4

ثریا اسلام کی آغوش میں

میرا تعلق ایک پروٹسٹنٹ عیسائی خاندان سے تھا، جس کے سب افراد مذہب سے دور ہیں لیکن بچپن ہی سے میں دینی رجحان رکھتی تھی ۔ جب میری عمر دس برس ہوئی تو میں نے اپنے پڑوسیوں سے فرمائش کی کہ وہ اتوار کو چرچ جاتے وقت مجھے ساتھ لے جایا کریں، چنانچہ میں وقتاً فوقتاً عبادت کی خاطر ان کے ساتھ جانے لگی۔

جب میں ہائی اسکول میں پہنچی تو عیسائیت کی مختلف شاخوں اور فرقوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا شوق ہوا۔ اس سلسلے میں مجھے کیتھولک فرقے کے گہرے اور وسیع مطالعے کا موقع ملا۔ دیگر مذاہب کے بھی مطالعے کاشوق رہا، میری خوش قسمتی کہ مجھے کہیں اطمینان حاصل نہ ہوا۔ اور میری روح پیاسی ہی رہی۔ میرا وجدان جو چاہتا تھا وہ کہیں نہ مل سکا۔ میرا ضمیر کہتا تھا کہ اس کائنات کا خالق و مالک وحدہٗ لاشریک ہے جبکہ عیسائیت کے کسی فرقے سے میری تسلی نہ ہوتی تھی۔ میں نے سب فرقوں کو ابہام ہی کا شکار پایا۔

میں ابھی ہائی اسکول میں پڑھ رہی تھی جب مجھے شرقِ اوسط کے بارے میں خاصی تفصیل سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ یوں پہلی بار ’’اسلام‘‘ اور ’’مسلم‘‘ کے الفاظ سے آشنائی ہوئی مگر اسکول کے زمانے میں میرا دائرۂ معلومات یہیں تک محدود رہا۔ جب میں کالج میں پہنچی تو خوش قسمتی سے وہاں شرق اوسط سے تعلق رکھنے والے مسلمان طلبہ بھی زیرِ تعلیم تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہوئیں اور اسلام سے تعارف ہوا تو اسلام کے اس پہلو سے بہت متاثر ہوئی کہ عیسائیت اور یہودیت کی طرح یہ مذہب جزوقتی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ اسلام چونکہ دن رات کے ہر لمحے میں رہنمائی کرتا ہے اور عیسائیت کے مانند اس کی رفاقت کا دائرہ محض ایک ہفتے میں ایک گھنٹے تک محدود نہیں ہوتا،اس لیے جب ایک شخص عملی طور پر اسے اختیار کرلیتا ہے تو اس کی زندگی میں نظم و ضبط اور سلیقہ و استحکام پیدا ہوجاتا ہے۔ اسلام کی دوسری خوبی، جس نے مجھے زیادہ متاثر کیا، یہ تھی کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین کامل ہے۔ میں نے اسلام کو فطرت کے عین مطابق پایا چنانچہ اسے دل و جان سے قبول کرلیا۔

اسلام قبول کرنے پر میرے خاندان کے ہر فرد کا ردِ عمل مختلف تھا۔

میرے والد کا مجھ سے سلوک بالکل مشفقانہ رہا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اپنا لباس بدل لیا اور عام زندگی کو بھی یکسر بدل ڈالا لیکن میرے باپ کی محبت میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک دفعہ میری پھوپھی آئی تو اس نے مجھے خوب برا بھلا اور قنوطی کہا۔ مزید طعنے بھی دیے تو میرے والدین نے میری مدافعت کی، تاہم والدہ کا طرزِ عمل کچھ خوشگوار نہ تھا۔ وہ میری زندگی کے اس انقلاب سے قطعی ناخوش تھی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دشواریوں کے باوجود میں اپنے والدین کے ساتھ ہی ہوں اور مجھے ان پریشانیوں سے سابقہ نہیں پڑا جس کی عموماً توقع کی جاتی ہے۔

امریکہ کے اس ماحول میں جہاں مادیت کا دور دورہ ہے، عیش پرستی اور تفریح پسندی ہی کو زندگی کی معراج خیال کیا جاتا ہے، وہاں اسلام قبول کرنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بے حد مشکل کام ہے، چنانچہ میں نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچا۔ میرے والدین مجھ سے کیا سلوک کریں گے؟ میری تعلیم کا کیا بنے گا؟ میں اپنے قریبی احباب میں کیسے زندہ رہوں گی؟ اس نوعیت کے خدشات نے مجھے سخت پریشان کیے رکھا مگر طویل اور گہری سوچ بچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اسلام قبول کرنے میں یہ عارضی پریشانیاں اور مصیبتیں تو ضرور آئیں گی لیکن ضمیر مطمئن ہوگا اور انجام بہتر۔ میں نے اس دوران اللہ سے بہت دعائیں کیں اور اس سے اعانت و مدد طلب کی، تو میری دعائیں خدا نے سن لیں اور حیرت انگیز طور پر مجھے وہ ہمت اور حوصلہ عطا کیا کہ میں اتنا بڑا فیصلہ کرنے پر تیار ہوگئی۔

اگرچہ میں نوعمر ہوں مگراپنے اس فیصلے پر مستقل طور پر قائم رہوں گی اور مجھے یقین ہے کہ اس میں کوئی کمزوری نہیں آئے گی، اس لیے کہ میں نے یہ فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اندازہ کریں کہ جب میں قبولِ اسلام کے لیے ایک مسجد میں گئی تو وہاں کے خطیب و امام نے مجھ پر ذرہ برابر دباؤ نہیں ڈالا بلکہ یہ کہا کہ پہلے اسلام کے متعلق خوب مطالعہ کیجیے، اگر اس بارے میں کوئی اعتراض ہے تو سوالات کرکے تسلی کرلیجیے، پھر اسلام قبول کیجیے۔ اس کے برعکس جب میں عیسائیت کا مطالعہ کررہی تھی، ایک مرتبہ کیتھولک چرچ میں گئی تو سب نے مجھ پر بہت دباؤ ڈالا کہ میں فوری طور پر کیتھولک مذہب قبول کرلوں۔ میں نے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے، میرے شعور نے سب کو مسترد کردیا۔ میں نے اسلام کو اس لیے مطالعہ کے بعد قبول کیا ہے کہ یہ مذہب ہر لحاظ سے بہتر اور عقل کے عین مطابق ہے۔ میں نے مسلسل دو برس تک اسلامی تعلیمات کو پرکھا اور کئی لوگوں سے اس بار ے میں گفتگو کی۔ میرے اسلام قبول کرنے میں نہ جذباتیت کا دخل ہے نہ عجلت پسندی کا اور نہ کسی دنیاوی مفاد کا، انشاء اللہ میں اس پر عمر بھر قائم رہوں گی۔

اسلام قبول کرکے مجھے سب سے بڑی کامیابی یہ ملی ہے کہ زندگی میں وقار اور ڈسپلن کا چلن پیدا ہوا۔ شب و روز کا پروگرام اور مقصدیت حاصل ہوئی۔ دل و دماغ میں جو خلا کی کیفیت چھائی رہتی تھی، اس میں سکون آیا۔ تزکیہ نفس سے روح کو رفعت ملی اور میں پریشانی و مایوسی سے محفوظ ہوگئی۔ اللہ کا احسان ہے کہ اسلام کی تعلیمات پر عمل نے میری زندگی کے ہر پہلو کو مثبت طور پر تبدیل کردیا۔ ان میں بعض تبدیلیاں واضح اور انقلابی نوعیت کی ہیں۔

میں اپنے بالوں کو ڈھانپتی ہوں جو امریکہ کے عریاں ماحول میں شاید بعض لوگوں کو عجیب لگتا ہے۔ اس ضمن میں میرے وہی احساسات ہیں جو ایک باعمل مسلمان عورت کے ہوسکتے ہیں۔ میں نے اپنا سرڈھانپ کر دراصل ماحول کی آلودگیوں کے خلاف تحفظ حاصل کیا ہے اور عام عورت نیم برہنگی کی وجہ سے جس خوف و سراسیمگی کی کیفیت میں مبتلا رہتی ہے، اس سے کافی حد تک نجات پائی ہے۔ پھر میرا سر ڈھانپنا ایک قسم کا اعلان بھی ہے کہ میں ایک مسلمان عورت ہوں۔ سب سے بڑی چیز یہ کہ ہمیں اللہ نے جو حکم دیا، اس کی پیروی کررہی ہوں۔

امریکہ میں جو لوگ اپنا مذہب تبدیل کرتے ہیں، ان کی غالب اکثریت میرے خیال میں اسلام کی آغوش میں چلی آتی ہے۔ انہیں اس امر کا احساس ہوگیا ہے کہ موجودہ مغربی طرزِ زندگی نہ تو اخلاقی قدروں کی پرورش کرتی ہے اور نہ یہ کسی باوقار اور صاف ستھرے اسلوب حیات کو پروان چڑھاتی ہے اس کے برعکس اسلام کی صورت میں وہ ایسی صداقت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو انہیں بلند ترین اخلاقی معیار عطا کرتی ہے۔ جو حقیقت پسندی پر مبنی ہے اور فطری ہے۔ خاص اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اسلام مغرب کی تنگ نظری سے بہت ہی بلند و بالا ہے اور انسانوں کو مادیت اور نسل پرستی سے ہٹا کر خالص انسانی شرف کی بنا پر مخاطب کرتا ہے۔ امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی اکثریت سیاہ فاموں پر مشتمل ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جو لوگ اسلام قبول کرتے ہیں وہ بالعموم موجودہ نظام کے ستم زدہ ہوتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ میں سیاہ فام بے چارے بڑے ہی مظلوم ہیں۔ جب وہ دائرۂ اسلام میں آتے ہیں تو انہیں حقارت اور ظلم و جور کے بجائے محبت و مساوات اور احترام ملتا ہے تو ان کی پریشان اور افسردہ روحوں کو قرار آجاتا ہے۔ سیاہ فاموں کے اسلام کی طرف لپکنے کا ایک سبب اور بھی ہے۔ وہ جان گئے ہیں کہ افریقہ میں ان کے آباء و اجداد کا مذہب اسلام تھا اور جب انہیں زبردستی اغوا کرکے امریکہ لایا گیا تو ان سے یہ نعمت چھین لی گئی، چنانچہ اسلام قبول کرکے درحقیقت وہ اپنے اصل دین کی طرف لوٹتے ہیں۔ ذرائعِ ابلاغ یہ واویلا کررہے ہیں اور وہ اس مشن میں تھکتے ہی نہیں کہ اسلام کا رویہ عورت کے معاملے میں غیر مناسب ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ الزام ان لوگوں کی طرف سے لگایا جاتا ہے جواسلام کی تعلیمات سے یکسر بے خبر ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیں کہ جب اسلامی معاشرے میں مرد اور عوت کا میدانِ کار الگ الگ ہے تو لازماً عورت ظلم کا شکار ہوتی ہے، حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اس کے برعکس میں اپنے ہاں کی صورتِ حال پیش کرتی ہوں۔ یہاں برابری اور مساوات کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ معاشرے میں عورت وہ سب کچھ کرے جو مرد کرتا ہے لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ مرد عورت کی کمائی کھاتا ہے اور گھر کا بھی سارا کام عورت کرتی ہے۔ جہاں مرد اس کے ساتھ شراکت نہیں کرتا۔ پھر ظاہر ہے مساوات کہاں رہی؟ اور جن گھرانوں میں ماں اور باپ دونوں کام کرتے ہیں وہاں بچوں کا جو حال ہوتا ہے، وہ ظلم اور استحصال کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ مغرب کے ذرائعِ ابلاغ اور اخبارات عام طور پر عالمِ اسلام کی حکومتوں کے طرزِ عمل اور مختلف افراد کے ذاتی رویے سے سمجھ لیتے ہیں کہ یہی کچھ اسلام کی تعلیم ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ ان دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے، چنانچہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات پر ان کی صحیح روح کے ساتھ عمل کریں اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کے سچے ترجمان بنیں۔

امریکہ میں جو غیر مسلم خواتین اسلام قبول کرنا چاہتی ہیں، ان بہنوں کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ اور خوب توجہ سے غوروفکر کریں۔ میں اس راستے سے اسلام کی منزل مقصود تک پہنچی ہوں۔ دوسری بات یہ کہ خوف زدہ ہرگز نہ ہوں۔ اگر آپ نے صراطِ مستقیم پر چلنے کا ارارہ کرلیا ہے تو وہ اپنے فضل سے آپ کی مدد فرمائے گا۔

دوسری طرف مسلمان مردوں اور عورتوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دنیاکے سامنے عملی طور پر اسلام کی ترجمانی پیش کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ