6

افسانچے

اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی محفل

پرُکیف ماحول میں اعلیٰ تعلیمی یافتہ دوستوں کا جتّھہ محو گفتگو تھا۔ عمرانیات، نفسیات، سماجیات اور نہ جانے کون کون سے علوم گفتگو میں شامل تھے ۔ اخلاقیات اور اسلامی طرز زندگی کو اختیار کرنے کی گفتگو کرتے کرتے وہ ایک غیرموجود دوست کے رویہ پر گفتگو کرنے لگے۔

سب کے سب حسّاس اور ذہین افراد تھے لیکن پتہ نہیں انہیں احساس بھی ہوا یا نہیں کہ کتنی بہتان تراشیاں، غیبت اور دل دکھانے والی باتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر محفل میں شامل ہو گئی تھیں۔ بے چارہ ارسلان جان کر بھی خاموش رہ گیا کیونکہ وہ اعلیٰ افراد کی محفل تھی۔ اور ارسلان صرف چائے پلانے کا نظم کررہا تھا ۔



ادبی سرقہ

ارسلان قلمی نام سے لکھتا تھا یہ اس دور کی بات ہے جب ارسلان کا قلمی نام غیر معروف تھا لیکن اسکی تحریر مسلسل شائع ہورہی تھیں۔ اُس سرقہ باز نے ارسلان کے افسانچے کا نہ صرف سرقہ کیا بلکہ ایک ادبی محفل میں ارسلان کے سامنے ہی اپنے نام سے پڑھ کر سنادیا ۔۔۔۔۔ بے چارہ غیر معروف لکھاری سوچ رہا تھا کہ کاش قلمی نام کے ساتھ اپنی اچھی اور واضح تصویر بھی شائع کرادیتا ۔

سوشل لائف

ارسلان اپنے چاچا زاد بھائی کامران کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ صبح ہوتے ہی موبائل سے اپنے جاگنے کی خبریں عام کررہا تھا۔ بارہ بجتے ہی ایک سیلفی تو بنتی ہے۔ پھر انجانے یا جانے گروپس پر چیٹنگ۔

کچھ دن پہلے تک ذیشان کے حادثے سے وہ بہت پریشان بھی تھا ۔ ارسلان نے پوچھ ہی لیا ۔ میاں کامران تمہارے دوست ذیشان کا حادثہ کیسے ہوا اور تم دونوں کی کب سے دوستی تھی۔ کامران نے ایک دم جوش میں آکر کہا:ذیشان ! کیا کانٹک تھے اس کے۔ ایک ایک امیج پر 5k 10k لائکس آتے تھے۔ بہت فین فالونگ تھی ممبئی میں بائک سے حادثہ ہوگیا۔

ارسلان نے کہا: تم ملے کب تھے؟

کامران نے طنزیہ مسکراہٹ سے جواب دیا : بھائی جان آپ نہیں سمجھیں گے سوشل میڈیا کی اس دنیا میں دوستیاں بغیر ملے ہی ہوجاتی ہیں اور پھر جنم جنم کا ساتھ بن جاتا ہے۔ آپ کو شبنم کے رشتے کی خبر تو ہے نا ۔۔!!!

ارسلان نے کامران کے اکسانے پر اپنا بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنالیا۔ شناسا لوگوں کی دوستی قبول کی لیکن جب وہ روز چیک کرنے لگا تو اندازہ ہوا کہ عجیب دیوانگی ہے …سوشل میڈیا کی۔

’’میری طبیعت خراب ہے ۔‘‘

’’میرے بچے کی طبیعت خراب ہے۔‘‘

’’آج میرے بهائی کا انتقال ہوگیا۔‘‘

اور نہ جانے کیا کیا …..

پھر توقعات کا طوفان کہ تعزیت نامے موصول ہونا شروع ہوجائیں گے۔ لوگ سوشل میڈیا پر ہی عیادت کرنے لگے۔ کچھ تو دوستوں کو اطلاع دینے یا پھر لائک اور کمنٹس سے محظوظ ہونے کی خاطر صبح ہوتے ہی اپنا شیڈول اپ لوڈ کرتے ……. اگر اس دیوانگی پر نکتہ چینی کی جائے تو کہتے ہیں یہ سوشل لائف ہے۔

کامران ارسلان کو سوشل لائف کا درس دے کر گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ محلے میں بھیڑ لگی ہے۔ لوگ خاموش بیٹھے ہیں کچھ دھیرے سے بات کررہے ہیں ۔

کامران نے سیلم انکل سے پوچھ لیا :’’ انکل کیا ہوا ہے۔‘‘

ارے کامران تمہیں معلوم نہیں کہ عارف دادا پچھلے دو ہفتے سے بیمار تھے آج انتقال ہوگیا ہے۔

کامران کے دماغ میں گویا گھنٹیاں بجنے لگیں۔

بھائی جان یہ سوشل میڈیا کی لائف ہے آپ نہیں سمجھیں گے۔ تف ہے ایسی سوشل (میڈیا) لائف پر جس میں بیرونی ملک کے دوست کے انتقال کی خبر لمحے میں ہوجاتی ہے اور پڑوسی کے طبیعت خراب ہونے کی اطلاع انتقال کے بعد۔

ارسلان نے دور سے ہی کامران کی صورت حال کو سمجھ لیا تھا اس لیے قریب آکر کہا: بھائی! ہر چیز کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے ۔ جب اعتدال ختم ہوتا ہے تو دیوانگی بن جاتا ہے اور دیوانگی سماجی زندگی کے لیے، جسے آپ سوشل لائف کہتے ہیں، مہلک ہے ۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر احمد عروج مدثر (اکولہ)

تبصرہ کیجیے