4

شاندار مسجد

۳۵-۱۹۳۴ء کی بات ہے۔ میں آٹھویں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارے محلے میں ہماری برادری کے تقریباً نوے سالہ ایک ان پڑھ بزرگ بابا قطب علی رہتے تھے جو اس عمر میں بھی خاصے چاق و چوبند تھے اور حافظہ قوی تھا۔ بڑے دیندار اور پابندِ صوم و صلوٰۃ تھے۔ انگریزی فوج کی کیمل کور یعنی شتر سوار فوج میں نوکری کرچکے تھے۔ان کا مکان ہمارے مکان کے عین سامنے تھا۔ مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتے۔ جب میں گاؤں میں ہوتا تو اپنے پاس بلاکر مجھ سے دنیا جہان کی باتیں کیا کرتے۔ مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتے ہی ہم دونوں ایک ساتھ مسجد کا رخ کرتے اور اکثر اکٹھے ہی گھر واپس آتے۔ ہمارے گاؤں کی سب سے بڑی اور پختہ مسجد مغل طرزِ تعمیر کا ایک گوارا سا نمونہ تھی اور اپنے ماحول میں لالہ صحرا کی حیثیت رکھتی تھی۔

پھر بابا قطب علی کو سلسل البول کی شکایت پیدا ہوگئی اور وہ مسجد میں جاکر نماز پڑھنے سے معذور ہوگئے۔ میں گھر میں ہوتا تو بابا کی خواہش کے مطابق ہم دونوں ان کے مکان کے مختصر آنگن میں اکٹھے نماز پڑھ لیا کرتے۔ ان کے اصرار پر میں امام بنتا اور وہ میرے مقتدی ہوتے۔ اس سے مجھے خاصی جھجک اور شرمساری بھی ہوتی لیکن ان کااصرار غالب آتا۔

ایک دفعہ میں نے یونہی باتوں باتوں میں بابا قطب علی سے پوچھا:

’’بابا! گاؤں کی مختصر مسلمان آبادی کے لحاظ سے ہماری مسجد خاصی بڑی اور خوبصورت بھی ہے۔ کیا یہ مسجد لوگوں نے آپس میں چندہ جمع کرکے بنوائی تھی؟‘‘

میرے سوال پر بابا قطب علی کھل کر ہنسے بلکہ خاصی دیر تک ہنستے رہے۔ جب ان کی ہنسی کو قرار آیا تو بولے:’’پتر! یہ لمبا قصہ ہے۔ تو سن کر کیا کرے گا؟ اور سنے گا تو خطرہ ہے کہیں تو مسجد میں نماز پڑھنا ہی نہ چھوڑدے؟‘‘

اس جواب سے میری دلچسپی میں اضافہ ہوگیا اور میں نے مسجد کی تعمیر کا قصہ سننے پر اصرار کیا۔

کچھ توقف کے بعد بابا قطب نے کہنا شروع کیا: ’’میرا خیال تھا کہ تجھے دوسرے بڑے بوڑھوں کی زبانی یہ قصہ معلوم ہوچکا ہوگا۔ میرے قبر میں پاؤں ہیں۔ شاید میرے بعد کوئی دوسرا تجھے یہ قصہ نہ بتاسکے۔ جانتا ہو تو بھی نہ بتائے۔ ویسے بھی اس کے جاننے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ انہیں کچھ بنانے والے کے خاندان کا لحاظ ہوگا اور شاید کچھ خوف بھی۔ خیر، میں سناتا ہوں۔ تو نے چودھری عزیر خاں کا نام سنا ہے؟‘‘

’’جی ہاں! میں نے انہیں دیکھا بھی ہے اور ان سے ملا بھی ہوں۔ پارسال جب ان کی بیٹی کی شادی تھی تو وہ اپنے چند ملازم اور ایک بیل گاڑی ساتھ لے کر آئے تھے اور شریکے برادری کے گھر گھر جاکر مہمانوں کے لیے بستر اور چارپائیاں اکٹھی کرکے لے گئے تھے۔ ان کے حکم پر میں بستروں اور چارپائیوں پر مالکوں کے نام لکھتا رہا تھا۔ شادی میں دور دور سے بڑے مہمان آئے تھے، کئی وردی پوش تھانیدار اور افسر بھی تھے اور کاروں والے بھی تھے۔‘‘

’’ہاں! وہی چودھری عزیر خاں! وہ ہمارے علاقے کا ذیلدار بھی ہے اور آنری (آنریری)مجسٹریٹ بھی۔ اس سے پہلے ایک سکھ زمیندار کاہن سنگھ ذیلدار تھا۔ لیکن کسی وجہ سے انگریز نے کاہن سنگھ کو برطرف کرکے عزیر خان کو ذیلدار بنادیا۔ کاہن سنگھ نے اس کا بہت برا مانا تھا، اس نے عزیر خاں پر اپنے آدمیوں سے حملہ بھی کرایا تھا۔ وہ تو خیر گزری کہ ہماری برادری کے دو تین نوجوان عزیر خاں کے ساتھ تھے۔ انھوں نے اسے بچالیا۔ تو نے بازار پار کے محلے میں عزیر خاں کا پرانا محل دیکھا ہے؟‘‘

’’جی ہاں، دیکھا ہے۔ بڑا شاندار دو منزلہ محل ہے۔ قلعے جیسا ہے مگر اب تو وہ ویران پڑا ہے۔‘‘

’’اس حملے کی وجہ سے اور دشمنوں کے خوف سے عزیر خاں نے یہاں سے کوئی دو میل باہر اپنی زمینوں پر نئے محلات اور باغات تعمیر کرائے اور اپنے بیوی بچوں کو وہاں لے گیا اور اب سنا ہے کہ ایک انگریزی فیشن کی کوٹھی بھی بنوائی ہے جہاں انگریز اور دوسرے افسر آکر ٹھہرتے ہیں۔ اس نئی آبادی کو اس کے دادا کے نام پر کوٹ مشکی خاں کہتے ہیں۔

پہلے جب وہ گاؤں میں رہتا تھا تو قلعہ جیسے محل کے دروازے پر دو بندوق بردار گارڈ دن رات پہرہ دیتے تھے۔ یہ محل عزیر خاں کے دادا چودھری مشکی خاں نے بنوایا تھا جب وہ دلی کے مسلمانوں کابہت سا سونا چاندی، زیور، ہیرے جواہر، قیمتی برتن، ریشمی کپڑے اور دوسری چیزیں لوٹ کر لایا تھا۔‘‘

’’لیکن بابا قطب! وہ دلی کیسے گیا اور وہاں کے مسلمانوں کو کیوں لوٹا؟‘‘

’’وہ انگریز کی فوج کے ساتھ اپنے اونٹ، فوجی سامان اور رسد کی باربرداری کے لیے لے کر گیا تھا۔ وہاں انگریزوں اور مغل بادشاہوں کی لڑائی ہوئی۔ انگریز جیت گئے، بس پھر کیا تھا انگریزوں کی فوج نے وہاں کے مسلمانوں کو بری طرح مارا اور لوٹا۔ مشکی خاں اور اس کے ساتھی اونٹ والوں نے بھی لوٹ میں حصہ لیا۔ مشکی خاں لوٹ کے مال سے اونٹ لاد کر لایا۔ دلی کی لوٹ مشہور ہوگئی۔ دلی کی لوٹ کے مال سے اس نے زمینیں خریدیں، رہٹ لگوائے، محل بنوایا، اونٹوں، گھوڑوں اور گایوں بھینسوں کے گلے خریدے، جانوروں کے لیے ایک بڑی وسیع حویلی بنوائی۔ حویلی کی ڈیوڑھی کے دونوں جانب مہمانوں کی رہائش کے لیے کمرے تھے۔سیدھے ہاتھ کو انگریز افسروں کے لیے پختہ کمرے تھے، جن میں پلنگ، کرسیاں اور میزیں بھی تھیں۔ الٹے ہاتھ کو ایک لمبی سی بارک عام مہمانوں کے لیے تھی۔ انہیں بھی وہاں کھانا مل جاتا تھا۔ حویلی کے پھاٹک کی ڈیوڑھی میں ہر وقت حقہ مجلس لگی رہتی۔ کبھی کبھی مشکی خاں خود بھی وہاں آکر بیٹھتا تھا۔ برادری کے وہی لوگ جو پہلے اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، اس کی سیاہ رنگت، بھینگی آنکھ اور کچومری شخصیت کا کھلا مذاق اڑایا کرتے تھے، اب اسے چودھری کہنے لگے تھے۔ اب وہ اکڑ کر چلنے لگا تھا۔

بیٹا دنیا میں امیر اور غریب بس دو ہی ذاتیں ہوتی ہیں۔ دلی کی لوٹ کے مال سے ایک ذات تو مشکی خاں اور اس کے خاندان کی بن گئی اور دوسری ہم جیسے غریب شریکے برادری والوں کی۔ کہاوت ہے، پرسو، پرسا، پرس رام… اس مایہ کے تین نام۔ دلی کی لوٹ نے اسے مشکی سے مشکی خاں بنایا اور پھر چودھری مشکی خان۔

مشکی کا بیٹا مہتاب خان بھی اس کی طرح کالا کلوٹا اور ان پڑھ تھا۔ باپ کے بعد اس نے اور جائیداد بنائی۔ علاقے میں اس کا ’’بھرم بھار‘‘ بنا۔ مہتاب خان کے بیٹے عزیر خان نے اپنے باپ دادا سے آگے قدم بڑھایا۔ وہ چار جماعتیں پڑھ گیا۔ کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ گیا۔ ذیلدار اور آنری (آنریری) مجسٹریٹ بن گیا۔ پولیس تھانے والے اس کی بات مانتے۔ اس کو اورکیا چاہیے؟‘‘

’’لیکن بابا قطب علی! وہ مسجد کی بات تو رہ ہی گئی۔‘‘

’’میں بھول ہی گیا۔ دراصل یہ مسجد چودھری مشکی خاں نے بنوائی تھی۔ جب وہ دلی سے لوٹ کا مال لے کر آیا تو پہلے اپنے محل اور حویلیاں بنانے اور زمینیں، اونٹ، گھوڑے، گائے، بھینسیں خریدنے میں مصروف رہا، یوں آٹھ دس سال گزر گئے۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ شاہپور کا ایک شتربان گھسے خان تھا جو مشکی خاں کے ساتھ ہی دلی گیا تھا اور دونوں میں دوستی ہوگئی تھی، اس کا ایک نوکر مشکی خاں کے پاس آیا اور بتایا کہ ملک گھسے خاں مرگیا ہے۔ اچنبھے کی بات یہ ہوئی کہ جب لوگ اسے دفن کرکے قبر سے بیس پچیس قدم پیچھے ہٹے تو اچانک قبر سے آگ کے شعلے نکلنے لگے۔ سب لوگ ڈر کر بھاگے۔ تین دن اور تین رات قبر سے شعلے نکلتے رہے۔ پھر دم درود کرائے گئے اور اللہ سے رو رو کر دعائیں مانگی گئیں۔ تب کہیں جاکر شعلے بند ہوئے۔ آہستہ آہستہ بات کھلی کہ ملک گھسے خاں نے دلی کے بچارے بے سہارا مسلمانوں کو بہت بری طرح لوٹا تھا۔ ایک نیک بزرگ اور اس کے گھر کی باپردہ بیبیوں پر بہت تشدد کیا تھا اور ان کی بے عزتی کی تھی۔ اس بوڑھے بزرگ نے گھسے کو بددعا دی تھی کہ مجھ غریب کے بس میں کچھ نہیں، اللہ ہی تمہیں اس ظلم اور زیادتی کی سزا دے گا۔ جب ملک گھسے خان لوٹ کے مال سے لدے پھندے اونٹوں کے ساتھ واپس آیا تو انگریز نے اسے جاگیر بھی دی اور سرکاری خطاب بھی۔ اور مجسٹریٹ بھی بنایا۔ لیکن اس کا انجام اچھا نہ ہوا۔ دلی کے نیک خاندان پر ظلم ڈھانے کی سزا اللہ نے اسے دنیا میں ہی دے دی اور سب نے دیکھ لی۔ اب لوگ اس کی قبر کے پاس سے بھی گزرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔‘‘

’’بابا قطب! یہ تو بڑی انوکھی اور خوفناک سزا ہے۔ مجھے تو ڈر لگنے لگا ہے۔‘‘

’’ہاں بیٹا! اللہ بعض بندوں کو دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور پھر قیامت کے دن تو اس سے کہیں بڑی سزا دے گا۔ ڈرتے رہنا چاہیے۔‘‘

’’ہاں، تو یہ واقعہ سن کر مشکی خاں کا رنگ فق ہوگیا۔ اس پر خوف اور دہشت طاری ہوگئی اور راتوں کی نیند اڑگئی، کھانے پینے میں بھی مزانہ رہا۔ کچھ سوچ کر اس نے علاقے کے مولویوں اور عالموں کو بلایا اور ان سے مشورہ مانگا کہ ایسا کیا کام کیا جائے جو اللہ کو پسند ہو اور کرنے والے کے لیے ثواب کا سبب بھی۔‘‘

’’پھر کیا ہوا بابا قطب علی؟‘‘

’’ہونا کیا تھا، ملا کی دوڑ مسجد تک۔ مولویوں نے چودھری مشکی خاں کو مشورہ دیا کہ ’’چودھری صاحب! آپ کے گاؤں میں کوئی اچھی بڑی اورپختہ مسجد نہیں ہے۔ لوگوں کو نماز پڑھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ آپ ایک بڑی اور پکی مسجد بنوائیںجہاں لوگ باجماعت نماز پڑھ سکیں اور بچے دین کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ اس سے اللہ راضی ہوگا اور آپ کو بڑا ثواب ملے گا۔‘‘ مولویوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے چودھری مشکی خاں نے اپنے حویلی نما وسیع مویشی خانے اور بیٹھک سے ملحقہ زمین پر مغلوں کے طرز کی تین گنبدوں اور محرابی چھت والی مسجد بنوائی، جس میں ڈھائی تین سو نمازیوں کی گنجائش ہے اور تو بھی اسے دیکھ چکا ہے اور اس میں نمازیں پڑھ چکا ہے۔ جب یہ مسجد بن رہی تھی تو لوگ دور دور سے دیکھنے آتے تھے۔ مسجد کے ساتھ ہی ایک کنواں، غسل خانے، استنجا خانے اور وضو خانے بنائے گئے۔‘‘

’’کیا چودھری مشکی خاں بھی اس مسجد میں نماز پڑھنے آتا تھا؟‘‘

’’وہ کیا آتا! اسے تو نماز یاد ہی نہ تھی۔ کبھی کبھی امام مسجد جمعے کی نماز میں لے آتا تھا۔ اور ہاں! بڑی بات یہ ہوئی کہ امام مسجد کے مشورے سے مشکی خاں نے مسجد کے افتتاح کے لیے دور دور سے مشہور مولویوں کو بلایا۔ مقررہ تاریخ پر بہت سے مولوی اور عالم اپنے جبوں اورعماموں سمیت ہمارے گاؤں میں آگئے۔ ان کے لیے بڑے اچھے، مزیدار اور قیمتی کھانے تیار کرائے گئے۔ عالموں او رمولویوں نے خوب پیٹ بھر کے کھایا۔ نقدی اور پوشاک سے بھی ان کی خدمت کی گئی۔ پیٹ بھرے مولویوں نے چودھری مشکی خاں کی بڑی تعریف کی۔ اپنی تقریروں میں انھوں نے کہا:

چودھری مشکی خاں پر اللہ کی رحمت ہو۔ انھوں نے اپنے گاؤں میں جو یہ شاندار مسجد بنوائی ہے، اس کی مثال دور دور تک نہیں۔ چودھری صاحب نے بڑا نیکی اور ثواب کا کام کیا ہے۔ یہاں لوگ نمازیں پڑھیں گے۔ بچے دینی تعلیم پائیں گے۔ قرآن شریف اور حدیث پڑھیں گے۔ دین کا چرچا ہوگا۔ سال میں ایک آدھ دفعہ عالموں کا جلسہ بھی ہوا کرے گا۔ اس کا ثواب چودھری مشکی خاں کو ملے گا۔ انھوں نے اپنی بخشش کا سامان کرلیا ہے۔ جس طرح انھوں نے اس دنیا میں اپنے لیے محل، منارے اور حویلیاں بنائے، کنویں بنوائے، باغ باغیچے لگائے، اونٹ، گھوڑے، گائیں، بھینسیں حاصل کیں، اسی طرح انشا ء اللہ انہیں جنت میں اس سے بڑھ کر محل، باغ، نہریں، حوریں، غلمان ملیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کاعمل ضائع نہیں کرتا۔

خوب واہ واہ ہوئی۔

لیکن ایک سوکھا سڑا، دبلا پتلا مولوی ایسا بھی تھا، جس کی پیشانی روشن تھی اور چہرے پر عجیب سا روحانی سکون برستا تھا۔ اس نے چودھری مشکی خاں کے پرتکلف کھانوں میں سے ایک لقمہ بھی نہ کھایا، پانی کا ایک گھونٹ تک نہ پیا۔ وہ جلسہ میں شامل تو ہوا لیکن خاموش رہا۔ آخری دن جب دعوتیں اور جلسے ختم ہونے کو تھے وہ باوقار طریقے سے اسٹیج پر گیا اور جلسہ کے صدر کی اجازت سے بولنا شروع کیا:

چودھری مشکی خاں نے نہ صرف مسجد بنوائی بلکہ بہت سے عالموں کو اس کے افتتاح میں شامل ہونے کی دعوت دی، قیمتی کھانے کھلائے اور انھوں نے اپنی دل بہلانے والی تقریروں سے دعوت کا حق ادا کردیا۔ اور لوگوں کو ہدایت کے رستے کی طرف بلایا۔ تمام انتظامات بہت اچھے تھے۔ پوری گہما گہمی رہی۔ میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ حرام کے مال کا ایک پیسہ، ایک ایک لقمہ بھی ناجائز اور حرام ہوتا ہے۔ دودھ سے بھری بالٹی میں اگر ایک قطرہ پیشاب کا پڑجائے تو سارا دودھ ناپاک اور حرام ہوجاتا ہے، جسے کوئی نہیں پیتا۔ اسی طرح حرام کے مال سے جو زمین خریدی جائے گی اس پرمسجد بنانا بھی حرام اور اس میں نماز پڑھنا بھی حرام ہے۔ سب جانتے ہیں کہ آج سے دس بارہ سال پہلے چودھری مشکی خاں انگریز کی فوج کے ساتھ دلی گئے تھے اور انگریز کے فوجیوں کے ساتھ انھوں نے بھی دلی کے بے سہارا مسلمانوں کا مال اسباب وغیرہ لوٹا اور یہاں لے کر آئے اور اس مال سے اپنے محل اور حویلیاں بنائیں، زمینیں اور مویشی خریدے اور آخر میں یہ مسجد بنوائی۔ یہ سب کچھ دلی کے مال کی لوٹ سے بنا ہے۔ قصہ مختصر، یہ مسجد حرام کے مال سے بنائی گئی ہے۔ اس کے لیے اینٹ، پتھر، چونا، لکڑی، لوہا وغیرہ حرام مال سے خریدے گئے، راج مزدوروں اور مستریوں کی مزدوریاں بھی حرام مال سے ادا کی گئیں، اس لیے مجھ عاجز کا یہ سوچا سمجھا فتویٰ ہے کہ چونکہ یہ مسجد حرام مال سے بنائی گئی ہے، اس لیے اس میںنماز پڑھنا حرام ہے اور درس دینا بھی حرام، سب کچھ ناجائز اور حرام ہے، اللہ ہمیں اس سے بچائے، اپنی سیدھی راہ پر چلائے اور ہم پر رحم کرے… (والسلام)

چودھری مشکی خاں، دوسرے مولوی اور عالم اور جلسے کے لوگ ہکا بکا اور دم بخود رہ گئے اور اسٹیج سے اتر کر جاتے ہوئے سوکھے سڑے مولوی کو خاموش نگاہوں سے دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔‘‘

’’پھر کیا ہوا بابا؟‘‘

’’ہونا کیاتھا؟ جلسے میں گاؤں کے کچھ سکھ بھی آئے تھے۔ انھوں نے جاتے ہوئے مولوی کے پیچھے نعرہ لگایا: ’’واہ، مولوی واہ!‘‘ تو یہ ہے اس مسجد کی کہانی جسے میں آج تک نہیں بھول سکا۔

شیئر کیجیے
Default image
سہیل احمد