6

قوتِ ارادی کی اہمیت

دنیا کا ہر عقلمند انسان اپنی زندگی میں کامیابی چاہتا ہے اور اپنے علم و فہم کے مطابق منصوبے ترتیب دے کر جدوجہد میںلگا رہتا ہے۔ بہت سی خوبیاں ہیں جو آدمی کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں، جن میں سے ایک مضبوط قوت ارادی بھی ہے۔ مقصد کے حصول میں آگے بڑھتا ہوا انسان بسا اوقات ٹھوکر کھاجاتا ہے۔ ایسے میں اس کے حوصلے پست بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ ارادے کی زبردست طاقت ہی ہے، جو اسے اٹھا کر کھڑا کردیتی ہے اور وہ جانبِ منزل دوبارہ گامزن ہوجاتا ہے۔

انسانوں سے بھرے ہوئے اس معاشرے پر اگر نگاہ دوڑائیں یا بلند حوصلہ افراد کے کردار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مضبوط قوتِ ارادی وہ اعلیٰ ترین خوبی و سرمایہ ہے جس پر انسانی ترقی انحصار کرتی ہے۔ اگر ارادہ توانا اور عزم پختہ ہے تو کوئی بھی معذوری انسان کو آگے بڑھنے سے ہرگز روک نہیں سکتی۔ ارادہ اپنے اندر وہ طاقت و توانائی رکھتا ہے، جس سے آدمی کی بیشتر کمزوریاں نہ صرف دب جاتی ہیں، بلکہ انسان انہیں خوبیوں میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں اگر کوئی فرد خود کو سنبھال سکتا ہے تو وہ خدا کی بخشی ہوئی ارادے کی قوت سے ہی ایسا کرپائے گا۔

خود اعتمادی اور قوتِ ارادی لازم و ملزوم ہیں۔ اعتماد انسان کو متحرک رکھتا ہے اور پختہ ارادوں کا حامل با اعتماد شخص ہی اپنے اہداف حاصل کرسکتا ہے، یا یہ سمجھیں کہ دنیا سے اپنا حصہ وصول کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس جدوجہد سے قاصر فرد لوگوں کو نفع نہیں پہنچا سکتا یا سماجی ترقی اور فلاح و بہبود میں اس کا خاطر خواہ کردار نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں قدم قدم پر مشکلات موجود ہیں۔ قسم قسم کی رکاوٹیں انسان کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے روکتی ہیں، لیکن جن لوگوں کی نظر مکمل یکسوئی کے ساتھ منزل پر ہو، ان کے ارادے مضمحل نہیں ہوتے، ان کا حوصلہ برقرار رہتا ہے اور ان کے قدم آگے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، کیونکہ بڑے سے بڑا سیلاب اور طوفان بھی انسان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتا۔

انسان اپنی زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں سمیٹتا ہے اور جس قدر ترقی کرتا ہے، بیشتر عوامل ان کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً کہیں قسمت کی دیوی مہربان ہوجاتی ہے، کبھی وسائل کی فراوانی آسانی کا سبب بن جاتی ہے۔ لیکن تین چیزیں ایسی ہیں جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالے رکھتی ہیں: ایک پست ہمتی، دوم وسائل کی کمی اور تیسری چیز ارادے کی کمزوری۔ اہداف کا حصول اچھی منصوبہ بندی سے مشروط ہے۔ اور منصوبوں پر عملدرآمد ارادوں سے ہی ممکن ہے۔ مستقل مزاجی ارادے کی مضبوطی کا دوسرا نام ہے، گویا راہ میں ہر اٹھنے والا قدم ارادوں سے تعلق رکھتا ہے۔ جس طرح غم کے بعد خوشی ضرور ملتی ہے، ایسے ہی مشکلات کے بعد آسانیوں کا دور بھی آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار لوگ مشکلات سے گھبراتے نہیں بلکہ اپنے ارادوں کو توانا اور تروتازہ رکھتے ہوئے خود کو سعی و عمل اور جہدِ مسلسل میں مصروف رکھ کر اپنا حوصلہ برقرار رکھتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آنے والی مشکلیں اور رکاوٹیں ان کے ارادوں کو مزید مضبوط کردیتی ہیں جس کے سبب ان کا سفر اور زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔

تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آج تک جتنے بھی ایسے افراد گزرے جنھوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے اور دنیا کو اپنے تجربات، افکار اور افعال سے متاثر کیا، وہ بودے اور کم حوصلہ ہرگز نہیں تھے۔ جن افراد نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا ہم نوابنایا وہ پراعتماد، بلند حوصلہ اور مضبوط قوتِ ارادی کے حامل تھے، اور یقینا ایسے ہی افراد دنیا کو اپنے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد عدنان دانش

تبصرہ کیجیے