4

ایمبرائڈری اور ٹیلرنگ

روز بروز بڑھتی مہنگائی، بچوں کے تعلیمی اخراجات اور معاشی تنگی نے بہت سے خاندانوں کی خواتین اور نوعمر لڑکیوں کو اس بات کے لیے مجبور کردیا ہے کہ وہ خاندان کی کفالت اور روز مرہ کے اخراجات کی فراہمی کے لیے کچھ کام کرکے پیسہ کمائیں اور اپنے خاندان کے کفیل مرد کی معاون بنیں۔ یہ صورت ان خواتین کی خاصی مجبوری ہے جو بیوہ ہیں یا جہاں گھر کے افراد زیادہ اور بچوں کی تعلیم وغیرہ اہمیت رکھتی ہے اور وہ اپنی نئی نسل کوعلم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔ یوں بھی ہمارے ملک میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غریب خاندانوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین لفافے بناکر، بیڑیاں بناکر اور کچھ مقامات پر کپڑے سی کر اور دیگر دست کاریوں کے ذریعہ اپنی غربت اور تنگ دستی کا علاج کرتی ہیں، تو شہری علاقوں میں اچھی خاصی پڑھی لکھی خواتین گھروں میں’آیا‘ کا کام کرکے اپنا اور اپنے بچوں کاپیٹ پالتی ہیں۔ ایسے میں سماج کے باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ضرورت مند خواتین کی رہنمائی بھی کریں اور مدد بھی کہ وہ کس طرح گھر بیٹھے باعزت طریقے سے اپنی روزی روٹی کما سکیں۔

ایمبرائڈری اور ٹیلرنگ ایسی خواتین کے لیے باعزت روزگار فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے وہ گھر بیٹھے اچھی خاصی رقم حاصل کرسکتی ہیں۔

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ فیشن کی دنیا کی رنگینیاں لوگوں کو خاص طور پر خواتین کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ رنگ برنگے اور نت نئے ڈیزائن والے لباس ان کا خاص مرکزِ توجہ ہوتے ہیں اور ظاہر ہے یہ کام ایمبرائڈری اور ٹیلرنگ کے پیشے سے وابستہ افراد ہی کرتے ہیں۔ ایمبرائڈری کا کمال خوبصورت بیل بوٹوں اور دلربا ڈیزائنوں میں پوشیدہ ہے۔ اور اگر کوئی خاتون یا لڑکی اس میں دلچسپی رکھتی ہے اور اپنی تخلیقی سوچ کو کام میں لاتی ہے تو یہ ان کے لیے یہ ایک اچھا روزگار ہوسکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ کسی اچھے انسٹی ٹیوٹ سے ٹریننگ حاصل کرلیں۔ اگر اچھے ادارے سے تربیت لی جائے اور اس میدان میں قدم رکھا جائے تو کامیابی یقینا حاصل ہوگی۔

مواقع

ایمبرائڈری اور ٹیلرنگ کا کام ایک اچھا اور باعزت کام ہے، جسے کوئی خاتون معمولی خرچ کے ساتھ اپنے گھر سے ہی شروع کرسکتی ہے اور محلے پڑوس کی خواتین کا خوبصورت اور اچھا کام کرکے مقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں دوسری خواتین بھی آنے لگیں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کی خواتین کام کے لیے آنے لگیں گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو کچھ انتظار اور صبر کرنا پڑے۔ ایمبرائڈری اور ٹیلرنگ کے ذریعے درج ذیل کام کیے جاسکتے ہیں:

ایمبرائڈری

٭ اپنے ہی گھر میں مشین لگا کر پاس پڑوس کی خواتین اور بچوں کے لباس پر ایمبرائڈری کی جائے اور ان کے ڈیزائن تیار کیے جائیں۔٭ ایمبرائڈری اور کڑھائی کے ساتھ ساتھ سلائی مشین بھی رکھی جائے اور سلائی کی جائے۔٭ ایمبرائڈری کے بہت سے نمونے تیار کیے جائیں اور انہیں فیشن ڈیزائننگ اور بوٹیک ہاؤس کو فروخت کردیا جائے۔٭ ایمبرائڈری کے تیار شدہ ڈیزائن ایکسپورٹ ہاؤسز کو فروخت کیے جائیں۔٭ ایمبرائڈری اورٹیلرنگ کا کورس کرکے بوٹیک ہاؤسیز میں نوکری کرلی جائے یا ان سے کام لے کر گھر پر ہی کیا جائے۔

ٹیلرنگ

٭ گھر میں سلائی مشین لگا کر پاس پڑوس کی خواتین اور بچوں کے کپڑے سینے کا کام شروع کیا جاسکتا ہے۔٭ ٹیلرنگ ہاؤسز اور بوٹیک سے کام لے کر اپنے گھر لاکر کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹ ہاؤسزسے کام لایا جاسکتا ہے۔٭ اسکولوں سے رابطہ کرکے ان کے ڈریس تیار کرنے کا کام کیا جاسکتا ہے۔ یا ڈریس بنانے والے تاجروں سے کام لے کر گھر پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ٭ چھوٹے بچے بچیوں اور خواتین کے لباس ریڈی میڈ تیار کرکے فروخت کیے جاسکتے ہیں۔

اخراجات

ایمبرائڈری اور ٹیلرنگ کی تربیت کے بہت سے معروف، غیر معروف ، سرکاری اور رفاہی تنظیموں کے ادارے شہر شہر کام کررہے ہیں۔ ضرورت مند خواتین ان سے رابطہ کرکے معلومات بھی لے سکتی ہیں اور تربیت بھی حاصل کرسکتی ہیں۔ تربیت کے بعد یہ کام نہایت آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے جو سب سے پہلی ضرورت ہے وہ مناسب جگہ ہے۔ اگر کوئی دوکان حاصل ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ گھر کے ایک کمرے ہی میں یہ کام کیا جاسکتا ہے۔

ایک اچھی ٹیلرنگ مشین کی قیمت دو سے تین ہزار ہوتی ہے جبکہ ایمبرائڈری کی اوسط درجہ کی مشین چار سے پانچ ہزار میں حاصل ہوجاتی ہے۔ دیگر اشیاء کی فراہمی جن میں ضروری خام مال بھی شامل ہے دو سے تین ہزار روپے صرف ہوسکتے ہیں۔ اس طرح یہ کام دس ہزار روپے کے اندر اندر شروع کیا جاسکتا ہے۔ اور کام بڑھنے کی صورت میں دیگر خواتین اور لڑکیوں کو مناسب ترتیب دے کر اجرت پر اپنے یہاں رکھا بھی جاسکتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ بعد میں ایک پورا سیٹ اپ قائم کرلیا جائے اور ایک سوچ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسے تجارتی یونٹ کے ساتھ ساتھ تربیتی ادارے کی شکل بھی دے دی جائے۔

مالی تعاون

اگر کسی کے پاس اس کام کے لیے درکار رقم دستیاب نہیں ہے تو مختلف دینی اور رفاہی تنظیموں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے، جو عام طور پر مشین کی صورت میں تعاون کرتی ہیں۔ اسی طرح سرکار کے خواتین سے متعلق اور رفاہِ عامہ خاص طور پر خواتین کی بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ سماج کے با اثر افرادسے شخصی طور پر تعاون لیا جائے۔

— مضمون نگار فینسی ایمبرائڈری ہینڈ ورک اینڈٹیلرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، ارونگ آباد، مہاراشٹر کے ڈائرکٹر ہیں۔ مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے 91-9890031481پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
قاضی مختار احمد