4

کیسے بنیں ہر دل عزیز شخصیت!

کون خاتون ہوگی جو یہ نہ چاہے کہ معاشرے میں اسے عزت و وقار اور قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جائے؟ عزیز و اقارب اور دوست و احباب اسے سر آنکھوں پر بٹھائیں اور معاشرے میں اس کی پہچان ایک ہر دلعزیز اور پسندیدہ شخصیت کے طور پر ہو لیکن سوال یہ ہے کہ ہر دلعزیزی یا غیر معمولی پسندیدگی سب کے حصے میں کیوں نہیں آتی؟ چند گنے چنے لوگ ہی نمایاں شخصیت کے حامل کیوں ہوتے ہیں؟ اگر آپ کا شمار ہر دلعزیز اور پسندیدہ ترین شخصیات میں ہوتا ہے تو آپ مبارک باد کی مستحق ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ بھلا دنیا میں کوئی ایسا کام بھی ہے جو آپ کرنا چاہیں اور نہ کرسکیں؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کے اندر بھی لوگوں کے دلوں میںگھر کرنے کی تمام صلاحیتیں موجود ہوں لیکن آپ نے کبھی ان پر غور ہی نہ کیا ہو۔ آئیے ہم چند اہم عوامل پر بحث کرتے ہیں جو کسی شخص کو حلقہ احباب میں مقبول اور ممتاز شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے آپ کو اپنا جائزہ لینے، اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں آزمانے میں آسانی ہو اور بہت ممکن ہے کہ آپ خاندان، حلقۂ احباب اور رشتہ داروں میں پسندیدہ اور ممتاز تصور کی جانے لگیں۔

علم و عمل میں ہم آہنگی

دنیا میں کوئی ایسا معاشرہ نہیں جہاں علم و عمل اور حکمت و دانش کی قدر نہ کی جاتی ہو۔ کیونکہ علم ہی سے انسان وہ ہنر اور اصول سیکھتا ہے جن پر عمل پیرا ہوکر شخصیت میں نکھار پیدا کیا جاسکتا ہے۔ افلاطون، ارسطو، حضرت لقمان اور حضرت رابعہ بصری کو آج تک ان کے علم و عمل اور حکمت ودانش کے باعث ہی یاد کیا جاتا ہے۔ بے علم اور بے شعور خواتین شتر بے مہار کی طرح ہوتی ہیں۔ جن کی زندگی میں نظم و ضبط اور تہذیب و شائستگی کی شدید کمی ہوتی ہے۔ اسی طرح کوئی کتنی ہی صاحبِ علم یا تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ باعمل نہیں ہے تو اس کا علم کسی کام کا نہیں اور نہ ہی لوگ اسے قدرومنزلت اور عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ علم و شعور آپ کی پوری شخصیت اور ہر عمل سے جھلکنا چاہیے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر آپ دوسروں کو خوش لباسی کا درس دے رہی ہیں لیکن خود آپ نے میلے کپڑے زیب تن کررکھے ہیں تو کون ہوگا جو آپ کی بات کا اثر لے گا۔

قربانی کا جذبہ

لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں دوسروں کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ موجود ہو۔ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی، مالدار، تہذیب یافتہ اور اعلیٰ خاندان کی کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ ہر معاملے میں اپنے ذاتی فائدے اور آرام کو اہمیت دیتی ہے تو معاشرے میں کوئی بھی خاتون اسے پسند نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ جب تک آپ دوسروں کے فائدے اور بھلائی کے لیے نہیں سوچیں گی کوئی بھی آپ کے فائدے اور بھلائی کے لیے نہیں سوچے گا۔ یاد رکھیں کہ جس طرح درخت خود دھوپ میں جل کر دوسروں کو سایہ بخشتا ہے اسی طرح اگر آپ دوسروں کو فائدہ پہنچانا یا ان کی خوشی کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو ممکن ہے کہ آپ کو بھی اپنے وقت، پیسے، ضرورت یا خواہش کی تھوڑی بہت قربانی دینی پڑے۔ اگر آپ اس کا حوصلہ نہیں رکھتیں تو کبھی دوسروں کی نگاہ میں ہر دلعزیز اور پسندیدہ شخصیت کے طور پر نہیں ابھرسکتیں۔ تاہم دوسروں کے کام آنے میں جو روحانی سکون اور اطمینان آپ کو نصیب ہوگا اس کے سامنے اس تھوڑی بہت قربانی کی کوئی حیثیت نہیں۔ بلکہ اللہ کی نظر میں تو یہ بہت عظیم ہے اور اسی خوبی پر ہماری آخرت کی کامیابی بھی منحصر ہے۔

غلطیوں کا اعتراف اور تلافی کرنا

یاد رکھیں کہ پسندیدہ اور ہر دلعزیز شخصیت ہونے کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ آپ انسان سے فرشتہ بن گئی ہیں۔ غلطیاں، کوتاہیاں، بھول چوک انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور کوئی بھی عام انسان زندگی بھر ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔ لہٰذا یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اپنی ان کمزوریوں، غلطیوں یا کوتاہیوں کا ازالہ کس طرح کرتی ہیں؟ یہ چیز بھی کسی انسان کو مقبول یا غیر مقبول بنانے میںنہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ایک شخص کسی کا دل دکھاتا ہے یا اسے ہاتھ یا زبان سے تکلیف پہنچاتا ہے مگر اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اور نہ اس کی تلافی کو ضروری سمجھتا ہے تو دوسروں کی نظر میں وہ کبھی ایک ممتاز اور پسندیدہ شخصیت کے طور پر سامنے نہیں آئے گا۔اور نہ ایسے شخص کو لوگ دل سے پسند کریں گے۔ ہوسکتا ہے لوگ اس کے عہدے، رتبے، صنف، عمر یا بالوں کی سفیدی کو سامنے رکھتے ہوئے بظاہر اس کی عزت کریں لیکن وہ دل سے اسے قبول نہیں کریں گے۔ اگر دانستہ یا نادانستہ آپ کے رویے سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے خواہ وہ آپ سے عہدے، رتبے یا عمر میں چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اور آپ تھوڑی دیر بعد کسی مناسب وقت پر اس کی تلافی یا معذرت کرلیتی ہیں یا یوں کہتی ہیں کہ ’’میری بات کا برا نہ منانا، میں نہ جانے غصے میں کیا کہہ گئی ہوں۔‘‘ اگر دوسرا فرد سمجھدار اور سلجھا ہوا ہے تو اس کے لیے آپ کا یہی جملہ کافی ہوگا اور اس کا دل آپ کی طرف سے صاف ہوجائے گا۔ وہ سمجھ جائے گا کہ آپ دل کی بری نہیں۔ (ہاں جو اخلاقیات سے ناواقف لوگ ہوں، وہ آپ کی معذرت کو کمزوری یا کچھ بھی سمجھ لیں اس پر آپ کے افسوس کرنے کی ضرورت نہیں)۔

اپنی غلطی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا اگرچہ ذرا مشکل کام ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ہی عقلمندی اور فہم و فراست کی علامت بھی ہے۔ پڑھے لکھے اور باشعور افراد کی نظر میں آپ کا یہ عمل آپ کی شخصیت کو زیادہ جاذبِ نظر اور پسندیدہ بنانے میں نہایت معاون ثابت ہوگا۔ اور اس عمل سے آپ اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی گرفت سے بچ جائیں گی۔ غلطی تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرد اس کی اصلاح پر بھی توجہ دے گا۔ بہتر یہی ہے کہ غلطی کو خود ہی محسوس کیا جائے اگر دوسروں کے احساس دلانے پر غلطی کو محسوس کیا جائے تو غلطی تسلیم نہ کرنے سے تو بہرحال بہتر ہے مگر اس طرح و ہ مقام ملنا مشکل ہے جو خود غلطی تسلیم کرنے سے لوگوں میں حاصل ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کا قول ہے کہ ’’عقلمند اپنے عیب خود دیکھتا ہے دنیا نہیں دیکھتی جبکہ بے وقوف اپنے عیوب خودنہیں دیکھتا دنیا دیکھتی ہے۔‘‘ یاد رکھیں غلطی کرنا اگر برائی ہے تو اسے تسلیم کرنا بڑائی ہے۔ تاہم آپ کا یہ عمل کبھی کبھار ہونا چاہیے لیکن اگر آپ دل دکھانے، دوسروں کو بہت معمولی باتوں پر بلا وجہ ڈانٹنے اور برا بھلا کہنے کے بعد معذرت کرنے کی عادت بنالیتی ہیں تو آپ کی یہ معذرت کوئی بھی قبول نہیں کرے گا بلکہ دوسرے لوگ آپ کو ایک ایسی چالاک اور ہوشیار خاتون سمجھنے لگیں گے جو دوسروں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں ’’معذرت‘‘ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

خلافِ توقع نتائج کا سامنا

پسندیدہ اور مقبول شخصیت کی تعمیر کے لیے آپ میں خلافِ توقع نتائج سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت ہونی چاہیے۔ آپ میں جس قدر اختلاف سے عمدہ طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت ہوگی آپ کی شخصیت اسی اعتبار سے کامیابی کی طرف گامزن رہے گی۔ خواہ اس میں آپ کو کتنا ہی تحمل و برداشت سے کام کیوں نہ لینا پڑے۔ اختلاف یا تضاد زندگی کا حسن اور انسان کے متحرک رہنے کے لیے ضروری ہے۔ فطرت بھی اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ متضاد چیزوں کا وجود بھی لازمی ہے غرض ہر مثبت چیز کے ساتھ کوئی منفی پہلو ضرور وابستہ ہوتا ہے۔ اگر رات نہ ہوتی تو دن کی پہچان کرنا ناممکن تھا۔ یاد رکھئے کہ آپ کو ’’اچھے‘‘ کے ساتھ ’’برے‘‘ کو بھی قبول کرنا پڑے گا۔ خوشی کے ساتھ غم نہ ہو تو خوشی کو محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اختلاف یا تضاد انسانی شعور کو بڑھاتا ہی نہیں بلکہ اس میں پختگی لاتا ہے۔ یہاں اختلاف سے سمجھوتہ کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ غلط کو غلط کہنا چھوڑ دیں اور حق بات سے تائب ہوجائیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ غلط اس طرح کہیں کہ آپ کا مقصد بھی پورا ہوجائے اور سامنے والے کی دل آزاری بھی نہ ہو اور سچائی کی اہمیت بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ یہ سوچنا ترک کردیں کہ عمل کے نتائج ہمیشہ آپ کی سوچ کے مطابق ہی نکلیں گے۔ کوئی بھی کام کرتے وقت اس کے نتائج کے تمام ممکنہ پہلوؤں کو سامنے رکھیں تاکہ خلافِ توقع حالات سے نمٹنے کے لیے آپ کا ذہن تیار رہے۔

برداشت سے کام لینا

آپ اس وقت تک اختلاف سے سمجھوتہ کر ہی نہیں سکتیں اور نہ آپ دوسروں کے دل جیت سکتی ہیں جب تک کہ آپ میں خاطر خواہ قوتِ برداشت موجود نہ ہو۔ یہ چیز اگرچہ تھوڑی سی مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اگر آپ اس کو اپنی عادتوںمیں شمار کرلیں گی تو آہستہ آہستہ اپنی شخصیت میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس کریں گی۔ یاد رکھیں کہ آپ اپنے گھر، رشتہ داروں یا آپ جہاں کہیں بھی ہیں اپنے سے وابستہ لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتیں اور خصوصاً ان لوگوں کو جو آپ کے ذہنی میلان یا رجحان سے ناواقف ہیں اور صلاحیتوں سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ تو لوگوں کا دل جیتنا ناممکن ہے۔ لہٰذا ان کی بہت ساری باتوں کا بہترین جواب صرف ’’خاموشی‘‘ ہے تاہم اس خاموشی سے تکبر، غرور اور نخوت نہیں بلکہ خوش خلقی کی چاشنی نمایاں ہونی چاہیے۔ کوشش کریں کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دیا جائے کہ ’’اس کا تو کسی بات پر منہ ہی سیدھا نہیں ہوتا یا وہ تو ہم سے بات کرنا بھی جیسے اپنی توہین سمجھتی ہے۔‘‘

اگر آپ کسی تجویز یا بات سے اتفاق نہیں کررہی ہیں تو اسے قطعی رد کرنے کے بجائے یوں کہیں ’’میرے خیال میں اگر اس کام کو یوں کیا جائے تو کیا زیادہ بہتر نہیں ہوگا؟‘‘ یا یوں کہیں کہ ’’میری رائے میں یہ چیز یوں نہیں یوں ہے۔‘‘ اگر آپ با اختیار ہیں تو یقینا اپنی مرضی کریں گی، لیکن اس طرح دوسروں کی ناراضگی کا احتمال کم سے کم ہوجائے گا اور دوسرے لوگ آپ کے فیصلے میں خود کو شریک تصور کرنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے انداز سے یہ ظاہر ہو کہ آپ دوسروں پر اپنی رائے تھوپتی نہیں بلکہ انہیں اپنے فیصلوں میں شریک بناکر چلتی ہیں۔

جو اپنے لیے پسند کریں وہی دوسروں کیلئے

یہ کسی بھی انسان کی بہت عظیم خوبی ہے اور اس کی بنیاد پر آدمی دوسروں کے دلوں میں گھر بنا جاتا ہے۔ اجتماعی، خاندان یا معاشرتی امور میں یہ خوبی شخصیت کی اساس ہے اور معاشرے کو جوڑنے اور مستحکم کرنے میں کلیدی رول ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی خاص طور پر تاکید فرمائی ہے کہ ’’اپنے بھائی کے لیے (خواتین کی صورت میں بہن کے لیے) وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔‘‘ اگر آپ یہ چاہتی ہیں کہ دوسرے آپ کی عزت کریں تو آپ بھی ان کو عزت و احترام دیں۔ اگر آپ اپنے لیے اچھی چیزیں پسند کرتی ہیں تو اوروں کے لیے گھٹیا اور ردّی چیزیں پسند نہ کریں۔ یہ معاملہ چیزوں کے انتخاب سے لے کر معاملات کے وسیع دائرے میں پھیلا ہوا ہے اور رسول ؐ اللہ کی یہ تعلیم زندگی کے ہر گوشے میں نافذ ہونی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمرین فردوس

تبصرہ کیجیے