔ سڑک پر کسی بچہ کا ایکسیڈنٹ دیکھا کہ وہ زخمی ہوگیا ہے یہ بھی کہانی ہے۔ کوئی بچہ فیل ہوگیا، کسی بچے نے ٹاپ کرلیا، کوئی غریب بچہ بھیک مانگتا نظر آیا، کوئی معذور آدمی دیکھا، کوئی نئی بات سیکھی، کوئی نئی چیز دیکھی یہ سب آپ کے بچوں کے لیے کہانیوں کے موضوعات ہیں جن کو مناسب الفاظ اور مثبت و تعمیری سوچ کے ساتھ آپ بچوں کو سنا کر ان کے دل میں محبت و انسانیت بھی پیدا کرسکتے ہیں، اور اخلاق و قانون کا سبق بھی دے سکتے ہیں۔

اس مضمون کے ساتھ ہم آپ کی مدد کے لیے تین کہانیاں QRکوڈ میں سنارے ہیں۔ یہ تینوں کہانیاں الگ الگ موضوعات پر مبنی ہیں اور زندگی کے الگ الگ گوشوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ پہلی کہانی ’کند ذہن ٹاپر‘ ، بچوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے اور رہنمائی بھی کرتی ہے۔ اپنے گھر کے بچوں کو اس میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دینے والی اور عملی رہنمائی کرنے والی کہانیاں آپ خود اپنے ذہن میں تخلیق کریں اور سنائیں اور عظیم شخصیات کے بارے میں بھی بتائیں۔

دوسری کہانی ’ہائے اس میں تو کچھ ہے‘ ایک شرارتی بچے کی کہانی ہے۔ آپ شرارت اور اس کے انجام سے آگاہ کرنے والی بے شمار کہانیاں اپنے ذہن سے بناکر بچوں کو سناسکتے ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں بچوں کو بدتمیزیوں سے دور رہنے اور گندی شرارتوں سے بچنے کا درس دیتی ہیں، جو اخلاق کی تعمیر کا ذریعہ ہیں۔

تیسری کہانی ’’ننھے بہادر کو سلام‘‘ حضور پاکؐ کی بچپن کی کہانی ہے جو آپؐ کی بہادری و ہمت کو بتاتی ہے۔ بہادری ایک بلند اخلاقی صفت ہے۔ اس صفت کو بچوں میں پروان چڑھانے کے لیے آپ دنیا بھر کے واقعات و کہانیاں سناسکتے ہیں۔ یہ کہانیاں اور واقعات عظیم اور معروف شخصیات کے بھی ہوسکتے ہیں اور غیر معروف اور معمولی لوگوں کے بھی۔

ہم نے جو تین کہانیاں یہاں پیش کی ہیں ان کا مقصد قارئین کے ذہن میں کہانیاں تخلیق کرنے کے لیے رہنمائی مقصود ہے۔ باقی آپ جو صفت یا خوبی بچوں میں پیدا کرنا چاہیں، مثلاً: سچائی، ایمانداری، محنت، ایثار و قربانی وغیرہ ان پر مبنی کہانیاں زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں تیار کریں اور بچوں کو سنائیں۔ اسی طرح برائیوں اور اخلاقی مفاسد سے بچنے کے لیے بھی عملی زندگی سے کہانیوں کے موضوعات کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

آخری بات

کہانیاں دراصل عملی زندگی کے حقائق و واقعات ہیں یا خیالی و تصوراتی واقعات۔ ایک صورت عملی زندگی کی رہنمائی کرتی ہے اور دوسری صورت بچوں میں سوچنے، غوروفکر کرنے اور تصور و خیال کو وسعت دینے میں مدد کرتی ہیں۔ اس لیے تصوراتی اور حقیقی دونوں دنیاؤں کی اہمیت ہے۔

اس ضمن میں یہ بات ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ بچوں کو ہم جن اخلاقی خوبیوں پر مبنی کہانیاں سنا رہے ہیں وہ خود ہمارے اندر موجود ہوں یہ ضروری ہے۔ خود بے ایمانی اورجھوٹ کی روش پر چل کر بچوں کو ایمانداری اور سچائی کی کہانیاں سنانا بے اثر اور بے کار ہے۔ خود بزدل اور پست ہمت رہ کر بہادری اور بلند حوصلگی کی کہانیاں سنانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس لیے بچوں کو کہانیاں سنانے میں خود احتسابی اور اپنی تربیت کا پہلو بھی سامنے رہنا چاہیے۔ اس طرح ہم اس ذریعے سے نہ صرف بچوں کی تربیت کرپائیں گے بلکہ اپنی بھی اصلاح کرسکیں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

One comment

Leave a Reply