5

ترجیح

اسے تین سال پہلے ہی ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔

پورے چھبیس سال اس نے ریل گاڑیوں کے سگنل بدلنے کے کیبن میں کام کیا تھا، تین سال پہلے ہی وہ ملازمت سے اس لیے الگ کردیا گیا تھا کہ اس کی قوتِ سماعت ختم ہوگئی تھی۔ ویسے یہ قوت تو گزشتہ چھ سالوں سے بتدریج کم ہورہی تھی، مگر آلۂ سماعت کی مدد سے اس نے چند سال کاٹے تھے… اور جب بہرے پن نے اس آلے کو بھی بے کار کردیا تو قلندر علی ناکارہ کہلایا تھا۔

قلندر علی چھوٹوں کے سہارے بڑوں تک پہنچا۔ اس کا ہاتھ تھامے اس کے کاندھوں پر چڑھا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنی جگہ دلوانے میں کامیاب ہوگیا۔ کیونکہ اس کا بیٹا سکندر علی گزشتہ پانچ سالوں سے تضییع اوقات کی خاطر کیبن میں جاتا رہا تھا، اس لیے وہاں کی ساری تفصیلات سے واقف ہوچلا تھا۔ ہر گاڑی کا نمبر اور وقت وغیرہ اسے اچھی طرح یاد تھے۔ اس نے طوعاً وکرہاً یہ چارج لیا تھا، اپنے باپ کی خاطر۔ ورنہ وہ تو کوئی مناسب کام کرنا چاہتا تھا، جو اس کی ڈگری کے لائق ہو۔

باپ قلندر علی اس کی زندگی کا مرکز تھا۔ بچپن کی کتنی ہی باتیں سکندر کے ذہن میں کھدی ہوئی تھیں۔ اس کا باپ، اس کا ابو اس کے لیے ماں بھی تھا۔ سکندر علی نے ماں کو دیکھا نہیں تھا۔ وہ بس سات دنوں کا تھا کہ ماں چل بسی تھی۔ اس کی خالہ نے اسے دودھ پلایاتھا اور چاہتی تھی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ساتھ رکھ لے۔ لیکن ایک سال بعد قلندر علی اپنے پاس لے آیا اور دن کے چوبیس گھنٹے سال کے تین سو پینسٹھ دن اور آج تک کے ستائیس سال پاس رکھا۔ بازوؤں میں رکھا، نگاہوں کے سامنے رکھا، کلیجے سے لگائے رکھا، اسے شیشی سے دودھ پلایا، اس کے پوتڑے بدلے اور انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، پھر روزانہ اسکول تک چھوڑ آتا، یوں سکندر کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ماں کا الگ سے کوئی وجود نہیں ہوتا۔ ماں بھی باپ میں ہی ہوتی ہے۔

سکند کو یاد تھاکہ کالج میں داخلے کے لیے اس کے ابو نے کتنے پاپڑ بیلے تھے۔ پانچ ہزار کی رقم خواب تھی قلندر علی کے لیے۔ زندگی بھر کی جمع پونجی صرف ساڑھے نو سو روپے تھی۔ حکومت سے قرضہ منظور ہونے تک یا پی ایف وغیرہ میں سے رقم نکالنے تک داخلے کا وقت نکل جاتا۔ اس نے اسٹیشن ماسٹر سے پندرہ سو لیے۔ قلندر نے پورے پانچ ہزار ہی مانگے تھے، لیکن اسٹیشن ماسٹر پندرہ سو پر بھی اس لیے راضی ہوا تھا کہ قلندر علی نے اس کے پاؤںپکڑ لیے تھے، اور اسٹیشن ماسٹر کے قدموں سے اٹھا کر سکندر اپنے ابو کو باہر لایا اور تقریباً چیخ کر بولا تھا:

’’مجھے نہیں پڑھنا ہے۔ ابو کالج میں۔ آپ اس نیچ کے پاؤں مت پکڑئیے۔‘‘

’’اب تو پکڑ لیے ہیں۔ اس کا ہرجانہ تو وصول کرلوں۔‘‘ قلندر نے ٹھنڈے ٹھنڈے کہا تھا۔

اور باقی کے ڈھائی ہزار۔

کالج کی انتظامیہ نے عدالتی کاغذات پر قلندر علی سے لکھوالیا تھا کہ ہر ماہ سو روپے ادا کرے گا۔ داخلہ تو مل گیا اور بعد کے اخراجات … قلندر علی نے ساری زندگی ایک معمول پر گزاری تھی، لیکن یہ معمولات ایسے بگڑے کے پورے چار سال بگڑے رہے۔ کالج کے لائق کپڑے، فیس، کتابیں، یہ وہ… وہ یہ…

قلندر علی بیٹے کو گریجویٹ بنانے میں کامیاب تو ہوگیا پر وہ سارے خواب ٹوٹ گئے جو وہ سکندر کے بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ سکندر کو کوئی معقول ملازمت نہ ملی، کسی دفتر میں کلرک، کسی اسکول میں استاد!

وہ سکندر علی کو باعزت ملازمت اس لیے دلا نہیں سکا تھا کیونکہ اب مزید دس بارہ ہزار اکٹھے کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ دس بارہ ہزار جو ’’اوپر والوں‘‘ کو دینے تھے۔ پس سکندر گریجویشن کے بعد پانچ سال تک بھی سڑکیں ناپتا رہا۔ خاک پھانکتا رہا اور جب اپنے ابو کی قوتِ سماعت غائب ہوگئی تو اس کام سے شدید ترین نفرت کے باوجود اپنے باپ کا کہا مان لیا تھا۔ صرف اس لیے کہ یہ باپ کی خواہش تھی۔ باپ کی بھی ماں کی بھی۔

اب قلندر علی کی زندگی نے ایک کروٹ بدل لی تھی۔ وہ صبح اٹھتا، ناشتہ بناتا، خود کھاتا اور سکندر علی کو کھلا دیتا۔ پھرسکندر علی کے جانے کے بعد دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگ جاتا اور ایک بجے کھانے کے ساتھ سکندر کے پاس ہوتا۔ سکندر نے لاکھ بار منع کیا تھا۔ قلندر نے سنا تو نہیں لیکن سمجھ گیا وہ کیا کہہ رہا ہے۔ بولا: ’’گھر میں رہ کر کروں بھی کیا۔ سکندر! کچھ تو کرنا چاہیے انسان کو۔ اب شام تک تمہارے ساتھ رہوں گا۔ ایسا لگتا ہے ابھی ملازمت پر بحال ہوں۔ وہ دیکھو 21UP آرہی ہے۔ جھنڈی تھامو۔‘‘

یوں دوسال گزرے۔ اب سکندر کی شادی کردینی چاہیے تھی۔ گاؤں کی لڑکی قلندر علی کو پسند نہ تھی۔ گاؤں کی لڑکیاں اسے شروع سے ہی پسند نہ تھیں۔ سڑی بسی، پندرہ پندرہ دنوں تک نہاتی نہ تھیں۔ اسے اپنی بہو ذرا قبول صورت چاہیے تھی۔ ذرا ڈھنگ والی بھی۔ روزانہ نہ سہی دوسرے تیسرے دن نہائے، کپڑے بدلے، شوہر کے ساتھ ہنسے بولے۔ کیونکہ اس کے گاؤں کی ساری ہی لڑکیاں نک چڑھی تھیں۔ شوہر کا کوئی خیال نہیں، صرف طعنے کوسنے، اس کا جینا دوبھر کرتیں، گزبھر لمبی زبان سے۔ خود اس کی بیوی بھی تو ایسی ہی تھی۔ ایک سال تو اسے خوب ستایا تھا۔ وہ تنگ آچکا تھا۔ ایک بار سنجیدگی سے علیحدگی کا سوچا بھی تھا کہ سکندر آگیا اور وہ چلی گئی تھی۔ اس کی بیوی نے جو ہوا کھڑا کیا تھا اس کی بنا پر دوسری شادی کے لیے وہ خود کو راضی نہ کرسکا اور اپنی ساری جوانی کو اپنے ہاتھوں کھوکھلا کرلیا۔

سکندر سے وہ شادی کے بات چھیڑتا تو وہ دھیمی آواز میں کہتا: ’’رہنے دیجیے ابو! چند سال اور گزرنے دیجیے۔‘‘ لیکن سال بھی تو گزر ہی جاتے ہیں اور گزرگئے۔

سکندر اپنے باپ کے خیالات سے واقف تھا۔ وہ بھی ایسی ہی بیوی چاہتا تھا۔ بیوی کی تمنا، اولاد کی خواہش، یہ ارمان وہ حسرتیں، اب خدا بھی کون کون سی خواہش پوری کرے۔ بندے کی ایک خواہش وہ پوری کرتا کہ دوسری خواہش عفریت کی مانند آکھڑی ہوتی۔

بندوں کا یہ گلہ تو بجا ہے کہ کسی کی صرف چند خواہشیں پوری ہوتی ہیں، کسی کی زیادہ۔ کسی کی اکا دکا، کسی کی کوئی نہیں۔ پھر حکم کہ صابر رہو۔

پھر اللہ میاں موت کا بھی عجیب وقت معین کرتے ہیں۔ کوئی بھری اولاد چھوڑ کر جوانی میں مرجاتا ہے۔ کوئی بغیر شادی کے جوانی میں ہی سدھارجاتا ہے۔ کوئی والدین اپنے سارے ہی بچوں کے پورے کام کرکے مرتے ہیں اور کوئی بغیر کوئی کام کیے کھنچے پڑے رہتے ہیں۔ اولاد صالح ہو تو ان کی زندگیاں شان سے گزرتی ہیں۔

کتنا چاہتا رہا اور چاہے گیا سکندر اپنے ابو کو۔ اس کی دنیا روشن تھی اس سے۔ اندھیرا آئے گا تو اس سے۔

ایک دوپہر قلندر علی بیٹے کا کھانا لیے خراماں خراماں ٹریک نمبر ۲ پر چلا آرہا تھا۔ سکندر آٹھ دس منٹوں سے ابو کی راہ دیکھ رہا تھا۔ کبھی وہ دیر سے نہیں آیا تھا۔ اور آج بھی ٹھیک ایک بجے قلندر علی آرہا تھا۔ روزانہ ٹریک نمبر ۲ پر صبح ساڑھے گیارہ بجے سے دو بجے تک کوئی گاڑی نہیںگزرتی تھی۔ پر آج ۹۱ ڈاؤن ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے آرہی تھی۔ دس منٹ پہلے ہی سکندر نے گاڑی کی آمد کی اطلاع موصول کی تھی۔ وہ سگنل دے چکا تھا اور گاڑی کو ٹریک نمبر دو پر ڈال چکا تھا۔ ۹۱ ڈاؤن روزانہ ٹریک نمبر ایک پر ہی آتی تھی۔ لیکن تاخیر کے سبب اسے دوسرے ٹریک پر ڈالنا پڑا۔ کیونکہ ۲۱ اپ بھی انہی لمحوں میں متوقع تھی جو صحیح وقت پر آرہی تھی۔

لیکن یہ کیسا… ابو… سکندر اپنی پوری طاقت سے چیخا ’’ابو‘‘ پھر چیخے گیا۔

قلندر علی کے پیچھے ٹریک نمبر دو پر ۹۱ ڈاؤن چنگھاڑتی چیختی، گرجتی چلی آرہی تھی۔ حالانکہ وہ ابھی دور تھی، لیکن ایک تو پہلے ہی سے طوفانی رفتار دوسرے تاخیر کا وقت، ڈرائیور شاید برابر کررہا تھا۔ اس لیے آج اس کی رفتار کچھ زیادہ ہی تھی۔

سکندر کا خون سوکھ گیا۔ اب اس کی چیخیں بھی گھٹ گئی تھیں۔ بہرہ باپ دنیا سے بے خبر اور آنے والی گاڑی سے بے نیاز ہاتھ میں کھانے کا ڈبہ لیے چلا آرہا تھا۔ سکندر نے چاہا کہ کیبن سے کود پڑے اور قلندر کو وہاں سے ہٹا دے۔ ابھی وہ پہلی سیڑھی پر قدم بھی نہ رکھ پایا تھا کہ سمتِ مخالف سے ۲۱ اَپ کی سیٹی کی آواز نے اس کے پاؤں جکڑ لیے۔

یہ ٹرین بھی سوپر فاسٹ تھی۔

دونوں میں سے کسی کو بھی لال بتی دکھا کر روکا جائے تو پانچ چھ فرلانگ کے بعد ہی رک پائے گی اور تب تک اس کا ابو…

۹۱ ڈاؤن اب اس مقام سے دور تھی، جہاں سے ٹریک بدلے جاتے ہیں۔ آندھی کی طرح ایک خیال سکندر کے دماغ میں آیا اور آنکھیں بند کرکے اس نے ۹۱ ڈاؤن کو ٹریک نمبر ایک پر ڈال دیا، لیکن اسی لمحے کے دوسرے حصے میں اس کی آنکھوں کے سامنے ہزاروں لاشیں نظر آگئیں۔ خون میں لت پت بچے، عورتیں، مرد، کسی کا سر نکلا ہوا، کسی کا دھڑ غائب یہ لمحہ ابھی ختم نہ ہوا تھا کہ سکندر نے ۹۱ ڈاؤن کو دو پر ہی بھیج دیا۔

اور دوسرے لمحے:

۲۱، اَپ ٹریک نمبر ایک پر دندناتی، گرجتی گزرگئی اور

۹۱ ڈاؤن چیختی چنگھاڑتی گزرگئی ٹریک نمبر دو سے۔

اس کے ابو کو ساتھ لیتی… اور … اور اس کی دنیائے محبت کو اجاڑتی ہوئی۔

شیئر کیجیے
Default image
شبیب احمد کاف مرحوم