2

صرف تین ہفتوں میں پھلوں سے صحت اور حسن

خود کو خوبصورت اور جاذب نظر بنانا ہرایک کا پیدائشی حق ہے لیکن ہمارے ہاں عام طور پر ایسی کوششیں صرف اسی وقت کی جاتی ہیں جب ہمیںکسی مخصوص پارٹی یا تقریب میں شرکت کرنی ہو حالانکہ حقیقی خوشی اور طمانیت تو اسی چیز میں ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں آپ کی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو اور ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے جب میک اپ کے بغیر بھی آپ کا چہرہ روشن اور شاداب دکھائی دے۔ بلاشبہ اس کے لیے اچھی صحت اور متناسب جسم سب سے پہلی شرط ہے۔ ماہرین صحت نے پھلوں پر مشتمل تین ہفتوں کا غذائی پروگرام ترتیب دیا ہے جو اس ضمن میں آپ کی بہتر رہنمائی کرسکتا ہے۔پھل قدرت کا وہ عطیہ ہیں جس میں انسانوں کے لیے فائدے ہی فائدے ہیں۔ ان کا استعمال نہ صرف ہمارے اندرونی نظام کو بہتر بناتا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات ہماری جلد سمیت تمام بیرونی اعضاء سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ پھل قوت مدافعت میں اضافے کے ساتھ ان ضرر رساں مادوں کے اخراج کا بھی سبب بنتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے کبھی بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

پیر کا دن سیب کے ساتھ

اتوار کو ہی ارادہ کرلیں کہ کل سے آپ پھلوں کے ذریعہ خوبصورتی اور صحت حاصل کرنے کے پروگرام کا آغاز کردیں گی، لیکن یہ آغاز ہلکے پھلکے ناشتے کے بعد سیب سے ہوگا۔ سیب کے بارے میں ہونے والی حالیہ ریسرچ نے اس کی افادیت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور وہ مقولہ ’’روزانہ ایک سیب کھائیے، ،ڈاکٹر کو دور بھگائیے۔‘‘ آج بھی روزِ اول کی طرح تسلیم شدہ ہے۔ کیونکہ سیب ایک انتہائی قوت بخش پھل ہے جس میں کولیسٹرول کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ یہ دیگر غذا کو ہضم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اس میں مانع تکسید اجزاء کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے جو سانس اور دیگر امراض سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔ اسے کھانے سے دانتوں کے اندرونی جانب پھنسے خوراک کے ذرات کی بھی صفائی ہوجاتی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کو خراب ہونے سے روکتا ہے۔ ایسے لوگ جو منہ کی بو جیسے مرض کا شکار ہوں وہ بھی اس سے خاطرخواہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اسے کھانے سے جلد کا روکھا پن اور خشکی دور ہوتی ہے اور چہرے پر شگفتگی اور تازگی آتی ہے۔ اگر آپ چبا کر نہ کھانا چاہیں تو دو تازہ سیب کا جوس بھی اس مقصد کے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ سیب کا مساج بھی جلد کو نئی تازگی اور شادابی بخشتا ہے۔ اس کا آسان سا طریقہ کار یہ ہے کہ سیب کو کچل لیں اور ململ کے کپڑے کو پوٹلی کی شکل دے کر سیب کے جوس میں تھوڑی دیر بھگودیں پھر گردن سے اوپر کی جانب مساج کریں۔ جبڑے، رخسار اور آنکھوں کے قریب اور پیشانی پر بھی مساج کریں۔ یہ کلینزنگ اور ٹوننگ کا بہترین قدرتی طریقہ ہے۔ اس سے جلد نرم اور رنگت میں نکھار پیدا ہوگا۔ جبکہ گردن اور چہرے کے کھلے یا پھٹے ہوئے مسام بہتر ہوجائیں گے۔ جلد کی سطح پر موجود مردہ خلیات کی بھی صفائی ہوگی۔ مہنگے تیل اور کریموں پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے سیب ہی آپ کے مقاصد پورے کرسکتا ہے۔ آپ خود سے طے کریں کہ آج آپ کو تین سے چار سیب کھانے ہیں جو آپ کی جلد کے لیے بہتر کلینزنگ (Cleanse) جسمانی طاقت کے لیے بہتر ٹانک اور چہرے کی شادابی کے لیے بہترین لوشن کا کام دیں گے۔

منگل پپیتے کے ساتھ

پپیتے کی خاص بات یہ ہے کہ تقریباً پورا سال دستیاب رہتا ہے۔ یہ وٹامنز اے، بی، سی اور ڈی سے بھر پور ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کیلشیم، فاسفورس اور فولاد جیسے معدنی اجزاء بھی کثیر تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ پپیتے میں موجود (papain) ایک ایسا انزائم ہے جو مردہ خلیات کی صفائی اور ضدی قسم کی چربی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آپ اس کا استعمال ناشتے کے دوران بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے گودے یا چھلکے کے اندرونی حصے کو اچھی طرح چہرے اور گردن پر لگائیے اور تیس منٹ بعد منہ اور گردن دھولیں اس سے آپ کی جلد کی شادابی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

بدھ اسٹرابری کے ساتھ

اسٹرا بری عموماً سب لوگوں کا پسندیدہ پھل ہے۔ آپ ایک دن میں پندرہ سے بیس عدد اسٹرا بری کھا سکتی ہیں۔ اس میں بھی آپ کی جلد کو صحت مند قسم کا ہلکا سا کھچاؤ، چمک اور تازگی بخشنے کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں لیکن اگر آپ خشک جلد رکھتی ہیں تو اس کے لیے ایک کھانے کا چمچ کولڈ ڈرنک میں دو کھانے کے چمچ اسٹرابری ملاکر اچھی طرح چہرے پر لگائیں اور بیس سے تیس منٹ بعد چہرہ دھولیں۔

جمعرات کیلے ساتھ

اگر آپ ناشتہ کرچکی ہیں تو دو سے تین کیلے کھانے سے آپ کے جسم کو توانائی اور قوت میں اضافے کا خاطر خواہ احساس ہوگا۔ یہ انتہائی غذائیت بخش پھل ہے اور خاص طور پر جلد کے لیے اس کے حیرت انگیز فوائد سامنے آئے ہیں۔ ایسی خواتین کے لیے جن کے چہرے پر جھریاں چھائیاں یا داغ دھبے ہوں کیلے کا مساج انتہائی مفید اور مؤثر ثابت ہوتا ہے تاہم یہ مساج نیچے سے اوپر کی جانب سیدھے اور ہموار انداز میں ہونا چاہیے اس سے جلد نرم و ملائم اور روشن ہوگی۔ اگر آپ چاہیں تو کیلے کے ٹکڑوں کو براہِ راست بھی مساج کے لیے استعمال کرسکتے ہیں ضروری نہیں کہ کیلے کا گودا ہی استعمال کیا جائے۔

جمعہ انناس کے ساتھ

ا نناس بھی دیگر پھلوں کی طرح اپنے اندر بہت سی خوبیاں اور خصوصیات رکھتا ہے اسے کھانے سے معدہ کو ایک نئی قوت ملتی ہے جس سے نظام انہضام بہتر طور پر کام کرنے لگتا ہے۔ اس میں موجود عناصر جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں اور توانائی میں بھی اضافے کا سبب بنتے ہیں یہ وٹامن اے سے بھر پور پھل ہے جو جلد کو جھریوں سے محفوظ اور صحت مندر کھنے میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین اسے جلدی صفائی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں صاف انناس کے قتلے کو لے کر باریک پیس لیں اور چہرے پر بیس منٹ تک لگائیں آپ کو اندازہ ہوگا کہ چہرے کی رنگ میں فوری نکھار آگیا ہے۔

ہفتہ گاجر کے ساتھ

گاجر میں بیٹا کیروٹین نامی ایک عنصر موجود ہوتا ہے جو کینسر سمیت مختلف امراض کی روک تھام میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہفتے کو دو گلاس گاجر کا جوس پیجئے۔ اس سے قبض نہیں ہوگا۔ گاجر چونکہ قوتِ بینائی میں اضافہ کرتی ہے ا س لیے اسے کھانے سے آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں۔ نظر کی کمزوری میں بھی کمی آتی ہے۔ بڑی مقدار میں وٹامنز اے، ای اور سی حاصل ہوتے ہیں جو جلد کو بے رونق نہیں ہونے دیتے۔ اس میں مانع تکسید انسان کو بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ گاجر کے گودے کو مساج کے طور پراستعمال کرنے کے لیے ایک کھانے کے چمچ گاجر کے جوس میں روئی ڈبو کر آہستہ آہستہ انگلیوں سے چہرے گردن اور پیشانی وغیرہ پر لگائیں اور ۲۰ منٹ بعد دھولیں۔ اس سے جلد کو براہِ راست خوراک ملے گی لہٰذا رنگت میں نکھار نہ آنے کا کوئی جواز نہیںبنتا۔

اتوار سنگترے کے ساتھ

اس روز آپ کو کم از کم چار سنگتروں کا جوس پینا ہے۔ اس سے آپ کے جسم کو بھر پور مقدار میں وٹامنز سی ملیں گے جو بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ایک پیالے میں دو چمچ سنگترے کا رس نکال لیں اور انگلی کی مدد سے اسے چہرے پر لگائیں تاہم حساس اور خشک جلد پر نہ لگائیں۔ ۲۰؍منٹ بعد پانی سے دھولیں۔ آپ جلد کی ساخت میں تبدیلی محسوس کریں گے۔ رنگت بھی نکھرے گی اور جلد زیادہ نرم و ملائم محسوس ہوگی۔

یہ ایک ہفت روزہ تیاری کا عمل ہے، جسے آپ کو تین ہفتوں تک جاری رکھنا ہے۔ اس کے بعد آپ کسی پارٹی میں جائیے یا گھر پر رہیے، کہیں نہ کہیں سے آپ کو یہ جملہ سننے کو ملے گا ’’آپ بہت نکھری نکھری سے لگ رہی ہیں۔‘‘ یہ پھلوں کا کمال ہوگا ایک بار ضرور آزمائیے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے