domestic-abuse-768

بیوی کے ساتھ مارپیٹ

میری عمر چالیس سال کے قریب ہے۔میں نے بچپن سے اپنے والد صاحب کو دیکھا کہ وہ میری ماں کو مار تے تھےاور بعض اوقات تو مار بڑی شدید ہوتی تھی۔ میری تائی کو بھی میرے تایا بہت مارتے تھے۔ کبھی کبھی تو میں نے ان کو دیکھا کہ وہ بڑی بے دردی کے ساتھ ڈنڈے سے تائی کو ایسے مار رہے ہیں جیسے بیل اور بھینسوں کو لوگ مارتے ہیں ، اس وقت ہم سہم جاتے اور پورے گھر میں کہرام مچ جاتا۔
میری شادی ہوگئی تو میں نے بھی تنک مزاجی میں کئی با راپنی بیوی کو مارا، جبکہ ماں اور بہن کی طرف سے کسی شکایت کےسبب ہلکی پھلکی مار تو میں معمولی تصور کرتا تھا۔ اب میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ دوسری بیوی ہے۔ بچے بڑے ہورہے ہیں بیٹا چودہ پندرہ سال کا ہے۔ سوچتا ہوں کہ کیا کروں؟ کہیں بچے بھی اسی راہ پر نکل پڑے تو بہت برا ہوگا۔ بڑھاپا اذیت بن جائے گا۔ میرے باپ نے میری ماں کو مارا پیٹا، میں نے اپنی بیوی پر تشدد کیا جس سے میرے باپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ سوچتا ہوں کہ یہ سلسلہ یہیں ختم ہوجائے۔ کیا کروں رہنمائی کیجیے؟ ایک بات بتادوں کہ میرے علم میں یہ بات ہے کہ میرے دادا اس مزاج کے نہ تھے اور نہ ہی انھوں نے کبھی دادی پر تشدد کیا، پھر یہ سلسلہ کیسے رائج ہوگیا؟(سائل)
صاحب موصوف نے ایمانداری کے ساتھ اپنے دل کی بے قراری کا اظہار کیا ہے اس لیے ۓ کہ ضمیر کبھی خاموش نہیں بیٹھنے دیتا بلکہ وہ ہمیشہ انسان کو اس کی غلطیوں پر کچوکے دیتا رہتا ہے۔ اس احساسِ جرم سے جب اندرون بوجھل ہو جاتا ہے تو اسے ہلکا کرنے اور اس کی تلافی کرنے کی راہیں تلاش کرتا ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ انسان جانتا ہے کہ رب کے حضور کوئی گستاخی ہو گئی ہو تو اس کی معافی کا تو امکان ہے مگر بندوں کے ساتھ جو ظلم روا رکھا گیا ہو یا جو حق تلفی کی گئی ہو وہ اس وقت تک معاف نہیں ہوگی جب تک کہ مظلوم و متاثرفرد خود روز محشر عدالت رب میں معاف نہ کر دے، مگر وہاں اس کا امکان کم ہے، اس لیے کہ وہاں کون ہوگا جسے اپنی نجات کی فکر نہ ہو، اگر اس کے حصے میں نیکیاں کم ہوگئی ہوں، تو اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ظالم کے خلاف اللہ کی عدالت میں شکایت درج کراکر انصاف طلب کیا جائے گا۔ انصاف اس طرح ہوگا کہ ظالم کی نیکیاں لے کر مظلوم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی، پھر بھی حساب کتاب پورا نہ ہو تو مظلوم کے گناہ لے کر ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گے۔ وہاں کے قانون میں یہی گنجائش ہوگی۔ جو شخص اپنی شریک حیات، نصف بہتر اور صنف نازک کی جانوروں کی طرح پٹائی کرتا تھا اس کے پیچھے دو عوامل کار فرما ہیں۔

ذہنی عامل

انسان کے ہر عمل کے پیچھے اس کے ذہن و فکر کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ جس شخص کی سوچ زندگی کے بارے میں یہ ہو کہ کھاؤ پیو اور مزے کرو اس شخص کا عمل اس دوسرے شخص سے مختلف ہوگا جو زندگی کے بارے میں یہ تصور رکھتا ہو کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں کے ہر اچھے اور برے عمل کا حساب ایک دن دینا ہے۔ پہلی سوچ انسانوں کو جانوروں کی سطح پر لے آئے گی اور دوسری سوچ آدمی کو انسانیت کے بلند مرتبے تک اٹھائے گی۔اسی طرح اگر بیوی کے بارے میں کسی کی یہ رائے ہو کہ وہ میری نوکرانی ہے تو پھر اس کا سلوک اس کے ساتھ، جو زندگی میں اسے تسکین جاں فراہم کرتی ہو، ایک نوکرانی کی سطح پر ہوگا یا ویسا برتاؤ کرے گا جیسا ایک چرواہا اپنے جانوروں کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک سنجیدہ انسان اپنی بیوی کے بارے میں یہ رائے رکھے کہ وہ میرے گھر کی رانی ہے تو پہلے نمبر پر وہ خود بادشاہ بنے گا اور بادشاہ کا سا مزاج پیدا کرے اور گھر کی سلطنت میں بادشاہ کا رول بھی ادا کرے گا ۔ وہ بادشاہ کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرے گا ۔‌وہ بلند حوصلہ، کشادہ ذہن اور فراخ دلی کے اوصاف پیدا کرے گا۔ بیوی جب گھر کی رانی ثابت ہوگی تو وہ گھر کی رونق ہوگی اور مزید برآں سارے اہل خاندان کے نزدیک اس کا مقام ایک باوقار، باعزت ،بااختیار اور فیصلہ لینے والی شخصیت کاہوگا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بیوی کے ساتھ جیسا سلوک کیا جائے گا اسی کی مناسبت سے دنیا کے سامنے اس کے شوہر کی شخصیت کا تعارف بھی ہوگا۔ اگر جوانی کے جوش میں انسان کو اس کا احساس نہ ہو کہ وہ چرواہا بن رہا ہے یا بادشاہ تو وقت بتا دے گا اور بستر مرگ پر انسان یا تو خوش رہے گا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کیا یا ہر دن ضمیر کی چوٹ کھا کھا کر تصور میں بیوی کے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر صبح شام معافی مانگتے ہوئے اس دنیا سے افسردہ ،غمگین اور مایوس لوٹے گا۔

قلبی عامل

انسان کا دل نرم ہو تو اس کی زندگی کی ہر ادا حسین ہوتی ہے اور وہ دوسروں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ثابت ہوتا ہے جیسے گھنے گھنے باغات، لہلہاتی کھیتیاں ، پر شور ندیاں، برفانی چوٹیاں یا ہری بھری وادیاں۔ اس کے برعکس جس کا دل سنگ و خشت کی طرح ہو ، اس کی زندگی درشت صحرا، چٹیل میدان خاردار جھاڑیوں اور شور آبیدہ زمین کی طرح نظر آتی ہے۔ جس کا دل نرم ہو اس کی بول چال اور اس کا برتاؤ سب کے ساتھ تو نرم ہوتا ہی ہے مگر بالخصوص اپنی رفیق حیات کے ساتھ تو برفانی ٹھنڈک اور شہد کی سی مٹھاس کا ہوتا ہے۔ جنہوں نے اپنے دل کی نرمی پر توجہ نہیں کی وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔

ایک امید

نا امیدی کفر ہے۔ انسان ننانوے قتل کے بعد بھی اپنی مغفرت کے اسباب تلاش کر سکتا ہے۔نیت میں خلوص ہو تو اللہ بزرگ و برتر اس کے لئے غیبی مدد کرتا ہے اور راہیں کھولتا ہے۔ اس کے لئے شرط اول ہے کہ انسان اپنی غلطی کا اقرار کرے۔ جو غلطیاں تنہائی میں ہو گئی ہوں ان کا تنہائی میں اقرار کرے اور جو غلطیاں کسی کی ذات کو تکلیف پہنچانے سے متعلق ہوں ان کے لئے بلا جھجھک مظلوم سے معافی مانگے۔ اگر وہ زندہ نہ ہو تو رب سے دعا کرتا رہے کہ آخرت میں کوئی ایسی سبیل نکال دے کہ وہ اس کی نیکیاں لیے بغیر اور اس کے گناہ اس کے کھاتے میں رجسٹر ہوئے بغیر معافی کا کوئی سامان نکل آئے۔ اس کی ایک کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ اس بندے کے نام صدقہ جاریہ کا اجرا کرے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ وہاں معافی کی کوئی سبیل نکل آئے۔ بعض احادیث میں اس کا تذکرہ ملتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ایسے دو افراد کے درمیان معافی کا انتظام کرے گا اور معاف کرنے والے بندے کو عظیم الشان جنت اس کے اعمال کی جنت کے علاوہ عطا کرے گا۔ وہاں کی عمارتیں سونے چاندی کی اینٹوں سے بنی ہونگی۔ مگر اس کے لئے خلوص نیت، صدق دل سے توبہ، مرحوم کے لیے مسلسل دعائیں اور اس کے حق میں اپنی بساط بھرصدقہ جاریہ کرنا ہوگا۔ll

شیئر کیجیے
Default image
جواب: ایس امین الحسن

تبصرہ کیجیے