3

بندے کا دولت میں حقیقی حصہ

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْــرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِیْ مَالِیْ وَإِنَّمَا لَہٗ مِنْ مَّالِہٖ ثَلَاثٌ: مَا اَکَلَ فَاَفْنٰی اَوْ لَبِسَ فَاَبْلٰی اَوْ اَعْطٰی فَاَقْتَنٰی وَمَا سِوٰی ذٰلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ وَتَارِکُہٗ لِلنَّاسِ۔ (رواہ مسلم و احمد)

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے جو واقعی اُس کا ہے وہ بس تین مدیں ہیں: ایک وہ جو اس نے کھا کے ختم کردیا، دوسرا وہ جو پہن کر پرانا کرڈالا اور تیسرا وہ جو اُس نے راہِ خدا میں دیا اور اپنی آخرت کے واسطے ذخیرہ کرلیا، اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ بندہ دوسرے لوگوں کے لیے اُس کو چھوڑ جانے والا ہے اور خود یہاں سے ایک دن رخصت ہوجانے والا ہے۔‘‘

انسان روزی کمانے کی جدوجہد کرتا ہے اور ہر وقت مال اکٹھا کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ پھر اپنا مال اور جائیداد دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے: یہ میرا مال ہے، یہ میر ا مال ہے۔ یہ میرا مکان ہے، یہ میری دکان ہے، یہ میری زمین ہے، یہ میری حویلی ہے، یہ میرا کارخانہ ہے۔ زندگی بھر یہی راگ الاپتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اُس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔ اُس وقت اُس کا سارا مال اور جائیداد پڑی رہ جاتی ہے، جو اسی وقت اس کی ملکیت سے نکل کر اس کے وارثوں کا مال بن جاتا ہے، اور وہ خود خالی ہاتھ سفید کفن پہن کر قبر میں اترجاتا ہے۔

اسلام زندگی گزارنے کا نہایت عمدہ اور اچھا انداز بتاتا ہے۔ چنانچہ اس حدیث میں مال جمع کرنے اور اس کو سنبھال سنبھال کر رکھنے سے بڑے حکیمانہ طریقے سے منع کیا ہے اور حقیقت حال ان الفاظ میں واضح کی ہے کہ جس مال کو وہ اپنا مال کہتا ہے اور جسے اس نے بڑی جدوجہد اور محنت کے ساتھ کمایا ہے، دراصل اُس میں سے اس کا مال صرف وہ ہے جو اس نے کھا پی کر ختم کرلیا، یا پھر اپنے لباس پر خرچ کیا یا اللہ کی راہ میں نیک کاموں پر خرچ کرکے توشۂ آخرت بنالیا۔ اس کے علاوہ جتنا بھی مال اس نے پس انداز کیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ اگر وہ اس کو نیک کاموں میں خرچ کریں گے تو ثواب پائیں گے، اگر برے کاموں میں خرچ کریں گے تو گناہ حاصل کریں گے۔

اس حدیث میں انسان کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے نصیحت کی گئی ہے کہ جس قدر ممکن ہو اپنا مال اللہ کی راہ میں اور نیک کاموں میں خرچ کرنا چاہیے، کیونکہ جو مال اس طرح خرچ کیا گیا وہ توشۂ آخرت بن گیا اور مرنے والا جو مال چھوڑ گیا اس کے بارے میں جواب دہی تو اسے کرنی پڑے گی جبکہ اس سے فائدہ دوسرے لوگ اٹھائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أیکم مال وارثہ احب الیہ من مالہ، قالوا یا رسول اللّٰہ : ما منا احد الا مالہ احب الیہ من مال وارثہ، قال: فإن مالہ ما قدم ومال وارثہ ما اخر۔ (رواہ البخاری)

یعنی تم میں سے کون ایسا ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ لوگوں نے عرض کیا ہم میں سے تو ہر ایک کا حال یہ ہے کہ اس کو اپنے وارثوں کے مال سے زیادہ محبوب اپنا ہی مال ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’جب یہ بات ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ آدمی کا مال بس وہی ہے جس کو اس نے آگے بھیجا اور جس قدر اس نے بچا کر رکھا وہ اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہے۔ (پس عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی کو وارثوں کے لیے مال چھوڑنے سے زیادہ فکر اپنی آخرت کے لیے سرمایہ محفوظ کرنے کی ہونی چاہیے جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ مال جمع کرنے کی دھن کو طبیعت پر غالب نہ آنے دے بلکہ کشادہ دلی کے ساتھ مال کا بڑا حصہ خیر کے کاموں میں خرچ کرتا رہے)۔ جب آدمی فوت ہوجاتا ہے تو دنیا میں اُس کے دوست احباب اور رشتہ دار یہ کہتے ہیں کہ اتنا مال چھوڑ کر مرا، بڑی دولت کمائی، اپنی اولاد کے لیے بڑی جائیدادیں بنائیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ محنت و مشقت سے کمایا ہوا یہ مال اس کے کسی کام نہیں آتا بلکہ الٹا اسے اس مال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جب مرنے والا مرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے اپنے واسطے آگے کیا بھیجا؛ (یعنی آخرت میں کام آنے والے کون سے نیک عمل کیے؟) جبکہ عام لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے کتنا مال چھوڑا؟‘‘ (البیہقی)

حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کے اعمالِ خیر اور فی سبیل اللہ خرچ ہی اس کے لیے آخرت کا ذخیرہ ہے۔ جس شخص کو اللہ نے امورِ خیر میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہے وہ بڑا ہی خوش قسمت ہے، کیونکہ ہر ایک کو موت کا ذائقہ چکھ کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، جہاں اُس سے دیگر سوالوں کے ساتھ خصوصی طور پر یہ سوال پوچھا جائے گا کہ مال کہاں سے کمایا اور کس جگہ خرچ کیا؟ اگر مال جائز طریقے سے کمایا ہوگا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوگا تو ایسا شخص حقیقی کامرانی سے بہرہ مند ہوگا، ورنہ کفِ افسوس ملنے کے سوا چارہ نہ ہوگا۔ انسان کی اصلی اور کام آنے والی کمائی تو وہی ہے جو اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے آخرت کے لیے محفوظ کرلی۔

اس سلسلے میں قرآن مجید میں بڑی واضح راہنمائی موجود ہے۔ سورۃ الحشر میں ارشاد ہے:

’’اے اہلِ ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر شخص غور سے دیکھتا رہے (دھیان رکھے) کہ وہ کل (آنے والی زندگی) کے لیے کیا آگے بھیج رہا ہے۔‘‘

(الحشر:آیت:۱۸)

پس انسان کو اس چند روزہ زندگی میں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ روزی حلال اور جائز طریقے سے کمائے اور اس آمدنی کو اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، مگر ضروری ہے کہ اپنی کمائی کاایک حصہ فی سبیل اللہ خرچ کرے اور یہی خرچ کرنا اس کے لیے توشۂ آخرت ہوگا، جیسا کہ اس حدیث میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ بندے کی کمائی میں سے دراصل اُس کا مال وہی ہے جو اس نے خیر کے کاموںمیں لگایا۔ یہ مال اُس وقت اس کے کام آئے گا جب وہ بے یارومددگار ہوگا اور کوئی اس کی دستگیری کرنے والا نہ ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر محمد یونس

تبصرہ کیجیے