2

حجاب کے نام!

ایک خاص مراسلہ

حجاب کے شمارے میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے تاثرات اور احساسات جو مفتی اعظم محمد شفیع رحمۃ اللہ کے سامنے ظاہر کیے گئے تھے نظر سے گزرے۔ دل چاہا کہ چند باتیں اس سلسلے میں تحریر کی جائیں۔

وہ تو بنیادی طور پر حدیث کے جید اور متبحر عالم تھے۔ ساری زندگی آپ نے درس و تدریس اور دارالعلوم کی ترقی میں صرف کردی۔ ان کے فرزند ارجمند مولانا انظر شاہ حفظہ اللہ ایک دن فرما رہے تھے کہ ان کے اباؒ کے پیر میں کبھی جوتے بھی نہیں رہتے تھے اور پیروں میں زخم ہوجاتے تھے۔ حنفی مسلک پر ان کی گہری نظر تھی اور اس میں سند مانے جاتے تھے۔ دیوبند اور ان کے ہزاروں شاگرد ان سے اپنے تعلق کو باعث افتخار و امتیاز سمجھتے ہیں۔ ’’عمر ضائع کردی‘‘ یہ فقرہ تمام اہلِ علم اور علما کے لیے تازیانۂ عبرت اور خاکساری اور فروتنی کی تابندہ مثال ہے۔ اس میں کوئی تصنع اور تکلف نہیں یہ بات ان کے دل سے نکلی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ ’’کسی دوسرے کو یہ حق نہیں ہے، نہ یہ کہنے کی جرأت بے جا کرنی چاہیے کہ مولاناؒ نے اپنی عمر اور صلاحیتیں ضائع کردیں۔‘‘ ان کی یہ تواضع اور انکساری تو ان کی عظمت و رفعت میں اضافہ کرتی ہے۔ ساری عمر ایک دینی عمل میں گزار دی پھر یہ بھی کہنا کہ عمر ضائع کردی توظاہرہے یہ ضیاع مطلق نہیں ہے بلکہ دعوت و تبلیغ اور اسلام کے جملہ تقاضوں کے تناظر میںہے۔ ایسے تاثر کا اظہار اسی شخص کے لیے ممکن ہوتا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ احساس لطیف اور باریک خود احتسابی کی نعمت سے نوازتا ہے۔ وما یلقاہا الا ذوحظ عظیم۔ اپنے اس عظیم احساس کا اظہار مرحوم نے کسی معمولی فرد کے سامنے نہیں کیا ہے، بلکہ علومِ اسلامیہ کے ہر فن میں دسترس اور گہری بصیرت رکھنے والے عالم، اسلام کے ایک عظیم عالم کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے۔ اور انھوں نے ان کی یہ بات من و عن انبیاء کے وارثین تک پہنچادی ہے۔یہ بھی اللہ کی جانب سے ہوا، ورنہ ہوسکتا ہے کہ کوئی اور عالم ہوتے تو وہ کسی مصلحت کا سہارالے کر مولانا کشمیریؒ کے اس حیات آفریں پیغام کو منظرِ عام پر لانے کی جرأت نہ کرتے۔ مفتی محمد شفیعؒ اس طرح کی کمزوری سے پاک ہیں۔ اپنی تفسیر معارف القرآن میں اپنے خیالات کا بڑی صفائی اور جرأت سے اظہار فرماتے ہیں۔

دوسری مثال: ایک معمر اور بزرگ عالم دینِ مولانا شرقی صاحب رحمہ اللہ ہمارے شہر بنگلور میں گزرے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آپ بھی ان کے قریبی اور عقیدت مند شاگردوں میں ہیں۔ راقم الحروف کے ایک کرم فرما عالم دین مولانا قاسمی صاحب ہیں۔ قاضی مجاہد الاسلامؒ کے ہم وطن دوست بھی ہیں۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہمیشہ دارالعلوم دیوبند کی خانقاہ میں گزارتے ہیں۔ مولانا اسعد مدنیؒ کے بہت گرویدہ اور مریدِ خاص ہیں۔ اور خلفیہ بھی۔ تمل ناڈو کے ایک مشہور مدرسہ مظاہر العلوم میں طویل عرصے سے حدیث کے استاد اور نائب مہتمم ہیں۔ بنگلور جب بھی آتے ہیں تعلق خاطر کی بنا پر مولانا شرقیؒ سے ملاقات کی کوشش کرتے۔ اس وقت مولانا شرقیؒ کی گفتگو کا محور دارالعلوم، ان کے اساتذہ کرام،وہاں کی تعلیم اور احوال و کوائف ہی رہتے تھے۔ مولانا مزمل صاحب کے برادر خورد جو دارالعلوم سے فارغ ہیں وہ بھی رہتے تھے۔ اس وقت تین قاسمی علماء کی مجلس ہوتی ہے دونوں بھائی تبرکاً ان کے پاس بیٹھتے تھے تاکہ ان سے سنیں اور استفادہ کریں۔ دورانِ گفتگو متعدد بار مولانا شرقی رحمہ اللہ نے بھی علامہ انور شاہ رحمہ اللہ سے ایک عجیب بات بتائی جس کا تذکرہ ان حضرات نے خاکسار سے بھی کیا۔ واضح رہے مولانا شرقیؒ علامہ کشمیریؒ کی حیات بابرکات کے آخری ایام کے شاگردوں میں سے ہیں۔ فرمایا کہ ہم طلبہ کے سامنے ہمارے استاد نے کئی بار بڑی حسرت بھرے انداز میں فرمایا کہ میں نے اپنی قوت و توانائی غیر اہم کام میں ضائع کردی۔ غیر اہم اس معنی میں کہ فنِ حدیث پر ہمارے اسلاف کرام نے اپنی پوری پوری زندگیاں لگا کر بہت کام کیا، بحث و تحقیق میں مثال قائم کردی۔ اس موضوع کے کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ ہم لوگ اسی کام میں لگ گئے۔ مولانا کاشمیریؒ کا احساس تھا کہ قرآن پر جس طرح کا کام ہونا چاہیے تھا، ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔ علمِ تفسیر کے میدان میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ جو قرآنی کلمات کو عام کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ مذکورہ دونوں قاسمی حضرات کی معیت میں مولانا شرقیؒ کی زیارت کی خاکسار کو بہت خواہش تھی تاکہ ان کے یہ تاثرات میں براہِ راست سن سکتا، پروگرام بنایا مگر

بسا اے آرزو کہ خاک شدی

علامہ انور شاہ جیسے عبقری اگر قرآن کو اپنی بحث و تحقیق کا موضوع بناتے تو ظاہر ہے کلام اللہ کی تفسیر و تشریح، اور نکتہ رسی میں بھی اسی طرح معروف و مشہور ہوتے، جس طرح حدیث و فقہ میں ہوئے اور یہ دارالعلوم دیوبند کے لیے بڑی سعادت کی بات ہوتی اور اس وقت وہاں کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا۔ جہاں ختم بخاری کا جشن تو منایا جاتا ہے لیکن ختمِ قرآن کا نہیں۔

]زیرِ نظر مراسلہ کو بنگلور سے دہلی پہنچنے میں چھ ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ مگر ہم اللہ کا شکر اداکرتے ہیں کہ اس طویل ’’بنگلور سے دہلی‘‘ کے ’جان لیوا‘ سفر میں یہ زندہ و سلامت ہم تک پہنچ گیا۔ ایڈیٹر[

ش۔ فلاحی، بنگلور

شمارہ پسند آیا

اکتوبر ۲۰۰۹ء کا شمارہ دیکھتے ہی طبیعت کھل اٹھی۔ ٹائٹل پسند آیا۔ اور اس سے زیادہ اس کے مضامین اچھے لگے۔ تذکیر جو وقت کے اہم موضوع پر تھی اچھی لگی۔ بہت ساری خواتین حج جیسی عبادت کے سلسلے میں بھی غیر شرعی طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ اس حدیث سے اہم رہنمائی ملتی ہے۔

اسلامی معاشرت پر دی گئی تحریر ایسی ہے کہ اگر ہم لوگ اسے اپنی زندگیو ں میں نافذ کرنے لگیں تو ایک شاندار سماج وجود میں آئے گا، جس میں شکوے شکایت اور تنازعات خال خال ہی ملیں گے۔ ’’بیٹیوں کو جہیز نہیں وراثت دیجیے‘‘ بہت اچھا لگا۔ اور سوچنے لگی کہ جہیز کی مشرکانہ رسم ہمارے سماج میں ایسی جڑ پکڑ گئی ہے کہ اس کے مقابلے میں اللہ کا حکم لوگوں کو غیر اہم لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شر کے پیٹ سے لاتعداد مسائل جنم لے رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمان، حد تو یہ ہے کہ علماء کرام تک اپنی بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے سے کتراتے ہیں۔ حالانکہ تقریروں اور تحریروں میں وہ ولوگوں کو اللہ و رسول کے احکامات کی یاددہانی کراتے ہیں۔

فکر و آگہی کالم کے تحت دی گئی تحریر دل کو چھوگئی۔یہ ہمارے مسلم برادران کے لیے ایک تازیانہ ہے کہ ایک غیر مسلم نے کس طرح قرآن کو سمجھنے کی جدوجہد کی اوربالآخر وہ اس حقیقت کو پاگیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ ادھر مسلمانوں کا حال بالکل الٹا ہے کہ وہ اسے اللہ کی کتاب تومانتے ہیں مگر اللہ کے اس پیغام اور اس کی کتاب کو سمجھنے کے سلسلے میں بالکل توجہ نہیں دیتے۔ اس سے بڑا حادثہ تو یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ بات اڑادی ہے کہ قرآن عام لوگوں کے سمجھنے کی کتاب نہیں یہ صرف عالموں کے سمجھنے کی کتاب ہے۔ استغفراللہ جبکہ اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’ہم نے اس کتاب کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنایا تو ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے۔‘‘ شاید مورس بوکائی کے اس واقعے سے لوگ سبق حاصل کریں۔

بشری تسنیم شیخ،کرلا، ممبئی

مجھے حجاب بہت پسند آیا

ماہنامہ حجاب ِاسلامی مجھے بے حد پسند ہے بلکہ میں اس کی عاشق ہوں۔ جب تک ہر نیا شمارہ مکمل طور سے نہ پڑھ لوں چین نہیں آتا۔

گزشتہ تین چار ماہ سے جب سے ہم نے نیا گھر لیا ہے، رسالہ نہیں مل پا رہا ہے۔ نیا پتہ آپ کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھیج دیا گیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ رسالہ نہیں مل رہا ہے، ذرا دیکھ لیں تو بہتر ہے۔

رسالے کے مضامین اور کہانیاں و افسانے مجھے بہت پسند ہیں۔مکمل طور پر پڑھتی ہوں اور پھر اپنے شوہر سے بھی ان پر گفتگو کرتی ہوں۔ گزشتہ کئی شمارے میں نے بڑی مشقت سے حاصل کیے مگر پڑھنا نہ چھوڑا۔ اکتوبر کا شمارہ میں نے وانم باڑی سے حاصل کیا اور دیکھ کر ، پڑھ کر طبیعت خوش ہوگئی۔ تمام ہی مضامین پسند آئے مگر خاص طور پر افسانہ ’’ہاتھ کا نشان‘‘ دل کو چھو گیا۔ سوچنے لگی دنیا میں کیسے کیسے اللہ کے بندے ہیں جو انسانوں سے کچھ لینے کے بجائے صرف دینے کی فکر کرتے ہیں۔

اس افسانہ میں ایک مثالی اور اللہ کے پسندیدہ فرد کا کردار سامنے آتا ہے اور شاید اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمت کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے اس نعمت سے نوازا جس کا تذکرہ اس تحریر میں ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اس طرح کی الفت اور خدمت کا جذبہ ایک دوسرے کے لیے موجود رہے تو نہ صرف ایک گھر جنت نظیر بن جائے بلکہ معاشرہ کا ایک سلگتا ہوا مسئلہ نہ صرف ٹھنڈا ہوجائے بلکہ پورا معاشرہ مثالی معاشرہ بن جائے۔

ایسے زمانے میں جب کہ خاندان انتشار کے دہانے پر کھڑے ہیں، طلاق کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے اور شادی جیسا متبرک بندھن کمزور دھاگا بنتا جارہا ہے، اس تحریر سے درسِ عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

صالحہ نورین،بنگلور

اسلامی خاندان نمبر شائع کریں

حجاب کے کارکنان کو عید کی مبارک باد۔ ماہنامہ حجابِ اسلامی دن بہ دن نکھرتا جارہا ہے اور مقبول ہورہا ہے۔ ہمارے حلقے کی خواتین اسے کافی پسند کرتی ہیں۔

رسالہ معیاری، مشن اور فکری غذا سے بھر پور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی پہنچتا ہے اپنا مقام بنالیتا ہے۔ حجابِ اسلامی کی اسی تاثیر کے پیشِ نظر میرا مشورہ ہے کہ اب آپ ’’اسلامی معاشرہ‘‘ نمبر شائع کریں۔

موجودہ معاشرے میں جب مسلم خاندانوں کو ہم دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مسلم و غیر مسلم کا فرق کم ہی ہے۔ ضرور ت محسوس ہوتی ہے کہ ہم اسلامی معاشرہ اور خاندان کی تشکیل کے لیے بھر پور جدوجہد کریں۔ اگر آپ اس موضوع پر نمبر شائع کرتے ہیں تو یہ سماج و معاشرے کی بہترین خدمت ہوگی اور دینی فکر کی اشاعت کا ذریعہ بھی ہوگا۔ امید ہے کہ اس پر توجہ فرمائیں گے۔

پیکر سعادت، صوبیداری، ہنمکنڈہ

] پیکر صاحبہ! آپ نے جس موضوع پر توجہ دلائی ہے اس پر ہم مضامین شائع کرتے رہتے ہیں۔ اور آئندہ اس تجویز پر عمل کرنے کی شکل پر بھی غورہوسکتا ہے۔ لیکن فی الحال ہم ’’خواتین کی صحت‘‘ پر ایک بھر پور، معلوماتی اور ایسا مفید نمبر لانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جو خواتین اور بچوں کی صحت پر مکمل گائیڈ ہوسکے۔ اس کی ضرورت اس لیے شدید ہے کہ ہماری خواتین میں صحت کا معیار بہت اچھا نہیں ہے اور اس کے بعض دوسرے اسباب و عوامل بھی ہیں۔ دعا کیجیے کہ یہ نمبر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو۔ ایڈیٹر

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے