2

اسلامی معاشرے کی خصوصیات

اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے اور وہ ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی معاشرے سے مراد وہ معاشرہ ہے جس کے تمام شعبے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہوں اور جس کے افراد کے ہر عمل سے اسلام کی عکاسی ہوتی ہو۔ معاشرہ کے تمام اصول و قواعد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مرتب ہوں اور افراد اپنی زندگیاں اسلامی شعار کے مطابق گزار رہے ہوں۔ کائنات میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے۔ اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت سے وہ دنیا میں اللہ کی نیابت کا حق ادا کرتا ہے تاکہ اپنے پیدا کرنے والے کے احکام پورے کرکے خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا اور اسلام کو اختیار کرنے کا حکم دیا قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے۔‘‘

ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ۔‘‘

اسلامی معاشرہ ہر معاشرے سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور اسلامی معاشرے کی اہمیت دوسرے تمام معاشروں سے زیادہ ہے۔ اسلامی معاشرے میں تمام مسلمان سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت پر سچے دل سے یقین رکھتے ہیں اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ قیامت کا ایک دن مقرر ہے، ایک دن قیامت آئے گی اور تمام انسانوں کو اس روز اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ مسلمانوں کے لیے ان باتوں پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو اس کے فرشتوں کو، اس کی بھیجی ہوئی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو اور روزِ آخر کو حق جانو اور مانو اور اس بات کو بھی کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتا ہے، خیر ہو یا شر۔‘‘

اسلامی معاشرے کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ یہاں تمام مسلمان مل جل کر رہتے ہیں۔ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا سب مل کر یکجہتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں، اسلامی برادری کا اہم رکن ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’’مومن تو سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘

اسلامی معاشرے کے امتیازی خدوخال اس طرح ہیں:

٭ اسلامی معاشرے میں اسلام کو نمایاں حیثیت حاصل ہے اور سب اسلامی انداز و روایات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔

٭ اسلامی معاشرہ میں مساوات قائم ہوتی ہے، اسلام کی نظر میں امیر، غریب، چھوٹا بڑا سب برابر ہیں۔

٭ اسلام کا ایک جامع اصلاحی، اخلاقی نظام ہے، جس کے نفاذ کے لیے بیرونی حرکات سے زیادہ فرد کی داخلی اصلاح پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس سے مراد اسلام کی اخلاقی اقدار کو تہہ دل سے قبول کرنا اور اپنے کردار کو ان کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔

٭ مسلمان توحید پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکاتے۔ عقیدئہ توحید پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ عقیدئہ رسالت اور عقیدئہ آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اس طرح مسلمان ایک صالح زندگی بسر کرتے ہیں۔

٭ عالمگیر اخوت اسلامی معاشرے کی ایسی خصوصیت ہے جو مسلم معاشرے کو عالمگیر وسعت بخشتی ہے۔ ایک مسلمان ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو بھی اپنا بھائی سمجھتا ہے اور تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، پر یقین رکھتا ہے۔

٭ اسلامی معاشرے میں تمام افراد اسلام کے ارکان کی پابندی کرتے ہیں۔ نماز پابندی سے پڑھتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور صاحبِ حیثیت مسلمان حج کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان نیکیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں اور برائیوں سے بچتے ہیں۔

٭ اسلامی معاشرہ افراد کو باہمی تعلقات قائم کرنے کا شعور عطا کرتا ہے۔ افراد کے ان تعلقات کو معاشرتی تعلقات کا نام دیا جاتا ہے۔

٭ اسلامی معاشرہ انسان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کرتا ہے اور افراد کو محبت و شفقت، اتحاد و تعاون، اخوت، خدمت خلق، فرمانبرداری، ایثار اور قربانی جیسی اچھائیوں کو اپنانے اور حسد ، نفرت، خود غرضی، تعصب جیسی برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

٭ اسلامی معاشرہ افراد میں خدمتِ خلق کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔

٭ اسلامی معاشرہ میں غیر مسلموں کے حقوق بھی ادا کیے جاتے ہیں۔

٭ اسلامی معاشرہ میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس طرح مسلمان حقوق و فرائض کی ادائیگی کرکے بہترین زندگی بسر کرتے ہیں۔

٭ اسلامی معاشرے کی ان خصوصیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک ممتاز معاشرہ ہے اور اسلامی معاشرہ میں تمام انسان برابر ہیں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ اسلامی معاشرہ عالمگیراخوت کا علمبردار ہے۔ جب عرب میں اسلام پھیلا اور اسلامی معاشرہ وجود میں آیا تو اسلامی معاشرے کی خصوصیات کی بنا پر تمام مسلمان آپس میں شیروشکر ہوگئے۔ ہر طرف محبت کا چرچا ہوگیا۔ تمام برائیاں جوا، چوری، بدکاری وغیرہ جو لوگوں میں عام تھیں، ختم ہوگئیں اور جو لوگ بتوں کے پجاری تھے، وہ ایک خدا کو ماننے لگے اور ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کے اعلیٰ اخلاق و کردار سے اسلام پوری دنیا میں پھیل گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ شاہین، سکندر آباد

تبصرہ کیجیے