BOOST

آپ کی غذا اور صحت

کھانے پینے کی جتنی بھی اشیا مختلف صورتوں میں دستیاب ہیں، ان میں سے اصلی حالت میں ہمیں صرف دودھ، پھل اور سبزیاں ہی ملتی ہیں۔ بلکہ اب پیک دودھ میں بھی بہت سی ایسی چیزیں شامل ہوگئی ہیں جن سے اس کی اصلیت متاثر ہوئی ہے، جہاں تک سبزیوں اور پھلوں کا معاملہ ہے تو زہر ناک پیسٹی سائڈس کے اثرات کو بھی اب قابلِ اعتنا تصور کیا جانے لگا ہے۔ اب سے ۲۵؍ سال پہلے برطانیہ میں ایک کتاب نیکنے رپورٹ کے نام سے منظر عام پر آئی جس نے ڈبہ بند غذا کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ۔ ’ٹائمز‘ میگزین نے اس رپورٹ کو صحت کے موضوع پر حرفِ آخر قرار دیا ۔

رپورٹ کہتی ہے کہ مغربی ممالک کی خوراک میں سرخ گوشت، پنیر،مکھن، جام، دودھ اور انڈے شامل ہیں اور یہ وہ اشیاء ہیں کہ جب انہیں تیاری کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو وہ کھانے والوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ نفع کمانے کی خاطر اصل اشیا کو مختلف مزوں میں بدل دینا ایک ایسا اسکینڈل ہے جس میں سرمایہ دار، عوام کی صحت کے ساتھ کھیل کر اپنا کاروبار بڑھا رہے ہیں اور حکومتیں، غذائی صنعت پر اپنی ملکی معیشت استوار رکھتی ہیں۔

نیکنے رپورٹ کے مطابق عوام کی خوارک غیرمتوازن ہے۔ صرف زیادہ کھانے کی وجہ سے برطانیہ کے چھ فی صد مرد اور آٹھ فیصد عورتیں خوفناک حد تک موٹی ہوجاتی ہیں جبکہ موٹاپا خطرناک ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جن میں ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا مرض رہا ہو۔ چینی پر مبنی کھانے پینے کی چیزیں، مٹھائیاں اور ٹافیاں وغیرہ بھی خطرناک موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔ دانتوں کی بیماریوں میں بھی چینی کی مصنوعات کا پورا پورا عمل دخل ہے۔ نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے۔ چربی اور چربیلے مادے کولیسٹرول پیدا کرتے ہیں۔ نشیلی اور کیف آور خوردنی مصنوعات جگر اور گردوں کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان خوردنی بداعتدالیوں سے اعصابی نظام اور ذہن متاثر ہوتے ہیں۔

اس وقت ڈبہ بند غذا کی صنعت عروج پر ہے نتیجتاً مختلف النوع بیماریاں بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہیں۔ بلڈ پریشر، دل کے امراض، کولیسٹرول اور دانتوں کی بیماریاں تو بچپن ہی میں آگھیر تی ہیں۔ ایسے میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ ڈبہ بند اور کمپنیوں کی تیار شدہ اشیا کے بجائے سادہ اور گھریلو کھانوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنی صحت کی حفاظت کرسکیں۔ ذیل میں ہم چند ایسی ٹپس درج کررہے ہیں جن کا غذا میں دھیان رکھا جائے تو ان بیماریوں سے حفاظت ہوسکتی ہے جو ڈبہ بند غذا کے نتائج کے طور پر پھیل رہی ہیں۔

روغنیات اور تیل

گھی، مکھن، چربی اور تیل ہماری خوراک کا اہم جزو ہیں۔ ان کے بغیر کوئی کھانا تیارنہیں ہوتا اور فوڈ انڈسٹری والے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ اشتہاروں کے ذریعے ان چکنی مصنوعات کو صحت کا ضامن قرار دیتے ہوئے بیچتے ہیں۔ یہ چکنائیاں کولیسٹرول سے بھری ہوتی ہیں اور دل کے امراض اور خون کی نالیوں میں رکاوٹ بن کر دورانِ خون کو متاثر کرتی ہیں۔ لہٰذا:

٭ تلنے کے بجائے بھنی ہوئی اشیا کھائیے۔

٭ پکانے میں گھی کا استعمال کم سے کم کیجیے، اس کے بجائے تیل استعمال کیا جائے۔

٭ مکھن، گھی، پنیر یا مارجرین وغیرہ کے بغیر کھانا ممکن نہ ہو تو اس کی پتلی سی تہہ لگائیے۔

گوشت اور انڈے

گوشت ہماری خوراک کا اہم جزو ہے بلکہ ہمارے ہاں مہمانداری کی پہچان ہے۔ گھی میں بھوننے اور مسالے ڈال کر پکانے سے اس کے مفید عناصر مضر اجزا میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے صحت مندانہ استعمال کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ

٭ گوشت کے قتلے باریک بنائیں اور سوختہ کرکے کھائیں۔

٭ مرغی، پرندے یا مچھلی کا گوشت ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ پکانے سے پہلے ان کی کھال اتار لیجیے۔

٭ تلنے کے بجائے بھون کر کھائیں۔

٭قیمے میں چربیلا گوشت استعمال نہ کیجیے۔

٭ ہڈیوں کا گودا سراسر کولیسٹرول ہے، اسے استعمال نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔

٭ دم پخت گوشت سے بھی چربی اتارلیں۔

٭ یخنی کے اوپر تیرتی چربی چمچ سے اتارلیں۔

٭ مچھلی سفید اور موٹی کھائیے اور اسے تیل میں پکائیے۔

٭ پکی پکائی ڈبوں کی بند مچھلی مت کھائیے۔

٭ انڈے صرف ہفتے میں تین کھانے چاہئیں، یہ کولیسٹرول سے بھر پور ہوتے ہیں۔

روٹی اور اجناس پر مشتمل کھانے

٭ ایسی روٹی کھائیے جس میں اناج کے اصلی اور پورے اجزا شامل ہوں۔ میدے کی روٹی سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

٭ کھانے میں دیگر اشیا کے ساتھ روٹی ضرور کھائیے۔

٭ گھی لگانا ہو تو روٹی ہلکی سی چپڑ لیجیے۔

٭ اناج والی خوراک، چینی اور چربی پر مشتمل خوراکوں سے بہتر ہے۔

٭ دلیا، چاول، دالیں خوراک کا اہم اور بڑا جزو ہونی چاہئیں۔

٭ ابلا ہوا اناج اچھی خوراک ہے لیکن مرچ مسالے کم سے کم ڈالیے۔

٭ بسکٹ اور کیک کا کم سے کم استعمال کیجیے۔

٭ سبزی یا سفید گوشت کے سینڈوچ مناسب خوراک ہیں۔

نمک

٭نمک کا استعمال کم سے کم کیجیے۔ ذائقے کی خاطر نمک کا نعم البدل لیموں اور مسالا ہوسکتا ہے۔

٭ کھانے میں بھی نمک کم استعمال کیجیے۔

٭ کھانے کی میز پر سے نمکدانی اٹھا دیجیے۔

٭ مہر بند ڈبوں میں ملنے والی خوراک کا لیبل ضرور پڑھ لیجیے۔ نمکین اشیا نے خریدیے نہ کھائیے۔

٭ بچوں سے اضافی نمک کھانے کے لیے ہرگز نہ کہیے۔

٭بغیر نمک کے کھانے کی رغبت پیدا کیجیے۔

چینی

ہمارے ہاں زیادہ تر سفید چینی استعمال ہوتی ہے۔ سالن کے سوا ہماری ہر کھانے والی شے اور ہر مشروب میں چینی شامل ہوتی ہے۔ چینی کاربوہائیڈریٹس کی ایک قسم ہے۔ اس میں تغذیہ بخش اجزا مفقود ہیں جبکہ مضر اثرات بے شمار ہیں۔ نیکنے رپورٹ میں چینی کا استعمال کم از کم نصف کردینے کی سفارش کی گئی ہے۔

٭ ناشتے میں چینی بالکل استعمال نہ کیجیے۔

٭ کافی اور چائے میں چینی کا استعمال بند کردیجیے۔

٭ کم از کم چینی والے بسکٹ اور کیک کھائیے۔

٭چینی اور میٹھی اشیا کے بجائے تازہ اور خشک پھلوں سے لطف اٹھائیے۔

٭ جسم اور مربے کم کھائیں،بغیر چینی کے جام بھی ملتے ہیں۔

٭ مشروبات میں تازہ پھلوں کے رس کو ترجیح دیجیے، باقی مشروبات ترک کردیجیے۔

٭ گھر میں حلوہ، کھیر، فیرنی، جیلی اور دیگر میٹھی اشیا کم سے کم بنائیے اور یوں اپنے بچوں کے دانت اور وقت بچائیے۔

٭ چینی کی دیگر اقسام مثلاً گلوکوز وغیرہ سے بھی پرہیز کیجیے۔

دودھ اور دہی

٭کریم نکلا تازہ دودھ پیجئے۔

٭ دودھ میں کوئی چیز پکانی ہو تو کریم نکلا دودھ ہی کام میں لائیے۔

٭ بچے، ماں کا دودھ ہی پئیں تو بہتر ہے لیکن اگر مجبوری کے تحت دوسرا دودھ دینا پڑے تو کریم نکلا دودھ ہی دیجیے، تاہم گائے بھینس کا دودھ چھ ماہ سے کم عمر کے بچے کو نہ دیا جائے۔

٭ چائے اور کافی میں بھی کریم نکلا دودھ استعمال کیجیے۔

٭ دہی، کریم کا اچھا متبادل ہے۔

پھل اور میوے

٭ ہر قسم کے پھل زیادہ سے زیادہ کھائیے۔

٭ تازہ پھلوں کا سلاد استعمال کیجیے۔

شیئر کیجیے
Default image
نائلہ مسرور

تبصرہ کیجیے