3

عالمی یومِ خواتین منانے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ

ہر سال ۸؍مارچ کو دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک اور شہروں میں عالمی یومِ خواتین منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر تنظیمیں، ادارے اور حکومتیں جہاں مختلف قسم کے پروگرام منعقد کرتے ہیں، وہیں حکومت کی جانب سے بڑے چھوٹے اخبارات و رسائل میں شتہارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ خواتین کے حقوق ، ان کی عزت و عصمت کی حفاظت اور ان کو زیادہ سے زیادہ رعایتیں دینے کے اعلانات کیے جاتے ہیں اور خواتین کو خوش کرنے کے لیے نیز ان کی فلاح و بہبود کے لیے لمبے چوڑے پروگراموں کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود کیا ہمارے سماج کی عورت کو سکون حاصل ہے۔ اور کیا اس کے عزت و وقار کو واقعی وہ مقام ملا ہے جو ملنا چاہیے؟

سب جانتے ہیں اور کہتے اور لکھتے بھی ہیں کہ مرد اور عورت انسانی معاشرے کے دو اہم ستون ہیں۔ ہم دنیا میں کسی ایسے سماج کا تصور نہیں کرسکتے، جو صرف مردوں پر مشتمل ہو، انسانی سماج اور معاشرے کے دوسرے فطری تقاضوں کی تکمیل کے لیے عورت کا وجود ضروری ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ تاریخ کے معلوم ادوار سے لے کر آج تک عورت کو حقیر و ذلیل ہی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ خدائی دین ہونے کا دعویٰ کرنے والے مذہبی رہنما بھی اسے اسی نظریے سے دیکھتے رہتے اور اس کے ساتھ یہی معاملہ کرتے رہے ہیں۔

مختلف تہذیبوں میں خواہ وہ روم، ایران کی ہوں یا بابل و نینوا کی، مصر و عرب کی ہوں یا چین و ہند کی ہر جگہ وہ مظلوم اور خوار دکھائی دیتی ہے۔ یہی معاملہ مذاہب کا بھی ہے۔ دیکھئے انجیل کے عہد نامۂ قدیم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے واقعات درج ہیں، اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’جب خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے دریافت کیا، کیا تو نے اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کو حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا تو آدم علیہ السلام نے جواب دیا کہ جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے، اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حوا علیہا السلام سے کہا: میں تیرے دردِ حمل کو بڑھاؤں گا۔ تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری توجہ خواہش اور پیار اپنے شوہر کی طرف ہوں گے اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔‘‘ اسی طرح یہودیوں کا مذہبی عقیدہ تھا کہ عورت سر سے پاؤں تک گناہ، بدی اور بربادی و مصیبت ہے۔ یونانی تہذیب کے دور میں عورت کے مقام و مرتبے سے متعلق ان کا قول تھا ’’آگ سے جلنے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا علاج ناممکن ہے۔‘‘

عیسائی مذہب کا ابتدائی اور بنیادی نظریہ یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں ا ور بدی کی جڑ ہے اور جہنم کا دروازہ ہے۔ تمام انسانی مصیبتوں کا آغاز اسی سے ہوا ہے۔ چنانچہ دورانِ پاپائیت برطانیہ میں تقریباً نوے لاکھ عورتوں کو جلا کر مار ڈالا گیا تھا۔ کیونکہ عورتوں کو فتنہ و شر کی جڑ سمجھا جاتا تھا۔ چرچ کی ننوں کو شادی کرنے کا حق نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ نزتولیان جو ابتدائی دور کے آئمہ مسیحیت میں تھا، عورت کے متعلق عیسائی تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کرتا ہے: ’’وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے، وہ شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی، خدا کے قانون کو توڑنے والی اور مرد کو غارت کرنے والی ہے۔‘‘

ہندوستان میں عورت کے مقام و مرتبہ کا جائزہ لیں تو دیکھا جاسکتا ہے کہ مذہب پرست کہلانے والا اور عورت کو ستی ساوتری اور نہ جانے کون کون سی ناری سمجھنے والا یہ ملک عورت کو کون سے مقام پر کھڑا کرتا ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی قانون دھرم شاسترکے مصنف منوجی مہاراج منوسمرتی 5/147میں عورت کے متعلق لکھتے ہیں:

(۱) عورت لڑکپن میں اپنے باپ کے اختیار میں رہے اور جوانی میں شوہر کے اختیار میں رہے اور بیوہ ہونے کے بعد اپنے بیٹوں کے اختیار میں رہے۔ خود مختار ہوکر کبھی نہ رہے۔

(۲) عورت کے لیے قربانی اور برت گناہ ہے صرف شوہر کی خدمت کرنی چاہیے۔

(۳) عورت کو چاہیے کہ شوہر کے مرنے کے بعد دوسرے شوہر کا نام بھی نہ لے اور کھانا پینا کم کرکے اپنی زندگی کے دن پورے کرے۔

(۴) اور آگے مہاراج لکھتے ہیں جھوٹ بولنا عورتوں کی خصلت ہے۔

اب دوسرے مہاراج کی مقدس کتاب کھولتے ہیں اور عورت کی پوزیشن دیکھتے ہیں۔ یہ ہیں مہاراج والمیکی۔ یہ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’دنیا میں عورت سے زیادہ گناہ گار کوئی چیز نہیں اور عورت تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ ہے۔‘‘ مہابھارت کے دور میں ایک عورت کے کئی شوہر ہوسکتے تھے۔ اس کے علاوہ ماہواری اور زچگی کے سلسلہ سے عورت کے ساتھ گندگی کا تصور وابستہ کردیا گیا تھا، وہ آج بھی ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ مرد کے مقابلے میں کمتر سمجھی جاتی تھی۔ ان دنوں میںگھر کا کوئی فرد اس سے بات کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ پھر شوہر کے مرجانے پر بیوی کو اس کے ساتھ زبردستی ستی ہونے یعنی آگ میں جل کر مرجانے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا اور آج بھی کچھ لوگ اس کے حامی ہیں۔ بیوہ عورت کا سر مونڈھ کر اسے بدشکل بنادیا جاتا تھا۔

بدھ مذہب جدید مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اس نے بھی عورتوں کو نجس ہی قرار دیا ہے اس کا ثبوت ہمیں گوتم بدھ کی تعلیمات میں ملتا ہے۔ گوتم بدھ نے اپنے پیروؤں سے کہا تھا کہ ’’اگر تم نجات پانا چاہتے ہو تو تمھیں اپنی عورتوں سے رشتہ توڑ لینا چاہیے۔‘‘ اور سب سے پہلے موصوف نے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ اور اپنی عورتوں سے رشتہ توڑ لیا۔ بہرحال ان مختلف اد وار میں عورت کے مرتبے اور مقام کو بد سے بدتر کرنے کے جو مراحل گزرے ہیں انہیں چھوڑ کر اگر آج کے اس ہائی ٹیک کلچر اور ترقی یافتہ دور کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ عورت کی حقیقی پوزیشن اور حیثیت اس دنیا میں کیا ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے اس سماج نے بھی عورت کو زبردست مظالم کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی قدروقیمت اور اس عزت و عفت کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ۱۹۹۴ء میں صرف ریاست گجرات میں ۸۵ہزار حمل اس لیے گرائے گئے کہ وہ لڑکی کو جنم دینے والے تھے۔ مردم شماری کے ذریعہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پنجاب، ہریانہ، دہلی، گجرات اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد بالترتیب ۸۵۰، ۶۵۰ اور ۷۵۰ بتائی گئی ہے۔ حال ہی میں ریاست اڑیسہ اور کرناٹک میں نوزائیدہ بچوں (لڑکیوں) کے جسمانی اعضا تو کہیں پورے بچے پولیتھین تھیلوں میں کچرے کے ڈبے اور گٹروں میں پائے گئے۔ حمل کے دوران لڑکیوں کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ماردینا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ وبا سارے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے حالانکہ جنس کی تشخیص و تعین پر پابندی عائد ہے اور اس کے خلاف قانون موجود ہے۔

CRY این جی او کے مطابق ہر دن سات ہزار لڑکیوں کو پیٹ میں ہی ماردیا جاتا ہے۔ ریاست تمل ناڈو کے ضلع مدورائی میں لڑکی کا پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ یا پھر زندہ دفن کردیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ریاست کرناٹک ضلع بیلگام کے قریب یلما نام کا ایک ڈونگر (چوٹی) ہے۔ وہاں پر یلما کا مندر ہے۔ ماں باپ اپنی نوجوان لڑکیوں کو وہاں لے جاتے ہیں اور مندر پر چڑھاوے کی طرح چڑھا دیتے ہیں۔ یعنی اسے دیوداسی یا دیوتا کی کنیز بنادیتے ہیں۔ اس کے بعد والدین کا اس پر سے حق ختم ہوجاتا ہے۔ آئندہ کی زندگیوں کے متعلق دیو داسیوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ فاحشہ بن جاتی ہیں یا پھر قحبہ خانوں کی پری بن کر رہ جاتی ہیں۔ والدین اپنی لڑکیوں کو یلمَّا کے حوالے کرنا ایک مقدس فعل سمجھتے ہیں۔ ضلع گلبرگہ اور داونگیرہ میں یہ رسم اب بھی جاری ہے۔ ریاست بہار، آسام، جھارکھنڈ اور ہماچل پردیش میں اب بھی عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کیا جاتا ہے۔ خریدی ہوئی لڑکیوں کا انتہائی حد تک جنسی و جسمانی استحصال کیا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات نہ صرف شوہر بلکہ گھر کے دوسرے افراد بھی جسمانی و جنسی استحصال میں پیچھے نہیں رہتے۔ یونین ہوم سکریٹری اور ڈائرکٹر آف سی بی آئی نے چوکس کیا اور خطرے کی گھنٹی بجائی اور کہا ہے کہ انسانوں کی خرید و فروخت کا معاملہ روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے۔ گاؤں جہاں زیارت گاہ ہوتے ہیں وہاں سے اور پڑوسی ممالک سے طوائف کا کاروبار زوروں پر ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کے تیس لاکھ طوائفوں میں ۴۰؍فیصد طوائفوں کی تعداد بچوں کی ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ اور منظم طریقے سے کیا جانے والا تیسرا بڑا جرم انسان کی خریدو فروخت کا ہی ہے۔ حال ہی میں سی بی آئی نے ممبئی کے مختلف مقامات پر اچانک دھاوا بول دیا اور انسانوں کی خریدو فروخت کرنے والی ٹولی کو گرفتار کیا۔ جن کے قبضہ میں چونتیس عورتیں ملیں جو آسام، کلکتہ، اترپردیش اور نیپال سے لائی گئی تھیں۔ جن میں آٹھ کم سن لڑکیاں بھی تھیں۔ ہمارے اس ملک میں ایک کروڑ سے بھی زائد عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہیں اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے۔ اخلاقی گراوٹ کا معاملہ اتنا سنگین ہوگیا ہے کہ بھارت سرکار کے پالیسی ساز اداروں کے ذمہ دار بھی اب جسم اور عزت و عصمت کی خریدوفروخت کو باقاعدہ ایک پیشے کے طور پر قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ نیدرلینڈ میں جب اس پیشہ کی قانونی اجازت دی گئی تو ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء تک طوائف کے دھندے میں بچوں کا گراف ۳۰۰فیصد تک بڑھ گیا۔ اور اس میں سے پانچ ہزار بچوں کو دوسرے ممالک سے ناجائز تجارت کے ذریعہ لایا گیا۔ حالیہ دنوں کے سیکس اسکینڈل اور موبائل کیمروں کے ذریعہ عورتوں کے فحش مناظر کی فروخت میں سماجی کارکن، عدلیہ، پولیس، بی ایس ایف سرمایہ دار اور ورزاء تک ملوث پائے گئے۔ اب یہ وبا راج بھون تک پہنچ چکی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کے ایک جائزے کے مطابق ۶۵ فیصد نوجوان لڑکیوں نے رائے دی ہے کہ اگر انہیں اپنا کام نکالنے کے لیے کسی کو اپنا جسم پیش کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کرناٹک کے شہر منگلور میں پب کلچر کا انجام اخبارات اور ٹی وی کے ذریعہ ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ پب کلچر کے منیجر کہتے ہیں پچھلے سال انھوں نے ہفتے میں دو دن یعنی پیر اور بدھ کو Ladies Night کے نام سے مختص کیا ہے۔ خواتین نے اسے بہت پسند کیا جس میں شام ۶؍بجے سے رات ۴۵ء۹ تک عورتوں کو شراب مفت تقسیم کی جاتی ہے۔ گوا شہر کو تو اب Rape Capitalکا درجہ دیا جارہا ہے۔ آئے دن وہاں سیاح خواتین کی عصمت دری کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ BSFاور آرمی کے نوجوان مختلف علاقوں میں عورتوں کے ساتھ زیادتیوں اور جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں پولیس فورس، سی آر پی ایف اور پیرا ملٹری فورسس کے جوانوں میں AIDS کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس خطر ے کی گھنٹی کو محسوس کرتے ہوئے حکومت ہند یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے اور غور کررہی ہے کہ دیش کے نوجوان رکھوالوں کو دو ماہ کی زائد چھٹی دے کر ان کی بیویوں کے پاس بھیج دیا جائے۔ پھر اُن کے کام کرنے کے نزدیک اُن کی رہائش گاہ کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ اپنی بیویوں سے جنسی سکون حاصل کرسکیں۔ دہلی میں جو ملک کی راجدھانی ہے وہاں خواتین سے متعلق جرائم کا ریکارڈ نمبر ایک پر ہے نقشہ اس طرح ہے۔ قتل و اقدام قتل کے واقعات ۱۱ء۱۸فیصد ، چھیڑ خوانی، لوٹ مار اور استحصال ۰۷ء۵ فیصد، اغوا۵۲ء۶فیصد، خود کشی ۲۴ء۷ فیصد، جہیز کے لیے جلانے اور گھر سے نکالنے کی خبریں ۸۴ء۱۸ فیصد، عصمت دری کی خبریں ۳۶ء۲۵ فیصد دیگر متفرق خبریں ۸۴ء۱۸ فیصد۔ یہ اعداد و شمار یکم ستمبر ۲۰۰۷ء سے ۳۰؍ستمبر ۲۰۰۷ء تک کے ہیں۔ (راشٹریہ سہارا ، دہلی) اس کے بعد دوسرے نمبر پر حیدرآباد آتا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے مطابق آندھرا پردیش میں گزشتہ سال ۲۱۴۸۴ خواتین سے متعلق مقدمات درج کروائے گئے۔ جو قومی شرح کا ۱۳فیصدہے۔ NCRBہی کے مطابق کل ہند سطح پر عورتوں کے خلاف جرائم ۲۰۰۷ء میں ۳ء۱۶ فیصد تھے۔ چنانچہ یوپی کے شہر گورکھپور میں ہزاروں کی تعداد میں عورتوں نے درخواست دی ہے کہ انہیں اسلحہ کا لائسنس چاہیے۔ پتا نہیں اس کا صحیح استعمال ہوتا ہے یا غلط۔ عورتوں کی آزادی و ترقی کا ’’جدید تصور‘‘ دینے والے اور عالمی یومِ خواتین کے موجد امریکہ اور برطانیہ کی تصویر کیا ہے ذرا دیکھتے چلیں۔

۱۹۵۰ء میں ڈاکٹر گڈوج سی شوکر نے میڈیکل ایسوسی ایشن آف امریکہ کے سامنے ایک لیکچر میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں ایک لاکھ بیالیس ہزار ایسے ناجائز بچے پیدا ہوئے جن کی ماؤں کی عمریں بیس سال سے کم تھیں۔ یہ ۵۷ سال پرانی بات ہے۔ آج تو وہاں اتنی حیرتناک اور بھیانک صورتحال ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ عورتوں سے متعلق جرائم فی منٹ ایک زنا، ایک اسقاطِ حمل، ایک طلاق، ایک خود کشی، ایک اغوا۔

Guttmacher Institute کی حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ سن ۲۰۰۶ء میں امریکہ میں ہر ایک ہزار لڑکیوں میںسے ۷۱ لڑکیاں حاملہ ہوئیں، جن کی عمریں پندرہ سے انیس سال کے درمیان تھیں۔ امریکی جنسی بے راہ روی میں صرف عام لڑکیاں ہی نہیں بلکہ سوسائٹی کے بڑے نام اور کام والوں کی اولادیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی ری پبلکن پارٹی کے لیے نامزد کی گئی نائب صدر محترمہ کی ۱۸ سالہ دختر نے ایک لڑکے کو جنم دیا اور جب پوچھا گیا کہ شادی کب کروگی تو کہنے لگی کہ اگلے سال کرنے کا پلان ہے۔

برطانیہ کا ایک جائزہ یہ بتاتا ہے کہ برطانیہ میں ہر سال اوسطاً تین ہزار عورتوں کو حاملہ ہوجانے کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کردیا جاتا ہے۔ بدکاری کے تیز رفتار کاروبار کے لیے ہر سال لگ بھگ چار ہزار عورتوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ جیلوں میں عورتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور گھروں میں عورتوں پر مردوں کے ہاتھوں ہونے والے تشدد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ برطانیہ میں چار بچوں میں سے ایک بچہ سنگل پیرنٹ فیملی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چرچ گائیڈ انگلینڈ کی رپورٹ کے مطابق ۱۹۷۲ء سے یہ تعداد چالیس لاکھ سے بڑھتے بڑھتے ایک کروڑ بیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

چین جو اقتصادی دوڑ میں ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے بہت آگے نکل چکا ہے، وہاں کے معاشرتی اختیارات کے ڈھیلے پن اور دولت کی ریل پیل کی وجہ سے قدیم داشتاؤں کا عمل پھر سے امڈ کر آچکا ہے۔ شادی شدہ مرد کی دوسری محبوبہ کا سلسلہ لاکھوں کی تعداد میں بڑھ رہا ہے۔ خواتین کی انجمنوں اور ماہرین نے حکومت کا دروازہ کھٹ کھٹایا ہے اور مانگ کی ہے کہ میرج ایکٹ کے قوانین میں ردوبدل کی جائے۔ کیونکہ نئے رجحان کی وجہ سے خاندانی قدریں بکھر اور ٹوٹ رہی ہیں اور طلاق کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال عورتوں کی خریدوفروخت کا تخمینہ ۳۲ بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ U.S.اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ظاہر کرتا ہے کہ ہر سال چھ سے آٹھ لاکھ انسانوں کی خریدوفروخت بین الاقوامی سرحدوں پر ہوتی ہے، جس میں ۷۰ فیصد عورتیں ہوتی ہیں، ان میں اکثر عورتوں کا مقدر جنسی کاروبار ہوتا ہے۔ مثلاً برطانیہ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اسی ہزار میں ۸۰ فیصد طوائف غیر ملکی خواتین ہوتی ہیں جو ناجائز تجارت کے ذریعے لائی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں عورتوں کی خریدوفروخت اور جنسی کاروبار کا ایک طاقتور جال بچھا ہوا ہے۔ جو گھانا، نائیجیریا، مراکش، برازیل، کولمبیا، ڈومنک ریپبلکن، فلپائن، تھائی لینڈ، مشرقی یورپ، پولینڈ، جرمنی، ہنگری، اٹلی اور آسٹریا سے عورتوں کو اسمگل کرتا ہے۔اقوامِ متحدہ کا خیال ہے کہ دنیا کی کل چار عورتوں میں سے کم سے کم ایک عورت مارپیٹ یا جنسی استحصال یا زنا کا شکار ہورہی ہے۔ WHOکی جانکاری کے مطابق پتا چلا ہے کہ بنگلہ دیش، ایتھوپیا، پیرو، تنزانیہ کی ۵۰ فیصد سے زیادہ عورتیں اپنے دہرے تعلقات رکھنے والے مردوں کے ذریعہ جسمانی و جنسی تشدد کا شکار ہورہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حمایت والے ٹیلی ویژن سیریز ہیں جس کو BBC ٹیلی ویژن کے ذریعہ نشر کیا گیا یہ کہا گیا ہے کہ اندیشہ ہے کہ دنیا کے اطراف میں ایک تہائی عورتیں دورانِ زندگی گھروں میں اور کام کرنے کی جگہ پر جسمانی و جنسی تشدد کا شکار ہوںگی۔ اس سیریز میں بات رکھتے ہوئے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر برائے U.N. Fund for Population Activities نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں عورتوں کی حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کا عمل بڑھے گا، آگے وہ کہتے ہیں کہ اب کہیں بھی دنیا میں جنگ نہیں ہوگی عورتوں کے جسم جنگ کا میدان بنے رہیں گے۔

افریقہ نے جنسی تشدد کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ افریقہ کے شہر کانبگو میں ہتھیار سے لیس ٹولیاں بے قاعدہ فوج اور حکومتی فوج اجتماعی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پائے گئے۔ اب تک تقریباً تین لاکھ عورتوں کی عصمت دری کی جاچکی ہے۔ ماہ اگست میں بالی (انڈونیشیا) میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں ماہرین صحت نے تشویش ظاہر کی اور رپورٹ میں کہا کہ ایشیا میں بسنے والی پچاس ملین خواتین ایڈز جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہوچکی ہیں۔

انگریزی رسالہ The Weekکے سرورق پر عورت کی تصویر کے ساتھ ساتھ عنوان تھا Happily Singleیہ اس ہفتہ کا Main Topic تھا، جس کے اندر چند خواتین کے بیانات اور انٹرویوز لیے گئے تھے اس میں کوئی جرنلسٹ تھی تو کوئی ڈاکٹر اور کوئی ٹی وی آرٹسٹ تھی اور سب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے بڑے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی تھیں۔ ان کی سوچ و فکر کو ملاحظہ کیجیے کسی کا کہنا ہے کہ ’’آدمی اور شادی کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔‘‘ ایک خاتون کہتی ہیں کہ ’’میں ایک آزاد پرندے کی مانند ہوں۔‘‘ اور ایک صاحبہ فرماتی ہیں: ’’میں اس لیے وجود میںنہیں آئی ہوں کہ گھر، کچن اور بچوں کو سنبھالوں۔‘‘ اور ایک کا کہنا ہے کہ ’’میں آزادی کے مزے لوٹ رہی ہوں اور یہ شادی کے بغیر چل سکتا ہے۔‘‘ ایک طرف عورتوں کی تعداد کم ہورہی ہے، دوسری طرف یہ رجحان! اس گھٹا ٹوپ اور تشویشناک اندھیرے میں ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ منانے والوں اور اس تقریب کے ایجاد کرنے والوں سے میں بڑی درد مندی سے سوال کرتا ہوں کہ کیا عورت کے مرتبہ و مقام کو صحیح رخ دینے کے لیے یہ صورتحال ایک لمحۂ فکریہ نہیں ہے؟

شیئر کیجیے
Default image
فیض احمد مکاندار، ہبلی

تبصرہ کیجیے