4

ٹھنڈے پانی اور مالش کی اہمیت

سر کو ٹھنڈے پانی سے دھونا اور دھوتے ہوئے انگلیوں سے سر کی جلد کو خوب مسلنا اور رگڑنا بالوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہے ایک منٹ تک اپنے بالوں اور سر کو ٹھنڈے پانی میں ڈبوئے رکھیں اس کے بعد بالوں کو خشک کرلیں اور سر کی جلد کی انگلیوں سے خوب مالش کریں اس سے بالوں کو ایک نئی زندگی مل جائے گی اور وہ انتہائی مضبوط ہوجائیں گے۔ کنگھی یا برش کے استعمال میں مندرجہ ذیل ہدایت پر عمل کریں۔

(۱) بالوں کی صفائی کے لیے چھوٹے دندانوں والی کنگھی استعمال کی جائے اس سے بالوں میں جذب شدہ میل اور گرد دور ہوجاتی ہے اور ان کی اچھی طرح صفائی ہوجاتی ہے۔ ورنہ بالوں کو بار بار دھونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس قسم کی کنگھی سے بال صاف کرتے وقت بالوں پر کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے جو سر کی جلد میں دوران خون تیز کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ اس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور ان کی صحت پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔

(۲) کنگھی صاف اور اعلیٰ کوالٹی کی ہو، گندی کنگھیاں سر میں جراثیم اور انفیکشن پھیلاتی ہیں۔

(۳) تیز دندانوں والی کنگھی کے استعمال سے گریز کریں اس سے سر کی جلد زخمی ہوجاتی ہے اور بالوں کی ساخت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

(۴) جب بال الجھے ہوئے ہوں تو اس میں کنگھی آہستہ آہستہ کریں اور انہیں سیدھا کریں بالوں کو سروں کی طرف سے کنگھی کرنا شروع کریں اور آہستہ آہستہ ان کو سیدھا کرتے ہوئے جڑوں کی طرف بڑھتے جائیں۔

(۵) بالوں کو گیلا کرکے نرمی سے کنگھی کریں۔ خشک بالوں پر کنگھی کرنے سے بالوں کے پھٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

(۶) بالوں کو صرف اسی وقت برش کریں جب اس کی ضرورت محسوس ہو بہت زیادہ برش کرنے سے بالوںکی ساخت کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کے سرے دوشاخہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

(۷) بال گرتے اور پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر ان کو سنوارتے وقت بال کنگھی کے ساتھ اکھڑکر آجائیں تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں عام حالات میں سر کی جلد سے روزانہ تیس سے سو تک بال نکلتے ہیں۔

چند ورزشیں

جب ہم تندرست ہوتے ہیں۔ اور ہم پر کوئی جذباتی دباؤ نہیں ہوتا تو سر کی جلد بہت نرم ہوجاتی ہے اور یہ اپنے نیچے واقع بافتوں اور ریشوں پر آسانی سے حرکت کرسکتی ہیں۔ عام حالات میں اسے اتنا لچکدار رہنا چاہیے کہ یہ کھوپڑی کی ہڈی سے اوپر اٹھائی جاسکے۔ جلد کی سختی خون کی فراہمی اور بہاؤ میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ بعض ورزشوں کے ذریعے سر کی جلد میں چربی غیر معمولی ہو تو اس کو پوری طرح حرکت نہیں دی جاسکتی۔ یہ سختی اعصابی تناؤ کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے جو کہ موجودہ دور کا ایک عام مرض ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو مگر نیچے بیان کی گئی ورزشوں سے جلد میں بہت حد تک لچک پیدا ہوجائے گی۔

ورزش نمبر۱

دونوں ہاتھوں کی انگلیاں سر کے دونوں اطراف میں رکھیں اور ان کو ایک دوسرے کی طرف اس طرح دبائیں کہ جلد میں بل پڑجائے پھر یہ کانوں سے اوپر سر کی طرف دبا کر لے جائیں۔ شروع میں یہ ورزش مشکل محسوس ہوگی، مگر تھوڑی سی مشق کے بعد آپ کو اس میں دشواری محسوس نہیں ہوگی۔ یہ ورزش کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے۔ اس ورزش سے قبل اگر سر خشک ہو اور بالوں میں تیل نہ لگایا گیا ہو تو یہ بآسانی کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی دوسرا شخص مریض کے پیچھے کھڑے ہوکر اس ورزش کو اپنے ہاتھ سے کرے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس ورزش کو روزانہ کریں اور جلد کے جو حصے زیادہ سخت محسوس ہوں ان پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔

ورزش نمبر:۲

سابقہ ورزش کے نتیجے میں جب سر کی جلد میں حرکت کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہوئی محسوس ہو تو اگلے مرحلے میں بالوں کو کھینچ کر انہیں کھوپڑی کی ہڈی سے اوپر اٹھانا چاہیے کیونکہ کھینچنے سے جو بال اترتے ہیں وہ تقریباً مردہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ ان بالوں کی موجودگی کسی شخص کی شخصیت کے لیے تو اہم تسلیم کی جاسکتی ہے۔ مگر حقیقت میں یہ بال بے جان ہوچکے ہوتے ہیں اور ایسے کمزور بال نئے بالوں کی جڑیں پیدا ہونے میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ اس ورزش میں اگر بال لمبے ہوں تو مناسب رہتا ہے سر کے چاروں طرف تربیت سے ورزش کرنی چاہیے۔ بالوں کو ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر ان کو سرے سے پرے کھنچیں۔ اس طرح بعض اوقات مردہ بال اکھڑ کر ہاتھوں میں رہ جائیں گے لیکن صحت مند بال نہیں اکھڑیں گے۔ بالوں کو کھینچ کر انہیں جھٹکے دیں اور جلد کو جتنا ہوسکے اوپر اٹھائیں۔

مالش کیسے کریں؟

سر کی جلد کی مالش انگلیوں کے سروں سے کرنی چاہیے، اس طرح مالش کرنے سے سر کی طرف دورانِ خون میں اضافہ ہوجاتا ہے اور بالوں کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ خون میں موجود اجزاء تیزی سے بالوں کی جڑوں میں پہنچتے ہیں۔ اور ان کی افزائش میں مدد ملتی ہے۔ سر کی جلد کی مالش کے دوران یہ خیال رکھنا چاہیے کہ پوری انگلیاں جلد کو مس کرتی ہوئی نہ گزریں۔ اس طرح بالوں پر دباؤ پڑتا ہے اور وہ ضائع ہوسکتے ہیں۔ مالش میں سر کی جلد کو کھوپڑی کی ہڈی پر پھسلنا اور حرکت کرنا چاہیے اور بالوں کو ادھر ادھر حرکت نہیں کرنی چاہیے۔ مالش کرنے سے پہلے بالوں کو سنوارنا چاہیے تاکہ انگلیوں کے سرے ان میں سر کی جلد تک آسانی سے پہنچ جائیں۔ مالش گردن اور کنپٹیوں سے سر کی چوٹی تک کی جانی چاہیے تاکہ اس سے جلد اور دورانِ خون کو صحیح افادیت حاصل ہو۔

بالوں میں برش کرنا ایک احتیاط طلب کام

بالوں میں برش کرنا ایک روز مرہ کا فعل ہے جس کو درست طریقے سے انجام دینا بہت ضروری ہے تاکہ بال خوبصورت نظر آئیں اور ٹوٹنے اور گرنے سے محفوظ رہ سکیں۔ مگر بالوں میں درست طریقے سے برش کرنے سے پہلے جو چیز ضروری ہے وہ ہے اپنے بالوں کے لیے درست برش کا انتخاب

صحیح ہیئر برش کا انتخاب

٭ ایک ایسے برش کاانتخاب کیجیے جس کا ہینڈل ہلکے ربر یا لکڑی سے بنا ہو تاکہ بآسانی پکڑ میں آسکے۔

٭ برش کے بالوں bristles کو animal brestlesسے تیار شدہ ہونا چاہیے جن کے سرے گول ہوں ایسے برش آپ کے بالوں کے لیے نہایت مناسب ہیں۔

٭ محض پیسے بچانے کے لیے آپ nylon brestlesپر مشتمل ہیئر برش ہرگز مت خریدیے۔ یہ آپ کے بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے سرے ہموار نہیں ہوتے اور برش کرتے وقت بالوںمیں الجھ جاتے ہیں۔

٭ brestlesکے سرے ہموار طریقے سے ربر سے coatedہونے چاہئیں کیونکہ rubber coated آپ کے بالوں کو خاص کر خشک بالوں کو electricityسے بچاتے ہیں۔

ہیئر برش کا صحیح استعمال

٭ بالوں میں برش ہمیشہ جڑوں سے سروں کی جانب کیجیے۔

٭ بالوں میں برش پھیرنے سے کھوپڑی میں خون کی گردش اچھے طریقے سے ہوتی ہے جو آپ کے بالوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

٭ سر کے ہر حصے میں یکساں انداز میں برش کیجیے۔ اس سے نہ صرف آپ کے بالوں پر جمی دھول مٹی ہٹ جاتی ہے بلکہ بال خوبصورت بھی نظر آتے ہیں۔

٭ بالوں میں برش کرنے سے پہلے بالوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کرلیجیے۔ ایک ہاتھ سے بال پکڑیے اور دوسرے ہاتھ سے برش کیجیے۔

٭ اگر آپ اپنے لمبے بالوں میں ایک ہی اسٹروک برش کررہی ہیں تو اپنے بالوں کے ٹوٹنے کا سبب آپ خود ہیں۔ لمبے بالوں میں آہستہ آہستہ برش کیجیے۔ پہلے ٹھوڑی تک بالوں میں برش کیجیے پھر آہستہ آہستہ برش کو بالوں کے سرے تک لے جائیے۔

٭ جب آپ بالوں میں اچھے طریقے سے برش کرچکی ہوں تو گردن جھکا کر تمام بالوں کو اوپر کی جانب موڑ لیجیے اور اب گردن کے اختتامی حصے سے سر کی اوپری جانب بالوں میں برش پھیرئیے۔

٭ استعمال کے بعد ہیئر برش کو دھولیجیے۔ اگر آپ روز یہ عمل نہیں دہراسکتیں تو کم از کم ہفتے میں ایک بار ضرور یہ عمل کریں۔ نیم گرم صابن ملے پانی میں چند منٹوں تک برش کو بھگو کر رکھیے۔ کسی بھی اچھی جراثیم کش دوا کے چند قطرے اس میں ڈالیں اور پھر برش کو دھوڈالیں۔ پھر کاٹن کے کپڑے سے اس کو خشک کرلیں۔

٭ اپنے بالوں کو کسی بھی قسم کے انفیکشن اور نقصان سے بچانے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اپنا ہیئر برش کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

٭ گیلے بالوں میں کبھی برش مت کیجیے، کیونکہ ان کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اور ذرا سا جھٹکا لگنے پر بال ٹوٹ سکتے ہیں۔ بالوں میں برش اس وقت کیجیے جب بال خشک ہوچکے ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر طاہرہ ولید، جدہ

تبصرہ کیجیے