جھوٹی ناک

کمرے کے اندر کئی لوگ جمع تھے۔ فضا پر کچھ ایسی سنجیدہ سی خاموشی طاری تھی جیسے ابھی ابھی کسی گمبھیر اور سنجیدہ موضوع پر گفتگو کا سلسلہ رکا ہو۔ دراصل یہ میٹنگ شادی کی تقریب سے محض دو دن پہلے دونوں خاندانوں کے درمیان کچھ اہم امور طے کرنے کے لیے منعقد ہوئی تھی۔

اچانک نوجوان لڑکے کی آواز نے اس خاموش فضا میں ہلچل پیدا کردی۔ ’’میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں ان سب باتوں کو نہیں مانتا ۔ یہ بے کار کے رواج ہیں جنھوں نے ہمیں اپنی جکڑ میں لے رکھا ہے۔‘‘

’’مگر بیٹا یہ سب تو کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ لڑکی والوں کی طرف سے کسی بزرگ نے اس کے جواب میں کہا۔

اچانک لڑکے کے والد نے بھی گفتگو میں حصہ لیا ’’دیکھئے بھائی صاحب ہم نہ جہیز کے لالچی ہیں اور نہ اس لین دین کو پسند کرتے ہیں بلکہ ہم تو اسے سماج سے ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب میرا لڑکا جہیز کے نام پر کچھ بھی نہیں لینا چاہتا تو آپ لوگوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اور اعتراض کیا آپ کو تو خوش ہونا چاہیے اور یہ بات تو ہم نے شادی طے کرتے وقت ہی بتادی تھی۔‘‘

لڑکی کے ماموں بولے: ’’مگر بشیر صاحب! لڑکی خالی ہاتھ بھی تو نہیں بھیجی جاسکتی۔ لوگ کیا کہیں گے اور ہم لوگ کوئی غریب اور فقیر تھوڑے ہی ہیں کہ کچھ نہ دیں۔ ماشا ءاللہ ہمارا بھرا پُرا خاندان ہے، لڑکی کے چار ماموں، دو چچا اور ایک تایا ابھی حیات ہیں۔ آپ لڑکی کو یتیم نہ سمجھئے۔‘‘

لڑکے نے بے چارگی سے کہا: ’’یہ امیری غریبی یا یتیمی کا معاملہ نہیں، یہ جہیز کی لعنت کو سماج سے مٹانے کی جنگ ہے۔ ہمیں غلط چیزوں کو معاشرے سے مٹانا چاہیے اور اچھی چیزوں کو ہی رواج دینا چاہیے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ سماج میں اس جہیز نے کتنے والدین کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے اور کتنی لڑکیوں کی زندگیوں کو جہنم۔ کیا آپ روز اخباروں میں نہیں پڑھتے کہ جہیز کے لالچی کتنی بیٹیوں کو روز مار ڈالتے ہیں؟ آپ لوگ ہیںکہ جہیز دینے پر اڑے ہوئے ہیں۔ آخر کیوں؟‘‘

اتنی لمبی گفتگو کے بعد بھی کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ جہیز کا لین دین اچھی بات نہیں۔ لڑکی کے چچا نے کہا: ’’آپ کی باتیں صحیح ہیں مگر معاشرے کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس سے تو ہماری ناک کٹ جائے گی اور پھر معاشرے میں ہماری عزت بھی تو بہت ہے۔‘‘

اب لڑکے والوں کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ جہیز لینا قبول کرلیں اور دوسرا یہ کہ رشتہ ختم کرلیں۔ مگر شادی سے عین دو دن پہلے رشتہ ختم کرنا کیسا ہے؟ یہ آپ سوچ سکتے ہیں۔ پتہ نہیں کہ آپ یہ سوچ سکتے ہیں یا نہیں کہ جہیز نہ لینےوالے نوجوان کو موجودہ سماج میں کتنی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے!

شیئر کیجیے
Default image
نصیر رمضان