4

قومی خواتین کمیشن کی رپورٹ

اکتوبر کے پہلے ہفتے میں قومی خواتین کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئی جس سے معلوم ہوا کہ ملک کے کل اضلاع میں سے نصف سے بھی زیادہ اضلاع خواتین اور بچوں کے استحصال اور جسم فروشی کا اڈہ بنے ہوئے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں 1016ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ۲۸؍ لاکھ سے زیادہ خواتین جسم فروشی جیسے شرمناک اور گندے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک میں ۱۵ سے ۳۵ سال کی عمر والی مجموعی خواتین کی تعداد کا ۴ء۲ فیصد خواتین جسم فروشی میں مبتلا ہیں۔

رپورٹ میں جہاں اس اہم مسئلے کے اسباب و عوامل پر روشنی ڈالی گئی ہے وہیں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اس سلسلے میںذمہ دار افراد کی ۲۲ فیصد تعداد ایسی ہے جن پر محض اس وجہ سے مقدمہ نہیں چلایا جاسکا کیونکہ اس گندے اور غلیظ کاروبار سے جڑے ہوئے لوگ کافی سیاسی اثرورسوخ رکھتے تھے۔ اسی طرح اس کے بہت سارے اسباب کے ساتھ ایک اہم سبب غربت اور بھکمری جیسی کیفیت کو بھی قرار دیا گیا ہے اور جہاں ایسی کیفیت ہے وہاں سے آنے والی خواتین کی عمریں بھی کافی کم ہیں یا وہ نابالغ ہوتی ہیں۔

قومی خواتین کمیشن کی اس رپورٹ نے حقیقت میںکسی نئی حقیقت کا انکشاف تو نہیں کیا البتہ ان حقائق پر سرکاری اور قانونی تصدیق کی مہر لگادی جن سے ہماری حکومتیں منہ چھپاتی تھیں اور سماج نظر انداز کرتا تھا۔ خواتین کی یہ حالتِ زار اور شرمناک صورتِ حال بدقسمتی سے ایسے دور میں پیش آرہی ہے جو خواتین کے امپاورمنٹ کی تحریکات، مساوات مردوزن اور سماجی و اقتصادی ترقی کا دور ہے۔ ملک کے اربابِ اقتدار پورے ملک کو یہ باور کرانے کی بھر پور جدوجہد کررہے ہیں کہ ملک تیزی سے نہ صرف ترقی کررہا ہے بلکہ ترقی یافتہ ملکوں کے شانہ بشانہ چلنے اور عالمی سطح پر اپنی شناخت ایک طاقتور ملک کی حیثیت سے بنانے میںکامیاب ہورہا ہے۔ قوم کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی کی وجہ سے Per-Capita Income میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ تعلیم، خوشحالی اور روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ رائٹ تو انفارمیشن نے سیاست و حکومت میں شفافیت اور کھلے پن کے دروازے کھول دیے ہیں اور عوامی عمل دخل کو بڑھانے کی راہیں ہموار کی ہیں۔ پورا میڈیا، حکومت کے ایوان اور ملک کا تعلیم یافتہ طبقہ یہ سمجھ رہا ہے کہ خواتین کا امپاورمنٹ ہورہا ہے، ان کے لیے روزگار کے نئے نئے مواقع میسر آرہے ہیں، وہ آزادی اور خود مختاری کی فضا میں سانس لے رہی ہیں اور خواتین کا اقتصادی گراف بھی امپاورمنٹ کے ذریعے اوپر اٹھ رہا ہے۔ سیاست میں ان کی حصہ داری بڑھ رہی ہے،گرام پنچایتوںمیں خواتین کو ۳۳ فیصد رزرویشن دے کر انہیں بااختیار بنایا جارہا ہے اور مزید پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں رزرویشن ان کے لیے ’’تیار‘‘ ہے۔

مگر خواتین کمیشن کی اس رپورٹ نے ان تمام باتوں کی ’’آفیشیلی‘‘ قلعی کھول دی اور یہ واضح کردیا کہ ملک میں خواتین کی حقیقی صورتِ حال کیا ہے اور وہ کن سخت اور آزمائشی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

یہ رپورٹ صرف انہی کی معاشی، سماجی اور معاشرتی حالت کو پیش نہیں کرتی بلکہ ملک کے اس پورے منظر نامے کی عکاسی کرتی ہے جس میں خواتین زندگی گزارتی آئی ہیں اور گزار رہی ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ نیوکلیائی طاقت کے حامل اور عالمی سیاست میں منفرد شناخت رکھنے والے ملک ہندوستان کی حقیقی صورت یہ ہے کہ وہاںبھوک اور افلاس کے سبب خواتین اپنی عصمتیں تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح برابری اور مساوات مرد وزن کے اس سنہرے دور میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو جبراً اور بزور طاقت لوگ اٹھا کرلے جائیں اور عصمت فروشی کے گھناؤنے کاروبار سے لگے دبنگ اور سیاسی اثرورسوخ کے حامل افراد کے ہاتھوں فروخت کردیا جائے اور وہ ہمیشہ کے لیے ذلت و رسوائی دل دل میں پھینک دی جائیں۔

یہ رپورٹ ہماری سماجی دیّوسیت اور معاشرتی زندگی کی سڑاند اور بدبو سے بھی ہمیں روبرو کرتی ہے جہاں روزگار کے نام پر فریب دینے والے ان کی عصمتوں سے کھیلتے ہیں اور جہاں لڑکیوں کے اپنے رشتہ دار اور سسرال والے ذلت و پستی اور حیوانیت کی اسفل ترین سطح میں اتر کر انہیں اس ذلیل پیشہ کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کیرل جیسی ریاست کا بھی تذکرہ ہے جہاں جہالت، ناخواندگی، مغربی بنگال جیسی غربت اور بھکمری کی کیفیت کا تصور بھی نہیں ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب تصور کیا جائے کہ تعلیم یافتہ اور معاشی اعتبار سے خوشحال افراد بھی اس گھناؤنے پیشے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ بات اس وقت صد فی صد درست قرار پاتی ہے جب مذکورہ رپورٹ یہ کہتی ہے اس پیشہ سے وابستہ بہت سی خواتین ایسی بھی ہیں جو تعلیم یافتہ اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں ، لیکن محض بہت زیادہ دولت حاصل کرنے کے شوق نے انہیں ان کمین گاہوں تک پہنچایا ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں راجدھانی اور ملک کے بڑے شہروں میں اجاگر ہونے والے سیکس اسکنڈلوں سے بھی ملتا ہے جن میں خاصی تعداد ایسی نوجوان لڑکیوں کی تھی جو خوشحال گھرانوں کی چشم و چراغ اور کالجوں کی طالبات تھیں۔ اور یہ صورتِ حال ہمارے تعلیمی نظام کے لیے بڑا المیہ تصور کی جانی چاہیے کہ وہ انسانوں کو بنیادی انسانی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے روشناس کرانے کے بجائے محض ایک معاشی حیوان بنارہا ہے جو صرف عیش و عشرت اور دولت کے غلام ہیں۔

جہاں تک خواتین کے لیے روزگار کے مواقع کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں کھلے دل سے یہ اعتراف تو کیا جانا چاہیے کہ گزشتہ دہائیوں میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع کھلے ہیں لیکن روزگار کے مقامات پر بھی بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں خواتین کا عزت و وقار داؤ پر رہتا ہے اور اس کا ثبوت آئے دن پیش آنے والے وہ واقعات ہیں جہاں خواتین اپنے کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کی شکایت کرتی ہیں۔ اور اس سلسلے میں کارپوریٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کال سنٹروں ہی کا شکوہ نہیں ہے بلکہ تعلیم گاہوں جیسی معزز باوقار جگہوں پر بھی خواتین خود کو اور اپنے وقار کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں اور اس کی مثال کے لیے ڈی پی ایس جیسے معروف اور معتبر ادارے کو پیش کیا جاسکتا ہے جہاں ایک برانچ کے پرنسپل جیسے ذمہ دار شخص کو جنسی ہراسانی کا مجرم پایا گیا اور عدالت نے ڈی پی ایس سوسائٹی اور تعلیمی ادارے کو اس بات کا حکم دیا کہ وہ متاثرہ تین خواتین کو آٹھ لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کرے۔

خواتین کمیشن کی رپورٹ اور اس سے جڑے واقعات تو وہ ہیں جن سے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ اس کے علاوہ بھی خواتین کی عزت و عصمت پر ڈاکہ زنی کے بہت سارے مقامات ہیں جن کا ذکر نہ تو کسی رپورٹ میں آتا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی حرف زنی ہوتی ہے، ورنہ کون نہیں جانتا کہ ملک کے بہت سے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں کیا کیا ’سہولیات‘ فراہم نہیں کی جاتیں اور یہ کہ مساج پارلروں کے نام سے چلنے والے کھلے اور قانونی طور پر جائز کاروبار میں ’مساج‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ اور ان تمام کے تو اشتہارات باقاعدہ طور پر ملک کے تمام معروف اخبارات اور رسالوں میں بھی شائع ہوتے ہیں۔

اس تمام افسوسناک اور شرمناک صورتِ حال کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ حکومتیں سب کچھ جان کر بھی تجاہلِ عارفانہ برتتی ہیں اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ یہ تو اس تہذیب اور کلچر کا بنیادی حصہ ہونے والا ہے جسے ہم مغرب سے درآمد کررہے ہیں اور جس کے غلام ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور یہ کہ جو لوگ اسے کاروبار کے طور پر چلاتے ہیں وہ سیاسی اعتبار سے اس قدر بارسوخ ہیں کہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا۔

بنیادی نقص اور کمزوری اس سوچ اور فکر میں ہے جو عورت کو محض جنسی تسکین کا ایک آلہ تصور کرتی ہے اور اس کے لیے وہ استحصال یا برائی کے تصور سے بھی عاری ہوگئی ہے۔ اور اس کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ فرد کی آزادی کے نام پر قائم ہے اور جمہوریت اس کا مشترکہ بت ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے۔ اگر اس فکر اور تہذیب میں مرد و عورت کا وقار، شرم و حیا اور عزت و عصمت کی کچھ قدر ہوتی تو وہ ہم جنسی جیسے لغو اور فحش افکار کو قابلِ اعتنا تصور نہ کرتی۔

یہ کیفیت اور صورتِ حال اہلِ اسلام اور اسلام پسند خواتین کے لیے ایک چیلنج ہے اور انہیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ وہ چیلنج کا مقابلہ کس طرح کرسکتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی