3

جدوجہد اور کامیابی

انسان کو کامیابی صرف آرزوؤں سے نہیں ملتی بلکہ سخت محنت اور جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلسل جدوجہدسے حاصل ہوتی ہیں۔ مسلسل جدوجہد ہی زندگی ہے اور یہی زندہ دلی کی علامت بھی۔ یہ سچ ہے کہ کامیابی کی راہیں پھولوں کی سیج اور مخمل کا بستر نہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس میں صرف کانٹے ہی ہوں، بلکہ راہوں کا ہموار اور ناہموار ہونا بہت کچھ ہے۔ انسان کی اولوالعزمی وبلند حوصلگی اسے ناہمواریوں سے گزرنے اور زندگی کے سرد و گرم کو جھیلنے کا عزم و حوصلہ دیتی ہے۔
کسی نے کہا تھا کہ ’’اصلی عظمت وہ ہے جو انسان اپنی، محنت سے حاصل کرلے اور محنت بھی وہ جو مخالف حالات کا سامنا کرتے ہوئے کی جائے۔ جو انسان تکلیفیں اٹھاتا ہے وہ آرام کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ اور جو کوشش کرتا ہے وہ نتیجہ پاتا ہے۔ جو لوگ عزم و عمل کی طاقت سے محروم ہوتے ہیں وہ ہمیشہ حالات کا رونا روتے ہیں، وسائل کا شکوہ کرتے ہیں۔ اور مخالف حالات پر آنسو بہاتے ہیں۔ حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جو کامیابی کی قیمت چکانے سے کتراتے ہیں اور زندگی میں اس کے لیے شارٹ کٹ راستہ اپنانا چاہتے ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ کامیابی کے لیے امیرو غریب کے الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے، بلکہ یہاں اصل چیز محنت، جدوجہد اور لگن ہے۔ یہ حقیقت ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے بھی واضح اور کھلے انداز میں بیان کردی ہے۔ اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ ’’ہر انسان کے لیے اتنا ہی ہے جتنی وہ کوشش کرتاہے۔‘‘، ’’ہر انسان اپنے ’کسب‘ محنت کے بدلے رہن ہے۔‘‘ او ریہ کہ ’’اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو محنت، کوشش اور لگن سے نہیں کترانا چاہیے۔ اس لیے کہ کامیابی تو مل کر رہے گی بشرطیکہ انسان کوشش کرے اور اگر کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ملتی تو یقینا انسان کو اپنی کوششوں کا محاسبہ کرنا چاہیے اور جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ اس کی کوششوں میں کہاں کمی اور نقص رہ گیا۔

کوشش کے بعد دوسری چیز جو اس سلسلے میں کہی جاسکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اس بات کی دعا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی کوشش کو نتیجہ خیز بنائے اور کامیابی سے ہم کنار کرے۔

ایک خاص بات یہ ہے کہ ہم جدوجہد کا فارمولہ صرف اس دنیا کی زندگی اور مادی نفع کے لیے ہی قابلِ عمل تصور کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اس دنیا کی کامیابی سے کہیں زیادہ اہم اور بڑی ضروری کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اورجس طرح ہم یہاں کامیاب ہونے کے لیے کوششیں کرتے ہیں کم از کم اتنی ہی کوششیں آخرت کی زندگی میں کامیابی کے لیے بھی لازماً کرنی چاہیے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اس حقیقت کو بیان فرماتے ہوئے لوگوں کو آگاہ کیا ہے کہ ’’عقل مند وہ ہے، جس نے اپنے اوپر کنٹرول رکھا اور آخرت کی زندگی کے لیے کوشش کی اور ناکام وشکست خوردہ وہ ہے جس نے اپنے نفس کی پیروی کی اور اللہ سے غلط امیدیں وابستہ کیے رہا۔‘‘

ہمیں اس حقیقت پر کبھی کبھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اپنی دنیا و آخرت دونوں زندگیوں کے لیے توازن کے ساتھ محنت اور جدوجہد کرنی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
عظمیٰ جویریہ

تبصرہ کیجیے