2

رات کے مسافر

ان سب کا بس چلتا تو مجھے ہڈی کی طرح چچوڑ کے پھینک دیتے۔ اس گھر میں جانے سے پہلے میں تقدیر کا قائل نہیں تھا۔ وہ لڑکیاں جو اپنی کمزوری کو نصیبوں کا لکھا سمجھتی ہیں، مجھے ہمیشہ جھوٹی نظر آئیں لیکن اب میں اس لڑکی کی طرح جو سسرال کو کوستی ہوئی سسرال جانے کے ارمان میں مرا کرتی ہے، دن میں دوبار اس گھر میں جاتا ہوں۔ یوں تو مجھے وہاں دن میں تین بار جانا چاہیے کیونکہ محمود نے معاملہ طے کرتے وقت یہی کہا تھا کہ تیس روپے کے بدلے دن میں تین وقت کھانا کھایا کروں گا۔

یونیورسٹی کے ہوسٹل میں مکھیوں کا شوربا اور کرکری روٹیاں کھاتے کھاتے میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ صرف چند لڑکوں کی ہمت سے نہ تو یونیورسٹی مکھیوں سے پاک ہوگی اور نہ حیدر آباد کی بے ڈول پہاڑی مسطح ہوپائے گی۔ محمود طلسمی چراغ کے جن مشہور تھے اور ہر مرحلے پر ’’کیا چاہتا ہے‘‘ کے انداز میں ظاہرہوا کرتے تھے۔ میرے لیے انھوں نے آناً فاناً شہر میں ایک کمرے کا انتظام کردیا اور یوپی کے ایک شریف خاندان میں کھانے کا بندوبست بھی ہوگیا۔

کمرہ کسی مدراسی خاندان نے کرائے پر دیا تھا۔ وہ لوگ کافی، اچار، پاپڑ اور ہر اس چیز کی تجارت کرتے تھے جو زور زور سے کوٹی پیسی جاتی ہو۔ دن بھر میرے سر پہ کافی کی ٹکیاں ٹھونکی جاتیں۔ پھر اچار کے مسالوں کی دھانس سے چھینکوں کا دور شروع ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب دماغ اچھی طرح کھل جاتا تو سوکھے جھینگے تلنے کی روح فرسا بدبو پھیل جاتی۔ یوں لگتا جیسے کسی شمشان گھاٹ میں بیٹھا صندل اور گھی میں بھنتے ہوئے مردے سونگھ رہا ہوں۔

پابندیِ وقت پر صرف اسی گھر میں عمل ہوتا تھا مثلاً خاندان کا بڑا بیٹا ’’جنجیر کھولو‘‘ کی صدا لگائے تو آنکھیں بند کیے ہوئے سمجھ جائیے کہ اب صبح کے ساڑھے سات بجے ہیں۔ اگر دورازہ صرف ’’چوں‘‘ کرکے رہ جائے تو گویا صدرخاندان، بڑے میاں، لوگوں کے ہاں دودھ پہنچانے نکلے ہیں اور شام کے چھ بجے ہیں۔ جس وقت کمزور سی دستک ہو، اس وقت شام کے آٹھ بجتے ہیں اور اس کے بعد پھر کچھ نہیں بجتا۔ گھر پہ قبرستان کا سناٹا چھا جاتا ہے۔ پیروں کی چاپ اور برتنوں کی آہٹ کے سوا میں نے گھر کے اندر کوئی انسانی آواز نہیں سنی، البتہ ایک بار میرے کمرے کے قریب کوئی دھپ سے گر پڑا اور کسی عورت کے کراہنے کی آواز آئی تھی تو پھر دوسرے دن مالک مکان نے مجھ سے معافی مانگ لی۔

اس کے بعد میں برسبیل تعارف کھانے والے گھر لے جایا گیا۔ یہ دو کمروں والا چھوٹا سا کوارٹر تھا۔ مردانہ کمرہ خالی سا تھا، البتہ پتنگوں کے کاغذ، لکڑیاں، خالی سگریٹ کی ڈبیاں اور فلمی اشتہاروں کے انبار لگے تھے۔ ایک کونے میں پھٹی ہوئی دری کا ایک میلا ٹکڑا بچھا ہوا تھا اور میلے چیتھڑوں کا ڈھیر بنا ایک بوڑھا کئی تہوں میں مڑا تڑا ایک کونے میں پڑا تھا۔ اس نے اپنی لمبی گردن شتر مرغ کے انداز میں گھٹنوں کے بیچ دبا لی تھی۔ اندر سے ناک میں منمنانے والی ایک عورت سانس لیے بغیر کوسنوں کے ذخیرے میں نئے نئے اضافے کررہی تھی مگر اس بوڑھے کو جیسے پکا یقین ہو کہ نہ صرف گردن بلکہ اس کا پورا وجود کمرے کی پھٹی دری سے اٹھ کر کہیں آسمان کے نیلے مخمل میں چھپ گیا ہے کیونکہ جب محمود نے اسے پکارا تو وہ چونک کر لڑکھڑا گیا، سنبھل کر اڑنے کی ٹھانی، پھر یہ کوشش چھوڑ کر محمود کو پہچاننا چاہا لیکن ہم سے تعارف حاصل کرکے اسے پھر اپنے ٹوٹے پروں کا خیال آیا۔ آخر بڑی دیر کی جانچ پڑتال کے بعد اس نے ہم دونوں کو دری پر بیٹھنے کی اجازت دے دی۔

’’مراد کا کوئی خط آیا؟‘‘ محمود نے باتوں کا آغاز کیا۔

’’اب دو چار مہینے میں وہ خود ہی آنے والا ہے۔‘‘ اس نے آہ بھر کے یاد کیا، پھر بولا: ’’نہ بھی آئے تو اب ہم نے اس کے آسرے پر زندہ رہنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘ وہ شاید برا مان گیا تھا۔ ’’آس لگانا سب سے بڑی حماقت ہے میاں! ستر برس کی عمر میں ہم نے یہی سیکھا۔‘‘

میں نے ذرا قریب ہوکر اس بوڑھے کو دیکھا جو امید کے بغیر بھی زندہ تھا۔ شاید کبھی وہ سچ مچ کا انسان رہا ہو، اب تو ہڈیوں اور کھال کی ایک آؤٹ لائن رہ گیا تھا جس کے سارے رنگ ستر برساتوں نے دھو ڈالے تھے۔ اس کے چہرے پر بجھے ہوئے شعلوں کی سیاہی تھی اور ویران کھنڈروں کا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ بے ترتیبی سے بڑھی ہوئی میلی داڑھی جسم کی ذرا ذرا سی جنبش پر کانپ کانپ اٹھتی تھی۔ اگلے وقتوں کے طرح داروں کے انداز میں زلفیں بڑھی ہوئی تھیں۔ ماتھے اور گالوں کی ہڈیوں میں غصہ اور شکست منجمد ہوچکے تھے۔ شاید بڑے میاں زندگی بھر ریگستانوں میں چک پھیریاں کھاتے رہے تھے جو اب بھی انگاروں پر چلنے کو تیار تھے۔

کمرے کی میلی دیواروں پر تھوک اور پیکوں کی گوٹ لگی تھی اور اس فریم کے اندر پکاسو آرٹ کے نایاب نمونے بنائے گئے تھے۔ کہیں ایک بچہ سگریٹ پی رہا ہے، کہیںعورت کے سر میں مچھلی کا دھڑ لگا ہوا ہے، ایک گدھا سوار جارہا ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے: ’’او دور کے مسافر ہم کو بھی ساتھ لے لے۔‘‘ شیطانوں، چڑیلوں اور چڑیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہ تھی۔

اندر دالان سے ابھی تک نئی نئی تراش کے کوسنوں کا سلسلہ جاری تھا اور کوئی مرد انتہائی بے سری آواز میں گا رہا تھا: ’’مرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ ہے۔‘‘ میں نے شرطیہ یقین کرلیا کہ گانے والا اپنے آپ کو رفیع کا ہم پلاسمجھتا ہے۔

محمود میری شرافت کے قصے جی سے جوڑ جوڑ کے بڑے میاں کو سنا رہا تھا لیکن مجھے اس گھر کے ماحول سے وحشت ہونے لگی۔ میں سوچنے لگا کہ یہاں دن میں تین بار آنا کٹنا کٹھن مرحلہ ہوگا!

ایک دم اندر کوسنوں اور گیتوں کے بھڑکتے شعلوں پر کسی نے پانی اولچ دیا۔ ایک ننھی سی میٹھی آواز گھر کے ہر کونے میں گونجتی پھر رہی تھی: ’’بڑ بھائی کے دوست آئے ہیں، بڑھائی کے دوست آئے ہیں۔‘‘ پھر ایک دم شرط باندھ کر دوڑنے کی ریس شروع ہوئی اور کمرے کے اندر دروازے پر لٹکتا ہوا میلا پردہ ہلنے لگا۔ کواڑوں نے خواہ مخواہ ہلائے جانے پر ’’اونہہ‘‘ کی اور کسی کا سہاگ بھرا وجود اس طرف چھلک پڑا۔ اب دروازے کی جانب نہ دیکھنا میرا اخلاقی فرض تھا۔ یوں بھی جب یہ احساس ہو کہ ہمیں دیکھا جارہا ہے تو پھریریاں سی آنے لگتی ہیں۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے برف، ہاتھ کبھی بال سنوارتے ہیں، کبھی ناک اپنی جگہ دیکھ کر اطمینان کرلیتے ہیں۔ بالکل فوٹو کھنچوانے والی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

’’پہلے تو ان کی صحت ایسی تھی کہ ہم دیکھ کر جلا کرتے تھے مگر ہوسٹل کے کھانے نے ایسی حالت کردی۔‘‘ محمود کہے جارہا تھا۔ غیر شعوری طور پر میں نے اپنا دھان پان جسم دیکھا تو جی بھر آیا اور طبیعت سنبھالنے کے لیے اپنی کارڈرائے کی پینٹ دیکھنی پڑی۔

دروازہ ذرا کھلا اور ایک چھ سات سالہ لڑکا اندر آیا، قمیص کا دامن آم کی طرح چوستا ہوا۔ اس کے بڑے بڑے سنہری بال آنکھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ بڑے غور سے ہمیں دیکھتا ہوا کونے میں جاکر کھڑا ہوگیا، اس طرح کہ بڑے میاں کو ایک پرچھائیں سی نظر آئے۔ اس کے چہرے پر بچپن کی معصومیت بالکل نہیں تھی بلکہ ایسا دائمی خوف چھایا ہوا تھا جیسے وہ الٰہ دین کے طلسمی غار سے ابھی ابھی نکلا ہو۔

پردے کے پیچھے چوڑیاں ابھی تک چھنک رہی تھیں اور رفیع کی نقل کرنے والے نے اب دن کے ایک بجے مالکونس چھیڑ دیا تھا: ’’من تڑپت ہری درشن کو آج۔‘‘

’’اچھا، تو یہ روپے لیجیے، اب کل سے یہ آپ کے یہاں کھانا کھایا کریں گے۔‘‘

شاید محمو دنے روپے جیب سے باہر نکالے تھے، کیونکہ بچہ اپنی جگہ لڑکھڑاکے سنبھل گیا، پھر کوئی مقناطیسی کشش اسے بڑے میاں کے قریب کھینچ لائی۔

پردے کے پیچھے مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر دو نازک سے پاؤں ادھر ادھر بے قراری سے تھرک رہے تھے۔ ان پیروں پر تازہ لگا ہوا کیوٹکس جھلملا رہا تھا۔ میں بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ روپے بھی اچھے خاصے جادو کے چراغ ہوتے ہیں جو ان خوبصورت پیروں کو میرے اتنے قریب کھینچ لائے۔

چھوٹا لڑکا غالباً اندر یہ نوید سنا آیا تھا کیونکہ ہری درشن کے لیے تڑپنے والے من کو اچانک آکاش وانی ہوئی اور وہ ہری درشن کرنے دوڑتا ہوا باہر آیا۔ اٹھارہ انیس برس کا ایک اکڑتا ہوا نوجوان یوں کمرے میں آیا جیسے لڑھکتا ہوا پتھر گرے۔ سگریٹ پکڑنے کے انداز میں اس نے دو انگلیاں جوڑ کے ایک ہی سلام میں ہم دونوں کو نبٹایا اور بڑے میاں کی مٹھی میں کانپتے ہوئے نوٹ دیکھنے لگا۔ ہر وقت کی لعنت اور آوارگی سے اس کے خوبصورت خد و خال مسخ سے ہو گئے تھے۔ بڑھے ہوئے بالوں کو اس نے دلیپ کمار کے انداز میں بنایاتھا اور پھٹی میلی پتلون کا ایک پائنچا پنڈلی تک چڑھا ہوا تھا۔

’’آپ مراد صاحب کے چھوٹے بھائی شہزاد صاحب ہیں۔‘‘

’’آداب عرض۔‘‘

’’آداب عرض۔‘‘

سب سے پہلے اسے چھوٹا لڑکا غیر ضروری لگا۔ اس نے دیدے نکال کر اس کے دو گھونسے یوں لگائے کہ لڑکا تڑپ گیا لیکن رویا نہیں۔ پھر اس کی ٹانگ گھسیٹ کر زبردستی اندر پھینک آیا۔ ساتھ ہی تھرکنے والے پیر بھی پیچھے ہٹ گئے۔ ’’اس کمبخت کو دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔‘‘ وہ داد طلب نگاہوں سے ہماری طرف دیکھ کر مسکرایا اور میرے دل میں اس کے خلاف نفرت کی ہوک سی اٹھی۔ یوں جیسے وہ ہر روز مسلخ میں ممولے ذبح کرتا ہو۔

’’آپ بھی بڑبھائی کے دوست ہیں؟‘‘ وہ ایک خاص انداز سے پوز بنا کے ہمارے قریب آبیٹھا اور تیز نظروں سے نوٹوں کی تہیں گننے لگا جو اس کی مٹھی میں چڑیا کی طرح دبی ہوئی تھیں۔ اندر بچے کی سسکیاں گونج رہی تھیں، اور وہ جگہ چمک رہی تھی جہاں ابھی وہ خوبصورت پاؤں تھے۔

’’جی نہیں، میں محمود صاحب کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔‘‘

’’تب تو آپ خوب ٹھاٹ کرتے ہوں گے۔‘‘ وہ ذرا قریب سرک آیا۔

’’ہاں، بس وقت گزار لیتے ہیں کسی طرح۔‘‘

’’بڑبھائی بھی سنا ہے، عیش کرتے ہیں دلی میں۔‘‘ بڑی رشک بھری نظروں سے وہ بڑبھائی کے متعلق دیوار پر کوئی رنگین فلم دیکھنے لگا۔

مجھے بھی دیوار پر رنگوں کے دھبے پھیلتے دکھائی دے رہے تھے۔ سفید روشنی میں پہلے اچھی بنی چائے کی نہریں پھوٹیں اور پھر کسی نے رنگوں کی چھاگلیں لڑھکا دیں۔ دھنک کی ٹوٹی ہوئی قوسیں گول گول دائرے بنانے لگیں اور میں نے کس کے آنکھیں مل ڈالیں۔ رنگ سمٹ گئے، صرف ایک سرخ دھبا سا رہ گیا تھا جو ہر جگہ تھا۔ کپڑوں پر، دیواروں پر بنی ہوئی پینسل کی تصویروں پر، بڑے میاں کی داڑھی پر اور اس جگہ دمک رہا تھا جہاں وہ پاؤں ابھی تھرک رہے تھے۔ ان پیروں کو ایک جگہ قرار نہ تھا۔ ان کے آس پاس لپٹا ہوا ساڑی کا میلا بارڈر بار بار ان کی خوبصورتی کو ڈس رہا تھا۔

’’ایک ایک پیسہ دانتوں سے پکڑ کر جمع کررہا ہے میرا بیٹا۔‘‘ بڑے میاں اب قوت گویائی پر قابو پاچکے تھے۔

’’اور کیا! بڑا کامیاب بزنس مین ہے مراد۔ ہزاروں کماتا ہے۔‘‘ محمود مجھ پر رعب ڈالنے سے زیادہ میاں کو تسلی دے رہا تھا۔

’’محمود میاں! ضد ہے اسے کہ اکٹھا ہی کما کر لاؤں گا۔‘‘ غالباً ہزاروں کی کمائی کا فی الوقت کوئی ثبوت نہ دینے پر انھوں نے وضاحت کی۔

’’لیکن اس طرح آپ کو جو تکلیف ہوتی ہوگی۔‘‘ میں نے بھی کچھ کہنا ضروری سمجھا۔

’’عجب بکواس کرتے ہیں آپ۔‘‘ وہ مارنے کے انداز میں میری طرف لپکے۔ ’’ہم کوئی دوسروں کی کمائی کھاتے ہیں۔ تم کیا جانو میاں، ہم کون تھے۔ اتنے روپے تو ٹھوکر پر مار دیتے تھے۔‘‘ انھوں نے نوٹ زور سے پٹکے اور پھر یوں پشیمانی کے ساتھ اٹھا لیے جیسے بھولے سے کوئی مقدس کتاب گرادی ہو۔ پردے میں پھر زلزلے سے آرہے تھے۔ چوڑیوں کے چھناکے تیز تیز سانسوں میں بدل گئے، ساتھ ہی پاؤں نے اپنی ہیئت بدل ڈالی۔ کالے مرجھائے ہوئے پیر زمین پر گھسٹتے آئے۔ جگہ جگہ سے کھال پھٹ گئی تھی۔ انگلیاں سامنے سے مڑگئی تھیں جیسے چلتے چلتے تھک گئی ہوں۔ یہ وہ پاؤں نہیں تھے، جن میں رنگوں کی چھاگلیں سمٹی ہوئی تھیں اور اپنی ٹھوکر سے کنواں کھوددینے کا عزم تھا۔ یہ تو وہ پاؤں تھے جو ناپیدا کنار صحراؤں میں چلتے چلتے تھک چکے تھے۔

پھر میں ان کے ہاں کھانا کھانے لگا۔ اکیلا میں ہی کیا، ننھا خورشید، شہزاد، اونگھتے ہوئے خالو۔ پردے کے پیچھے زندگی سے ہار جانے والے بدصورت پاؤں اور شدتِ اضطراب میںادھر ادھر تھرکنے والے خوبصورت پاؤں سب میرے ساتھ منہ کھولتے اور میرے ساتھ فرضی نوالے نگلتے تھے۔ بھوکوں کے اس ہجوم میں اکیلا بیٹھا میں ان کی روٹیاں نگلتا تھا۔ یہ روٹیاں جو چٹکی چٹکی آٹا جوڑ کر پکائی گئی ہوں گی، ان میں خالہ کے آنسو گندھے تھے۔ یہ بھابی کی گرم آہوں سے سنکی تھیں، خورشید اور شہزاد نے ماں جائے بھائیوں کی طرح انہیں دل سے دور کیا ہوگا اور خالو کی نیت چھوٹے بچوں کی طرح ان پر پھسلی ہوگی۔ تیس روپے دے کر میں یہ روٹیاں کھانے کا حق دار بن گیا تھا۔ اب ان تیس روپوں کی آس توڑنا بھی میرے لیے ممکن نہ تھا کیونکہ یہی روپے تو اس گھر کی شریانوں میں لہو بن کر دوڑتے تھے اور سب ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی طاقت رکھتے تھے، اس لیے دن میں دوبار میں ان کا لہو پینے پر مجبور تھا۔ میری چار روٹیوں کے علاوہ یہاں اور کچھ بہت کم پکتا تھا۔ اس قیدی کی طرح جسے روز پھانسی کا حکم سنانے کو بلایا جائے، میں اپنے آپ کو دھکیل کر وہاں لے جاتا تھا۔

میرے آتے ہی گھر میں بھگدڑ سی مچ جاتی اور خالہ کی گالیوں اور کوسنوں کا بہاؤ بہو کی کاہلی کی طرف مڑجاتا۔ جو اب میں چوڑیوں کے تیز تیز مدروں پر ایک مدھم سی گنگناہٹ سنائی دیتی، یوں جیسے گانے سے پہلے ہیرابائی سرملارہی ہو اور میں منتظر رہتا کہ گیت کب شروع ہوگا۔ سچ پوچھیے تو مجھے اس گھر میں کسی سے ہمدردی نہیں تھی۔ میں صرف وہ گنگناتی ہوئی آواز سننے کے لیے تیس روپے دیتا تھا۔ اندر برتنوں کی جھنکار شروع ہوتے ہی شہزاد گانا چھوڑ دیتا۔

’’ارے، کچھ ہم منحوسوں کے لیے بھی رہنے دو۔‘‘

’’اتنے زور سے مت بولیے، چھٹ بھائی! باہر سے بچ کر آئے تو آپ کھالیجیے گا۔‘‘ خورشید اپنی آواز دبا کر اسے تسلی دیتا تھا۔

٭٭٭

خورشید میرا بے تکلف دوست بن گیا۔ گھر میں اس کی حیثیت شربت روح افزا کی سی تھی۔ جب غصے اور محرومیوں کی گرمی میں لوگ پگھلنے لگتے تھے تو خورشید کو مار پیٹ کے انہیں بڑی ٹھنڈک ملتی تھی۔ شہزاد اور خالو تو اسے سالم نگلنے کی فکر میں رہتے تھے۔ مسلسل فاقوں اور مفلسی کے کڑوے تجربوں نے اسے سات برس سے سترہ برس کا دور اندیش لڑکا بنادیاتھا۔ باریک آواز اور معصوم قہقہوں کے سوا اس کے پاس بچپن کی کوئی خوبصورتی نہیں رہی تھی۔ ایک آنے کے معاوضے میں وہ پڑوس کے دو گھروں کا سودا سلف لادیا کرتا تھا۔ ایک اسکول ٹیچر اپنے بچے کو سنبھالنے کے اسے دو آنے روز دیتی تھی۔ یہی اس گھر کی آمدنی تھی۔ دن بھر سوکھے مریل سے بچے کو کولھے پر ٹکائے وہ بازار کا کوڑی پھیرا کیے جاتا تھا۔ بچے کے بوجھ سے اس کی کمر خم کھا کر ایک طرف جھک گئی تھی۔ زیادہ وزن اٹھانے سے اس کی سانس پھول جاتی۔ کنپٹیوں کی رگیں ابھر آئی تھیں اور ناک پر پسینے کی بوندیں جمی رہتیں۔ اس گھر میں سب سے زیادہ ذمے داری کا احساس اسی کو تھا۔ دکان داروں سے ادھار وہی لاتا، گھر کی چیزوں کا گروی رکھنا اور گھر کی عزت کی حفاظت کرنا بھی اسی کا کام تھا۔

اسے کہانیاں سننے کا بے حد شوق تھا۔ الف لیلہ کی ہر کہانی اسے زبانی یاد تھی۔ جس آدمی سے اسے نفرت ہوجاتی، اسے وہ الٰہ دین کا جادو گر چچا کہتا۔ اس کی ایک مضحکہ خیز تصویر بھی دیوار پر ضرور بنا ڈالتا۔ ہر نئے آدمی سے وہ ایک سوال ضرور کرتا: ’’بڑبھائی! اگر آپ کو ایک پیسہ مل جائے تو آپ کیا لائیں گے؟ ایسی چیز بتائیے جس سے گھر بھر جائے۔‘‘

’’ایں؟‘‘ میں جھوٹ موٹ فکر مند بن گیا۔ ’’آپ بتائیے۔‘‘

’’نہیں آپ۔‘‘

’’اچھا تو میں ہوا خرید لاؤں گا۔‘‘

یہ سن کر اس کا پہلے سے تیار قہقہہ گونج اٹھا۔ ہنستے ہنستے جب اس کا پیلا چہرہ گلابی پڑ گیا تو اپنے خود فراموش باپ کو اس نے جھنجھوڑ ڈالا: ’’ابا! ابا! بڑبھائی کو بھی نہیں معلوم کہ ایک پیسے کی سب سے اچھی کیا چیز آتی ہے۔‘‘

اس طرح جھنجھوڑے جانے پر ابا نے چونک کر اس کو ایک لات رسید کی اور اس نے حسبِ عادت اسے نظر انداز کرکے کہا: ’’آپ چراغ کیوں نہیں لاتے؟‘‘

’’افوہ، بڑی بھول ہوگئی۔‘‘ میں نے سرکھجا کر اپنی ہار مان لی۔

’’آپ کو تین شہزادوں کی کہانی نہیں آتی؟‘‘ وہ خالو سے کہتا۔

پھر وہ تین شہزادوں کی کہانی سنانا شروع کردیتے… کھانا، کھانا، کھانا۔ خالو صرف اچھا کھانے کے لیے دنیا میں آئے تھے اور زندگی بھر ترستے رہے۔ انھوں نے اپنے آبائی گھر کھالیے، کھیت بھون ڈالے، خالہ کا زیور چبا گئے۔ انھیں سینکڑوں کھانوں کے جان لیوا ذائقے یاد تھے۔ پچاسیوں کھانا پکانے کی کتابیں اور ترکیبیں انھوں نے پھٹی دری کے نیچے جمع کررکھی تھیں کہ ذرا کہیں سے پیسے آئیں تو تجربہ کریں۔

انھیں یوں منھ چھپائے دیکھ کر مجھے اب بڑا سکون ملتا تھا۔ شاید انھوں نے تصور میں کوئی ایسی دنیا ڈھونڈلی تھی، جہاں سوکھی روٹی کا انتظار کرتے کرتے وہ کبابوں کے ایورسٹ سر کردیتے تھے، دودھ کے بحرالکاہل میں تیرتے مٹھائیوں کے جزیروں میں جانکلتے اور نئے نئے مزے دار سالنوں کی دلدل میں پھنس جاتے تھے۔

خالو کے ہاں کی گنی چنی روٹیوں اور بدمزا سالن سے میں اب بیزار ہوچکا تھا مگر ان خوبصورت پیروں نے مجھے نہ چھوڑا۔ ہر روز میرے آنے کی خبر اندر پہنچتے ہی وہ پیر پردے کے قریب آجاتے تھے… اتنے آہستہ کہ میرے سوا کوئی ان کی چاپ نہیں سنتا تھا، البتہ خورشید کبھی مجھے دیکھتا اور کبھی ہلتے ہوئے پیروں کو اور پھر بچے سے کھیلنے میں لگ جاتا تھا۔

کھانا لے کر خالہ آیا کرتی تھیں۔ لکڑی کے ٹرے میں چار روٹیاں رکھی ہوتیں اور کوئی بدشکل اور بدمزا سالن ہوتا۔ ’’بیٹاں! اخلاق صانب سے کہناں زیاداں کھاناں نہیں بھیجتیں، جھونٹاں ہوگاں۔ ضرورت ہو تو اور منگاوالیں۔‘‘

’’لیکن یہ تو بہت زیادہ ہے خالہ! تھوڑا کم کرلیجیے۔‘‘ مجھے بھی اصرار کرنا ضروری ہوجاتا تھا۔

شہزاد اور خورشید کی آنکھیں بھی کبھی امید سے مجھے دیکھتیں، کبھی نا امیدی سے خالہ کو۔ پھر شہزاد دیوار سے ٹیک لگا کر میرے قریب آ بیٹھتا۔ خورشید بھی اسی دری پر بچے کو لے کر لیٹ جاتا۔ جب بچہ بار بار کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا کے رونے لگتا تھا تو میں اس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھما دیتا۔ میری اس سخاوت پر شہزاد کو غصہ آجاتا۔

’’سالا مفت کی کھا کھا کے پل رہا ہے، آپ اسے روٹی مت دیا کیجیے۔‘‘ جونہی بچہ روٹی منہ تک لے کر جاتا تھا تو خورشید یہ کہہ کر چھین لیتا: ’’لاؤ منے! یہ کوے کو دے دیں۔‘‘ پھر وہ غپ سے ٹکڑا اپنے منھ میں ڈال لیتا۔‘‘

خالو اب بھی حسبِ عادت گردن ٹانگوں میں دبائے اپنا منہ چھپائے رکھتے تھے۔ پھر کھانسی کے الجھے الجھے پھندے بتادیتے تھے کہ خالہ باتیں کرنے کو بے چین ہیں۔ نوالہ میرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ بن جاتا تھا۔ خورشید، شہزاد، مراد کی بیوی اور خالہ کی رگوں سے کھنچے ہوئے لہو میں میری انگلیاںڈوب جاتی تھیں۔

’’آپ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘ ایک دن شرمندگی مٹانے کو میں نے شہزاد سے باتیں شروع کردیں۔

’’جی، فی الحال تو کچھ نہیں۔‘‘ وہ کھانے کو ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگا تو میں چونک پڑا۔

’’چار بار میٹرک کرنے کی کوشش کرچکا ہوں۔‘‘

’’اب کیا ارادہ ہے؟‘‘

’’اپنا ارادہ تو فلم لائن میں جانے کا ہے۔‘‘

اس نے انگڑائی لے کر کہا: ’’تھوڑی بہت ڈانس کی مشق کرلی ہے، گانا بھی جانتا ہوں۔‘‘

’’چھٹ بھائی جانی وا کر بنیں گے۔‘‘ خورشید نے مجھے اطلاع دی۔

’’چپ بے!‘‘ اس کی کمر پر ایک زور دار لات پڑی۔’’ویسے اخلاق صاحب! مجھے جانی واکر بہت پسند ہے۔ شرابی کا پارٹ میں اس سے اچھا کرسکتا ہوں مگر فلم لائن میں بھی یا تو خوب صورت سی لڑکی ساتھ ہو یا تگڑی سفارش ملے۔‘‘ وہ مایوسی سے پیر ہلانے لگا۔

’’ایک بار چھٹ بھائی بھابی کا ہار لے کر…‘‘ خورشید پھر کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شہزاد کے تابڑ توڑ طمانچوں نے بات پوری نہ ہونے دی۔ شور سن کر خالو چونک پڑے، اصحابِ کہف کی طرح محض یہ دیکھنے کہ اب کون سا جگ ہے مگر دنیا میں پھیلی ہوئی نحوست، اندھیرا اور نا انصافی دیکھ کر آہیں بھرتے، بڑبڑاتے ہوئے پھر اپنی یوٹوپیاں میں گھس گئے۔

’’یہ ہمارے ابا بھی بڑے سنکی ہیں۔ بس یہ چاہتے ہیں کہ بیٹوں کو پالنے کی پائی پائی وصول کر لیں۔ بات بات پر کھلانے پلانے کا طعنہ دیتے ہیں۔ بڑبھائی کو بی اے کروانے میں چار ہزار روپے گنوادیے۔ بیچاری بھابی الگ سلگ سلگ کر ختم ہورہی ہیں۔ اب میرے ساتھ بھی یہی حماقت کرنے والے تھے۔‘‘ باتوں کے دوران شہزاد کی نگاہ رکابی سے حلق تک میرے نوالے پہنچانے میں مدد کررہی تھی۔ ’’مگر میں نے صاف انکار کردیا۔ سب سے پہلے میں نے فوج میں درخواست دی اور لے لیا گیا مگر کیا بتاؤں بڑبھائی! ایک ہی مہینے میں انجر پنجر ڈھیلے ہوگئے۔ اس اٹھک بیٹھک سے بڑی آفتوں سے جان چھڑائی۔ اب تو مجھے نوکری کے نام سے نفرت ہوگئی ہے۔ سالن تو آج مزے دار معلوم ہوتا ہے؟‘‘ اس نے منہ کا پانی نگل کر محض اس لیے پوچھا کہ تیسری روٹی توڑنے سے پہلے میں کھانا ختم کردوں۔‘‘ تو خیر اب بڑبھائی آجائیں تو کچھ روپے لے کرذرا بمبئی میں قسمت آزماؤں گا۔‘‘

’’تو آج کل گھر میں خرچ کی بڑی تنگی ہوگی؟‘‘ میں چاکلیٹی پاؤں کے سامنے خاص طور سے یہ ذکر چھیڑنا چاہتا تھا۔

’’خورشید جو اتنے روپے کمالاتا ہے… مگر اخلاق صاحب! کچھ ہمارا گھر ہی منحوس ہے۔ یہاں کتنا ہی پیسا آئے لیکن یہ نحوست نہیں جائے گی۔‘‘ وہ نفرت سے پاؤں ہلانے لگا۔

رفتہ رفتہ میں اس گھر کی ہر بات سے واقف ہوگیا، یہاں تک کہ خالہ اب گھنٹوں کو اڑ کی آڑمیں بیٹھی نکٹی چڑیلوں کی آواز میں مجھ سے باتیں کرتی تھیں۔ بیٹوں کی برائیاں، محلے والوں کی بے رخی، میاں کی شاہ خرچی اور بہو کے نخرے۔ بہو کو ہسٹریا کے دورے پڑتے تھے۔ وہ تین بار محض اس لیے چولہے میں گر کے جل چکی تھی کہ خالہ اس سے کھانا پکوانا چھوڑدیں۔ اسے اپنے حسن پر ناز تھا اور میاں کی صورت سے نفرت کرتی تھی۔ بیچارے کو نوکری نہیں ملتی تھی تو اس کا کیا قصور۔ خالہ خود بھی جوڑوں کے درد میں تڑپا کرتی تھیں۔ مراد کے آتے ہی سب سے پہلے اپنا علاج کروانے والی تھیں۔ شہزاد، بھابی کے سارے زیور اڑاچکا تھا۔

سب باتیں ختم ہوجاتیں تو وہ اپنے بیتے دنوں کے نوحے پڑھنا شروع کردیتیں جب ان کے صحن میں پانچ بھینسیں بندھتی تھیں، خالو پیش کار تھے اور خالہ گھی شکر میں لوٹیں لگایا کرتی تھیں۔

جس دن خالہ سے تفصیلی باتیں ہوتیں، مجھے رات نیند ہی نہ آتی۔ وہ رنگوں کی چھاگلیں اٹھائے پاؤں بار بار انگاروں پر دوڑنے لگتے۔ نیند دھنکی ہوئی روئی کی طرح بکھر جاتی اور سفید پھولوں سے زمین آسمان چھپ جاتے۔ رفتہ رفتہ پھولوں کی سفیدی پر پلساہٹ آجاتی اور بادامی پھولوں کے زیرے لودے اٹھتے، ہر چیز سرخ شعلوں میں جلنے لگتی۔ صبح میں یوں تھکا ہارا اٹھتا جیسے رات بھر پتھر ڈھوتا رہا ہوں۔

مہینے کی آخر تاریخوں میں گھنٹوں خالی کمرے میں بیٹھنا پڑتا تھا۔ اندر کھچڑی سی پکتی مگر باہر کوئی نہ آتا، پھر خالہ دروازے کی آڑ میں آتیں۔ ’’آج آپ بڑی دیر میں آئے۔ میں سمجھیں کھاناں بانہر کھاں لیا ہوگاں۔ خبر اب پنکوائے دیتی ہوں۔‘‘ حالانکہ میرے آنے میں ذرا بھی دیر نہ ہوتی لیکن میں بڑے اصرار سے منع کردیتا تھا کہ اب بھابی کو تکلیف نہ دی جائے۔

پھر کئی دن تک بیماری کا بہانا بناکے میں وہاں نہیں گیا۔ چوتھے دن میرے آتے ہی کام چھوڑ چھاڑ کے سب لوگ میرے پاس جمع ہوگئے۔ آج خالو کو بھی عالم بالا سے اس منحوس دنیا میں آنا پڑا تھا۔

’’اس مہینے کے چار دن تو ابھی ہم پر باقی ہیں بیٹا! وہ کھانا تو کھالو۔‘‘

’’صرف چار دن کیوں خالو! کیا اس کے بعد یہاں نہیں کھاسکتا؟‘‘

یہ سن کر سب نہال ہوگئے۔

پھر زندگی کا وہ پہلا اور آخری لمحہ آیا جب وہ خوبصورت پاؤں مجھ سے مخاطب ہوئے: ’’آپ کئی دن سے کھانا کھانے نہیں آئے؟‘‘

میں اچھل پڑا۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا مگر خورشید کی نگاہیں میرے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں اور اس نے بڑے ضبط کے ساتھ نیچے کا ہونٹ دانتوں میں دبا رکھا تھا۔ اس خوشگوار واقعے کا جشن منانے کے لیے میں نے ایک سیکنڈ میں بے شمار اسکیمیں بناڈالیں لیکن خورشید کو دیکھ کر سب بھول گیا۔ ’’ہاں، طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ آپ تو اچھی ہیں نا؟‘‘

’’اونہہ! اچھے رہنا کون سی اچھی بات ہے۔‘‘ بڑی اداسی کے ساتھ جواب ملا، اور میں نے سوچا کہ… جانے کیا کیا سوچا۔ دراصل میں اتنی جلدی کچھ سوچنے کو تیار نہیں تھا۔ سٹپٹا کے میں نے بہت سے جواب سوچے اور اس سے قبل کہ میں پردہ اٹھا کر کچھ کہتا، وہ پاؤں ہٹ گئے۔

خالہ کھڑی کہہ رہی تھیں: ’’آنپ نے کہیں شہزاد کو توں نہیں دیکھاں؟ آج چار دن سے وہ گھر نہیںآیاں۔‘‘

’’ارے…!‘‘ مجھے تعجب کا اظہار کرنا پڑا۔ ’’کہاں چلے گئے؟‘‘

’’کہیں دوستوں میں گیاں ہوگاں۔ جب گھر میں خرچ کی تنگی ہونے لگتی ہے تو وہ چلا جاتا ہے۔ ہماری بہو کا ساں حساب ہے۔ بانت کہتے مارنے کو دوڑتی ہے۔‘‘ پھر ادھر ادھر دیکھ کر انھوں نے اپنی آواز سرگوشی بنالی۔ ’’جانے کون ادباری مکان کا مالک ہے جس نے گھر میں کنواں کھودا دیاں ہے۔‘‘

میں کانپ اٹھا ’’اس گھر میں فرار کے لیے کتنے چور دروازے ہیں؟‘‘ میں نے سوچا۔

شام کو وہ پاؤں دروازے کے قریب سے گزر رہے تھے کہ میں نے مزاج پوچھا۔

’’آپ سے کس نے کہا میں بیمار ہوں؟‘‘

میں بوکھلا گیا: ’’ویسے ہی میں نے اندازہ لگایا تھا… کہ…کہ‘‘

’’بیٹھے بیٹھے اندازے بھی لگایا کرتے ہیں آپ…؟‘‘

اس دن کھانے میں بڑا اہتمام تھا۔ ماش کی دال، مچھلی، کوفتے۔ ’’آج کیا تقریب ہے خورشید صاحب؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ آپ نے بھابی کا مزاج پوچھا، انھوں نے آپ کے لیے یہ کھانا پکایا۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا اور باہر چلا گیا۔

اب خورشید سے میری دوستی برائے نام سی رہ گئی تھی۔ وہ مجھ سے بات کرنے میں کتراتا اور میری موجودگی میں بہت کم اندر آتا۔

آج تو خالو صاحب اپنی دری سے غائب تھے اور خالہ بھی چوکھٹ پر بیٹھی نوالے نہیں گن رہی تھیں، البتہ چوڑیوں کا چھناکا احتیاط کے باوجود کئی بار بکھر بکھر گیا۔

تھوڑی دیر بعد خورشید، شہزاد کو زبردستی گھسیٹتا ہوا اندر لایا۔’’کہیے، کہاں کی سیر کی اتنے دنوں…؟‘‘ میں نے پوچھا۔

جواب دینے کے بجائے اس نے نتھنے پھیلا کر کھانوں کی خوشبوئیں سونگھیں اور رکابیاں گھورتا اندر چلاگیا۔

’’اتنے اچھے کھانے کا بھابی تک شکریہ پہنچا دیجیے۔‘‘ میں خالہ کو ٹرے واپس کررہا تھا کہ پر دہ ہوا سے اڑ گیا اور دالان میں بجلی سی کوند گئی۔

میلی سی پھٹی ہوئی ساڑی میں لپٹی وہ ہنسے جارہی تھی اور شہزاد فلمی ہیرو کی طرح اسے کہہ رہا تھا:

’’آج بہت چہک رہی ہو؟‘‘

آج مجھے معلوم ہوا کہ اس کے خوبصورت جسم پر مور کی طرح بدصورت پاؤں جڑے ہوئے تھے۔ یہ روشن چراغ جلنے پر بھی خالو کے ہاں اندھیرا تھا۔ ’’کھانا زیادہ برا تو نہیں ملتا۔ ابھی دو چار مہینے اور چلنے دو۔‘‘ میں نے سوچا۔

دوسرے دن خورشید اکیلا کمرے میں یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا تھا جیسے آج فرصت ہی فرصت ہو، اور گھر میں بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میرے بہت سے سوالوں کے جواب میں اس نے کہا:

’’بڑبھائی آگئے۔‘‘

’’آگئے؟‘‘ میرے بدن پر جیسے ہنٹر کا ایک تڑاخا سا پڑا۔ ’’پھر؟‘‘

’’پھر کیا؟‘‘

سچ مچ پھر کیا … میں نے بھی سوچا۔

’’بڑ بھائی کچھ بھی نہیں لائے۔ جھوٹ بول رہے تھے۔‘‘ اس نے تھوک مل مل کر دیوار سے لکیریں مٹانے میں میری مشکل آسان کردی اور پینسل اٹھا کر ایک سینگ والے جادوگر کی تصویربنانے لگا۔

ہونہہ، میں بھابی کے متعلق سوچے جارہا تھا اب وہ کیاکریں گی؟ ’’بھابی سے کہو… کھانا … بھابی…‘‘ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خورشید سے کس طرح پوچھوں۔

’’بھابی نہیں ہیں۔ چھٹ بھائی کے ساتھ رات بھاگ گئیں۔ بڑبھائی پولیس میں رپورٹ کرنے گئے ہیں۔‘‘ وہ میری صورت دیکھ دیکھ کر کارٹون بناتا رہا۔

میں ساکت بیٹھا رہا۔ یوں جیسے ذرا بھی ہلا تو یہ گھر لڑھک کے کھیل کھیل ہوجائے گا۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے پر بھی مجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ایسی اندھیری رات اتنی دوپہر میں کہاں سے آگئی تھی!

نہ جانے کتنی صدیاں ہمارے درمیان سے گزرگئیں۔ اس مدت میں کئی سگریٹ میں نے پی ڈالے اور خورشید بچپن اور جوانی کے تجربے چھوتا ہوا ایک دم ستر برس کا بوڑھا پھوس بن کر مجھ سے کہنے لگا: ’’اب تو آپ بھی ہمارے ہاں کھانا نہیںکھایا کریں گے۔ بھابی تو چلی گئیں؟‘‘

پینسل پھینک کر وہ اپنے باپ کی جگہ جابیٹھا اور گھٹنوں میں گردن دبا کر اپنا پورا وجود چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔

(ماخوذ از اردو ڈائجسٹ، لاہور مرسلہ: اقبال احمد ریاض

شیئر کیجیے
Default image
جیلانی بانو

تبصرہ کیجیے