5

نمک کم کھائیے اور زندگی بچائیے

زبان کی لذت اپنی جگہ مگر نمک کو اپنی صحت سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہ دیں۔

کھانا سامنے ہو مگر اس میں نمک نہ ہو تو شاندار ترین ڈش بھی مسترد ہوجاتی ہے، ہم نمک کھانے کے اس قدر عادی ہیںکہ بغیر نمک نہ تو ہمارا گزارہ ہوتا ہے اور نہ ہی ہمیں مزہ آتا ہے۔ نمک دراصل سوڈیم اور کلورین سے مل کر بنتا ہے۔ انسانی تاریخ میں نمک کا سب سے پہلے ذکر بائبل کے زمانے میں کہیں ملتا ہے جب نومولود بچوں کو شیطانی اثرات سے بچانے کے لیے نمک کا مساج کیا جاتا تھا۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ انسانی جسم کو نمک کی جس قدر ضرورت ہوتی ہے ہم اس سے کہیں زیادہ نمک استعمال کرتے ہیں اور یہ نمک پھر ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں ہماری زندگی کے لیے خطرناک ترین ثابت ہوتا ہے۔

نمک کا کم استعمال کیوں ضروری ہے

ایک عام انسان دو سے چار ٹی اسپون نمک ایک دن میں اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ سال میں وہ کم از کم ۱۵ پونڈ نمک کا ذخیرہ کرچکا ہوتا ہے جبکہ طبی نقطہ نگاہ سے ہمارے جسم کی ضرورت ایک ٹی اسپون کا دسواں حصہ ہے یعنی ۲ء۰ گرام لیکن اگر آپ اس سے زیادہ نمک کھانا چاہتے ہیں تو سوا ٹی اسپون سے زیادہ نمک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ زیادہ نمک انتہائی مضر صحت ہے۔ گردوں کی خرابی، ہائی بلڈ پریشر، دل کی تکالیف اور فالج نمک ہی سے پیدا ہوتے ہیں لہٰذا کوشش کریں کہ ہر صورت میں نمک کا استعمال کم سے کم ہو۔

ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشار خون

زائد سوڈیم انسانی جسم کے لیے کیوں ناموزوں ہے، آئیے اس کی کچھ تفصیل آپ کو بتاتے ہیں مثلاً گردوں ہی کا فعل دیکھئے۔ گردے دراصل سوڈیم کی سطح کو نارمل رکھنے کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ زائد سوڈیم گردوں ہی میں رکتا ہے اور پھر یہ زائد سوڈیم گردے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گردوں کی فعالیت اس زائد سوڈیم سے متاثر ہوتی ہے مثلاً گردوں میں پانی رکنے لگتا ہے جس کے باعث خون کا حجم بڑھ جاتا ہے، تب نالیاں پانی پھنس جانے کے باعث مزید حساس ہوکر اعصاب تک درست بہاؤ نہیں کرپاتیں۔ ان تنگ نالیوں سے زیادہ حجم والا خون گزرتا ہے تو دباؤ میں اضافہ ہوجاتا ہے، یہ اضافہ ہی بلڈ پریشر کہلاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر دل کی رفتار بڑھ جاتی ہے کیونکہ دل کی ضرورت سے زیادہ خون جسم میں پمپ کرنا پڑتا ہے۔

صحت کو لاحق دیگر خطرات کون سے ہیں

فالتو سوڈیم جسم کے ٹشوز کے اندر اور باہر موجود پانی میں بھی اضافہ کرتا ہے جس کے باعث سوجن پیدا ہوجاتی ہے۔ قلب کے ارد گرد پیدا ہوجانے والی یہ سوجن اکثر دل کو بند کرنے کا سبب بن جاتی ہے جبکہ دماغ کے ٹشوز کی سوجن نہ صرف ڈپریشن پیدا کرتی ہے بلکہ جذباتی عدم توازن کی کیفیت بھی پیدا کرتی ہے۔ ماہواری سے قبل کی تکالیف ابھرنے کی ایک اہم وجہ بھی یہی زائد سوڈیم یا نمک ہے۔ایسی تمام خواتین کو ماہواری کے شروع ہونے سے کم از کم ۱۰ دن قبل کم سے کم نمک کی خوراک استعمال کرنی چاہیے۔

نمک یا سوڈیم کہاں سے آتا ہے

عام طور پر سوڈیم ہمارے کھانوں میں پایا جاتا ہے اور حصول کا ذریعہ بھی یہی کھانے ہیں، لیکن بعض ذرائع ایسے بھی ہیں جو پوشیدہ یا خفیہ کہلائے جاسکتے ہیں مثلاً کیک، ڈبل روٹی، پنیر میں بھی خاصا نمک پایا جاتا ہے اور بیکنگ پاؤڈر ، کھانے کے سوڈے اور چینی نمک میں بھی اس کی زبردست مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض سبزیاں بھی سوڈیم سے بھر پور ہوتی ہیں مثلاً پالک، شلجم اور چقندر، ڈیری کی اشیاء میں بھی سوڈیم پایا جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس مثال سے لگائیے کہ نصف کپ کاٹج چیز میں جتنا سوڈیم موجود ہوتا ہے اتنا ہی سوڈیم ۳۲ عدد آلو کے چپسوں میں ہوتا ہے۔

نمک کم سے کم کھائیے

ہم آپ سے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اپنی خوراک میں نمک کا استعمال بالکل نہ کریں مگر آپ بہرحال اسے کم تو کرسکتے ہیں۔ اب کم کرنے کے ویسے تو بہت سے طریقے ہیں مگر پہلا اور سب سے اہم طریقہ اضافی نمک سے انکار ہے یعنی یوں سمجھ لیں کہ اب آپ کو کبھی بھی نمک دانی سے نمک نہیں چھڑکنا چاہیے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ کھانے پکانے کے دوران بھی نمک کی مقدار کم کرتی جائیں، یوں آپ کم سے کم نمک کھانے کی عادی ہوجائیں گی۔ سیاہ مرچ، پیاز، لہسن اور لیموں کی مقدار بڑھا کر بھی آپ کھانے زیادہ سے زیادہ مزیدار بناسکتی ہیں، لہٰذا صرف نمک ہی پر انحصار مت کیجیے۔ جب آپ نمک کم کھانے کی عادت خود میں پیدا کرلیں تو پھر پوٹاشیم کا استعمال بڑھائیں، اس مقصد کے لیے سیب، کیلا، نارنگی، بندگوبھی، مٹر اور مختلف النوع پھلیاں اور بیج مناسب رہیں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر فرید الدین احمد

تبصرہ کیجیے