BOOST

مینو پلاننگ

مینو پلاننگ کہنے میں تو چھوٹا سا لفظ ہے لیکن جب آپ اس کو اس کی اہمیت کے اعتبار سے دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خاتونِ خانہ کی سلیقہ مندی اور انتظامی صلاحیت کی ترجمانی کرتا ہے۔ گھر کے افراد کی صحت آپ کے کچن کے مینو پر منحصر ہوتی ہے۔ آپ کے باورچی خانے میں کیا کچھ تیار ہوتا ہے اور گھر کے افراد کو کیا فراہم کیا جاتا ہے یہ ان کی موجودہ اور مستقبل کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ گھر کی معاشیات پر بھی براہِ راست اور فوری طور پر اثر ڈالتا ہے۔ گھر کے بجٹ میں کچن مینو کا اہم رول ہے اور اسے کنٹرول رکھنے میں سلیقہ مند عورت کا مینو کی تیاری میں زبان کے ذائقہ اور چٹخارے سے زیادہ اس کی صحت مندی، افادیت اور اہلِ خانہ کی پسند اہمیت کی حامل ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گھر میں ہلکی پھلکی دعوتیں اور پروگرام بھی ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ کو خاص اس دن کے لیے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور دیکھنا ہوتا ہے کہ مہمانوں کے لیے کھانے میں کیا کیا انتظامات کیے جائیں۔ ذیل میں اسی طرح کے خاص مواقع کے لیے مینو پلاننگ پر روشنی ڈالی جارہی ہے تاکہ خاتونِ خانہ اس مرحلے کو خوش اسلوبی سے انجام دے سکے۔ اس سلسلے میں اہم ترین دیکھنے کی چیزیں درج ذیل ہیں:

٭ کھانے پر افراد کی تعداد

٭ ان کی عمر کا خیال رکھنا

٭ ان کی پسند یا ناپسند یا ضرورت کے بارے میں معلومات ہونا

٭ آپ کا بجٹ اور

٭ ان سب سے بڑھ کر کھانے کی غذائیت کو مدِ نظر رکھنا۔

اگر آپ کسی ہلکی پھلکی تقریب کا مینو ترتیب دے رہی ہیں تو اوپر دیے گئے پوائنٹس کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلی چیز تو آرام سے جان سکتی ہیں۔ یعنی آنے والے مہمانوں کی تعداد اور افرادِ خانہ کی تعداد کو ملا کر آپ کھانے کی مقدار کا فیصلہ کریں۔

دوسرے نمبر پر عمر اور پسند کی بات آجاتی ہے تو اندازہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر آنے والے لوگ بالکل انجان لوگ نہیں ہوتے اور اگر ایسا ہو بھی تو معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں آپ کو عمر اور کسی حد تک پسند نا پسند کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔

اگر معاملہ بچوں کے کسیپروگرام کا ہو تو غذائیت کو سامنے رکھنے کے علاوہ بچوں اور کم عمر افراد کے لیے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مرغن اور بہت زیادہ مرچوں والے کھانے نہ ہوں۔ کھانوں میں رنگوں کا بھی خاص خیال رکھیں کہ اس عمر میں رنگوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، بچے چیزوں کے رنگ اور شکل سے متاثر ہوکر کھانے کی طرف لپکتے ہیں۔ جیسے کہ کچن اسٹکس بناتے ہوئے اس میں دو تین سبزیوں کی آمیزش کردی جائے تو نہ صرف اس کی خوبصورتی بڑھ جائے گی بلکہ سبزیوں کی اضافی غذائیت بھی شامل ہوجائے گی۔ بازار کے تیار شدہ ڈرنکس لینے کے بجائے تازہ پھلوں کا جوس یا کسی جوس کے ساتھ پھلوں کے خوبصورتی سے کاٹے گئے ٹکڑے پیش کیے جاسکتے ہیں۔

اسی طرح ڈنر یا لنچ کے مینو میں کھانے کی مقدار کے علاوہ ڈشز کی تعداد کو بھی مدنظر رکھیں، اس طرح کا مینو ترتیب دینے سے آپ مہمانوں کی پسند ناپسند، ڈش کی خوبصورتی، اس کی غذائیت اور سب سے بڑھ کر اپنے بجٹ کے مطابق آسانی سے کھانا بنا سکیں گی۔ لنچ یا ڈنرکے مینو میں کچھ خاص ڈشز ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ کوئی سوپ، سلاد اور تلی ہوئی ڈش جیسے شامی کباب یا قیمے کے کٹلٹس وغیرہ بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔

خاص ڈش کا انتخاب دعوت کی نوعیت اور وقت اور موسم کی مناسبت سے کریں جیسے کہ گرمیوں میں دوپہر کی دعوت کے لیے ہلکی پھلکی ڈشز کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ ہرے مصالحے کی بریانی یا کھٹا دالچہ اور سادہ ابلے ہوئے چاول، اسٹو یا چکن کڑاہی کے ساتھ گرم گرم چپاتی پیش کریں۔

اسی طرح سردیوں میں سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی، تلی ہوئی مچھلی یا حلیم پیش کیا جاسکتا ہے۔ ڈنر یا رات کے کھانے کے لیے سردیوں میں کنّہ، نہاری یا شب دیگ بناکر آپ اپنے مہمانوں کا دل جیت لیں گی۔ ان کے ساتھ اگر مختلف لوگوں کی پسند کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں تو چکن ہانڈی، ہریسہ یا چاولوں کی کسی ڈش کا انتخاب کریں تاکہ سب ہی مہمان شوق سے کھائیں۔ خاتون خانہ کی پورے دن کی محنت ایک تعریفی جملے سے وصول ہوجاتی ہے۔ اس مینو میں گوشت سے بنائی گئی زیادہ ڈشز کے ساتھ آپ سوپ میں ٹماٹر کا سوپ اور سائڈ ڈش کے طور پر آلو کے کٹلٹس یا کھڑے مصالحے کی دال چپاتی کے ساتھ پیش کرکے اپنے بجٹ کو بھی معتدل رکھ سکتے ہیں۔

آخر میں میٹھے کی باری آتی ہے۔ کچھ لوگ میٹھا کھانے کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کہ انہیں باقاعدہ دعوتوں کا انتظار رہتا ہے اور ساتھ ہی آپ کے مہمانوں میں ایسے لوگ بھی ضرور شامل ہوں گے جو میٹھے سے پرہیز کرتے ہوں گے۔ اسی لیے میٹھے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی آپ کو خاص باتوںکا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ جیسے کہ:

٭ مہمانوں کی پسند ناپسند اور مزاج کے بارے میں معلومات ہونا (یعنی کتنے مہمان ہیں جو کسی وجہ سے میٹھا یا کوئی مخصوص میٹھا کھانا پسند نہیں کرتے)

٭ موسم کا خیال کیونکہ سردیوں اور گرمیوں کے میٹھے مختلف ہوتے ہیں۔

٭ تقریب کی نوعیت کا خیال رکھنا۔

٭ ان کے ساتھ پیش کیے جانے والے مشروب کا انتخاب

اگر آپ بڑے پیمانے پر کسی تقریب کا انعقاد کررہے ہیں تو مہمانوں کی پسندناپسند کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹھوں کا اہتمام کریں، اگر مہمانوں میں شکر استعمال نہ کرنے والے افراد ہوں تو خصوصاًوہ میٹھا شامل رکھیں جسے آرٹیفیشیل سویٹز (سیکرین) سے بنایا گیا ہوتاکہ آپ کے وہ مہمان بھی لطف اندوز ہوسکیں جو کسی وجہ سے چینی سے بنایا میٹھا نہ کھاسکتے ہوں۔موسم کا خیال رکھنا بھی لازمی ہے جیسے کہ آپ گرمیوں میں آئس کریم یا تازہ کریم کے ساتھ مکس فروٹ بھی پیش کرسکتے ہیں اور سرد موسم کو دیکھتے ہوئے گرم گرم گاجر کا حلوہ یا شاہی ٹکڑے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح مشروبات کے انتخابات کے لیے بھی انہی تمام باتوں کا خیال رکھتے ہوئے گرمیوں میں دوپہر کے کھانے کے ساتھ سکنجبین (لیموں کا شربت) لسی یا جل زیرہ (املی کا سونٹھ ملا ہوا مشروب)، سردیوں میں رات کے کھانے کے ساتھ سبز قہوہ، کشمیری چائے یا کافی اور اگر دوپہر کی دعوت ہے تو موسمی پھلوں کا تازہ جوس بھی پیش کرسکتے ہیں۔ خصوصی دعوت کے لیے ایک اور بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

مہمانوں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں میز پر یقینی طور پر ڈشز کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے اور آپ میٹھا اور مشروبات بہ سہولت پیش کرپاتے۔ اسی لیے مناسب ہوتا ہے کہ علیحدہ سے ایک میز رکھ دی جائے جہاں انہیں پیش کرنے کے لیے ان کے لوازمات اور ان کو ٹھنڈا یا گرم رکھنے کا مکمل انتظام ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
نسرین انجم