BOOST

پونے بم دھماکہ

پونے بم دھماکہ

۱۳؍فروری کی شام پونے کی جرمن بیکری میں ہوئے بم دھماکے نے ایک بار پھر ملک کو دہلا دیا۔ ممبئی تاج ہوٹل کے بعد کوئی سوا سال کا عرصہ دہشت گردانہ کاررائیوں سے محفوظ اور مامون گزرگیا۔مگر امن کے دشمن اور بے گناہ انسانوں کی جان لینے پر اتارو لوگوں نے ایک مرتبہ پھر ایسی جگہ کو نشانہ بنایا جہاں زیادہ آمدورفت غیر ملکی سیاحوں یا مقیم افراد کی ہوا کرتی تھی۔ اس دھماکہ میں ۹؍افراد کی ہلاکت اور کوئی چار درجن افراد کے زخمی ہونے کی خبریں میڈیا کے ذریعے ملیں۔ اس طرح بے گناہوں کے خون سے کھیلنے والے لوگ کیا سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کونسا ’’جہاد‘‘ کررہے ہیں، یہ سوال ہر امن پسند انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے۔

ممبئی تاج ہوٹل پر حملے کے بعد بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے خلاف مہم چلی۔ عالمی بساط سیاست پر اب تک یہ مسئلہ چھایا ہوا ہے اور اس درمیان ہندوستان اور پڑوسی ملک پاکستان کے تعلقات تلخی کی انتہا کو پہنچ گئے۔ یہ تلخی اس قدر بڑھی کہ صرف جنگ ہونا باقی رہ گیا۔ اور اگر صلح و امن اور جنگ میں ’’عالمی برادری اور بڑی طاقتوں کی کارفرمائی‘‘ نہ ہوتی تو نہ جانے معاملہ کہاں تک پہنچ جاتا۔ عالمی برادری کے قائدِ اول امریکہ کے سفارتی ماہرین نے معاملے کو کلائی میکس تک پہنچانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ حالانکہ خود ہمارے اپنے ملک میں ممبئی تاج ہوٹل پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو لے کر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیاگیا تھا ، مگر ان آوازوں کو بڑی ہوشیاری سے دبا دیا گیا۔ اس دوران ہندوستان پاکستان پر اپنی سفارتی کوششوں سے اس بات کے لیے مسلسل دباؤ بناتا رہا کہ وہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کاررائیوں کے لیے اپنی زمین کا استعمال بند کرے۔ اس درمیان جماعت الدعوۃ نامی تنظیم اور حافظ سعید جیسے نام ابھر کر آئے اور ان سے متعلق خبریں ہندوستانی میڈیا شہ سرخیوں میں شائع کرتارہا۔

مگر حالیہ چند ہفتوں میں دونوں ملک کچھ قریب آتے نظر آئے اور مذاکرات کی پیش کش تک آپہنچے۔ پاکستانی وزیرِ اعظم نے یہ اعلان کیا کہ ان کا ملک جنگ نہیں بلکہ گفت و شنید چاہتا ہے۔ ادھر ہندوستان کی حکومت نے بھی مذاکرات کی طرف پیش قدمی ظاہر کی اور بالآخر خارجہ سکریٹریز کی سطح کے مذاکرات ۲۵؍فروری کو ہونے والے ہیں۔

اتنا تو بدیہی طور پر سمجھا جارہا ہے کہ یہ دہشت گردانہ کارروائی ہندوپاک مذاکرات میں رخنہ اندازی یا تعطل پر منتج نہ بھی ہو تب بھی فی الحال اس پر غیر یقینی کیفیت ضرور طاری ہوگئی ہے۔ ہندوستانی وزیرِ خارنہ نے کہا ہے کہ وہ پونے دہشت گردانہ حملے کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ ہر چند کہ وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ نے فوری طور پر یہ نہیں کہا کہ اس میں پاکستان ملوث ہے، مگر ایسا ہونے کی صورت میں اس بات کا اندیشہ حقیقت میں تبدیل ہوسکتا ہے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر ٹوٹ جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کا دور پھر سے شروع ہوجائے۔

ادھر امریکہ میں اعلیٰ سطح کے خارجہ پالیسی ساز افراد اور سفارت کار یہ کہتے اور لکھتے سنے گئے ہیں کہ ممبئی حملے کے بعد اگر ہندوستان پر پھر کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے تو ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ اس طرح کے بیانیات کا کیا یہ مطلب سمجھا جائے کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام اور یہاں کی دوبڑی طاقتوں اور پڑوسی ممالک ہندو پاک کے درمیان خوشگوار رشتوں کے بجائے کشیدگی اور جنگ کا خواہاں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ امریکی سفارت کار کا یہ بیان نئی دہلی دورے کے درمیان دیا گیا۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکی انٹلی جینس کی جانب کسی دہشت گردانہ حملے کی مسلسل وارننگس بھی مل رہی تھیں۔اور اس کے باوجود یہ دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ اس پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ پونے کا یہ علاقہ جہاں دہشت گردانہ کارروائی کی گئی ہے سیکورٹی ایجنسیز کی خاص نگرانی میں تھا مگر پھر بھی دہشت گردوں کے لیے اپنے کارروائی انجام دینا ممکن ہوگیا؟

یہ دہشت گردانہ کارروائی کس نے انجام دی یہ تو تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا مگر اتنا طے ہے کہ جن قوتوں نے بھی یہ مذموم کام انجام دیا ہے وہ، وہ ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کے دشمن اور ان کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے خواہش مند ہیں۔ یہ طاقتیں سرحد کے پار کی بھی ہوسکتی ہیںاور عالمی سطح کی بھی اور اسی طرح اس امکان سے بھی یکسر انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ طاقتیں اندرونی ہوں۔ اس لیے کہ گزشتہ ایک سال میں دہشت گرد قوتوں کا ایک نیا چہرہ بھی ملک کے سامنے آیا ہے جو پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔

معاملہ جو بھی ہو مگر یہ وقت ہماری حکومت کے لیے بڑا نازک ہے۔ ہم ایک خود مختار اور طاقت ور قوم ہیں اور اس حیثیت سے ہمیں جہاں اپنی سلامتی کی حفاظت کرنی ہے وہیں اپنی خود مختاری کا وقار بھی سلامت رکھنا ہے۔ بیرونی طاقتوں کے دباؤ اور ان کی پالیسیوں کا آلۂ کار بننے کے بجائے اپنے قومی نفع اور نقصان کو دیکھتے ہوئے ہی اقدامات کرنا ہمارے لیے عقلمندی اور نفع بخش ہوگا۔ ہر چند کہ پڑوسی ملک سے ہمیں بہت سی شکایات ہیں اور بجا طور پر ہیں اسی طرح اسے بھی ہم سے کچھ شکایات ہیں، خواہ وہ کسی بھی طرح کی ہوں۔ ایسے میں دانش مندی یہی ہوگی کہ مذاکرات کی گاڑی کو پٹری سے نہ اترنے دیا جائے اور صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا جائے۔

عالمی یومِ خواتین

۸؍مارچ پوری دنیا میں یومِ خواتین کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے ہر گوشے میں خواتین کے حقوق اور ان کے امپاورمنٹ کے سلسلے میں بیداری اور ان کے مسائل کے لیے سنجیدہ کوششوں سے عبارت ہے۔ چنانچہ اس موقع پر جہاں حکومتیں خواتین کے لیے مختلف مراعات، رفاہی اسکیموں اور حکومتوں کی جانب سے ان کے لیے کی جارہی کوششوں سے عوام کو واقف کراتی ہیں وہیں مختلف ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور مذہبی و سیاسی اکائیاں طرح طرح کے پروگرام کرتی ہیں۔ اس موقع پر سبھی گروپس خواتین کے لیے اپنے ایجنڈے کے مطابق پروگرام بھی کرتے ہیں اور منصوبہ سازی بھی۔

بنیادی طور پر اس طرح کے ’عالمی دنوں‘ کا تصور مغربی طرز کے اداروں کی جانب سے آتا ہے اور اقوامِ متحدہ ان کی ترجمان ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ اگرچہ مختلف میدانوں میں رفاہی اور بیداری کے کاموں کو انجام دینے والا مضبوط، بااثر اور وسائل سے لیس ادارہ ہے، مگر اس کی فکر مغربی فکر ہے۔ چنانچہ اس کے تمام پروگراموں میں جو رنگ و آہنگ نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ عملاً وہ بھی دنیا بھر میں مغرب کے ثقافتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

اس طرح کے ایام، یوم خواتین، یومِ اطفال، اور کینسر مخالف، ملیریا مخالف دن وغیرہ عوام میں بیداری لانے کا ذریعہ واقعی طور پر بن سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذریعہ عالمی سطح پر ایک موافق ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

عالمی یومِ خواتین کے مواقع پر وہ لوگ بھی خاص طور پر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتے ہیں جن کا نظریہ مغرب کے ثقافتی ایجنڈے کے برخلاف ہے اور جو اس کے نظریے کو خواتین کا استحصال اور اس کو جنس بازار بنانا تصور کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ مغرب کے ایجنڈے کے مطابق اس دن دنیا بھر میں لاکھوں پروگرام منعقد ہوتے ہیں، بہت کچھ لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ آج کی عورت اسی ایجنڈے میں اپنی فلاح ڈھونڈنے پر مجبور ہے۔ مگر وہ لوگ جو خواتین کے لیے ایک باوقار اور عزت وعصمت کا محافظ ایجنڈا رکھتے ہیں، اور حقیقت میں وہی ان کی فلاح کا ضامن بھی ہوسکتا ہے، وہ اس موقع پر خاموش رہتے ہیں۔ جبکہ ضروری یہ ہے کہ اس موقع پر جہاں دوسرے لوگ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان سے بھی زیادہ زوردار انداز میں اپنے باوقار ایجنڈے کو خواتین اور پوری دنیا کے سامنے رکھیں۔

یہ حیرت کا مقام بھی ہے اور افسوس کا بھی کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں دین پسند طبقے، ان کے اداروں، ان کی تنظیموں اور دیگر پلیٹ فارمس کی طرف سے ایسی کوشش نہیں کی جاتی۔ حالانکہ اگر اس موقع سے اسلام پسند لوگ خواتین کے سلسلہ میں اسلام کا ایجنڈا پیش کریں تو مغرب کا تہذیبی ایجنڈا اس کے مقابلے میں اپنی چمک دمک کھودے گا۔

ہندوستان کے مختلف ادارے اور تنظیمیں اس کی ابتدا کرسکتے ہیں۔ اس سے جہاں مسلم خواتین کے اندر اعتماد اور اطمینان پیدا ہوگا وہیں دیگر خواتین بھی اسلام کی تعلیمات سے آگاہ ہوسکیں گی۔

شمشاد حسین فلاحی

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی