3

سسرالی رشتے کیسے نبھائیں؟

میں نے اکثر سوچا کہ ڈاکٹر بننے کے لیے ڈاکٹری پڑھی جاتی ہے اور استاد بننے کے لیے استاد بننے کی تربیت لی جاتی ہے وکیل بننا ہو تو وکالت پڑھی جاتی ہے۔ مگر دلہن بننے کے لیے کوئی تربیت نہیں دی جاتی، کوئی تیاری نہیں کی جاتی۔ میرا مطلب زیور کپڑوں سے نہیں ہے ، بلکہ سسرال میں نبھاہ کرنے کے گر کوئی نہیں سکھاتا۔ ہماری ماں نے بھی یہ سمجھا دیا تھا کہ بیٹی سسرال کو اپنا گھر سمجھنا، ساس سسر کو والدین سمجھنا، دیور نند کو بھائی بہن۔ مگر جب لڑکی سسرال جاتی ہے تو بہت سی باتوں میں الجھ جاتی ہے۔ کیونکہ صحیح بیوی یا بہو بننے کی کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔ لڑکی کی شادی صرف لڑکے ہی سے نہیں ہوتی بلکہ اس پورے کنبے سے اس کا مضبوط رشتہ قائم ہوتا ہے۔

جو لڑکی جوائنٹ فیملی میں جاتی ہے اس کو کئی اور طرح کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے مثلاً ساس کا ارمان ہوتا ہے کہ بہو گھر میں آئے گی تو اس کو سکھ کا سانس ملے گا۔ گھریلو ذمے داریوں کا بوجھ بہو آکر بانٹے گی (ظاہر ہے چند ماہ کے آرام کے بعد) خاوند صاحب کا تو پوچھو ہی نہیں اس کو ایک ساتھی مل جائے گا۔ جو اس کا ہر طرح کا خیال رکھے گا، کپڑے ہر وقت استری کیے ہوئے تیار ملیں گے۔ ایک دل بہلاوے کا ذریعہ ہوگا۔

اب لڑکی سخت آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔ سارا دن گھر میں افرادِ خانہ کی خادم اور رات کو خاوند کی بے دام غلام ، دل چاہے مرنے کو مگر مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہے گی۔ ان حالات کے لیے لڑکی کو تیار کرنا ہوگا۔ اس طرح حالات یا گھریلو مسائل کے حل کی مناسب تربیت بڑی ضروری ہے۔ ہر لڑکی کے کچھ ارمان، تمنائیں اور آرزوئیں ہوتی ہیں مگر وہ بکھری نظر آتی ہیں۔اگر لڑکی کو پہلے ہی ان تمام باتوں کے لیے تیار کردیا جائے تو وہ مایوسی سے دوچار ہونے نہیں پاتی اور نئے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے صبر سے مقابلہ کرلیتی ہے اور ماتھے پر شکن تک نہیں لاتی۔

ان بدلتے ہوئے حالات میں جہاں کمر توڑمہنگائی نے خاندانوں کے شیرازے کو بکھیر دیا ہے اور لوگوں میں خود غرضی کے جذبے کو بڑھا دیا ہے ۔ ان خاندانوں میں جہاں مرد باہر شہر میں یا باہر ملک میں رہ کر کماتے ہیں اور اپنی نئی نویلی بیویوں کو چھوڑ کر جاتے ہیں وہاں حالات اور زیادہ صبر آزما ہونے کا امکان رہتا ہے کیونکہ ایسا کوئی فرد نہیں رہتا جس سے نئی دلہن اپنے دل کی بات کہہ سکے یا اپنے مسائل رکھ سکے۔

خاوند باہر مجبور ہوتا ہے اور والدین گھر پر اس لیے خوش کے بیٹا کما کر بھیج رہا ہے ان دونوں میں سے کسی کو بھی بہو کے ارمانوں کا اندازہ ہی نہیں ہوتا حالانکہ دونوں ہی سچے ہیں۔ روپے پیسے کے بغیر گھر گرہستی نہیں چل سکتی اور نہ ہی بہو کے خالی خولی ارمان پورے ہوسکتے ہیں، ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے بھی تعلیم ضروری ہے۔

دوسری طرف اگر شادی شدہ جوڑا اکیلا رہتا ہے، وہاں بھی بہو کے لیے کچھ آداب ہیں یعنی ہفتہ میں کتنی بار میکے جایا جائے یا میکے والوں کو کھانے پر مدعو کیا جائے کون سے مواقع پر تحائف پیش کیے جائیں۔ لڑکیوں کو دنیا داری کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے اس کے بغیر زندگی گزارنا بہت کٹھن ہے۔ تحمل اور برداشت ایک بہت اہم چیز ہے۔ ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ان دونوں باتوں کا ہونا بہت لازم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بیٹی کو خانہ داری کی تربیت دیں یا نہ دیں مگر صبر و تحمل اور وضع داری کی تربیت ضرور دیں۔ کیونکہ آج کل بہت کم گھرانے ایسے ہوں گے جہاں مالی طور پر ساس سسر خود کفیل ہوں ورنہ اکثر اپنے بیٹے کا سہارا لیتے ہیں۔ بزرگ اگر کوئی بات اپنے تجربے کے روشنی میں کہہ دیں تو بہو کو چاہیے کہ تحمل سے وہ بات سن لے خواہ ذاتی طور پر اسے ناپسند کرتی ہو۔ اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔

ایک بات بہت اہم ہے کہ خاوند کو ایسی معمولی باتیں نہ بتائی جائیں تو بہتر ہے جن کے بغیر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ اس طرح بہت حد تک گھر کا ماحول پرسکون رہ سکتا ہے۔ ایسی بہوئیں بھی ہیں جو بات کو مسکرا کر سن لیتی ہیں مگر خاوند کو اس انداز سے سناتی ہیں کہ وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور اپنے والدین پر چڑھ دوڑتا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ خاوند بیوی کی بات سن لے اور اسے ٹھنڈا کرے اور والدین کو کچھ بھی نہ کہے یعنی ایک منجھے ہوئے کردار کا مظاہرہ کرے۔

میں ایک بہو، ساس اور ماں ہوں اور زندگی کے بہت سے تجربات سے گزری ہوں اور ماشاء اللہ نہایت کامیابی سے زندگی گزاری ہے۔ اور گزار رہی ہوں تلخ تجربے بھی ہوئے، محبتیں بھی ملیں، رشتہ داروں اور سہیلیوں کی زندگی کی تلخیاں بھی سنیں۔اپنے تجربے سے ایک اہم گر بتاتی چلوں، اپنے خاوند کی ہر بات مانیں اور ہر کام کرنے میںاجازت لیں، اگر آپ یہ نہیں کرسکتی ہیں تو شادی مستقبل کی زندگی کے لیے وبال اور ازدواجی زندگی کے لیے زہر بن سکتی ہے۔

مشترکہ یا جوائنٹ فیملی میں رشتوں کو بنانا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا زیادہ دشوار کام ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم اگرچہ اسلام کے مزاج اور نبوی تعلیمات سے میل نہیں کھاتا اور کوئی بھی لڑکی شادی کے بعد فوراً اس سے نجات حاصل نہیں کرسکتی۔ ایک شادی شدہ نئی نویلی دلہن کا اب اصل کمال اور صلاحیت اس میں ہے کہ وہ جوائنٹ فیملی میں رہ کر کس طرح گھر والوں کا دل جیت لیتی ہے اور اس گھر کی اچھی اور سلیقہ مند ممبر کی حیثیت سے اپنی شناخت بناتی ہے۔

ساس بہو اور نند بھاوج کے جھگڑے آج کے سماج میں ایک خراب مگر مضبوط روایت بنتے جارہے ہیں۔ ہماری لڑکیوں کو اس بات کی تعلیم دی جانی چاہیے کہ وہ کس طرح ان جھگڑوں کو بہتر انداز میں ختم کریں اور ’انا‘ کے ٹکراؤ سے بچتے ہوئے ایک اچھی اور پرسکون زندگی گزاریں، اس لیے کہ سسرال میں زیادہ تر جھگڑوں کی بنا ’ساس‘، یا ’بہو‘ کا انا پرستانہ رویہ ہوتا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ لڑکی کی شادی میں جہیز ایک معاشرتی بیماری کے طور پر رچ بس گیا ہے۔اگر سسرال میں ایسی کوئی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اس بات کو لے کر دلہن کو تنگ کیا جاتا ہے یا طعنے دیے جاتے ہیں تو اس بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور دلہن کو اس کی شکایت اپنے والدین سے ضرور اور فوراً کرنی چاہیے۔

سسرال میں کامیاب زندگی اسی صورت میں ممکن ہے، جب دلہن لوگوں کی خدمت اور ان کا دل جیتنے کی فکر کرے۔ اکثر تنازعات کا سبب ہر دو جانب سے اپنے حقوق کا مطالبہ ہی بنتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لڑکی کے سسرال والے اس سے خدمت کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن اس کے حقوق اور اپنے فرائض پر توجہ نہیں دیتے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دلہنیں سسرال میں اپنے حقوق کی لڑائی تو لڑتی ہیں مگر اس گھر کے فرد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرتی ہیں۔ یہ بات دونوں کے لیے یکساں طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کے سلسلے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ ہونا چاہیے خواہ وہ سسرال والے ہوں یا گھر کی دلہن۔

شیئر کیجیے
Default image
نسیم شیخ

تبصرہ کیجیے