3

لمبی راہوں کے مسافر

قافلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔

اچانک اس نے اپنی رفتار کم کردی تھی!

اب وہ دوڑ نہیں رہا تھا بلکہ اس کا انداز ٹہلنے کا ساتھا۔ اس کے پیچھے آنے والے لوگ اب اس سے آگے نکل گئے تھے۔

’’تھوڑی دیر رک کر سستالو۔‘‘ قریب سے گزرتے ہوئے کسی نے کہا۔

’’ہاں! میں تھک گیا ہوں، کیوں نہ تم بھی تھوڑی دیر کے لیے رک جاتے۔‘‘ وہ بولا

’’میں رک نہیں سکتا۔‘‘ دوسرے شخص نے کہا۔

’’کیوں…؟‘‘

’’اس لیے کہ مجھے دور جانا ہے ورنہ دیر ہوجائے گی، تم دیکھ نہیں رہے ہو بہت سے لوگ آگے نکل گئے ہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر دوسرا شخص آگے بڑھ گیا اور وہ رک گیا۔

اس کو سامنے ایک سایہ دار درخت نظر آیا جس کی شاخوں پر پھول کھلے ہوئے تھے۔ وہ غیر ارادی طور پر اس طرف بڑھ گیا، پھولوں کی خوشبو اسے مدہوش کرنے لگی تھی۔ اس پر غنودگی سی طاری ہوگئی اور آنکھوں کے سامنے ستارے جھلملانے لگے تھے۔ ایسے میں اس کو وہ لمحہ یاد آگیا جب وہ خوف کے مارے دہل گیا تھا۔

اچانک بجلی کڑکی تھی! تب اس کے ابو نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دیا تھا اور اس کو محسوس ہوا تھا جیسے اس ہاتھ سے اطمینان کی لہریں نکل کر اس کے سینے کے اندر اتر رہی ہوں۔

اس کو یہ بھی یاد تھا کہ وہ ان کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا۔ کافی دور چلنے کے بعد پتہ نہیں چلا تھا کہ کب وہ انگلی اس سے جدا ہوگئی تھی۔

قدم سے قدم ملانے کا ساتھ چھوٹا، راستوں کا تعین مشکل ہوگیا تھا۔بیساکھیوں کے سہارے لوگ چل رہے تھے۔

لڑکھڑانا، گرنا، سنبھلنا، چلنا یا دوڑنا! وہ بھی کس سمت! وہ فیصلہ کر نہیں پارہا تھا۔

پھر—اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دور بلندی سے کوئی بلا رہا ہے۔ اچانک حدت کا احساس ہوا، اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔

درخت کی ٹہنیاں سوکھ چکی تھیں۔ اب درخت کے نیچے چھاؤں بھی نہیں تھی اور گھاس بھی سوکھ چکی تھی۔

کہیں دور — بہت دور، شاید اس پار اسے ہریالی نظر آرہی تھی۔

قافلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔

ایک بوڑھے شخص نے اس کے قریب آکر پوچھا ’’میاں کیوں ٹھہر گئے ہو؟‘‘

’’مجھے کہاں جانا ہے؟‘‘ بے خیالی میں اس نے بوڑھے سے پوچھا۔

’’کیا تم نہیں جانتے جو لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں انھیں کوئی نہیں جانتا، کیا تم بھی ان میں شامل ہوجانا چاہتے ہو؟‘‘

’’نہیں…‘‘ اس نے جھرجھری لے کر کہا۔

’’پھر تمہیں آگے بڑھنا ہے۔ لاؤ اپنا ہاتھ، میں تمہیں بتاؤں کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔‘‘ بوڑھا بولا

اس نے اپنی ہتھیلی کی طرف دیکھا!

لکیروں کا جنگل… بھول بھلیاں

نشیب و فراز

آگ، پانی … آگے پیچھے … اندر باہر … جمع، تفریق، تقسیم ، ضرب … مساوی، سوالیہ اور فجائیہ نشان… نہ جانے بوڑھا شخص کیا کیا کہتا رہا اور اس کا ذہن بھٹکتا رہا… پھر بوڑھا ہجوم میں گم ہوگیا۔

پھر اسے کئی سال پہلے کے وہ دن یاد آئے جب وہ نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا دادی ماں سے چاندنی رات میں کہانیاں سنا کرتا تھا۔

اس نے سوچا! … کتنے اچھے تھے وہ دن … کتنے سنہرے… کتنے حسین… اور اس کو وہ رنگ برنگ کی تتلیاں بھی یاد آئیں، جن کے پیچھے وہ باغ میں کافی دور تک بھاگا کرتا تھا۔ موسم بہار میں جھرنوں کے قریب درختوں پر پڑے ہوئے جھولے بھی یاد آئے۔

یادوں کی خوشبو اُسے مدہوش کررہی تھی۔ اس پر غنودگی سی چھاگئی… اور اس کی بند آنکھوں میں خوابوں کی پریاں اترنے لگی تھیں۔

پھر اس کو وہ لڑکی یاد آگئی تھی جس کی چوٹی گلہری کی دم کی طرح تھی۔ اور اُس دوپہر موسم کی پہلی بوندا باندی شروع ہوئی تھی، مٹی کی سوندھی مہک اور میگا کا مسکرانا، ہاں اس لڑکی کانام یہی تھا۔

وہ خوب اچھل کود کرتی تھی اور خوب قہقہے لگاتی تھی، زندگی سے بھر پور شرارت بھرے قہقہے تھے اس کے … پہلی بارش میں آنگن کے بیچوں بیچ وہ بھیگتی رہی اور خوشی سے ناچتی رہی۔

’’تم بھی آجاؤ۔‘‘ اس نے اس کی طرف دیکھ کر اشارہ کیا۔

’’نہ بابا، میں بیمار ہوجاؤں گا۔‘‘ اس نے کہا تھا۔ یہ سن کر میگا کھل کھلا کر ہنس دی اور کہا:

’’بے وقوف۔‘‘

اچانک اسے حدت کا احساس ہوا، اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کے پیروں تلے سوکھے پتّے بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے دیکھا کہ لوگ رکے بغیر آگے بڑھ رہے تھے۔

یہ کیوں اچانک درخت غائب ہوگئے۔ اور سڑکیں لانبی ہوگئیں۔ اس کو حیرت ہوئی۔ پکی پکی اونچی اونچی عمارتیں… اور ان میں کام کرنے والے روبرٹ نما انسان! اور مانیٹر کو گھورتی ہوئی آنکھیں!… برقی روشنی کا سفر…

اور مشینی انداز میں تھرکتی ہوئی انگلیاں!

لیکن— قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے قدم ندارو!تھوڑی دیر تک کچھ سوچنے کے بعد اس نے ہانک لگائی۔

’’لوگو! … رک جاؤ… رک جاؤ…‘‘

’’کیوں؟‘‘ کسی نے پوچھا

’’آگے سراب ہے۔ اور پیچھے ہم سرسبز باغ اور کھیتی چھوڑ آئے ہیں۔ ہمارے پاس مویشی بھی تھے اور پرندے بھی۔‘‘ وہ بولا۔

’’پاگل ہو تم۔‘‘ بہت ساری آوازیں آئیں۔

پیچھے اندھیرا تھا… آگے روشنی ہے۔‘‘ کوئی بولا۔

پھر اس کو طرح طرح کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ مبہم، ناقابلِ فہم آوازیں… اور ان آوازوں کا حجم بڑھنے لگا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کا وجود ہچکولے کھانے لگا تھا۔

نہ جانے کہاں سے اس کے سامنے میگا چلی آئی۔

آنکھوں میں وہی شرارت وہی مستی، جسم بھرابھرا، ا ور اب چوٹی ناگن کی طرح بل کھا رہی تھی، ایک ہنسی اس کے لبوں سے چھوٹی اور اس نے کہا:

’’بسمار تم ویسے کے ویسے ہی ہو… بزدل!‘‘

’’میگا! راستہ بہت طے کیا ہے، بہت طے کرنا ہے۔‘‘ وہ اتنا ہی کہہ سکا۔

’’بسمار! … کبھی بھر پور قہقہہ لگا کر بھی تو دیکھو، ایسا لگتا ہے برسوں سے مسکراہٹ تم سے روٹھ چکی ہے۔‘‘ میگا کی کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی۔

اندیشے میگا!… اندیشے…‘‘ وہ شاید کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا کہ میگا نے اپنی انگلی اس کے لبوں پر رکھ دی اور کہا:

’’جو چلا گیا سو چلا گیا، جو آنے والا ہے وہ آکر رہے گا۔ اور یہ لمحہ ہمارے لیے ہے، کچھ سمجھے نا سمجھ! ‘‘ میگا کا ایک قہقہہ فضا میں گونجا، پھر ہجوم میں اس کی آواز کہیں کھوگئی۔

ہوش اور مدہوشی کے درمیان اس کو اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے وہ تنہا رہ گیا ہو۔

وہ اپنے سر کو دونوں ٹانگوں کے درمیان پھنسا کر اکڑوں بیٹھ گیا۔

اور !—قافلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا

شیئر کیجیے
Default image
انور کمال