BOOST

صحت و صفائی کے لیے نبوی ہدایات

اللہ تعالیٰ خود طیب (پاک) ہے اور طیب کو پسند فرماتا ہے۔ حضور پاک ﷺ پاکیزہ لوگوں کو خوشخبری سناتے ہیں: ’’جو شخص اپنے بدن، چہرے اور اعضاء کو پاک صاف رکھے گا وہ ایسی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا چہرہ اور پیشانی چمکتی ہوگی اور اس کے جسم کے مختلف حصے صاف شفاف ہوں گے۔‘‘ (ترمذی)

اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام چاہتا ہے کہ انسان ہر حال میں صاف ستھرا نظر آئے اور پاک زندگی گزارے۔ اس سلسلے میں حضور پاک ﷺ نے روز مرہ کی چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی توجہ فرمائی، مثلاً ناخن تراشنے اور سرمہ لگانے تک کی سخت ہدایت فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لوگو! آنکھوں میں سرمہ لگایا کرو، سرمہ آنکھوں کے میل کو دور کرتا ہے۔‘‘ (ترمذی)

’’ہر مسلمان پر خدا کا یہ حق ہے کہ ہفتے میں ایک دن غسل کیا کرے اور اپنے سر اور بدن کو دھویا کرے۔‘‘ (بخاری)

اسی طرح حدیثوں کے مطابق ناخن بھی ہفتہ وار ضرور ترشوائے جائیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہدایت فرمادی کہ ناخن دانت سے نہ کاٹے جائیں کہ یہ حفظانِ صحت کے خلاف ہے۔

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضور اقدس ﷺ کے پاس آیا اور آسمان کی خبریں دریافت کرنے لگا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا:

’’تم میں ایک شخص آتا ہے اور آسمان کی خبریں دریافت کرتا ہے مگر (اس کو اپنے سامنے کی چیزیں نظر نہیں آتیں) اس کے ناخن پرندوں کے پنجوں کی طرح بڑھے ہوئے ہوتے ہیں جن میں ہر طرح کا میل کچیل بھرا ہوتا ہے۔‘‘ (احکام القرآن، خصائص،ج:۱)

نبی پاک ﷺ کا دستور تھا کہ اپنے بال بڑے سلیقے سے سنوارتے۔ سر میں تیل ڈالتے اور اپنے ہاتھ سے کنگھی کرتے، لیکن حفظانِ صحت کے خیال سے دوسرے کی استعمال شدہ کنگھی استعمال کرنے سے منع فرماتے۔ لبوں کے زائد بال تراش دیا کرتے تھے اور قینچی سے داڑھی کو (لمبائی، چوڑائی میں برابر) ہموار کیا کرتے تھے۔ آپؐ کی صفائی پسندی کا تو یہ عالم تھا کہ آپ اپنے بالوں کے تیل کی چکنائی سے بچنے کی خاطر ایک خاص کپڑا عمامہ کے اندر رکھا کرتے تھے۔ یہ کپڑا تیل کے اثر سے چکنا تو ہوجاتا مگر کبھی میلا نہ دیکھا گیا۔ سبحان اللہ! چنانچہ حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ لباس، میلا کچیلا نہ ہو۔ اس کے علاوہ موٹا، سادہ، جیسا کپڑا میسر ہو پہن لیا جائے۔ صفائی کے لحاظ سے ہی رسول کریم ﷺ کو سفید رنگ بہت پسند تھا۔ انتہا یہ ہے کہ آپؐ اپنی نفاست پسندی کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کے لباس کو بھی گندہ دیکھنا گوارا نہ کرتے تھے، چنانچہ آپؐ نے ایک مرتبہ کسی شخص کو میلے کچیلے کپڑے پہنے دیکھا، تو فرمایا:’’اس کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے کپڑے دھولیتا؟‘‘

پاکی و صفائی سے متعلق آپ نے بے شمار ہدایات امت کو فرمائیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ ’’پاکی و صفائی نصف ایمان ہے۔‘‘ اس میں جہاں ظاہری و مادی چیزوں سے بچنے کا حکم آتا ہے وہیں اپنے ذہن و فکر اور خیالات کو صاف ستھرا رکھنے کی بھی ہدایت ملتی ہے۔ مشہور حدیث ہے جس میں آپ نے دلوں کے زنگ آلود ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ اور پھر اس زنگ سے دل کو صاف کرنے کا علاج اور طریقہ قرآن کی بہ کثرت تلاوت اور موت کو کثرت سے یاد کرنا قرار دیا ہے۔

ان تمام احکام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکی و صفائی اسلام کی روح ہے۔ حضور پاک ﷺ کو اپنی صحت و صفائی کا اس حد تک خیال تھا کہ آپؐ سفر تک میں کنگھا، آئینہ، تیل کی شیشی، سرمے دانی، قینچی اور مسواک وغیرہ اپنے ساتھ رکھتے۔ آپﷺ ننگے پاؤں چلنے سے ہمیشہ گریز کرتے۔ صحت و صفائی کے خیال سے ہمیشہ جوتے پہن کر چلتے اور دوسروں کو بھی جوتا پہننے کی ہدایت کرتے ہوئے فرماتے: ’’اکثر جوتا پہنے رہا کرو، جوتا پہننے والا بھی ایک طرح کا سوار ہے۔‘‘

آپﷺ اپنا جوتا، موزے اور کپڑے پہننے سے پہلے انہیں جھاڑ ضرور لیتے تاکہ اگر کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا ان میں چھپا ہوا ہو تو دور ہوجائے۔ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ جنگل میں اپنے موزے پہن رہے تھے۔ پہلا موزہ پہننے کے بعد جب آپؐ نے دوسرا موزہ پہننے کا ارادہ فرمایا تو اس پر کوا جھپٹا اور اسے اٹھا کر اڑگیا اور خاصا اوپر لے جاکر اسے چھوڑ دیا۔ موزہ جب اوپر سے نیچے گرا تو گرنے کی چوٹ سے اس میں سے ایک سانپ نکل کر دو جاپڑا۔ یہ دیکھ کر آپ نے خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا: ’’ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جب موزے پہننے کا ارادہ کرے تو انہیں جھاڑ لیا کرے۔‘‘ (طبرانی)

سرورِ کونین ﷺ نفاست کا اس درجہ لحاظ فرماتے کہ جب کوئی شخص آپؐ کے جسم مبارک یا لباس شریف سے کوئی تنکا یا مٹی وغیرہ ہٹاتا تو آپؐ اس کا بھی شکریہ ادا فرماتے اور دعا دیتے:’’خداتم سے ہر اس چیز کو دور کرے جو تم کو بری لگتی ہو۔‘‘ (الحدیث)

ایک مرتبہ رسول پاک ﷺ کے پاس کچھ لوگ آئے جن کے دانت صاف نہ ہونے کی وجہ سے پیلے ہورہے تھے۔ آپؐ کی نظر پڑی تو فرمایا: ’’تمہارے دانت پیلے پیلے کیوں نظر آرہے ہیں؟ مسواک کیا کرو۔‘‘ (مسند احمد)

آپؐ اکثر فرماتے: ’’مسواک کیا کرو کیونکہ مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔ جب کبھی جبرئیل آئے مجھے مسواک کی تاکید کی حتیٰ کہ مجھے ڈر ہوا کہیں مجھ پر اور میری امت پر مسواک فرض نہ ہوجائے۔‘‘ (ابنِ ماجہ)

اسلام کا حکم ہے کہ روزانہ ہر شخص صبح سویرے اٹھ کر کسی کھانے پینے کی چیز کو ہاتھ نہ لگائے بلکہ پہلے کم سے کم تین مرتبہ ہاتھ دھوئے اور پھر منہ صاف کرنے کے لیے مسواک کرے اور صرف یہی نہیں بلکہ رات کو سونے سے پہلے بھی دانتوں کو صاف کرے، گویا اس طرح ہر مسلمان کو صبح و شام روزانہ چھ بار اور پانچ نمازوں کے وقت وضو میں ۱۵ مرتبہ منہ اور دانت صاف کرنے ہوتے ہیں۔ جس نے اپنے ہاتھ اور منہ اور دانتوں کو اس طرح دن میں کم سے کم اکیس بار صاف کیا ہو اس کے دانت کبھی خراب نہیں ہوسکتے۔ اور اس طرح ہاتھ بھی کم سے کم ۲۱ مرتبہ دھلنے کی وجہ سے جب منہ میں جائیں گے تو کسی بیماری کی عفونت پیدا نہ کرسکیں گے۔

پھر اس میں بھی یہ باریکی سامنے رکھی گئی کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوکر کسی کپڑے یا تولیے سے صاف نہ کیے جائیں کیونکہ اگر ہاتھ دھوکر کپڑے سے پونچھے جائیں گے تو اس کپڑے کے جراثیم ہاتھوں میں لگ جائیں گے اور پھر کھانے کے ساتھ منہ میں چلے جائیں گے اور خدانخواستہ اگر کوئی شخص بیمار، پیچش، دست، یرقان یا ہیضہ وغیرہ کا مریض ہو اور وہ کپڑے سے ہاتھ پونچھے گا، تو اس کی بیماری کے جراثیم آسانی سے اس کپڑے میں چلے جائیں گے۔ اسی لیے حضور پاک ﷺ نے یہ حکم دیا:

’’دوسرے کے تولیے میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

یہ سب احتیاطیں بیماروں کے جراثیم سے بچنے کے لیے بتائی گئی ہیں۔ گندے جراثیم کے بچاؤ کے خیال ہی سے یہ حکم بھی دیا گیا کہ پانی تین سانسوں میں پیا جائے اور تینوں دفعہ پانی کے برتن کو منہ سے الگ کرکے سانس لیا جائے (اب سائنس نے بھی ثابت کردیا ہے کہ منہ سے آنے والی سانس زہریلی ہوتی ہے) اسی لیے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ گرم کھانے کو منہ سے پھونک مار کر ٹھنڈا نہ کیا جائے۔

ان تمام حفاظتی ہدایات سے پتا چلتا ہے کہ نبی پاک ﷺ بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے سب سے پہلے احتیاطی تدبیریں اختیار کرتے تھے اور اگر پھر بھی بیماری آجاتی تو اس کا علاج غذا کے ذریعے سے کرتے اور اگر اس سے بھی فائدہ نہ ہوتا تو پھر سب سے آخر میں دوا استعمال فرماتے۔

آج کی نئی طب کا یہ روشن اصول بتایا جاتا ہے کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے۔‘‘ لیکن رسول پاک ﷺ نے آج سے چودہ سو برس پہلے ہی خوراک کے استعمال کی ایسی ایسی مفید ہدایات دیں جن سے دنیا اس وقت تک قطعی ناواقف تھی۔ مثلاً آپ نے فرمایا:

خیر الغذاء بواکرۃ۔

(یعنی بہترین ناشتہ وہ ہے جو صبح جلدی کیا جائے۔)

آج کی سائنس بتاتی ہے کہ اگر ناشتہ دیر سے کیا جائے یا اس میں کسی قسم کی کمی رہ جائے تو صحت بگڑ جاتی ہے، چنانچہ انسانی صحت کے لیے صبح سویرے عمدہ ناشتہ بہت ضروری ہے۔ اسی طرح غذا کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ رات کا کھانا بھی بہت ضروری ہے۔ رات کو فاقہ کرنے کے یہ معنیٰ ہیں کہ صبح اٹھارہ گھنٹے کے بعد غذا پیٹ میں گئی۔ اس طرح صحت کا بگڑ جانا یقینی بات ہے، چنانچہ حضور پاک ﷺ نے پہلے ہی فرمادیا تھا:

تعشوا فان ترک العشاء مہرمہ۔

’’رات کا کھانا کھایا کرو کیونکہ رات کا کھانا چھوڑ دینے سے بڑھاپا آجاتا ہے۔‘‘

غذا کو مناسب بنانے کے لیے حضور ﷺ گوشت کے ساتھ سبزیاں استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ گوشت میں لحمیات تو موجود ہوتے ہیں، لیکن اس میں گلوکوز اور حیاتین نہیں ہوتے۔ اس لیے رسول پاک ﷺ گوشت کے ساتھ اکثر کدو ملاکر پکواتے۔ اس طرح گوشت میں ’حیاتین‘ شامل ہوجاتے اور یوں حضور پاک ﷺ کی غذا Balanced Diet یعنی ’’متناسب متوازن غذا‘‘ بن جاتی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے دستر خوان کو سبز چیزوں سے سجایا کرو۔‘‘

اگر آج کے ڈاکٹر کھانے میںسلاد کی موجودگی پر زور دیتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غذا کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات جدید سائنسی تحقیقات سے بہت آگے بڑھی ہوئی ہیں۔

ڈاکٹروں کو اب جاکر کہیں پتا چلا ہے کہ غذا کے ذریعے جسم میں مرض سے بچاؤ کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ بخار میں اور سوزشوں کے علاج کے لیے حتیٰ کہ تب دق جیسی جان لیوا بیماریوں میں اگر مریض کو دوا نہ دی جائے تو اکثر اچھی غذا ہی سے شفا حاصل ہوجاتی ہے۔ بیماروں کے لیے غذا کس قدر ضروری ہے، اس کی اہمیت کا علم ڈاکٹروں کو ۱۹۵۰ء میں ہوا جبکہ ہمارے پیارے رسول ﷺ نے سیکڑوں سال پہلے ہی حکم فرمادیا تھا کہ لاتکرہو مرضاکم عن الطعام‘‘ یعنی مریضوں کو کھانے پینے کی چیزوں سے منع مت کیا کرو۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ’’مریض کچھ کھاناچاہے تو اسے کھلاؤ۔‘‘

نئی سائنسی معلومات نے اب یہ ثابت کردیا ہے کہ سب سے اچھا علاج وہ ہے جو غذا کے ذریعے کیا جائے، لیکن ہمارے نبی پاک ﷺ نے ’’علاج بالغذا‘‘ پر اس زمانے میں زور دیا تھا جب ’’علم الغذا‘‘ کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔ اس وقت حضور پاک ﷺ پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں بھی دوا کے بجائے غذا ہی کو استعمال فرماتے تھے، چنانچہ آپؐ کا ارشاد ہے:

اکل التمر امان من القولنج۔

(کھجور کھانا درد قولنج سے محفوظ رکھتا ہے۔)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

تاکل التمر فانہا یقتل الدود۔

(کھجور کھایا کرو کہ وہ پیٹ کے کیڑے ماردیتا ہے۔)

اس کے علاوہ ارشاد ہوا:

ما عندی للنفساء شفاء مثل الرطب

(میرے نزدیک عورتوں میں خون آنے کی زیادتی کے لیے کھجور سے بہتر کوئی علاج نہیں)

چنانچہ مشہور معالج ڈاکٹر خالد غزنوی نے خود اپنے گھر میں خون آنے کی زیادتی کے علاج میں جب جدید طب کے ماہر ہونے کے باوجود ناکام ہوگئے تو آخر کار حدیث شریف کے مطابق کھجور ہی کو آزمایا اور پھر اللہ کے فضل سے مریضہ کو اسی سے شفا حاصل ہوئی۔

اسلام نے گندگی اور بیماری سے بچنے ہی کے خیال سے مسلمانوں کو ختنہ کرانے کا حکم دیا۔ اب یہ پوری طرح ثابت ہوچکا ہے کہ قلفہ (یعنی فالتو کھال) میں ایک زہریلا مواد جمع ہوجاتا ہے جسے سمیگما(Smegma) کہتے ہیں جس سے مختلف امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے سوزش کے علاوہ اعضائے تناسل کا سرطان تک پیدا ہوسکتا ہے۔ ختنہ کرانے کے بعد ان خطرناک بیماریوں کا خطرہ نہیں رہتا۔

انسانی صحت کی حفاظت کا حضور پاک ﷺ کو اس درجہ خیال تھا کہ آپؐ نے یہ عام ہدایت فرمائی: ’’بیمار آدمی تندرست کے پاس نہ آئے۔‘‘

اور اڑ کر لگنے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے تو آپؐ نے یہا ںتک حکم دے دیا:

’’جذامی سے ایسے بھاگ جیسے شیر سے بھاگتے ہیں۔‘‘ (بخاری شریف)

ان تمام ہدایتوں کا مقصد یہی ہے کہ انسانی صحت خوامخواہ کے روگ اور آزار سے محفوظ رہے ورنہ بیماری تو اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر بیماری اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے تواس سے بچاؤ کرنے کا حکم بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ بعض ناسمجھ لوگ بے احتیاطی سے بیماری والے علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چھوت سے بھاگنا ایمان کی کمزوری ہے، لیکن یہ غلط خیال ہے کیونکہ تاریخی واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے خود ملک شام میں جانے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہاں طاعون پھیلا ہوا تھا، چنانچہ جب لوگوں نے کہا کہ: ’’آپ تقدیرِ الٰہی سے بھاگتے ہیں۔‘‘ تو حضرت عمرؓ نے جواب دیا:

’’ہم تقدیرِ الٰہی سے بھاگ کر، تقدیرِ الٰہی کی طرف جاتے ہیں۔‘‘

گویا متعدی بیماری کے علاقے سے نکل کر محفوظ علاقے میں چلے جانا بھی تقدیرِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔

افزائش صحت ہی کے خیال سے حضور پاک ﷺ نے سیروتفریح کو پسند فرمایا۔ کھلی فضا میں آپؐ ہوا خوری کے لیے خود تشریف لے جاتے اور اپنے صحابیوں کو بھی باغوں اور سبزہ زاروں کی سیر کراتے تھے۔ ہرے بھرے کھیتوں اور سرسبز باغوں میں اللہ کے پیاروں کی محفل جمتی، فطرت کے نظارے ہوتے۔ اس وقت قدرت کے حسین نظاروں سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہوئے آپؐ اپنے پیارے صحابیوں سے فرماتے: ’’تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر فیاض احمد کاوش

تبصرہ کیجیے