2

آبی آلودگی

انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی ہماراماحول آلودگی پذیر رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ بیسویں صدی کے اواخر میں ماحول کی آلودگی نے تشویشناک صورت اختیار کرلی۔

اس صدی کے دوران انسان نے سائنس اورتکنیک کے میدان میں حیرت انگیز کارنامے انجام دیے ہیں لیکن اس ’’ترقی‘‘ کی قیمت اسے مختلف النوع آلودگیوں کی صورت میں چکانی پڑرہی ہے۔ ماحول کی آلودگی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا تعلق ان تمام انسانی سرگرمیوں سے ہے جو قدرتی ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ آبی آلودگی سے مراد پانی کی ترکیب یا حالت میں ہونے والی ناموافق تبدیلی ہے۔ پانی کے رنگ، ذائقے، شفافیت، درجۂ حرارت اور بو کے ذریعے ممکنہ آلودگی ظاہر ہوتی ہے۔

آبی آلودگی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک میں ایک بڑی آبادی، ندیوں اور دریاؤں کے کنارے بستی ہے۔ ان ندیوں اور دریاؤں میں بڑی مقدار میں گندگی، فضلات، کیمیائی اجزا، جراثیم کش دوائیں، جوہری اور نیوکلیائی کچرے اور دوسری چیزیں بہہ کر پہنچتی ہیں، جو پانی کو آلودہ کرتی ہیں۔ دن بدن بڑھتی ہوئی آبی آلودگی کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ تیس چالیس برسوں میں ہمارے ملک کی ندیوں اور دریاؤں کا پانی اس قابل نہیں رہے گا کہ مچھلی جیسے کسی جاندار کی پرورش کرسکے۔ قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں پائے جانے والی ۸۰ بیماریوں کا تعلق پانی سے ہے۔ جن کے درج ذیل اسباب ہیں:

صنعتی کارخانوں کا فضلہ کیمیائی مادہ

٭صنعتی کارخانوں، دواساز فیکٹری، پیٹروکیمیکل انڈسٹری، کھاد اور دیگر کیمیات کے کارخانے جیسے ربڑ، نائلون، پالیتھین، پلاسٹک، ریٹون فائبر، پینٹ رنگ اور خوشبودار روغن کے کارخانے، کپڑے رنگنے کے کارخانے، کاغذ اور بلب کے کارخانے وغیرہ کے فضلات اور کیمیائی مادے جب پانی کے ذریعے ہمارے جسم میں پہنچتے ہیں تو جگر، گردہ، پھیپھڑے اور دوسرے اعضاء کو ضرر پہنچنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔اور انسان مختلف مہلک بیماریوں مثلاً کالرہ، پیچش، ٹائی فائڈ، ہیضہ، ٹی بی اور مختلف جلدی امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نامور سائنسداں نیرنگ کی دریافت یہ ہے کہ چند کیڑا مار کیمیا اس قدر ضرر رساں ہیںکہ انسانی جسم میں منتقل ہوکر عضویاتی نظام بگاڑ سکتے ہیں۔ جینی امراض (Genetic Disosters) پیدا کرسکتے ہیں اور آنے والی نسل میں بھی نقص پیدا ہوسکتا ہے۔

٭ کوئلہ یا نیوکلیر پاور پلانٹس وغیرہ سے خارج شدہ گرم پانی بھی آبی نظام کے لیے کافی مہلک ہوسکتا ہے۔ اسے حرارتی آلودگی کہتے ہیں اور یہ نازک اجسام جیسے مونگے کو متاثر کرسکتا ہے۔

٭ کان کنی کے عمل میں بھاری دھاتیں اور گندھک جو زمین میں دبی ہوئی تھیں باہر آجاتی ہیں، جب مٹی کے اس ملبے پر بارش ہوتی ہے تو مذکورہ اشیاء اور دیگر معدنی فضلات زیرِ زمین پانی میں شامل ہوجاتے ہیں۔

٭ حادثے کی صورت میں سمندری جہازوں سے تیل اور پیٹرول کے گرنے یا رسنے سے سمندر کی سطح پر ایک روغنی تہہ بن جاتی ہے۔ اس تلچھٹ کے سبب سورج کی روشنی پانی میں داخل ہونے سے قاصر رہتی ہے، جس سے سمندری جانوروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ سمندری پرندے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

گھریلو فضلہ اور دوسرے بیکار نامیاتی مادّے

لوگ پھل و سبزی وترکاری کا بچا ہوا حصہ، پکا ہوا فاضل کھانا پھپھوند لگی روٹی، کاغذ، پھٹے پرانے کپڑے، گھر کی صفائی کے دوران جمع کیا ہوا کوڑا کرکٹ وغیرہ چیزیں گھر سے باہر پھینک دیتے ہیں۔ میونسپلٹی والے انہیں تالاب، گڑھوں یا ندی میں ڈال دیتے ہیں۔ نمی یا پانی کی موجودگی میں نامیاتی قسم کے مادّے سڑنے گلنے لگتے ہیں۔ ان کے سڑنے گلنے پر کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں پانی میں رہنے والے حیوانات جیسے مچھلیوں کو تنفسی گھٹن کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

آبی آلودگی دور کرنے کے طریقے

(۱) پانی کے ذخیروں میں موجود تمام اقسام کے مضر صحت مادّوں کو ماہرین کی رائے کے مطابق دو طریقوں سے دور کیا جاسکتا ہے۔ جدید قسم کی بڑی لاگت والی اسکیموں کے ذریعے یا قدرتی آسان طریقوں سے۔ جدید ٹیکنالوجی میں اربوں روپئے خرچ ہونے کا اندازہ ہے جب کہ قدرتی ترکیبوں سے ماہرین بہت ہی کم لاگت پر پانی کی مضرِ صحت غلاظتوں کو دور کرسکتے ہیں۔ مثلاً پہاڑیوں اور سطح مرتفع پر دریا کے گندے اور بارش کے تیزابی پانی کو مصنوعی تالابوں میں جمع کرکے اس غلیظ پانی کو پتھر پر گراگرا کر دوبارہ ایسے ہی تالابوں میں جمع کیا جاسکتا ہے۔ اس گرائے جانے والے پانی سے بجلی بھی تیار ہوسکتی ہے۔ اب اس کم گندے پانی کو مزید صاف کرنے کی بہترین صورت اس میں ریت ملا کر مفید جڑی بوٹیوں کا استعمال ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جنگلات، ماحولیات اور صحت کے ماہرین ان تمام جگہوں پر ایسے درخت، پیڑ پودے اور جڑی بوٹیاں اگانے کا معقول انتظام کریں جہاں انکی ضرورت ہو۔ زمین پر ایسے درخت، پیڑ پودے، جری بوٹیاں اور گھاس جیسی مفید نباتات موجود ہیں جو مٹی یا پانی کی غلاظتوں اور ہوا کی زہریلی گیسوں کو اپنے اندر جذب کرکے مفید ترین متبادل اجزاء مہیا کرتے ہیں۔ وہ اپنی جڑوں، شاخوں اور پتّوں کے ذریعے غلیظ ماحول کو صاف ستھرا بناتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پتے ، پھول، پھل، ٹہنیاں، تنے سب ہی پانی کو روکے رہتے ہیں۔ اور آکسیجن بھی دیتے ہیں۔

(۲) کارخانوں اور فیکٹریوںمیں استعمال شدہ (آلودہ) پانی کو، آلودگی صاف کرنے والے پلانٹ کے ذریعے صاف کرکے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں قوانین بھی وضع کیے ہیں۔

(۳) گھر میں پینے کے پانی کو صاف کرنے کے لیے آلودگی دور کرنے والے Liquidsاور مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ذخیرۂ آب میں آلائش پیدا ہونے کے امکانات کو روکنے کے طریقے

ذخیرئہ آب میں آلائش پیدا ہونے کے امکانات کو روکنے کے لیے کئی طرح کے طریقے دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں جو زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں، درج ذیل ہیں:

(۱) جن ذرائع سے آلائشی مادّے ذخیرۂ آب تک پہنچتے ہیں، ان کا سروے کیا جائے۔ کیوں کہ بارش اور سینچائی کے پانی کے ساتھ بھی زہر آلود مواد دور دراز سے ندی وتالاب میں پہنچ سکتے ہیں۔

(۲) اگر یہ معلوم ہو کہ کس فیکٹری سے زہر آلود کیمیات خارج ہوئے ہیں۔ تو سرکاری محکمے کی مدد سے فیکٹری والوں کو ہدایت بھیجی جائے کہ وہ قدرتی ذخیرئہ آب تک اپنے فضلہ کو نہ آنے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے مواد کی کیمیائی ساخت کو دوسرے موافق مادّوں کے ساتھ کیمیائی تعامل کرکے اس طرح بدل دیں کہ ماحصل کی تاثیر زہر آلود نہ رہے۔

(۳) اگر پانی میں آلائش پیدا ہونے کی وجہ زراعتی کیمیا ہے تب ضرورت اس بات کی ہے کہ چھڑکاؤ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کھیت میں، یا اس کے آس پاس کے کھیت میں پانی موجود ہے یا نہیں؟ وہاں حیوانات کون سے موجود ہیں۔ چھڑکاؤ کے بعد ایسے کھیتوں سے نکالے ہوئے حیوانات جیسے مچھلی، جھینگا، گھونگھا، ہرگز غذائی استعمال میں نہ لائیں۔

(۴) اگر ذخیرئہ آب میں آلائش کی وجہ گھریلو کوڑا کرکٹ ہے یا شکر، یا گڑ یا ڈسٹیلیری کے کارخانوں سے نکلے نامیاتی مادّے جیسے گنّا کے فضلے یعنی مولس ہیں تب یہ ضروری ہے کہ ایسے مادّوں کو بجائے ذخیرئہ آب میں پھینکنے کے سوکھی زمین میں پھیلا کر پورے طور پر سوکھنے دیں پھر یکجا کرکے جلادیں۔ ایک اور ترکیب یہ ہے کہ غلاظت کو مٹی کے اندر ڈالنے کے بعد سڑنے دیں پھر اسے کھاد کے طور پر استعمال کریں۔

مذکورہ بالا طریقوں کو اپنانے سے ذخیرئہ آب میں آلائش پھیلنے کی شکایت بہت حد تک دور ہوسکتی ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر شیخ رحمن اکولوی

تبصرہ کیجیے