4

آزمائش کے وقت ثابت قدمی

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔‘‘ اس آیت کی روشنی میں کیا ہم نے اس زندگی سے متعلق کبھی ذرا بھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ آیا ہم کو خدا نے یونہی بے کار پیدا کیا ہے؟ یا ہمارا دنیا میں آنے کا کوئی مقصد بھی ہے؟ تو یہ بات سامنے آئے گی کہ نہ ہم نے اپنی تخلیق پر غور کیا ہے نہ اپنی زندگی پر۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ذرا سی ناکامی اور ذرا ذرا سے دکھ اور تکلیف سے مایوس ہوکر اور ڈر کر اپنی زندگی کو ختم کررہے ہیں۔ خود کشی کررہے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ثابت قدم رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔ صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ وہ لوگ جو خدائے واحد و برترپر کامل ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی خود کشی جیسا فعل اختیار ہی نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ جو بھی دکھ، تکلیف مصیبت ان کو پہنچتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ جو لوگ راضی بہ رضا رہتے ہیں اور صبر اور نماز سے کام لیتے ہیں وہی اللہ کے نیک بندے ہیں اور وہی ایمان والے ہیں۔

دنیا کو مومن کے لیے امتحان گاہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تو ظاہر ہے ہمیں امتحان تو دنیا ہی ہوگا۔ ورنہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ نیک کون ہے اور بدکون ہے۔ کون اللہ کی مرضی پر سرِ تسلیم خم کرتا ہے اور کون اس کی مرضی سے انحراف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں یونہی تھوڑے ہی جنت میں داخل کردے گا بلکہ وہ کچھ نہ کچھ ہمیں آزمائش میں ڈالے گا تو جو لوگ اس آزمائش میں ثابت قدم رہیں گے وہ کامیاب ہوں گے۔ اور ہم تمہیں کچھ خوف، بھوک پیاس، مال و جان اور کھیتیوں و پھلوں کے نقصان سے ضرور آزمائیں گے۔ اور (ایسے میں) بشارت و خوش خبری سنا دیجیے، صبر کرنے والوں کو۔‘‘

ایک اور جگہ فرمایا: ’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم (آسانی سے) جنت میں چلے جاؤگے اور تمہیں پچھلے لوگوں کی طرح آزمایا نہ جائے گا۔ انہیں تنگ دستی اور مصیبتیں لاحق ہوئیں اور وہ ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘

اگر ہم دنیا کے حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات ہمیں روزِ روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ آج چہار جانب سے امتِ مسلمہ پر جو باطل قوتیں ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں اور ہماری دعائیں بھی قبول نہیں کی جارہی ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جیسا تعلق ہمارا ہونا چاہیے تھا ویسا نہیں ہے۔جس راستے کی اس نے رہنمائی کی تھی اگر اس راستے کو ہم نے چھوڑ دیا تو یقینا ہم خسارے میں تو پڑیں گے ہی۔ آج جس راہ پر ہم چل رہے ہیں وہ راستہ ہمارا اپنا چنا ہوا ہی تو ہے۔ تو پھر کسی دوسرے کو ان حالات کا دوش کیوں دیں؟ یہ تو ہمارے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔ یاد رکھئے! اگر ہم اللہ کی یاد سے غافل ہوجائیں گے تو وہ بھی ہمیں حالات کے حوالے کردے گا۔ جب ہم اس کے راستے پر چلیں گے تبھی وہ ہماری مدد بھی کرے گا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے، یہ اللہ کا وعدہ ہے جو قرآن میں صاف طور سے کیا گیا ہے۔ اس کی مثال پیغمبروں کے واقعات اور خود رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے کہ کیسے کیسے سخت اور طاقتور دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی مدد کی ہے کہ آج بھی دنیا حیران ہے کہ ایک مختصر سی جماعت میں وہ کیا طاقت و قوت سرایت کرگئی تھی کہ جس کے بل پر انھوں نے اپنے سے دس دس گنا فوجوں کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا اور بڑی سے بڑی طاقتیں انھیں شکست دینے کے خواب اپنے سینے میں ہی لے کر اس دنیا سے چل بسیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے اندر ایمان کی قوت تھی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کرتے تھے اور اللہ کے لیے ہی جدوجہد کرتے تھے۔ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی فکر میں لگے رہتے تھے اگر آج ہم بھی ان اوصافِ حمیدہ سے کچھ سبق حاصل کرکے اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ نبھائے گا اور وہ ہر حال میں ہماری مدد کرے گا۔ کیوںکہ اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم اسے یاد رکھیں گے تو وہ بھی ہمیں ہار رکھے گا اگر ہم اسے بھول جائیں گے تو وہ بھی ہمیں بھلادے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد واثق ندیمؔ، آکوٹ

تبصرہ کیجیے