2

آخرت سے پہلے آخرت کی فکر

خدا اپنے بندوں کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک ان کی سانس نہیں اکھڑتی لیکن سانس اکھڑنے کے بعد جب انسان دوسرے عالم میں جھانکنے لگتا ہے تو توبہ کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

’’خدا اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے مگر موت کی سانس اکھڑنے سے پہلے پہلے۔‘‘ (ترمذی)

اس لیے مومن آخرت آنے سے پہلے آخرت کی فکر کرتا ہے۔ وہ صرف خدا کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے، اسی کے حضور گڑگڑاتا ہے اور اسی کے سامنے اپنی عاجزی، بے کسی اور خطا کاری کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے جلال اور اکرام کے سامنے مصمم ارادہ اور عزم کرتا ہے کہ آئندہ وہ اپنی بندگی کی حیثیت کا لحاظ رکھے گا۔ وہ عجز و انکساری کے سارے سرمائے کو خدا ہی کے حضور پیش کرتا ہے اور جو بدنصیب اپنی ضروریات و حاجات اپنے ہی جیسے مجبور بے بس انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے، اس دیوالیے کے پاس خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں رہ جاتا۔ اور وہ ذلیل و رسوا ہوکر ہمیشہ کے لیے در در کی ٹھوکر کھاتا ہے اور کہیں عزت نہیں پاتا۔ ارشادِ خداوندی ہے:

’’اور آپ کا پروردگار گناہوں کو ڈھانپنے والا اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے،اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کی فوراً پکڑکرنے لگے تو عذاب بھیج دے مگر اس نے (اپنی رحمت سے) ایک وقت ان کے لیے مقرر کررکھا ہے اور یہ لوگ بچنے کے لیے اس کے سوا کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے۔‘’ (الکہف)

اور سورئہ شوریٰ میں ہے:

’’اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خطاؤں کو معاف فرماتا ہے اور وہ سب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘

دراصل انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ فوز و فلاح کا ایک ہی دروازہ ہے۔ اس دروازے سے جو دھتکار دیا گیا پھر وہ ہمیشہ کے لیے ذلیل اور محروم ہوگیا۔

مومنانہ طرزِ فکر یہی ہے کہ بندے سے خواہ کیسے بھی گناہ ہوجائیں اس کا کام یہ ہے کہ وہ خدا ہی کے حضور گڑگڑائے اور اسی کے حضور اپنی ندامت کے آنسو ٹپکائے۔ بندے کے لیے خدا کے سوا کوئی اور دروازہ نہیں جہا ںسے اسے معافی مل سکے۔ حد یہ ہے کہ اگر آدمی خدا کو چھوڑ کر کسی نبی یا ولی کو خوش کرنے کی کوشش بھی کرے گا تو خدا کے دربار میں اس کی اس کوشش کی کوئی قیمت نہ لگے گی اور وہ دھتکاردیا جائے گا۔ کیونکہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں اور وہ بھی اسی در کے فقیر ہیں، انہیں جو بھی عظیم مرتبہ ملا ہے اسی در سے ملا ہے اور ان کی عظمت کا راز بھی یہی ہے کہ وہ خدا کے سب سے زیادہ عاجز بندے ہوتے ہیں اور عام انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خدا کے حضور گڑگڑاتے ہیں۔

اس لیے بخشش و مغفرت کے لیے لازمی طور پر خدا کے مقرر کردہ قوانین کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ منافقوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’یہ منافقین آپ کے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ آپ ان سے راضی ہوجائیں۔ اگر آپ ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہرگز ایسے بے دینوں سے راضی نہ ہوگا۔‘‘ (توبہ)

قرآن پاک میں حضرت کعبؓ بن مالک کا عبرت انگیز واقعہ ہمیشہ کے لیے سبق ہے کہ بندہ سب کچھ سہے، ہر آزمائش برداشت کرے، لیکن خدا کے در سے اٹھنے کا تصور تک دل میں نہ لائے۔ دین کی راہ میں آدمی پر جو کچھ بیتے اور خدا کی طرف سے اس کو جتنا بھی روندا جائے وہ اس کی زندگی کو چمکانے اور اس کے درجات کو بلند کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ بے عزتی دائمی عزت کا یقینی راستہ ہے اور جو خدا کے دروازے کو چھوڑ کر کہیں اور عزت تلاش کرتا ہے اس کو کہیں بھی عزت میسر نہیں آسکتی۔ وہ ہر جگہ ذلیل ہوگا اور زمین و آسمان کی کوئی ایک آنکھ بھی اس کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتی۔

توبہ فکرِ آخرت کا نتیجہ

جو لوگ آخرت کے لیے واقعی فکر مند ہوتے ہیں وہ ہر لمحہ توبہ و استغفار کو اپنا شیوہ بناتے ہیں۔ کیونکہ زندگی کا حال کسی کو معلوم نہیں، کب مہلتِ عمل ختم ہوجائے۔ کچھ خبر نہیں کہ اگلا لمحہ زندگی کا لمحہ ہے یا موت کا۔ ہر وقت انجام کا دھیان رکھتے ہوئے اگر بندے نے کسی وقتی جذبے یا غفلت سے مغلوب ہوکر کوئی گناہ کرلیا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رحیم و غفور خدا کی طرف دوڑے اور ذرابھی تاخیر نہ کرے۔ اس لیے کہ گناہ سے گناہ پیدا ہوتا ہے اور شیطان ہر وقت انسان کی گھات میں لگا ہوا ہے اور وہ اس کو گمراہ کرنے کی فکر سے کسی وقت بھی بے فکر نہیں ہے۔

توبہ نہایت سچے دل اور خلوص کے ساتھ کرنی چاہیے جس سے آدمی کی زندگی کی کایا پلٹ جائے۔ اور توبہ کے بعد وہ ایک دوسرا ہی انسان نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اے مومنو! اللہ کی طرف رجوع کرو ایسا رجوع جو قلبی خلوص سے ہو، قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیوں کو بخش دے۔ اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس دن خدا اپنے رسول کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاکر اس کے ساتھ ہولیے ہیں، رسوا نہ کرے گا۔‘‘ (تحریم)

نبی ﷺ کا ارشاد ہے:

’’بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب میں ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے، اب اگر وہ :

٭ گناہ سے باز آجائے

٭ اپنے گناہوں کے احساس سے نادم ہوکر بخشش کا طلب گار ہو

٭ اور خدا کی طرف پلٹ کر گناہ سے بچنے کا عزم مصمم کرے تو خدا اس کے قلب کو جلا بخش دیتا ہے۔ اور اگر وہ پھر گناہ کر بیٹھے تو اس سیاہ داغ میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔‘‘

یہ وہ زنگ ہے جس کا ذکر خدا نے اپنی کتاب میں فرمایاہے:

’’ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر ان کے برے کرتوتوں کا زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘

خدا کو سب سے زیادہ خوشی جس چیز سے ہوتی ہے وہ بندے کی توبہ ہے۔ بندہ جب فکر وعمل کی گمراہی میں مبتلا ہوکر گناہوں کی دلدل سے نکلتے ہوئے شرمسار ہوکر خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے کتنا خوش ہوتا ہے، اُسے نبی اکرم ﷺ نے انتہائی بلیغ تمثیل میں بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

’’اگر تم میں سے کسی شخص کا اونٹ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں گم ہوگیا ہو اور اس شخص کا کھانے پینے کا سامان بھی اسی گم ہونے والے اونٹ پر لدا ہوا ہو۔ اور وہ شخص چاروں طرف اس لق و دق صحرا میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مایوس ہوچکا ہو پھر وہ زندگی سے بے آس ہوکر کسی درخت کے نیچے موت کے انتظار میں لیٹ رہا ہو۔ ٹھیک اسی حالت میں وہ اپنے اونٹ کو سارے سامان سے لدا ہوا اپنے پاس کھڑا دیکھے تو تصور تو کرو اس کو کیسی کچھ خوشی ہوگی! تمہارا پروردگار اس شخص سے بھی کہیں زیادہ اس وقت خوش ہوتا ہے جب تم میں سے کوئی بھٹکا ہوا بندہ اس کی طرف پلٹتا ہے اور گمراہی کے بعد پھر وہ فرمانبرداری کی روش اختیار کرتا ہے۔‘‘ (ترمذی)

شیئر کیجیے
Default image
ابوالفضل نور احمد

تبصرہ کیجیے