شیطان کی جیت

وہ درخت کی پوجا کررہے تھے۔ جب اس کی ایک اللہ والے درویش کو خبر ہوئی تو اس نے درخت کاٹنے کا فیصلہ کرلیا۔ کلہاڑی کندھے پر رکھی اور چل کھڑا ہوا۔ درخت کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اچانک ابلیس نمودار ہوا اور درخت کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

’’اے آدمی رک جاؤ! …. تم اسے کیوں کاٹنا چاہتے ہو؟‘‘

’’اس لیے کہ لوگ گمراہ ہورہے ہیں!‘‘

’’تمہیں اس سے کیا؟‘‘

’’میرا فرض ہے کہ انہیں گمراہی سے بچاؤں!‘‘

’’تمہارا فرض یہ ہے کہ لوگو ںکو آزاد رہنے دو، وہ جو چاہیں کریں۔‘‘

’’وہ آزاد نہیں، شیطان کے پیدا کردہ وسوسے میں گرفتار ہیں۔‘‘

’’کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہاری پکار پر توجہ دیں؟‘‘

’’میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ اللہ کی پکار پر متوجہ ہوں!‘‘

’’میں تمہیں یہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا۔‘‘

’’میں اسے کاٹ کر رہوں گا۔‘‘

ابلیس نے درویش کو گربیان سے پکڑ لیا۔ ادھر درویش نے ابلیس کا ٹینٹوا دبایا۔ وہ دیر تک ایک دوسرے کو بچھاڑنے کے لیے زور آزمائی کرتے رہے۔ بالآخر درویش جیت گیا…. ابلیس زمین پر چاروں شانے چت پڑا تھا اور درویش اس کے سینے پر سوار تھا۔

’’تم نے میری قوت دیکھ لی؟‘‘

’’معاف کرنا، مجھے تمہاری قوت کا اندازہ نہ تھا۔ مجھے چھوڑ دو اور جو چاہے کرو۔‘‘ شکست خوردہ ابلیس نے پست آواز میں کہا۔

درویش ابلیس کے سینے سے اتر گیا۔ وہ اس طویل زور آزمائی سے تھک چکا تھا، چنانچہ اپنی کٹیا میں لوٹ آیا۔

اگلے دن اس نے پھر کلہاڑی اٹھائی اور درخت کاٹنے کے لیے روانہ ہوگیا۔ ابلیس نے اسے آتے دیکھا تو درخت کے پیچھے سے نکل آیا او رچیخا:

’’آج تم پھر اسے کاٹنے آگئے؟‘‘

’’میں نے کہا تھا نا، میںاسے کاٹ کر رہوں گا۔‘‘

’’کیا خیال ہے، تم آج بھی مجھے پچھاڑ لوگے؟‘‘

’’کلمہ حق بلند ہونے تک میں تیرا مقابلہ کرتا رہوں گا۔‘‘

’’تو پھر آؤ اور اپنی قوت آزمالو۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ابلیس اور درویش گتھم گتھا ہوگئے اور ایک دوسرے کو بچھاڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ آخر کار درویش پھر غالب آیا، ابلیس اس کے قدموں میں پڑا تھا۔ درویش اس کے سینے پر بیٹھ گیا اور بولا:

’’میری طاقت کے بارے میں اب کیا کہتے ہو؟‘‘

’’یقینا تم نہایت طاقتور ہو۔ مجھے چھوڑ دو اور جو چاہتے ہو، کرو۔‘‘ ابلیس نے کانپتی اور لرزتی آواز میں کہا۔

درویش اٹھا اور اپنی کٹیا میں آکر چت لیٹ گیا۔ وہ تھک کر چور ہوچکا تھا۔جب رات گزری اور صبح ہوئی تو اس نے کلہاڑی اٹھائی اور درخت کی جانب چل پڑا۔ ابلیس بھی چیختا ہوا نکل آیا:

’’اے آدمی! کیا تم اپنے ارادے سے باز نہیں آسکتے؟‘‘

’’نہیں، میں اس فتنے کو ختم کرکے رہوں گا!‘‘

’’تم کیا سمجھتے ہو، میں تمہیں ایسا کرنے دوں گا؟‘‘

’’اگر تو نے آج میرا مقابلہ کیا تو میں تمہاری ہڈی پسلی ایک کردوں گا۔‘‘

ابلیس سوچ میں پڑگیا۔ اس نے سوچا اس شخص سے لڑنے اور کشتی کرنے سے کچھ حاصل ہونا مشکل ہے۔ جو شخص اپنے نظریے اورعقیدے کی خاطر لڑتا ہو، میں اس پر غلبہ نہیں پاسکوں گا۔ اس مضبوط قلعے میں گھسنے کا تو بس ایک ہی دروازہ ہوسکتا ہے اور وہ ہے حیلہ اور تدبیر کا …. یہ سوچ کر اس نے اپنالہجا تبدیل کیا اور بڑی نرمی و شفقت سے کہا:

’’جانتے ہو میں درخت کاٹنے کی مخالفت کیوں کررہا ہوں؟ مجھے تم پر ترس آتا ہے، ڈرتا ہوں تم درخت کا ٹ کر لوگوں کو اپنا دشمن بنالوگے۔ اس جھنجھٹ میں پڑ کر خوامخواہ اپنی جان ہلکان نہ کرو۔ اسے کاٹنے کا خیال چھوڑو۔ میں تمہیں روزانہ دو دینار دوں گا، مزے اور آرام سے زندگی کے دن گزارو۔‘‘

’’دو دینار؟‘‘

’’ہاں ہاں دو دینار، ہر صبح تم انہیں اپنے تکیے کے نیچے پاؤگے۔‘‘

درویش نے سرجھکا لیا اور سوچ میں پڑگیا۔پھر سر اٹھایا اور بولا: ’’اس بات کی ضمانت؟‘‘

’’میں تم سے وعدہ کررہا ہوں اور تم مجھے وعدے کا سچا پاؤگے۔‘‘

’’ٹھیک ہے، اس بات کا بھی پتا چل جائے گا۔‘‘

’’ضرور، ضرور۔‘‘

ابلیس نے اپنا ہاتھ درویش کے ہاتھ میں دیا…. معاہدہ طے پاگیا۔

اب درویش تھا اور اس کی کٹیا …. وہ روزانہ بیدار ہوتا، اپنا ہاتھ تکیے کے نیچے مارتا اور دو دینار موجود پاتا…. ایک ماہ بیت گیا۔

ایک صبح اس نے تکیے تلے ہاتھ مارا تو وہاں کوئی شے نہ تھی۔ درویش غصے سے لال پیلا ہوکر اٹھا، کلہاڑی کندھے پر رکھی اور درخت کاٹنے چل دیا۔ اب پھر ابلیس اس کے راستے میں کھڑا ہوگیا اور بولا:

’’کہاں جارہے ہو؟‘‘

’’درخت کاٹنے!‘‘

ابلیس نے حقارت آمیز قہقہہ لگایا اور کہا: ’’تم اسے اس لیے کاٹ رہے ہو کہ میں نے معاوضہ دینا بند کردیا ہے؟‘‘

’’نہیں، میںنے فیصلہ کرلیا ہے گمراہی مٹا کر ہی مشعلِ ہدایت روشن کرکے چھوڑوںگا۔‘‘

’’تم….؟‘‘

’’ہاں میں، ملعون مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہو۔‘‘

’’مجھے ملامت مت کرو اور اس خیال کو بھول جاؤ۔‘‘

’’جھوٹے ، دغا باز! یہ تو کہہ رہا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر درویش ابلیس پر پل پڑا…. کچھ ہی دیر بعد درویش ابلیس کے قدموں تلے پڑا تھا۔ ابلیس بڑے متکبرانہ انداز میں اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا اور بولا:

’’اے آدمی! تمہاری وہ قوت کہاں گئی؟‘‘

درویش کے حلق سے خرخراہٹ ظاہر ہوئی:

’’اے شیطان! آخر تو نے مجھ پر کیسے غلبہ پا لیا؟‘‘  اس نے پوچھا اور بے دم سا ہوگیا۔

’’تم اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکے؟ جب تک تمہارا غصہ اللہ کے لیے تھا، اللہ تمہارے ساتھ تھا۔ تم مجھ پر غالب آتے رہے۔ لیکن جب تم اپنے نفس کی خاطر لڑنے نکلے تو پھر مقابلہ میرا اور تمہارا تھا…. بھلا تم مجھے کیسے زیر کرسکتے ہو؟‘‘

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: توفیق الحکیم ترجمہ: ادارہ