5

ایک چھوٹی سی امید کا خاتمہ

ایک سال میں کتنا فرق واقع ہو جاتا ہے؟! ایک سال قبل براک اوباما کو اس بات پر شاباشی دی جارہی تھی کہ وہ پہلے افریقی امریکی ہیں جو دنیا کا سب سے طاقت ور عہدہ تصور کیے جانیوالے امریکی عہدہ صدارت تک پہنچے ہیں۔ان کی جادوئی شخصیت اور پر جوش جملے تخلیق کرنے کی صلاحیت نے امریکیوں کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ ان کے ملک میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو چکا ہے۔انھوں نے امریکہ کی نئی اور نوجوان نسل کو اس طور پر متاثر کیا ہے کہ وہ سیاست کو سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک آلے کے طور پر دیکھنے لگے۔وہ جارج بش کے بعد آئے اس لیے بھی دنیا ان کے لیے بچھ گئی۔بش سے نفرت کرنے والوں نے خود کو یہ یقین دلایا تھا کہ ۱۱/ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد ہونے والے تمام تر بین الاقوامی فسادات کے ذمہ دار چونکہ جارج بش ہی ہیں ، اس لیے اوباما کے صدر بننے سے امریکہ کے تئیں دنیا کی رائے میں تبدیلی آئے گی اور پھر یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن جائے گی۔
آج امریکہ میں یا دنیا کے کسی بھی علاقے میں اس آرزو کی تلاش مشکل ہے۔واشنگٹن کی سیاسی قیادت کے تعلق سے امریکی عوام کا غصہ عروج پر ہے۔حالانکہ معاشی صورت حال میں گزشتہ ایک برس کے دوران بہتری ہوئی ہے لیکن عام امریکیوں کو اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے کیوں کہ وہ اب بھی اپنی مرضی کے روزگار حاصل کرنے سے عاجز ہیں۔نقصان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن اسے قابو میں کرنے کے سلسلے میں امریکی پالیسی ساز وں کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔اوباما حامیوں کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے ،وہ ان کابائیں بازو کی طرف رجحان ہے۔
۲۰۰۸ء کو امریکہ میں غیر روادار اور ظالم طاقت کی موت کا سال سمجھا گیا تھا ، جس میں ’ریگن عہد‘ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ الیکشن میں اوباما کی کامیابی کے باوجود یہ صاف تھا کہ غیر معتدل اقتصادی اور سماجی اقدار مستحکم ہی رہیں گی۔ جن آزاد رائے دہندگان نے اوباما کو ووٹ دیا تھا ، وہ چاہتے تھے کہ وہ سیاست میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں، جس کاوعدہ انھوںنے انتخابی مہم کے دوران اپنے خطاب میں بھی کیا تھا۔لیکن ڈیموکریٹک پارٹی میں بائیں بازو کی فکرکے حاملین کو اوباما کی کامیابی میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے اور سالہا سال کے لیے امریکہ کی سماجی و سیاسی پالیسی کو اپنے مطابق ڈھالنے کا موقع نظر آیا۔ اس بات سے آزاد رائے دہندگان کو اتنی ناراضگی ہوئی کہ ڈیموکریٹس کی شاندار کامیابی کے صرف ایک سال کے دوران ہی ان کے لیے اپنی پرانی سیٹوںکو حاصل کرپانامشکل ہو رہا ہے۔اس سال کے سینیٹر اور گورنر کے انتخاب سے اہم ڈیموکریٹس کے ہٹ جانے سے ڈیموکریٹک پارٹی کو یہ خدشہ لاحق ہو رہا ہے کہ آیا وہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کو برقرار رکھ پائے گی؟ایک تازہ گیلپ پول کے مطابق چالیس فی صد امریکیوں نے خود کو ’غیر معتدل‘مانا ہے۔جب کہ خود کومعتدل ماننے والے صرف ۲۱ فی صد تھے۔معتدل رائے رکھنے والے چار فی صد سے بڑھ کر ۳۶ فی صد ہو گئے ہیں۔آزاد لوگ ڈیموکریٹک پارٹی سے دور ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ اس نے بائیں بازئوں کارخ اختیار کرلیا ہے۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سلامتی کے موضوع کو لے کر اوباما قیادت پر زبردست تنقید کی جارہی ہے۔ایک امریکی جہاز کو ایک مسافر کے ذریعے اڑائے جانے کی کوشش سے اوباما کو ویساہی جھٹکا لگا ہے جیسا ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگن پر ہونے والے حملوں سے بش کو لگا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اوباما نے اپنے وزارتی حمایت کاروں کو تنبیہ کی ہے کہ اس قسم کی دوسری گڑبڑی برداشت نہیں کی جائے گی۔اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ خوبصورت قیادت اپنی برداشت کی آخری حد کو پہنچ گئی ہے۔اوبامانے کہا ہے کہ ’آخر کار ذمہ داری میری ہے‘ ۔ انھوں نے امریکی خفیہ نظام میں دراروں کو بند کرنے کی کئی کوششوں کے احکام بھی جاری کر دیے ہیں۔یہ واضح نہیں ہے کہ دہشت گردی اور سلامتی کے معاملات ترک کر دینے سے کیا اوباما انتظامیہ کی ترجیحات بدل جائیں گی۔گھریلو محاذ میں اوباما پر یہ دبائو ہے کہ وہ بری طرح لہو لہان معیشت کی اصلاح کریں۔جب کہ صحت، ماحولیات اور معاشی اصول و ضوابط میں اہم تبدیلیوں کے لیے ایک آئیڈیل پارلیمنٹ کو ساتھ لینا ضروری ہے۔
خارجی پالیسی میں اوباما کی ترجیحات میں عراق سے امریکی افواج کی واپسی ہے،جب کہ افغانستان میں اوباما امریکہ کی موجودگی کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔اہم ترین بین الاقوامی معاملات میں دنیا کی بہتر قیادت کرسکنے کی ان کی صلاحیت کو بھی پرکھا جا رہا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی پر کوپن ہیگن میں جو سمجھوتا انھوں نے کرایا وہ جی ۲۰ ، ۲۰۰۷ء کے بالی وزرا اجلاس اور ایسے ہی دوسرے کئی اجلاسوں میں کیے گئے وعدوں کی جگالی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔اوباما انتظامیہ کی پالیسی اس غلط یقین پر مبنی تھی کہ چینی کچھ زیادہ معتدل ہو سکتے ہیں۔ایرانی اور شمالی کوریائی حکومتوں کی طرف اوباما نے ہاتھ بڑھایا ہے ، لیکن کسی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ شمالی کوریا نے واشنگٹن کی مخالفت کی ہے۔جب کہ ایرانی ملائوں کے دل میں امریکہ کے لیے صرف نفرت ہے اور وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایشیا میں اوباما چین کو زیادہ مضبوط ہونے کا موقع دے رہے ہیں اور خود ان کے پاس علاقائی طاقت کے توازن کو باقی رکھنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔چیک جمہوریہ اور پولینڈ میں جوابیمیزائیل سسٹم نافذ کرنے کے منصوبے کو مسترد کرنے سے روس تو مطمئن ہوا ہے لیکن اس سے پرانے یوروپی ممالک میں خوف کی لہر پیدا ہو گئی ہے اور امن وسلامتی کے محافظ کی طرح امریکہ کی قابلیت بھی شکوک کے دائرے میں آگئی ہے۔
اوباما کے دور حکومت میں حالانکہ منموہن سنگھ کو اولین سیاسی مہمان کے طور پر دعوت دی گئی، لیکن اوباما کی فتح سے پہلے بھی یہ صاف تھا کہ نئی حکومت کی ترجیحات میں بھارت بہت اوپر نہیں ہے۔اس کی وجہ سے بھارت شاید تنہا ملک تھا جس نے اوباما سے بہت امیدیں نہیں رکھی تھیں۔ بھارت کو امریکہ کے تعلق سے اپنے محتاط رویّے کو برقرار رکھنا ہوگا، کیوں کہ آئندہ برس اوباما اپنے گھریلو ایجنڈے میں مزید مشغول ہو جائیں گے۔بھارت کو ہمیشہ کی طرح اپنے امن مفادات کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
جب کہ عہدہ صدارت کے امیدوار کی طرح اوباما کا بیان حوصلہ افزا تھا، لیکن تمام حکمرانوں کی طرح ان کی قیادت کھوکھلی دکھائی دے رہی ہے۔اکثر یہ قیادت بے مقصد ہی نظر آتی ہے، جو کہ ان میڈیا حامیوں کی دھن پر بدلتی رہتی ہے جو حمایت کی سیاست کو پالیسی اور جوڑ توڑ کی سیاست سمجھ بیٹھے ہیں۔اوباما کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی صدارت کو بچا لیں ، لیکن وقت ان کے لیے مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

مضمون نگار کنگس کالج، لندن میں پروفیسر ہیں۔ ([email protected])

شیئر کیجیے
Default image
ہرش وی پنت