3

’’ذرا ایک منٹ‘‘

والمؤمنون والمؤمنات بعضہم اولیاء بعض۔ (توبہ)

’’مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور معاون ہیں۔‘‘

وہ شخص انتہائی خوش نصیب ہے جس کواس کے دوست احباب عزیز رکھتے ہیں اور وہ دوست احباب کو عزیز رکھتا ہو۔

نبیﷺ کا ارشاد ہے مومن سراپا الفت و محبت ہے۔ نبیؐ اپنے ساتھیوں سے انتہائی محبت کرتے تھے یہاں تک کہ ہر ایک خیال کرتا تھا کہ نبیﷺ اسی کو سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ دوستی ہمیشہ نیک اور صالح لوگوں سے کرنی چاہیے کیوں کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ اس کے جذبات اور خیالات وہی ہوں گے جو اس کے دوست کے ہوں گے۔ دوستوں سے صرف خدا کے لیے محبت کیجیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میرے لیے لوگوں سے محبت کرتے تھے آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔‘‘ (مسلم)

آپ جس شخص سے محبت کرتے ہوں اس سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کیجیے۔ محبت کے اظہار میں اور تعلقات میں ہمیشہ میانہ روی اختیار کیجیے دوستوں کے ساتھ وفاداری اور خیرخواہی کا سلوک کیجیے۔

نبیؐ کا ارشاد ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہ نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرے۔

مومنین کی تعریف میں قرآن کا ارشاد ہے:

اذلۃ علی المومنین۔

’’وہ مومنوں کے لیے بڑے نرم خو ہوتے ہیں۔‘‘

اگر کبھی دوستوں میں اختلاف ہوجائے تو فوراً صلح صفائی کرلیجیے اور ہمیشہ معافی طلب کرنے اور اپنے قصور کا اعتراف کرنے میں پیش قدمی کیجیے۔

——

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی بھی شخص کا آپ سے یہ کہنا کہ ’’ذرا ایک منٹ‘‘ کتنا طویل ہوتا ہے۔ شاید آپ کو کبھی اس قسم کے افراد سے واسطہ نہیں پڑا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایسا واقعہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں اس ’’ذرا ایک منٹ‘‘ والے افراد سے اکثر ملتا ہی رہتا ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی بعض حرکتوں سے کچھ زیادہ ہی مشہور و معروف ہوں اور جو شخص کچھ زیادہ ہی مشہور ہوجاتا ہے وہ یقینا لوگوں میں مقبولیت بھی حاصل کرلیتا ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ مقبولیت اس کی زندگی کو بے سکونی عطا کردیتی ہو۔

یہ بات بھی جدا ہے کہ بعض مشہور لوگ اپنی اس مقبولیت کی وجہ سے ہر وقت اور ہر لمحہ پریشان رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے میرا شمار بھی انہی پریشان ہونے والے افراد میں ہوتا ہے۔

آپ شاید سوال کربیٹھیں اور آپ کو سوال کرنے کا حق بھی ہے، کیونکہ ہم کسی کے بنیادی حقوق کو پامال کرنامناسب خیال نہیں کرتے۔ سوال کرنا بھی اب ایک بنیادی حق کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ جب ہمارے ملک کی جمہوریت میں بسیں پھونکنا، پرتشدد ہڑتالیں او رمظاہرے کرنا، یاترائیں نکال کر کسی کے بھی مذہبی جذبات کو مشتعل کرکے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنا دینا بنیادی حقوق میں شامل ہو تو سوال کرنے پر بھلا کس طرح پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ ہم آپ کے سوال کرنے کی بات کررہے تھے، تو جناب آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آپ کو ’’ذرا ایک منٹ‘‘ والی اس بات سے کون سی پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں تو جناب معاف کیجیے ہم بھی آپ سے یہی کہیں گے ذرا ایک منٹ صبر کیجیے۔ ہم آپ کو سب کچھ تفصیل سے بتادیتے ہیں۔

دیکھئے بات یہ ہے کہ میں ایک دن بہت زیادہ ضروری کام سے بازار جارہا تھا۔ ابھی گھر سے نکلا ہی تھا کہ میرے گھر کے سامنے محمد حنیف پردھان نے اپنی دوکان سے آواز لگائی…

’’ارے سالک صاحب ’’ذرا ایک منٹ‘‘ میری بات تو سنئے۔‘‘

میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پردھان حنیف کا یہ ایک منٹ کئی گھنٹوں میں ختم ہوتا ہے اور اس دوران میرا وہ ضروری کام کباڑا ہوکر رہ جاتا ہے۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ میں اُن سے صاف صاف معذرت کیوں نہیں کرلیتا تو جناب آپ اِسے میری کمزوری کہہ لیں یا اخلاقی جرأت کی کمی۔ میرے اندر اتنی ہمت نہیں کہ اُن سے صاف صاف کہہ دوں کہ میں آپ کی ایک منٹ کی بات بالکل نہیں سن سکتا کیونکہ آپ جھوٹے ہیں ایک منٹ کی بجائے کئی گھنٹے لگادیتے ہیں۔

لیکن میں اس مصیبت کا شکار ہونے کے بعد یہ ضرور سو چا کرتا ہوں کہ اب کی بار جب بھی مجھے حنیف پردھان بلائیں گے تو میں ان سے یہ اور یہ … ضرور کہوں گا۔ یقین جانئے میں پورے ڈائیلاگ سوچ لیتا ہوں۔ انھیں اچھی طرح یاد بھی کرلیتا ہوں کہ اس طرح دوٹوک ان سے بات کروں گا لیکن جب حنیف پردھان کی آواز سنتا ہوں تو سارے ڈائیلاگ یکسر میرے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں اور میں بے دام غلام کی طرح ان کی دوکان کی طرف کشاں کشاں چلا جاتا ہوں۔ ایسا ہر بار ہوتا ہے بہت دنوں سے ہورہا ہے اور نہ جانے کب تک ہوتا رہے گا۔

ایک دن میں سائیکل سے بازار جارہا تھا۔ چوک پر ایک دوست مل گئے۔ ہم دونوں باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک واقف کار آگئے اور آتے ہی مجھ سے بولے…

’’سالک صاحب! ذرا ایک منٹ کے لیے اپنی سائیکل تو دیجیے۔‘‘

میں نے سائیکل دے دی کیونکہ بات صرف ایک منٹ کی تھی۔ ہم دونوں دوستوں کو باتیں کرتے ہوئے پچاس منٹ ہوگئے تو میرے دوست رخصت ہوتے ہوئے بولے: ’’وہ صاحب ابھی تک آپ کی سائیکل نہیں لائے۔‘‘ اتنے میں وہ صاحب سائیکل لے کر آگئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اپنے دوست سے کہا کہ ان کا ایک منٹ تو صرف پچاس منٹ کا ہی ہوا ہے ایک واقف کار تو ہماری سائیکل ایک منٹ کے لیے لے گئے تھے اور پورے چھ دن بعد واپسی لائے تھے۔

بات اگر اسی جگہ ختم ہوجائے تب بھی غنیمت ہے لیکن مسائل تو میرے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر میں گھر پر آرام کررہا ہوں یا کسی اہم کتاب کا مطالعہ کررہا ہوں اور عین اسی وقت کوئی ملنے والے صاحب آکر کہتے ہیں…

’’میاں ذرا ایک منٹ کے لیے ہماری بات سن لیں۔‘‘

ان کا یہ ’’ذرا ایک منٹ‘‘ اتنا طویل ہوجاتا ہے کہ میرا آرام اور مطالعہ تو گیا خاک میں دفتر جانے کے لیے بھی لیٹ ہوجاتا ہوں۔

اسی طرح… میں بس میں سفر کررہا ہوتا ہوں اور میرے ہاتھ میں اخبار ہوتا ہے میرے جاننے والے اچھی طرح اس بات سے واقف ہوتے ہیں کہ میں اخبار کے مطالعہ میں منہمک ہوں لیکن کوئی بھی شخص بڑی خاکساری سے کہیں گے کہ بھائی ’’ذرا ایک منٹ‘‘ یعنی آپ اپنا اخبار مجھے پڑھنے کو دیجیے۔ اخبار میری اخلاقی کمزوری اور کم ہمتی کے باعث ان کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے اور وہ اتنی بے دردی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتے ہیں کہ گویا اس کا پوسٹ مارٹم کررہے ہوں۔میری گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کیونکہ مجھے جس اسٹاپ پر اترنا ہوتا ہے وہ قریب آرہا ہوتا ہے۔ لیکن ان کے مطالعہ کے انداز سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اخبار ابھی کئی گھنٹے اپنے مطالعہ میں رکھیں گے۔ ان کو میری گھبراہٹ یا پریشانی کا کوئی احساس نہیں ہوتا وہ یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ اخبار ان کا نہیں بلکہ میرا ہے۔ اسٹاپ آنے پر میں بس سے اتر جاتا ہوں۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں بس میں آگے کی سیٹ پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہوتا ہوں۔ برابر میں بیٹھے حضرت مجھ سے اخبار مانگ لیتے ہیں اور جب میں ان سے اپنا اخبار واپس مانگتا ہوں تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اس اخبار سے تو سارے مسافر مستفید ہوچکے ہیں اور اب وہ اخبار سب سے پچھلی سیٹوں پر بیٹھے حضرات کے مطالعہ میں سے ان تک بے تحاشہ لوگوں سے بھری بس میں پہنچ پانا ایسا ہی ہوتا جیسے تیز رو ندی کی مخالف سمت میں تیرنا۔ ادھر آگے کے گیٹ سے بس سے اترنے کی جلدی ادھر بھیڑ بھری بس میں دھکے کھاتے ہوئے پیچھے جاکر وہ اخبار لانے کی فکر۔ آپ خود ہی تصور کیجیے کہ اس وقت میری کیا حالت ہوتی ہوگی۔ ایسے میں میرے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں ایک یہ کہ یا تو میں بھیڑ میں گھستا ہوا اخبار لینے جاؤں جس میں جیب کٹ جانے کا سو فی صدی امکان ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اخبار کی قربانی دوں یا پھر اصل اسٹاپ پر نہ اتر کر کسی دوسری جگہ اتروں اور پھر پیدل مارچ کرتا ہوا اپنے مقام تک پہنچوں۔

اب آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس ’’ذرا ایک منٹ‘‘ کے جملے نے مجھے کس قدر اذیت کا شکار بنا رکھا ہے۔ ویسے ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ میں نے اس معاملے میں دوسروں سے پریشان ہوکر آپ کو بھی نہیں بخشا کیونکہ جب میں ’’ذرا ایک منٹ‘‘ سے پریشان ہوں تو آپ بھلا اس سے کیوں محفوظ رہیں؟ میں نے آپ سے شروع ہی میں کہا تھا کہ ’’ذرا ایک منٹ‘‘ کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو سکیں اور مجھے کسی قسم کا الزام نہ دیں۔

تو دوستو! میری آپ کے لیے یہی رائے ہے کہ جو صاحب بھی آپ کو ’’ذرا ایک منٹ‘‘ کہہ کر کوئی بات کہنا یا کوئی کام نکالنا چاہیں یا کوئی چیز مانگناچاہیں تو آپ صاف طور سے (اگر آپ کے اندر اخلاقی جرأت ہو جو کہ میرے اندر بالکل نہیں ہے) پوچھ لیں کہ ایک منٹ کا مطلب ایک ہی منٹ ہے یا کچھ اور۔ اگر ایسا آپ نہ کرسکے تو آپ بھی میری طرح ’’جی جی‘‘ کرکے اپنی زندگی اور ذہنی سکون غارت کرتے رہیں گے اور یہ ایک منٹ والے لوگ آپ کے گھنٹے اور دن اس طرح نگلتے رہیں گے جیسے مگر مچھ اچھے خاصے بڑے بڑے جانوروں کو نگل جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سالک دھام پوری