6

ماسی حاجن

ماسی حاجن اور چوہا چور ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ان کے اصل ناموں کی اس کہانی میں کوئی اہمیت نہیں۔ گاؤں کا نام لکھنا بھی ضروری نہیں۔ کیا پتا وہ میرا ہی گاؤں ہو۔

چوہا چور کوئی نامی گرامی چور نہیں تھا۔ وہ جس زمانے کا چور تھا، اس میں چوروں کا بھی ضابطہ اخلاق ہوتا تھا مگر وہ اس کا بھی پابند نہیں تھا، مثلاً اس نے اکثر چوریاں اپنے ہی گاؤں میں کیں حالانکہ مشہور تھا کہ جس گاؤں میں چور پیدا ہوجائے، وہاں کے لوگ رات کو سکھ کی نیند سوتے ہیں۔ ساتھ کے گاؤں میں اس کے ہم عصر کریم چور نے بڑا نام پیدا کیا تھا، اس کے ہوتے اس کے گاؤں میں کبھی چوری نہیں ہوئی تھی۔

چوہا چور ایک ہی ضابطۂ اخلاق کا قائل تھا کہ چور کو چوری کرنی چاہیے خواہ وہ اپنے ہی گھر میں کیوں نہ ہو۔ مشہور تھا کہ پورے ایک سال اسے چوری کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ یا تو چوکیدار اسے عین موقع پر آلیتا اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوجاتا یا گھر کے لوگ جاگ اٹھتے۔ زچ ہوکر اس نے اپنے ہی گھر میں چوری کرلی تھی۔ اپنے چھوٹے بھائی کے ہاں جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔

گھر کا جو کمرہ انہیں بٹوارے میں ملا تھا، اس کے پیچھے کوٹھڑی تھی۔ دلہن نے مٹی کے ایک بڑے گھڑے کی تہہ میں اپنے زیور رکھے ہوئے تھے۔ اور اوپر سے اس میں گیہوں بھردیے تھے۔ چور نے گلی کی طرف سے کوٹھڑی میں نقب لگائی اور گھڑے کے منھ پر مٹی سے چپکا ہوا ڈھکنا ہٹایا اور گیہوں انڈیل دیے۔ فرش پر ڈھیر سا لگ گیا۔ تہہ میں رکھی پوٹلی کو ٹٹول ٹٹول کر نکال لینے میں اسے کوئی خاص دقت نہ ہوئی۔

پھر چوہا چور نے کہا: ’’ہونا ہو! یہ کارستانی چودھری کریم کی ہے۔ دیکھتا ہوں کہ اسے ہمارے گھر میں چوری کرنے کی جرأت کیسے ہوئی۔‘‘ وہ کریم چور کے گاؤں گیا یا کالے چور کے، کسی کو کھوج لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ سبھی کو یقین تھا کہ زیور خود چوہا چور نے چرائے ہیں۔ چوری کا چسکا بھی شراب کے نشے سے کم نہیںہوتا جب منہ کو لگ جائے تو چھٹتی نہیں۔ وہ ایک رات باہر رہ کر واپس آیا تو زیوروں کی پوٹلی چھوٹے بھائی کی بیوی کو دے کر بولا: ’’لڑکی! دیکھ لے! کوئی زیور کم تو نہیں؟‘‘

اسے چوہا چور کا جو لقب ملا تھا، اس کی وجہ تسمیہ کچھ یوں ہے۔ وہ ایک جوان تھا۔ دبلے پتلے پھرتیلے جسم کا مالک، بدن میں بہت لچک تھی۔ سکڑ سمٹ کر چھوٹے سے سوراخ سے بھی گزرجاتا۔ اس کی لگائی ہوئی نقب سے چوہا گزر جائے تو گزرجائے، کسی آدمی کے بچے کا گزرنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔

اوپر میں نے کریم چور کو چودھری کہا ہے۔ اس لیے نہیں کہ چورا چکا چودھری ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ رات کو وہ چور ہوتا اور دن کو چودھری۔ دس بارہ ایکڑ زمین کا مالک بھی تھا۔ لٹھے کا کرتا اور تہبند، سر پر پگڑی جس کا طرہ بھی نکلا ہوتا، پاؤں میں نازک سی دیسی جوتی اور ان کے نیچے سبک رفتار گٹھے ہوئے جسم والی گھوڑی۔ سنا تھا کہ گاؤں کی پنچایت میں اکثر اوقات اسے سرپنچ بھی چنا جاتا۔

میں نے اپنے لڑکپن میں اسے دیکھا تھا، اپنے ننھیالی گاؤں میں جہاں وہ ایک شادی میں شریک ہوا تھا۔ میں نے اپنے ماموں سے جو اس گاؤں کے پیر صاحب مشہور تھے، اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر اس کے پاس گئے جہاں بارات ٹھہری ہوئی تھی۔ کریم انہیں دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔ میرے ماموں نے کہا: ’’چودھری کریم! یہ لڑکا تم سے ملنا چاہتا ہے۔‘‘

اس نے بڑھ کر ہاتھ ملایا اور بولا: ’’چھوٹے پیر جی! آپ نے یہاں آکر میری عزت بڑھائی۔ فرمائیے! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔‘‘

میں نے ہچکچا کر کہا: ’’چچا! یونہی … میرا مطلب ہے… ہمارے گاؤں میں بھی ایک چور ہے، کیا آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘

چودھری کریم کھلکھلا کر ہنسا: ’’کیوں نہیں؟ … جانتا ہوں … چوہا چور کو کون نہیںجانتا… اپنا دوست بھی ہے۔‘‘

’’لیکن وہ آپ کی طرح کا کیوں نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

وہ میرے سوال پر کچھ دیر خاموش رہا، پھر مسکرا کر کہنے لگا: ’’بھتیجے! وہ صرف چور ہے، چودھری نہیں… اپنے ہی گاؤں میں چوری کرتا ہے… لیکن کالے کوسوں دور کسی گاؤں میں ہونے والی چوری میں پھر بھی پولیس اسے دھر لیتی ہے… میں تھانے کے اندر بھی چوری کرلوں، پولیس مجھ پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔‘‘

چودھری کریم کی یہ منطق فوراً میری سمجھ میں آگئی۔ وہ چور ضرور تھا لیکن رکھ رکھاؤ کا قائل، وضع دار قسم کا، طرہ اونچا رکھ کر چوری کرنے والا چور۔ صرف اسے لوٹتا جو لوٹے جانے کے قابل ہوتا۔ پھر سخی بھی تھا۔

ماسی حاجن کے ہاں جو چوری چوہا چور نے کی، وہ میرے ہوش سے پہلے کی ہے، لیکن چونکہ یہ واقعہ میرے گاؤں میں بہت اہمیت کا حامل تھا، اس لیے ایک دو نسلوں تک چلا اور اب میں یہ کہانی لکھ کر اپنے سے بعد کی نسل کو پہنچا رہا ہوں۔ یہی دوچار کہانیاں تو گاؤں کی کل کائنات ہوتی ہیں۔

ماسی حاجن بڑی دیندار خاتون تھی۔ ابھی جوان ہی تھی کہ حج کا شوق اس کے دل ودماغ پر چھا گیا۔ اس نے پیسہ پیسہ بچا کر حج کے لیے رقم جمع کی اور جب رقم پوری ہوئی تو وہ ادھیڑ عمر کی ہوچکی تھی۔ ہزار ڈیڑھ ہزار روپے کے سکے تھے جو اس نے لوہے کی ایک صندوقچی میں ڈال کر گھر کی سب سے پچھلی کوٹھڑی کے فرش میں دفن کردیے تھے۔ اس کا پتا صرف اس کے خاوند کو تھا۔

کہتے ہیں کہ چور کو قدرت نے ایک حس زیادہ دی ہوتی ہے۔ جی تو نہیں مانتا کہ قدرت نے چوہا چور پر بھی یہ مہربانی کی ہوگی پر اس نے عین اسی کوٹھڑی میں نقب لگائی جہاں صندوقچی دبی ہوئی تھی اور فرش بھی وہیں سے کھودا۔ جس طرح سے آیا تھا، اسی طرح سے واپس چلا گیا لیکن صندوقچی لے کر۔

صبح گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی نمازی نے نقب دیکھی اور چلا کر کہا: ’’گھر والو! تم لٹ گئے ہو۔‘‘

ماسی حاجن بڑی صبر و شکر والی خاتون تھی۔ جزع فزع سے باز رہی۔ چور کو بددعا بھی نہ دی۔ صرف اتنا کہا: ’’اللہ کو مجھ گنہگار کا حج منظور نہیں تھا۔‘‘

گاؤں کے لوگ چاہتے تھے کہ چوہا چور کو مسجد میں لے جاکر قرآن اس کے سر پر رکھیں اور قسم لیں لیکن ماسی نے منع کردیا۔ کہنے لگی: ’’اس کا وبال اس کی اولاد پر پڑے گا۔‘‘

خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کیوں اور کیسے اسی دن سے لوگ اسے ماسی حاجن کے نام سے پکارنے لگے۔

ایک روایت یہ بھی مشہور تھی کہ ماسی کو خواب میں حج نصیب ہوگیا تھا۔ گاؤں کے واحد حاجی بابا الٰہ داد نے ماسی کی زبانی اس کا خواب سنا تو رونے لگا۔ اس نے خواب میں دیکھی ہوئی ہر تفصیل کی تصدیق کی اور کہا: ’’ہم اتنی تکلیفیں برداشت کرکے حج کر تو آئے پر کیا پتا ہمارا حج قبول بھی ہوا یا نہیں اور اس لڑکی کو خدا نے خواب میں حج کرایا، تو سمجھو اسے قبول بھی کرلیا۔‘‘

پر چوہا چور چوری سے باز نہ آیا۔ چور سے قطب بننے والے لوگ اور ہی ہوتے ہیں۔ نظرکیمیا اثر بھی تو جوہر قابل ہی کو متاثر کرتی ہے۔

دو ڈھائی سال بعد چوہا چور نے اپنی بیٹی کی شادی خاصی دھوم دھام سے کی اور اسے جہیز بھی اچھا دیا۔

ماسی نے کہا: ’’چلو میرا پیسہ میری دھی کے کام تو آیا۔‘‘

ایک چوری میں وہ پکڑا گیا، مقدمہ بنا اور اسے تین سال کی سزا ہوگئی۔ چھٹ کر آیا تو سیدھا مسجد میں پہنچا۔ غسل خانے میں نہا دھوکر صاف ستھرے کپڑے پہنے اور اعلان کردیا کہ آج وہ چوری سے تائب ہوگیا ہے۔

مشہور ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ ایک بار وہ دیسی شراب کی خفیہ بھٹی چلانے پر بھی پکڑا گیا۔ پھر مشہور ہوا کہ وہ پڑیاں بیچتا ہے۔ گاؤں میں کئی نوجوان پڑیوں کے عادی ہوگئے اور چوریاں بڑھ گئیں۔ گاؤں کی ایک مسجد سے پنکھے اور وال کلاک غائب ہوئے، دوسری میں پانی کے لیے جو موٹر لگی تھی، وہ کسی نے اکھیڑ کر بیچ کھائی۔ یہ کام پڑیوں کے عادی نوجوانوں ہی کا تھا۔

لوگوں نے کہا کہ ان کا گناہ بھی چوہا چور کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا۔ اور ایک دن گاؤں کی سب سے بڑی مسجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان ہوا کہ (فلاں) چودھری حج پر جارہا ہے۔ کسی کو اس سے کوئی لینا دینا ہو تو مسجد میں آجائے۔

اس اعلان کے پیچھے صرف اتنی سی داستان ہے کہ اس ’’چودھری‘‘ کے ایک بیٹے نے شہر جاکر ٹریکٹروں کی مرمت کا کام سیکھا اور اپنے گاؤں میں ورکشاپ کھول لی۔ وہ بیٹا اپنے باپ کا مجسم ردِ عمل تھا یعنی محنت اور حلال کی روزی کمانے کا قائل۔ اس کی ورکشاپ چل نکلی۔ اس نے اتنی رقم پس انداز کرلی کہ باپ کو حج کراسکے اس کے باپ نے بہت لیت و لعل کیا اور کہا کہ حج کہیں بھاگا تو نہیں جارہا، پہلے اپنا مکان پکا کرلو، زمین پر ٹیوب ویل لگواؤ اور ٹریکٹر خرید کر کرائے پر چلاؤ۔ لیکن بیٹے کی ایک ہی رٹ تھی کہ ابا حج پر جاؤ۔

اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو چور کے بجائے ایک حاجی کا بیٹا کہلوانا چاہتا تھا۔

چنانچہ مجبور ہوکر چوہا چور نے باقاعدگی سے مسجد میں جانا شروع کردیا، داڑھی رکھ لی اور کچھ مسئلے مسائل بھی سیکھے۔ لوگ کہتے کہ اب وہ سچے دل سے تائب ہوگیا ہے۔

جب نماز روزہ پکا ہوگیا تو اس نے بیٹے سے کہا: ’’اب میں حج پر جانے کو تیار ہوں۔‘‘

مسجد سے لاؤڈ اسپیکر پر جو اعلان ہوا، وہ ماسی حاجن نے سن لیا۔ وہ اعلان کروائے بغیر حج پر چلا جاتا تو ماسی کچھ نہ کہتی۔ اب اس پر فرض عائد ہوگیا تھا کہ وہ مسجد میں جائے اور اپنا مقدمہ دائر کرے۔

چنانچہ جب وہ مسجد کے صحن میں پہنچی، اس وقت چوہا چور اجلے کپڑے پہنے نمازیوں کے جھرمٹ میں دلہا بنا بیٹھا تھا کیونکہ دو تین ہار اس کے گلے کی زینت تھے۔

ماسی کے، صحن میں قدم رکھتے ہی مسجد کی فضا میں ایک عجیب سی سنسناہٹ پیدا ہوئی اور لوگوں نے جانا جیسے ہوا کا کوئی تیز جھونکا انہیں سرسرا کر گزر گیا ہو۔ چوہا چور کانپنے لگا۔

مولوی صاحب نے پوچھا: ’’ماسی! تم کیوں آئیں؟‘‘

ماسی نے چوہا چور کی طرف اشارہ کرکے پوچھا: ’’مولوی جی! کیا اس کا حج قبول ہوجائے گا؟‘‘

’’یہ تو اللہ کو معلوم ہے ماسی! میں کون ہوتا ہوں کہ حج کے قبول ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دے سکوں۔‘‘ مولوی صاحب بولے۔

’’کیا اسے یقین ہے کہ اس کا حج قبول ہوجائے گا؟‘‘ ماسی نے پھر پوچھا۔

’’اس کا جواب تو چودھری ہی دے سکتا ہے ماسی حاجن!‘‘ مولوی صاحب نے جواب دیا۔

سارے نمازیوں کی نظریں چوہا چور کے چہرے پر جم گئیں جس کے جسم میں لہو کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔

چند لمحوں کے توقف کے بعد کہ جو لوگوں کو بہت ہی طویل محسوس ہوا،وہ آنکھیں جھکا کر بولا: ’’ماسی حاجن ٹھیک کہہ رہی ہے۔ میرا حج قبول نہیں ہوسکتا۔‘‘

’’کیوں ابا؟‘‘ اس کے بیٹے نے گھبرا کر پوچھا۔ چوہا چور کے بیٹے کو ایک نظر دیکھ کر زاروقطار رونے لگا۔

ماسی نے اس سے مخاطب ہوکر کہا:’’اللہ کے بندے! تمہیں اتنا بڑا بول نہیں بولنا چاہیے تھا۔ دنیا میں کون ہے جو ’’لینے دینے‘‘ کا پورا حساب چکاسکتا ہو… میں نے تم … اچھا! اپنا حساب تم جانو۔ میرا تم سے کوئی لینا دینا نہیں… اللہ ! تمہارا حج قبول کرے‘‘

یہ کہہ کر ماسی حاجن مسجد سے چلی گئی۔

چوہا چور کچھ دیر گھٹنوں میں سر دئیے روتا رہا۔ پھر اس نے گلے سے ہار نوچے، گریبان پھاڑا اور پگڑی گلے میں ڈال کر مسجد سے نکل گیا۔ جب وہ گلی میں پہنچا تو زور سے چلایا: ’’لوگو! سن لو! میرا حج قبول ہوگیا۔ میرا حج قبول ہوگیا۔‘‘ وہ گلیوں سے ہوتا ہوا قبرستان میں جاپہنچا اور وہاں ایک کونے میں ایک ببول کے سائے تلے بیٹھ گیا اور منہ پر چپ کی مہر لگا لی۔

کیا چور قطب ہوگیا تھا؟

اللہ جانے!

لیکن سعادت مند بیٹے کو ساری عمر یہ افسوس رہا کہ وہ اپنے آپ کو حاجی کا بیٹا نہ کہلواسکا؟

شیئر کیجیے
Default image
غلام الثقلین نقوی