3

کتاب اور مطالعہ

آپ اتفاق کریں یا نہ کریں میرے خیال میں جو شخص اس دنیا میں اچھی اولاد، او رایک بھی اچھی کتاب چھوڑ جاتا ہے وہ اس دنیا میں اپنی آمد کا فرض ادا کرجاتا ہے۔ انسان نے اس دنیا میں جو عظیم کام کیے ہیں کتب نویسی ان میں سب سے بہتر کام ہے کیونکہ کتابیں زندگی کو زیادہ دلچسپ اور زیادہ خوبصورت بناتی ہیں اور ہمارے خیالات، جذبات، اعمال اور حسیات کو زیادہ فکر انگیز اور حقیقی بناتی ہیں۔ نہ صر ف یہ بلکہ اچھی کتابیں زندگی کی دوڑ میں دوسروں کے تجربے کو ہم تک پہنچاکر ہمیں روشنی اور زندگی جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔

کتابیں ایسی دوست ہیں جو ہمیشہ دوست رہتی ہیں اور اسی لیے کتابیں اس طرح منتخب کرنی چاہئیں جیسے دوست، اور پھر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ان میں سے ’بیکن‘ کے الفاظ میں ’’کون سی کتابیں چکھنی چاہئیں، کون سی حلق سے نیچے اتارنی چاہئیں اور کون سی چبا کر ہضم کرنی چاہئیں۔‘‘

مسلمانوں کی مذہبی روایات، قرآن پاک میں قلم کی عظمت اور پاکیزگی کی گواہی، پہلی ہی وحی میں اقرا کا لفظ، علم دوستی، رسول اکرم ﷺ کی حدیث کہ ’’علم حاصل کرنا فرض ہے۔‘‘ مسلمان ائمہ، اہلِ علم، اہلِ فلسفہ، ماہرینِ طب، سائنسدانوں، مؤرخوں، غرض یہ کہ جملہ علوم و فنون کے ماہرین کی کاوشیں ہر زمانے میں کتاب لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے مثال بنی رہیں۔ خلفاء، بادشاہوں اور مسلمان امراء نے خود بھی کتابیں لکھیں اور لکھنے والوں کی قدر کی اور اس طرح عظیم کتب خانوں کی بنیاد پڑی۔ تقریباً ہر دور میں بادشاہوں اور خلفا ء نے دارالتراجم اور کتب خانے قائم کیے جن کے ذریعے سے عقلی اور علمی روایتیں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہیں۔ سلاطینِ دہلی اور مغل دور میں کتابدار کا عہدہ نہایت اہم سمجھا جاتا تھا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی شکست کے بعد انگریزوں نے یہ کوشش کی کہ انہیں تہذیبی ورثے سے دور کردیا جائے۔ اس مقصد کے لیے صدیوں کے خزینۂ کتب کو انھوں نے ہندوستان سے برطانیہ منتقل کردیا۔

اب تو یہ حال ہے کہ ہم سے زیادہ ہماری کتابیں دوسرے ملکوں میں شائع، ترجمہ اور فروخت ہوتی ہیں اور لگتا ہے کہ باہر والے ہماری کتابوں سے ہم سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اقبالؒ کی کتابوں کے تراجم اور اصل اشاعتیں جتنی روس میں فروخت ہوتی ہیں، یہاں اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔

کتابیں مسائل کا حل اور ان کی توجیہات سامنے لاتی ہیں۔ کتابوں کے حوالے سے کسی بھی عہد کا سماجی منظر نامہ مرتب ہوتا ہے۔ ادبی تحریریں وقت کے مسائل کا حل اور مسائلِ حیات پر تحقیق و تجسس کا بہترین ذریعے ہیں۔ یہ سماجی تحریکوں اور سماجی انقلابات کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

کتابیں سچے اور خوبصورت خیالات کو ابھارنے کا ذریعہ ہیں۔ کتابیں ہماری تعمیری صلاحیت کو جلا دیتی ہیں۔ کتاب کی طرف رجوع زندگی کو آسان کرتا ہے۔

مطالعے کی عادت اختیار کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ ’’گویا آپ نے دنیا جہان کے دکھوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تلاش کرلی۔‘‘ بقول کارلائل ’’ایک اچھا کتب خانہ دنیا کی بہترین یونیورسٹی ہے۔‘‘ مطالعہ کرنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ علم وعرفان جو مطالعے سے حاصل ہوتا ہے وہ شاید برسوں کے گیان دھیان سے بھی حاصل نہ ہو۔ چند گھنٹے جو آپ ایک کتاب کے مطالعے میں صرف کرتے ہیں وہ برسوں کی ریاضت کا حاصل ہوتے ہیں۔

کتابیں آزادی کی نقیب رہی ہیں۔ تحریک جدوجہد آزادی بطور موضوعِ سخن ہر دور میں اختیار کی گئی۔ ہماری جدوجہد کے تناظر میں سرسید، اقبالؒ اور حالیؔ کی کتابوں نے جو ذہنی انقلاب برپا کیا وہ ہماری تحریکِ آزادی کا ایک اہم عنصر بنا۔ عظیم کتابیں نہ صرف انقلاب لاتی ہیں، بلکہ پس از انقلاب معاشرے کو نئے تعلقات اور نئے نظام کی تشکیل میں بھی مدد دیتی ہیں۔

زندگی کے مختلف ادوار، مختلف حالات اور مختلف مواقع پر انسانی طبیعت کو جو کچھ چاہیے وہ کتابوں سے ہی ملتا ہے۔ غم اورمشکلات میں صبر و ثبات کا درس، تھکاوٹ کی صورت میں طنز و مزاح اور شعر و شاعری اور زندگی کے سخت مراحل میں عظیم لوگوں کے تجربات اور آپ بیتیاں جمود، تعطل اور مایوسی کی کیفیت میں ایک کتاب یا اس کا کوئی صفحہ آپ کی زندگی کو یکسر بدل سکتا ہے۔ کتاب کی کوئی ایک تحریر آپ کی زندگی کی مشکل ترین گتھی کو سلجھا سکتی ہے اور کوئی ایک بات آپ کی ناکامی کو بے مثال کامیابی میں تبدیل کرسکتی ہے۔

کیسی کتابیں پڑھنی چاہئیں اور کیسی نہیں، یہ بہت سی باتوں پر منحصر ہے۔ شوقِ مطالعہ کے ساتھ ذوقِ مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اگر کتاب کا ایک دلچسپ قرینہ اور انداز ہونا چاہیے تو قاری کو بھی اسے سمجھنے اور برتنے کا سلیقہ ضروری ہے۔ لیکن یہ سلیقہ بھی ہمیں کتابیں ہی دیں گی۔ آدمی ان کتابوں کے ذریعے سے ہی پہچانا جاتا ہے جو وہ پڑھتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہر دور میں اچھی اور بری، مفید اور مضر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئی ہیں اور آج بھی لکھی جارہی ہیں۔ ہر آدمی اپنے ذوق و شوق اور پسند و ضرورت کے مطابق لکھتا ہے اور اسی طرح لوگ اپنی اپنی پسند کے مطابق پڑھتے ہیں۔ اس وقت بھی ہر اچھے اور برے مفید اور لغو موضوعات پرکتابیں لکھی جارہی ہیں۔ جیسے:

٭خود کشی کریں ٭ شوہر کو کس طرح قتل کریں ٭ انکم ٹیکس کیسے چرائیں ٭ دھوکہ کیسے دیں ٭دو ہزار بے عزتیاں ٭ گھر بیٹھے ڈاکٹر بنیں وغیرہ

ہم ان سب کتابوں کو پڑھنے کا مشورہ تو آپ کو نہیں دیتے اور نہ ایسی کتابوں سے محبت کا رویہ اپنانے کو کہتے ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے ایسی ہی کتابوں کے بارے میں کہا تھا:

ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں

کہ جن کو پڑھ کر بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اچھی کتاب خود کو منواتی ہے اور زندہ رہتی ہے اور ہر وہ کتاب جو زندہ رہے محبت کرنے کے قابل ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بہت مختصر ہوتی جارہی ہے۔ کتابیں بھی اس اختصار کے عمل کو تیز کررہی ہیں۔تراجم کے ذریعے سے ایک خطۂ زمین کی سوچ کا پرتو بہت جلد دوسروں تک پہنچ رہا ہے۔

بلاشبہہ ایک مسلمان کی حیثیت سے جو کتاب ہمارے لیے محبت کا مرکز ہے وہ کتاب اللہ ہے، جو انسانیت کے لیے عظیم تحفہ، تحریف سے مبرا اور زندگی کے ہر پہلو پر واضح ہدایت لیے ہوئے ہے۔ دینِ فطرت کی کتاب اللہ کی آخری کتاب بھی ہے اور اس کا آخری کلام بھی جو ابدی صداقتوں کا امین ہے اور انسان کی فطرت و طبیعت کے تمام اسرار پر محیط ہے۔ کلامِ الٰہی کا صحیح مفہوم سمجھنے ہی میں ہماری نجات ہے اور اسی لیے اس کتاب کو ہماری محبت کا مرکز ہونا چاہیے۔ اس میں کھلے ہوئے دلائل ہیں، ہدایت کے اور حق و باطل میں امتیاز کے۔ پہلے ہی پارے میں ذکر ہے:

’’یہ وہ کتاب ہے جس کے منزل من اللہ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔‘‘

اور پھر کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ خالقِ کائنات کو جس کتاب سے اتنی محبت ہو وہ اس کے بندوں کو بھی عزیز ہونی چاہیے۔ اس کتابِ ہدایت کو اپنی جامعیت، عالمگیریت اور آفاقیت کے اعتبار سے ہر گزشتہ دور اور آنے والے دور میں بہترین دستورِ حیات کا درجہ حاصل ہے۔ ہر زمانے کی مشکلات و مسائل کا حل اس میں موجود ہے۔ قرآنِ پاک کی طرف لوٹنے ہی میں ہماری نجات ہے اور اسی لیے یہ ہماری محبتوں کا مرکز ہے۔

(ماخوذ از مقالاتِ شامِ ہمدرد)

شیئر کیجیے
Default image
شمیمہ حیدر