4

مجبور لڑکی

اس گاؤں کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ گاؤں کے اطراف بڑاتالاب تھا جو گاؤں کو تینوں جانب سے گھیرے ہوتے تھا۔ تالاب کے اس پار پہاڑوں کی لمبی قطار تھی۔ یہ منظر اتنا دلکش تھا کہ لوگ دور دور سے دیکھنے آتے۔ ہم اس گاؤں میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔ ماں کے کہنے سے ابا شہر سے اس گاؤں کو آئے تھے۔ میری عمر ۱۳ سال تھی اور ساتویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔ مجبوراً مجھے اسکول چھوڑنا پڑا۔ ابا مزدوری کرتے، امّی دوسرے گھروں میں کام کے لیے جاتی۔ مجھے گھر کے کام کے ساتھ ساتھ ۶ سال کے بھائی اور ۳ سال کی بہن کا خیال رکھنا ہوتا۔ زندگی بہتر حال سے گزر رہی تھی۔ ابا کہا کرتے یہاں روزی روٹی کی فکر نہیں۔ مگر یہ دن زیادہ دیر تک دیکھے نہیں گئے۔ ابا بیمار ہوگئے مزدوری چھوڑ کر اسکول کے پاس فروٹ اور کھانے کی چیزیں فروخت کرنے لگے۔ کبھی فائدہ کبھی نقصان چلتا۔ قرض بڑھتا گیا قرض دینے والا شخص ہمارے گھر آنے لگا۔ پہلے ابا سے باتیں کرتا تھا اب امی سے۔ پھر مجھے بلا کر اپنے کارنامے سنایا کرتا۔ اس شخص کا آنا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا مجبوری تھی برداشت کرلیتے۔ اس گاؤں کے غریب اس سے قرض لیتے۔ یہ آدمی مسلمان تھا۔ سود پر قرض دیا کرتا تھا۔ یہاں مسلمانوں کے ہاں سودی لین دین عام تھا۔ لوگ ایسے لوگوں کی بھی عزت کیا کرتے تھے۔ اس دن ابا گھر میں نہیں تھے۔ امی میرے بہت قریب آکر بیٹھ گئیں اور میری طرف عجیب نظروں سے دیکھنے لگیں بیٹی یہ باتیں کہنے سے پہلے مجھے … کہتے ہوئے … آنکھ بھرآئی۔ میں حیران تھی۔ کہنے لگیں: بیٹی تیری خوبصورتی دیکھ کر رشتے تو بہت آتے ہیں مگر ہر رشتے کے ساتھ لڑکے کی قیمت بھی ہوتی ہے۔ لڑکے والے جہیز کے ساتھ ساتھ ان کے لائے ہوئے باراتیوں کی دعوت اور کھلانا الگ، رسم سے لے کر شادی تک کیا کیا کرنا پڑتا ہے، بس یہ سوچ کر ہی گھبرا جاتی ہوں۔ ہمارے پڑوس میں جو شادی ہوئی صرف کھانے کھلانے پر ہزاروں ہزار روپئے خرچ ہوئے۔ غریب لوگ ادھر ادھر سے مانگ کر لائے تھے۔ مانگ کر لائے یا غلط طریقے سے کمائے۔ کچھ بھی ہو بس شادی کو جانا اور کھانا۔ مسلمانوں میں عام ہوتا جارہا ہے۔ زیادہ تر لوگ لگتا ہے اسی لیے جیتے ہیں۔

بیٹی ہمارے پاس کیا ہے۔ کرائے کا گھر اور پکا کر کھانے کے لیے کچھ سامان ہے۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہے ورنہ نکموں کی اور حرام خوروں کی لائن لگ جاتی۔ پہلے یہ جہیز کا رواج ہندوؤں میں تھا، اب مسلمان بھی ان کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ ہم جب شہر چھوڑ کر اس گاؤں آئے تھے تو بڑی امیدیں تھیں۔ یہاں زیادہ مسلمان ہیں اور مال دار بھی۔ پڑھے لکھے اور دین دار بھی۔ بڑی اچھی جگہ ہے۔ مگر یہاں سب الٹا نظر آرہا ہے۔ مال دار اپنے لیے تو خوب پیسے لٹاتے ہیں۔ غریبوں کو زکوٰۃ نہیں دیتے۔ جائز پر ان کے پیسے کم ہی خرچ ہوتے ہیں۔ اب مسلمانوں میں پہلے جیسی تہذیب نہیں رہی۔ حلال کیا ہے حرام کیا ہے اور کس کی کمائی کیسی ہے قرض لے کر غریب برباد ہورہے ہیں۔ میں خاموش بیٹھی سن رہی تھی۔ ما ں میری طرف دیکھتی تو میں ہاں ماں کہتی میں سوچ رہی تھی یہ علماء اور مذہبی لیڈران ہوں یا قوم کے نام نہاد باعزت لوگ ایسی شادیوں میں آخر جاتے ہیں کیوں ہیں۔

لڑکی والوں پر ظلم ہورہا ہے۔ کہتے ہیں اسلام میں ظلم حرام ہے۔ پھر ماں کہنے لگی اللہ غریبوں کو بیٹیاں نہ دے تو اچھا ہے۔ اس بار اس کے بات کرنے کا انداز اور تھا۔ تیرے ابا نے اور میں نے یہ فیصلہ لیا ہے غور سے سن۔ جس آدمی نے ہمیں قرض دیا نا وہ اچھا آدمی ہے۔ مال دار بھی ہے، اس کے دو گھر ہیں۔ ایک گھر میں اس کے بیوی اور دو بچے ہیں۔ تجھے دوسرے گھر میں الگ رکھے گا خوش رہے گی۔ وہ ہمارا قرض بھی معاف کردے گا اور شادی کو بھی پیسے دے گا۔ ہماری فکر چھوڑ تو آرام سے رہے گی۔ میرے کان سن رہے تھے۔ جسم میں جان نہیں تھی۔ ماں خاموش تھی۔ میرے دماغ میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ دینے والے تو کسی کو غریبی نہ دے، موت دے دے مگر … ایک دن میری منگنی کی رسم کی گئی۔ صبح ہوتے ہی یہ خبر گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ عورتیں جمع ہوہوکر طرح طرح سے باتیں کرنے لگیں ادھر نوجوان لڑکے یہاں وہاں یہی کھڑے چرچا کررہے تھے۔ پورا مسلم معاشرہ صرف بحث کررہا تھا۔ ہم مجبور تھے۔ کیا یہ گاؤں کی ساری عورتیں مجبور تھیں۔ کیا یہ سارے نوجوان مجبور تھے۔ ذمہ دار، سمجھ دار، مال دار یہ سب مجبور تھے؟ اگر کوئی نادان لڑکی غلطی کرے تو قوم کی ناک کٹ جاتی ہے۔ پوری قوم غلطی کرے تو ہے کوئی ٹوکنے والا اور روکنے والا؟

دو مہینے بعد میری شادی ہوئی دولہا کارمیں بٹھائے ۴۰؍کلومیٹر دور لیے جارہا تھا۔ سارے لوگ کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ میری شادی ہوگئی ۱۰؍سال ہوچکے ہیں دو بچے بھی ہیں۔ کوئی غریب خوبصورت لڑکی دیکھتی ہوں تو رو پڑتی ہوں ابا نہیں رہے۔ امی مامو کے گھر بنگلور میں ہے۔ میری شادی کے بعد اس گاؤں جانے کا موقع نہیں ملا۔ دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا، کے اصول پر جی رہی ہوں مسلمانوں سے میری یہی گزارش ہے کہ جہیز کی اس لعنت سے تمہاری بیٹیوں کی زندگی خطرے میں ہے ایسی شادیاں ختم کرو۔ اور اسلامی طرز کے نکاح کو رواج دو۔ اللہ ہمارے گناہ معاف کرے گا اور ہماری زندگیوں میں برکت دے گا۔ ——

شیئر کیجیے
Default image
سید نصر اللہ، کرے بلچی