BOOST

خاندانی نظام اور اسلام

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی مخلوق بنایا ہے جو تنہا زندگی نہیں گزارسکتا نہ طبعاً، نہ ضرورتاً۔ نہ ہی وہ دوسرے انسانوں سے کٹ کر زندگی بسر کرسکتا ہے اور نہ اکیلا شخص خوش رہ سکتا ہے۔ ’’خاندان‘‘ اسلام کا ابتدائی یونٹ ہے جس کی تشکیل میاں بیوی اور بچے سے ہوتی ہے۔ جہاں محبت، امن، پیار، ادب، احترام اور شفقت کی فضا ہوتی ہے۔ اسلام ’’خاندان‘‘ کو ایک ایسی نرسری قرار دیتا ہے جس کے اندر آئندہ نسلوں کے وہ پودے تیار ہوتے ہیں جن کے ’’بیج‘‘ اعلیٰ قسم کے ہوتے ہیں۔ نیک اور متقی والدین اپنی اولاد کو خود رو جھاڑیوں کی طرح اگنے کے لیے نہیں چھوڑ دیتے اور نہ ہی بے شناخت نسل کے امین ہوتے ہیں بلکہ یہ ایسی نسلوں کے امین ہوتے ہیں۔ جو اعلیٰ صفات و اقدار کی مالک ہوتی ہیں۔یہی نسلیں مستقبل کی معمار ہوتی ہیں۔ اُن کی بنیاد اسلام پر قائم ہوتی ہے۔ ان نسلوں کے شعور میں ’’تزکیہ اور تربیت‘‘ بطورِ غذا اس طرح شامل ہوتی ہے، جو اُن کو ہر قسم کی آلودگی سے بچا کر ان کی سوچ اور خیالات کو پاک رکھتی ہے۔ اسلام میں خاندانی نظام کی حفاظت پر سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ایک شخص کی ذمہ داری، تنہا اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے محفوظ رکھنے کی کوشش تک محدود نہیں بلکہ جس خاندان کا وہ امین ہے، جس کی سربراہی کا بار اس نے اٹھایا ہے، اس کو بھی اپنی حدِ استطاعت تک اللہ کی راہ پر چلانے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ کے عذاب سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔‘‘ (سورہ التحریم آیت نمبر:۶)

اسلام کے تحت خاندانی نظام میں ہر مومن پر اس کے گھرانے کی اصلاح کی ذمہ داری ہے، اُسے یہ فکر بھی ہونی چاہیے کہ اُس کے بال بچے آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں اور یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اسلام کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ اُن کی فکری نشوو نما ہو، وہ عملاً اخلاق و آداب سے آراستہ ہوں، اس کام کے لیے ضروری ہے کہ مومنین و صالحین کی ایسی سوسائٹی تیار ہو جس پر اسلام کی حکمرانی ہو، اُس کا عقیدہ، قانون، نظام، تصورات و تعلیمات سب کچھ اسلام کے مطابق ہو۔

ہر مومن گھرانا اسلامی نظریہ حیات کا پہلا قلعہ ہے جو بہت مضبوط ہونا چاہیے۔ یہ جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی اس کا ہر فرد اپنے دفاع میں ہمہ وقت چوکنا ہوگا ورنہ انسان کے ازلی دشمن شیطان کے لیے راستہ کھل جائے گا، یہ دشمن نفس کو لالچ دیتا ہے، اُسے ورغلادیتا ہے، برائیوں کو خوشنما بناکر فریب دیتا ہے، اسی لیے ہرمومن داعی کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کا کام اپنے گھر سے شروع کرے۔ گھر کی حفاظت اور اس کی مضبوطی کے لیے مضبوط سیرت و کردار کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ صرف اسلام کی تبلیغ کرلینا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ معاشرے میں ایسا نظام موجود ہو جو کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لائے۔ مومن اس طرح ڈٹا ہوا ہوکہ مخالفین کا موقف اپنے دلائل سے تبدیل کرسکے۔ اس کی بنیاد اسی اسلامی سوسائٹی پر قائم ہوسکتی ہے، جس کے اراکین حق و اسلام کی نعمت، فکری نشوونما، اخلاق و آداب اور محافظِ اسلام ہونے کے ساتھ اسلامی رنگ میں رنگے ہوں۔

اسلام عورت اور مرد کے مابین تعلق کو نکاح کے ذریعے مضبوط کرتا ہے اور عزت و تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عورت اور مرد مل کر اپنی نسل کو آگے بڑھاتے ہیں اور اُس کی تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ اسلامی خاندانی نظام میں مرد کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی، بچوں اور دیگر اہل خانہ کی معاشی ضروریات پوری کرے، اگر مرد اس میں کوتاہی کرے تو وہ مجرم ہے۔ اسلام کسی بھی حال میں عورت پر اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالتا خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ، ہاں اگراپنی خوشی سے یا مجبوری کے تحت عورت اپنے بچوں پر خرچ کرلے گی تو وہ اللہ کے ہاں اس نیکی پر اجر پائے گی۔ اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں۔ معاشرے میں باعزت مقام دیا ہے۔ اسلام میں ’’گھر‘‘ عورت کا دائرہ عمل اور اس کاٹھکانہ ہے، اسلام گھر کی ایسی مخصوص فضا تیار کرتا ہے جس میں ’’ماں‘‘ اپنی تمام تر صلاحیتیں بچوں کی تعلیم و تربیت میں لگادے، وہ گھر کی ایسی مالکہ اور منتظمہ ہو جس کا ہر قدم پاکیزگی کا درس لیے ہو۔ اس کی عملی زندگی اسلامی رخ لیے ہو، وہ اپنے گھر کے درو دیوار سے، اپنے بچوں کے دلوں سے ہر قسم کی گندگی، خواہ دلوں میں ہو یا جسمانی، مٹانے کے لیے کوشاں ہو اور اپنے خاندان کی بقا اور نسل کی امین ہو۔

اسلام میں معاشرتی نظام کی بہتری کے لیے مضبوط خاندانی نظام سرفہرست ہے، اس مضبوطی کو قائم رکھنے میں مومن عورتوں کا بڑا کردار ہے، خاندان کا ٹوٹ جانا معاشرتی نظام کو درہم برہم کردیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت واجب الاحترام ہے مگر اب دورِ زوال میں ’’آزادیِ نسواں‘‘ کے پرفریب نعرے کے ذریعے عورت کو گھر سے باہر نکال کر فیکٹریوں، سڑکوں، دفتروں اور کارخانوں کی زینت بناکر اس کے وقار کو ختم کیا جارہا ہے۔ اور ماڈلنگ ، گلو کاری، اداکاری اور اشتہار بازی کے نام پر اس کے جسم کی نمائش کرکے اسے نام نہاد ترقی یافتہ تہذیب کا علمبردار بنادیا گیا ہے۔ ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کی حفاظت کی جائے اور اس کی اصل مالکہ عورت کو اس کی گھریلو اور بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
عرشیہ خانم، دہلی

تبصرہ کیجیے