6

ماں کا سایہ

میں اپنی ماں کے ساتھ اندھا دھند بھاگ رہا تھا۔ اس دن ہر مرد، عورت، بچہ اور بوڑھا سیلابی پانی کے بے رحم ریلے سے بچنے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ میں اس وقت نو سال کا تھا۔ میری ماں نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور محفوظ پشتے کی طرف بھاگ رہی تھی۔ ہمارے پیچھے پانی کی طوفانی لہر کسی خوفناک اژدہے کی طرح موت کا پیغام لیے آرہی تھی۔ ماں کی گرفت میری کلائی پر سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ میری کلائی کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔

آخری لمحے میں ماں نے جھٹکے سے مجھے اوپر اٹھایا اور پشتے کی نم آلود اور ڈھلوان سطح پر چڑھا دیا۔ پشتے پر موجود لوگوں نے مدد کی اور ہم محفوظ جگہ پہنچ گئے۔

ہماری جان تو بچ گئی، مگر سب کچھ چھن گیا تھا۔ ہمارے کپڑے، فرنیچر اور ساری عمر کی تھوڑی سی جمع پونجی۔ سب کچھ سیلاب کی نذر ہوگیا۔

میری ماں کے لیے یہ ایک بھاری نقصان تھا، لیکن اس کے چہرے پر مایوسی کے سائے کے بجائے ایک نئے عزم کی جھلک دیکھی جاسکتی تھی۔

میری ماں دریائے مسی سپی کے کنارے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم سیاہ فام لوگوں کی زندگی مشکل ترین تھی۔ نسلی امتیاز کی ایک تنظیم نے ہم سیاہ فام لوگوں کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔ ماں نے بمشکل تین جماعتیں پاس کیں۔ پھر مفلسی کے باعث تعلیم چھوڑ کر کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اوائل عمری ہی میں اسے اپنا آبائی گھر چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے ساتھ دوسری جگہ نقلِ مکانی کرنی پڑی۔ وہاں وہ ایک گھر میں صفائی اور دوسرے کاموں پر مامور ہوگئی۔

ماں کو سب ’’مس جرٹ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ چھوٹے قد، لیکن مضبوط جسم کی مالک تھی۔ ہر وقت مسکراتے رہنا اس کی عادت تھی۔ ہمیشہ سر اٹھا کر خود اعتمادی سے چلتی۔ بلا کی قوت ارادی تھی اس میں۔ وہ بچپن ہی میں بڑی بڑی سختیاں، مایوسیاں اور خوف و ہراس کی فضائیں دیکھ چکی تھی۔ اس لیے وہ ان کی عادی بن چکی تھی۔ مصیبتوں اور آزمائشوں کی بھٹی میں رہ کر اس کی شخصیت اور چال ڈھال پر وقار بن گئی تھی۔ اسے اب کسی شے کا خوف نہیں تھا۔

میرا باپ بھی ایک خوش اخلاق انسان تھا، لیکن گھر کی ـذمے داریوں کو اس نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ میں جب چھ سال کا تھا تو وہ فیکٹری میں آرے کی مشین میں آکر اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اس کے ایک سال بعد میری ماں نے ولیم نامی ایک شخص سے شادی کرلی جو بیکری کے آرڈر پر گھروں میں سامان سپلائی کرتا تھا۔ وہ میرے لیے ایک اچھا باپ ثابت ہوا۔ ہم میں کبھی تکرار نہیںہوئی۔ اس کا سہرا بھی غالباً میری ماں کے سر ہے کیونکہ وہ گھر کے معاملات میں زیادہ اثرورسوخ رکھتی تھی، چنانچہ اس نے گھر میں کبھی جھگڑنے کی نوبت نہ آنے دی۔

ماں تربیت کے معاملے میں بہت سخت تھی۔ میرے دوست اب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں سگریٹ کیوں نہیں پیتا تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ ایک مرتبہ دس سال کی عمر میں گھر کے پچھواڑے مجھے سگریٹ پیتا دیکھ کر میری ماں نے مجھے ڈنڈے سے اتنا مارا کہ میں نے زندگی بھر سگریٹ کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگایا۔

اس زمانے میں ہمارے پاس کوئی جمع پونجی نہ تھی۔ جتنے پیسے میرے ماں باپ کماتے، ہماری روز مرہ کی ضروریات پر خرچ ہوجاتے۔ ہم مفلسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے باوجود ماں نے کبھی مجھے سردیوں میں ٹھٹھرنے نہیں دیا۔ کسی نہ کسی طرح جلانے کے لیے ایندھن کا بندوبست کرلیتی تھی۔ اسی طرح گرمیوں کے لیے ماں نے ایک پرانا سا فریزر خرید رکھا تھا، جس کی وجہ سے میں آئس کریم کی لذت سے آشنا تھا۔

جس جگہ ہم لوگ رہتے تھے وہاں ہائی اسکول نہیں تھا اور ایسا لگتا تھا کہ مجھے بھی پرائمری سے آگے تعلیم کا موقع نہ مل سکے گا۔ اور اپنے والدین کی طرح میں بھی معاشرے میں حقیر اور بے مقصد زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاؤں گا، لیکن یہ سوچتے ہوئے میں ایک لمحے کے لیے اپنی ماں کے خوابوں کو بھول گیا۔ جو مجھے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی تھی۔

شکاگو میں ہمارے گاؤں سے ٹرین پر ایک دن کی مسافت پر سیاہ فام لوگوں کے لیے چند اچھے اسکول تھے۔ جہاں میں کم از کم میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکتا تھا، لیکن ٹرین کا کرایہ، اسکول کا داخلہ اور متفرق اخراجات کے لیے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی۔ ماں نے اپنی کوششیں تیز کردیں۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جاتی اور سارا دن کپڑے دھوتی، کھانا پکاتی اور دیگرکام کرتی، مگر جب اسکول میں داخلہ لینے کی تاریخ آئی تو ماں کی جمع کی ہوئی رقم داخلے کے اخراجات کے لیے کافی نہ تھی۔

ماں نے مجھے مشورہ دیا کہ بے کار بیٹھنے کے بجائے میں آٹھویں جماعت کا دوبارہ امتحان دوں، چنانچہ میں رات گئے تک کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہتا اوردن کو ماں کے ساتھ گھر گھر جاکر کام کرتا۔

ہمارے پڑوسی ماں پر ہنستے تھے کہ خواہ مخواہ اتنی تگ و دو کررہی ہے۔ دراصل ہائی اسکول میں داخلے کے خواب تو صرف بڑے لوگ دیکھا کرتے تھے، لیکن ہم ماں بیٹے نے کبھی کسی کی پروا نہ کی۔ دن رات رقم جمع کرنے کی دھن میں ہم سخت محنت کرتے۔ اگر میں اکیلا ہوتا تو شاید اعلیٰ تعلیم کا خواب کبھی کا بھول چکا ہوتا، لیکن ماں نے مجھے کبھی حوصلہ نہ ہارنے دیا۔ وہ کہتی تھی کہ محنت کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس لیے ہمت نہ ہارو۔

آخر کار وہ دن آپہنچا جب ماں نے گدے کے نیچے سے جمع شدہ رقم نکالی جو کہ میل اور پسینے سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے رقم کو گنا اور خوشی سے اعلان کیا کہ چند دن بعد ہم دونوں شکاگو کے لیے روانہ ہورہے ہیں۔ میرے باپ نے ہماری بھرپور مخالفت کی۔ دراصل وہ اپنا گھر چھوڑ کر ہمارے ساتھ نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس نے ہر طریقے سے ہمیں روکنے کی کوشش کی۔ طرح طرح کے وسوسے ڈالے۔ سردی بہت ہوگی، کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا، مگر ماں نے مصمم ارادہ کررکھا تھا۔ رخصت ہوتے وقت اس کی آنکھوں میں آنسوؤں سے بخوبی اندازہ ہوسکتا تھا کہ وہ میرے باپ سے بھی بہت محبت کرتی تھی۔ مگر یہ محبت میری تعلیم و ترقی کے آگے ہیچ تھی۔

شکاگو پہنچ کر جلدی ہی ماں نے ایک گھر میں نوکری کرلی اور ایک سال کے بعد میرا سوتیلا باپ بھی ہمارے پاس آگیا۔ ان چند برسوں کے دوران ہم نے انتہائی مشکل وقت دیکھا، البتہ میں نے امتیازی نمبروں سے میٹرک پاس کرلیا۔

وقت گزرتا رہا اور چھوٹی موٹی نوکریوں پر اپنا اور ماں کا خرچ اٹھاتا رہا۔ پھر میں نے ’’نیگرو ڈائجسٹ‘‘ شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ ڈائجسٹ کی اشاعت کے لیے رقم درکار تھی، جو کہ میں مختلف کمپنیوں کے اشتہاروں سے جمع کرسکتا تھا، مگر آغاز کے لیے مجھے کم از ۱۵۰۰ ڈالر چاہیے تھے تاکہ مختلف کمپنیوں کو اپنے رسالے کے متعلق بتاسکوں اور انہیں اشتہارات کی دعوت دے سکوں۔ میں نے ایک کمپنی سے پیسہ ادھار لینے کی کوشش کی۔ اس کمپنی نے کوئی قیمتی شے گروی رکھنے کی شرط رکھی۔

ہمارے گھر میں انہی دنوں نیا فرنیچر آیا تھا جو کہ ہم ماں بیٹے کی کاوشوں سے خریدا گیا تھا۔ میں نے ماں کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا اور فرنیچر گروی رکھنے کی فرمائش کی۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے اسے متزلزل ہوتے دیکھا۔ ایک اچھے گھر کا خواب دیکھنے والی میری ماں یہ فرنیچر کھونا نہیں چاہتی تھی، لیکن پھر جلد ہی وہ میری خاطر راضی ہوگئی۔

آخر وہ دن آگیا جب میرا رسالہ ایک کامیاب میگزین ثابت ہوا۔ یہ میری مدتوں کے خواب کی تعبیر تھی۔ میں نے بڑی خوشی سے اعلان کیا کہ ماں اب تمہیں نوکری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس دن میری ماں بہت روئی۔ وہ دن اس کے خوابوں کی تکمیل کا دن تھا۔ ایک طویل اور انتھک جدوجہد کے اختتام کا دن۔

اب میں ۵۹ سال کا ہوچکا ہوں۔ میری ماں اس دنیا میں نہیں ہے۔ جب تک وہ زندہ رہی میرے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہوئی۔ اپنے کام کے سلسلے میں جہاں کہیں کسی دوسرے شہر یا بیرونِ ملک جاتا تھا حتی المقدور اپنی ماں کو روزانہ فون کرتا تھا۔ ایک مرتبہ مجھے ہیٹی جانا ہوا۔ بڑا ہی پس ماندہ ملک ہے۔ میں نے ٹیلی فون کے کھمبے پر چڑھ کر ماں سے بات کی۔ میرے ساتھی مجھ پر ہنس رہے تھے، مگر میری ماں میری ضرورت تھی۔ جب بھی مجھ پر مشکل وقت آتا تو میں اپنی ماں سے ضرور بات کرتا۔ وہ مجھے صرف اتنا کہتی تھی : ’’بیٹا! تم اس مشکل پر قابو پالوگے۔‘‘

ایک مرتبہ تو مجھ پر بڑی قیامت کا ہفتہ گزرا۔ میں نے فون پر ماں کو سب کچھ بتادیا۔

’’لیکن ماں، میں پوری کوشش کررہا ہوں۔‘‘

’’تو پھر یہ مسئلہ حل ہوجانا چاہیے۔ اگر نہیں ہورہا ہے تو ضرور تمہاری کوششوں میں کوئی کسر رہ گئی ہے!‘‘ ماں نے پریقین لہجے میں کہا اور تجربے نے ماں کی بات سچ ثابت کردی۔ واقعی میری محنت میں کچھ کمی تھی، جس میں تھوڑا سا اضافہ مجھے کامیابی کی نوید سناگیا۔ (ماخوذ

شیئر کیجیے
Default image
سہیل احمد