3

سر کا درد : چند اہم باتیں

’’امی! میرا سر تو درد سے پھٹا جارہا ہے۔‘‘

’’آج تو صبح سے سر میں شدید درد ہے۔‘‘

’’اس سر کے درد نے تو مجھے بے حال کردیا ہے۔‘‘

اس قسم کے جملے ہم روز سنتے ہیں اور ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے کیونکہ جب تک اپنے سر میں درد نہ ہو ہم اسے عارضہ کے بجائے ایک محاورہ ہی سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ زندگی کی الجھنوں اور فضائی آلودگی نے سیدھی سادی تکلیف کو بھی پیچیدہ شکل دے دی ہے۔ اس لیے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ دردِ سر کی کیا کیا صورتیں ہوسکتی ہیں؟ اور وہ کس حد تک بے ضرر ہے؟ اور کن صورتوں میں خطرناک ہو سکتا ہے؟ اور کون سی علامات ہیں جن کے ظاہر ہونے پر ہمیں ضرور اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

پہلا قدم

دردِ سر کو جلد سے جلد ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جیسے ہی سر میں گرانی محسوس ہو، اپنا کام چھوڑ دیں، کسی خاموش اور تاریک کمرے میں جاکر لیٹ جائیں ، تولیہ ٹھنڈے پانی میں بھگو کر درد کے مقام پر رکھیں۔ گردن، کندھوں، جبڑوں اور سر پر ہلکا سا مساج کریں اور ہوسکے تو کچھ دیر سوجائیں۔ مطالعہ ہرگز نہ کریں۔

فوراً کام چھوڑ کر آرام کرنا اگر آپ کے لیے ممکن نہ ہوتو بلا تاخیر درد رفع کرنے والی کوئی دوا مثلاً اسپرین کھالیں۔ درد کی موجودگی میں غذا ہلکی رکھیں، نشہ آور چیزوں سے مکمل پرہیز کریں۔ دھویں اور تیز روشنی سے بچیں۔ معمولی قسم کا دردِ سر ان تدابیر سے تھوڑی دیر میں ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے پریشان ہونے یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔

دوسرا قدم

ابتدائی تدابیر سے درد ٹھیک نہ ہو یا دردِ سر کا حملہ بار بار ہوتا ہو تو اپنے معالج سے مشورہ کریں، ممکن ہے ڈاکٹر بظاہر اس معمولی دردِ سر کی وجہ سے آپ کا مکمل طبّی معاینہ کرے اور کچھ لیبارٹیری ٹیسٹ بھی کرائے۔ ان کا مقصد دردِ سر کی اصل وجہ تلاش کرنا ہوتا ہے جس میں ہائی بلڈ پریشر وغیرہ بھی شامل ہیں لیکن یاد رکھیے کہ دردِ سر کی اصل وجہ کے تعین میں سب سے اہم آپ کی کیس ہسٹری ہے۔ مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے آپ ایک کاغذ پر درد کی نوعیت، اس کے کم اور زیادہ ہونے کے اوقات، سر کے درد والے حصوں کی تفصیل لکھ لیں۔ یہ بھی لکھیں کہ وہ کن حالات میں شروع ہوا، اس سے پہلے کن وجود سے شروع ہوا تھا، کتنے دن کے وقفے سے ہوتا ہے، کن چیزوں کے استعمال کے بعد ہوتا ہے اور اس وقت آپ کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔

دردِ سر کی وجہ تلاش کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اسباب بھی ذہن میں رکھیں:

غذا

بہت دیر تک بھوکے رہنے سے دردِ شروع ہوسکتا ہے۔ چائے، کافی یا ایسے مشروبات کے کثرتِ استعمال سے جن میں کیفین شامل ہو دردِ سر ہوسکتا ہے، اگر ان مشروبات کی عادت پڑجائے اور پھر یک لخت انہیں چھوڑ دیا جائے تو پھر سر میں درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔

حساسیت

مختلف غذاؤں میں شامل کچھ اجزاء سے حساسیت (الرجی) بھی دردِ سر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مثلاً:

ٹائی رامین (Tyramine) سر کے، کھٹی دہی، زیادہ عرصے سے رکھے ہوئے پنیر،خمیر سے تیار ہونے والی چیزوں اور ترش پھلوں میں پایا جانے والا یہ کیمیائی مادّہ کچھ لوگوں میں دردِ سر کا باعث بنتا ہے۔

٭ نائٹرٹیس اور نائٹرائٹس: یہ کیمیائی اجزاء گوشت اور دیگر غذائی چیزوں کو خوش رنگ بنانے اور انہیں زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے صنعتی پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں میں یہ سر کے درد کا باعث بن جاتے ہیں۔

٭ ایم ایس جی (مونوسوڈیم گلوٹیمیٹ): عرفِ عام میں اسے اجینوموٹو بھی کہا جاتا ہے۔ سوپ اور دیگر کھانوں میں یہ ذائقہ ابھارنے کے کام آتا ہے جو لوگ اس سے الرجک ہوتے ہیں۔ انہیں بہت دن بعد پتہ چلتا ہے کہ اُن کے دردِ سر کے پیچھے دراصل اجینوموٹو کی کارفرمائی تھی۔

٭ نشہ آور اشیا، بازاری مشروبات، تمباکو کا دھواں اور ٹریفک کا دھواں بھی دردِ سر پیدا کرنے والے بڑے عوامل میں شامل ہیں۔

جسمانی اسباب

٭ نامناسب زاویے سے بیٹھنے، کھڑے ہونے یا چلنے کی عادت سے گردن کے عضلات اور ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑتا ہے اور دردِ سر شروع ہوجاتا ہے۔

٭ دانتوں کی ایک خرابی بھی جسے ٹی ایم کہتے ہیں، بعض لوگوں میں دردِ سر پیدا کرتی ہے۔ اگر آپ کو اکثر دانت پیسنے کی عادت ہے، یا آپ نے حال ہی میں دانت بھروائے ہیں اور دردِ سر کا شکار ہیں تو یہ بات اپنے ڈاکٹر کے علم میں لائیں۔

عضلاتی اور اعصابی تناؤ

دردِ سر کی یہ سب سے عام قسم ہے، یہ گردن یاسر کے عضلات کے تناؤ یا ان کے اکڑ جانے سے پیدا ہوتا ہے، پورے سر میں محسوس ہوتا ہے، مریض کو لگتا ہے جیسے سر کے گرد کوئی رسّہ باندھ کر اسے کس دیا گیا ہو۔ یہ درد عام طور پر کام کی زیادتی، پریشانی، ذہنی دباؤ یا تھکن سے ہوتا ہے، تاہم مناسب جسمانی زاویہ، جبڑے بھینچے رکھنے کی عادت یا گردن کے عضلات پر گٹھیا کے اثرات بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

آپ کو اگر کبھی ایسا درد ہوتا ہے اور وہ پہلے قدم میں بتائے گئے طریقے اور آرام کے بعد ٹھیک ہوجاتا ہے تو پریشانی کی بات نہیں، لیکن درد بار بار اور شدید تر ہوتو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

متورم سائی نس کی وجہ سے درد

آنکھوں کے نیچے یا اوپر بھاری پن کا احساس اور اس کے ساتھ سر میں درد اس بات کا ثبوت ہے کہ سائس نس متورم ہیں۔ اس کی وجوہ میں الرجی یا انفیکشن شامل ہوسکتے ہیں۔ اس حالت میں دافعِ دردِ ادویات استعمال کرنا مناسب نہیں ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور باقاعدہ علاج کرائیں۔

دردِ شقیقہ

اس قسم کا درد دماغ کی شریانیں پھیل جانے اور ان میں خون کا دباؤ بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور بڑی تیزی سے اپنی شدت کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ عام طور پر سر کے ایک جانب اور شکن دار، یعنی دل کی دھڑکن کے ساتھ ہوتا ہے، آنکھوں کے آگے چمک کا احساس، عارضی اندھا پن اور دیگر اعصابی علامات موجود ہوسکتی ہیں۔ درد کا دورہ چند گھنٹوں سے لے کر کئی دن تک رہ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ متلی، قے اور دست کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

تھکن یا ذہنی دباؤ اس درد کے دورے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسی غذائیں بھی وجہ بن سکتی ہیں جن سے مریض کو الرجی ہو۔

کلسٹر درد (Clustr Headache)

یہ درد شدید ہوتا ہے اور آنکھوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک رہتا ہے اور کچھ دیر بعد پھر شروع ہو جاتا ہے۔ ہر چند ہفتے بعد اس کادورہ پڑتا ہے۔ اس درد کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ عام درد شکن ادویات اس درد کے لیے بے اثر ہوتی ہیں۔

تنبیہ: دردِ سر کی نوعیت اگر شدید ہو اور وہ ماضی میں ہونے والے درد سے مختلف ہویا اس کے ساتھ بخاربھی ہو، گردن اکڑی ہوئی ہو، دیکھنے، سننے میں رکاوٹ ہو یا مزاج میں تبدیلی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

دردِ سر اگر چوٹ لگنے کے بعد ہو اور ایک یا دو دن سے زیادہ جاری رہے تو کسی ماہر معالج سے فوری طور پر مشورہ لینا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
فرید الدین احمد