6

ذرا سوچئے!!

مکان میں آگ لگ گئی تھی۔ ایک شخص تیسری منزل پر تھا۔ آگ بجھانے والے (فائرمین) آئے انھوں نے پھنسے ہوئے آدمی کو آواز دی تم کھڑکی پر آجاؤ۔ ہم تم کو خصوصی سیڑھی سے نیچے اتارنے کا انتظام کررہے ہیں۔ عمارت کے نیچے کافی مجمع اکٹھا ہوگیا تھا۔ مجمع چلانے لگا کودو ، کودو۔ مجمع کے شور میں فائر مین کی آواز اس آدمی تک پہنچ نہیں سکی یا وہ خوف اور تردد کا شکار ہوگیا۔ اس آدمی نے اپنے کمرے سے چھلانگ لگادی ، وہ نیچے گرا تو شدید طور پر زخمی ہوچکا تھا۔ اس کو نازک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ فائیر مین نے کہا یہ آدمی اگر چند لمحے اور ٹھہرا ہوتا تو ہماری سیڑھی اس تک پہنچ جاتی اور وہ بحفاظت نیچے اتر آتا۔ اور بھیڑ کے بجائے اگر فائرمین کی آواز کو سنتا تو محفوظ رہ سکتا تھا۔
لوگ بولنا جانتے ہیں مگر زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ چپ رہنا بھی جانیں۔ دنیا میں وہی گروہ ترقی کرتا ہے، جس کے افراد یہ جانتے ہوں کہ ان کوکہاں بولنا چاہیے اور کہاں چپ رہنا چاہیے۔ اسی بات کو عقل مند اور حکیم لوگوں نے یوں کہا ہے: ’’بولنا چاندی ہے اور چپ رہنا سونا۔‘‘ اور جب ہر شخص بولنے لگے تو جو شخص حقیقی معنوں میں مفید بات کہنے والا اور بولنے کااہل ہے وہ بولنے کو بے فائدہ سمجھ کر چپ ہوجائے گا اور اسے چپ ہوجانا چاہیے۔ اگر وہ بولے بھی تو شوروغل میں اس کی آواز دب کر رہ جائے گی۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میںیہ حال تھا، جب آپؐ صحابہؓ کو اکٹھا کرتے اور ان کے سامنے مشورہ کے لیے کوئی بات رکھتے تو لوگ غور سے بات کو سن کر چپ ہوجاتے۔ صحابہؓ اس بات کو جانتے تھے کہ ان کے درمیان بولنے کا سب سے زیادہ اہل آپؐ کے بعد جو شخص ہے وہ ابوبکرؓ ہیں۔ سب سے پہلے ابوبکرؓ بولتے پھر دوسرے صحابہؓ اپنی رائے دیتے اوراس کے بعد ہر آدمی طے شدہ عمل کے لیے تیار ہوجاتا۔ آپؐ کے بعد خلافت راشدہ قائم ہوئی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ لوگوں کو مشورہ کے لیے جمع کرتے آپ اپنی بات کہہ کر بیٹھ جاتے اور کہتے کہ لوگو اپنی رائے دو۔ سب لوگ چپ رہتے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ سب سے زیادہ اہل عمر بن خطابؓ ہیں۔ ایک وقفہ کے بعد حضرت عمرؓ کھڑے ہوتے اور اپنی بات کہتے۔ آپؓ کی بات مکمل ہوجاتی تو دوسرے لوگ مختصراً اپنی رائے ظاہر کرتے۔ اور پھر اتفاق رائے سے فیصلہ ہوجاتا۔ بعد کے زمانے میں یہ صورت حال دھیرے دھیرے بدل گئی۔ اب ہر شخص اپنے آپ کو بولنے اور رائے دینے کا زیادہ اہل سمجھنے لگا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملت اسلامی میں ایسا خلفشار برپا ہوا جو کبھی ختم نہ ہوسکا۔
موجودہ زمانے میں بھی صورتِ حال مزید شدت کے ساتھ قائم ہے۔ آج ہر آدمی لکھنے اور بولنے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسائل پر رائے دینے کا سب سے زیادہ اہل وہی ہے۔ موجودہ زمانے میں ملت کے اختلاف اور کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہر شخص بولنے لگا ہے۔ اور اس طرح صحیح اور مضبوط بات لوگوں کے شور میں دب جاتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سید نصر اللہ ، کرے بلیچی

تبصرہ کیجیے