5

بچے کو پیسے کے صحیح استعمال کا عادی بنائیں

عمرہ کے سفر کے دوران میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ مکہ میں قیام کا دوسرا دن تھا۔ میںنے اپنی چھوٹی بیٹی کو جیب خرچ کے لیے کچھ رقم دی تاکہ وہ اپنی دوستوں کے لیے اپنی پسند کے گفٹ وغیرہ خریدلے۔ اپنی بہنوں اور بعض سہیلیوں کے ساتھ دن بھر بازار کی سیر کرکے وہ شام کو میرے پاس آئی اور بولی کہ اس کے جیب خرچ میں سے اتنی رقم نہیں بچ پائی ہے کہ وہ اپنی سہیلیوں کے لیے کوئی گفٹ خرید سکتی۔ میں نے جب اس سے پوچھا کہ اس نے ایسی کون سی چیز خریدلی تو اس نے ایک چھوٹا سا ہار میرے سامنے کردیا اور بتایا کہ اس نے شاپنگ مال میں اس کی مہنگی قیمت یوں ہی ادا کردی۔ میں بچی کے اس بے جاتصرف پر اپنی حیرت اور غصے کو چھپانے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی اور یہ خیال کرکے خاموش ہوگئی کہ ہم عمرہ کے لیے آئے ہوئے ہیں اور یہاں کے تعلق سے کوئی تکلیف دہ یادداشت اس کے ذہن میں یہاں سے جانے کے بعدمحفوظ نہیں رہنی چاہیے۔ لیکن میرے اندر ایک لاوا ابل رہا تھا جو پھٹ پڑنے کے لیے بے تاب تھا۔ میں نے اپنے خیالات کو جمع کیا اور سوچا کہ بچی ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ہے۔ کوئی بھی سبق تکلیف اور زحمت کے بغیر نہ سکھا یا جاتا ہے اور نہ سیکھا جاتا ہے۔ یہ استاد اور معلّم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس تکلیف اور زحمت کو حکمت سے زائل کردے۔
ہر شخص کو — خاص طور سے بچوں— کو یہ معلوم ہونا چاہیے اور یہ ضروری بھی ہے کہ ان کے پاس جو پیسے اور روپے ہیں، ان کا مطلب کیا ہے۔ وہ کہاں سے آئے،انھیں حکمت کے ساتھ کیسے خرچ کیا جائے اور آئندہ کے لیے رقم کس طرح جمع کی جائے؟ اس بات پر تمام ماہرین کا اتفاق ہے کہ اگر بچے کو چھوٹی عمر میں رقم استعمال کرنے اور جمع کرنے سے متعلق رہنمائی فراہم کردی جائے تو بڑی عمر میں رقم کے استعمال کے تعلق سے اس کے فیصلے نسبتاً دور اندیشانہ اور مناسب ہوتے ہیں۔
والدین اپنے بچوں کو ان مسائل کے سلسلے میں رہنمائی کھیل کے ذریعے دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر میز کے ایک کنارے پر پانچ روپے کا سکہ رکھ دیا جائے اور دوسرے سرے پر ایک ایک روپے کے پانچ سکے رکھ دیے جائیں۔ اب دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا جائے۔ اس طرح سے بچہ ان کی تعداد سے سکّوں کی قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرے گا اور ممکن ہے کہ وہ بڑے سکے کو پہچان لے۔ جب بچے کی سمجھ میں سکّوں کا فرق آجائے تو پھر اسے رقم جمع کرنے اور محفوظ کرنے کی تربیت دی جاسکتی ہے۔
یہ رہنمائی اور تعلیم بچے کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ اس کی تربیت اس طرح بھی دی جاسکتی ہے کہ اسے کسی خاص چیز کی خریداری کے لیے رقم جمع کرنے پر ابھارا جائے اور ایک مدت کے بعد جب کہ وہ اتنی رقم جمع کرچکے کہ اس متعین چیز کو خریدنے کے بعد بھی اس کے پاس کچھ رقم بچ جائے گی، اسے وہ مطلوبہ چیز خریدوا دی جائے۔
رقم جمع کرنے کی تربیت کے بعد مشارکت کا مرحلہ آتا ہے،یعنی اپنی جمع شدہ رقم میں وہ دوسروں کو بھی شریک کرسکے۔ اس سلسلے میں بعض بچوں کے تعلق سے تھوڑے صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اس مرحلے میں بچے کو اپنے جیب خرچ میں سے کچھ حصہ دوسروں کے لیے نکالنے پر راضی کرنا پڑتا ہے۔ رقم کا یہ حصہ کسی کارِخیر میں دینے کے لیے بھی ہوسکتا ہے، گھر کی کسی ضرورت کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور دوستوں کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔
ہمارے پاس رقم کس لیے ہے؟
یہ سوال اب بھی باقی رہ جاتا ہے کہ بچوں کو یہ بتانا کیوں ضروری ہے کہ ہمارے پاس اتنی رقم کس لیے ہے اور اس کا کیا مطلب و مصرف ہے؟
اس سوال کے تفصیلی جواب کی ضرورت ہے۔ آج کل کے بچے جدید ذرائع ابلاغ کی زد میں ہیں، جوان تجارتی اشتہارات کی شکل میں ان کے سامنے ہے جو قسم قسم کی چیزوں کو رواج دے رہے ہیں اور یہ چیزیں ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہونے لگی ہیں۔ نئی نئی اقسام اور نئی نئی ٹیکنالوجی کے کھلونے، ایک سے بڑھ کر ایک مشروبات جو بچوں کو طاقت اور چستی فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان اشتہارات کی بدولت عام ہورہے ہیں۔ اس صورت حال میں ہمارے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ ہم بچوں کے تعلق سے اطمینان کرلیں کہ کچھ بھی خریدتے وقت وہ چیزوں کے انتخاب میں صحیح و درست فیصلہ لینے اور صحیح متبادل کو اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ ذمہ داری ہماری — والدین کی — ہے کہ ہم اسکول جانے کی عمر سے پہلے ہی انھیں اس کا سبق دینا شروع کردیں، بلکہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس قسم کی تمام باتیں معلوم ہوجانی چاہئیں۔ ان کو یہ بات سکھانے اور سمجھانے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ جب وہ گھر کی ضروریات، اخراجات اور گھریلو آمدنی کو سمجھنے لگیں تو انھیں مالی امور سے متعلق مشوروں اور جائزوں میں شریک کیا جائے۔ اس ذریعے وہ یہ بھی جان سکیں گے کہ زندگی صرف لینے کا ہی نام نہیں ہے بلکہ لینے اور دینے دونوں کا نام زندگی ہے۔
خواہش کی ہر چیز خریدنا ناممکن
’’میں اپنی خواہش کی ہر چیز خرید نہیں سکتا۔‘‘ یہ قول برسہا برس سے رائج ہے۔ لیکن گھریلو معاملات کے لحاظ سے آج بھی یہ قول ایک بہترین معاشی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاص طور سے موجودہ زمانے کے لیے، جب کہ ضرورت کی اشیاء کے مقابلے میں راحت کی اشیا (جن کے بغیر بھی انسان زندہ اور خوش رہ سکتا ہے) بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ لیکن غیر ضروری ہونے کے باوجود یہ اشتہار آپ کو یہ احساس دلانے لگے ہیں کہ ان کے بغیر آپ کا جینا ناممکن ہے۔
اس لیے بچوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی چیزوں میں سے کس کا انتخاب کریں اور انھیں کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح انھیں چیزیں خریدنے کے طریقے اور مناسب وقت سے بھی آگاہ کیا جائے۔
گھر کے مالی معاملات سے متعلق کوئی فیصلہ لینے کے لیے غوروفکر کریں تو ذرا بلند آواز سے کریں تاکہ بچے بھی سن سکیں۔ اور جب کسی فیصلے پر پہنچیں تو بچوں کو موقع دیں کہ وہ بھی اس کا مشاہدہ کررہے ہوں کہ ہم نے مختلف امکانات میں سے کسی ایک کو ترجیح کس لیے دی ہے۔ اس عمل سے ہمارے تجربات ان تک منتقل ہوں گے۔
مالی امور کے سلسلے میں بچوں کی تربیت کے ضمن میں دو اہم باتیں اور بھی ہیں:
(۱) ابتدا میں انھیں جیب خرچ کے طور پر جو رقم دی جائے، ضروری ہے کہ معمولی ہو، تاکہ کسی بڑے نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔
(۲) ہر فرد کی شخصیت الگ ہوتی ہے۔ اس لیے ہر بچے کے تعلق سے اس کی شخصیت کے مطابق فیصلہ لیا جائے اور اس کی شخصیت کے اعتبا رسے اسی کے سلسلے میں کوئی رائے قائم کی جائے۔ ایک بچے کی کارروائی کو دوسرے بچے پر نہ تھوپیں۔
اہم بات جو ہم چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ بچے رقم کا صحیح استعمال سیکھ لیں۔
قابلِ غور اہم باتیں
ایک بنیادی بات، جسے بہتر ہے کہ بچہ کم عمری میں ہی سمجھ لے، یہ ہے کہ والدین میں دونوں یا ایک جو گھر کا کفیل ہے، کام کرتا ہے وہ اپنے قیمتی وقت میں جو محنت کرتا ہے، اس کے بدلے میں اسے کچھ رقم ملتی ہے۔ پھر اس رقم کے بدلے میں گھر کے لیے ضروری چیزیں خریدی جاتی ہیں نیز دوسری ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور بچی ہوئی رقم کو مستقبل کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے۔
بچے کو سمجھانے والی بات یہ بھی ہے کہ گھر میں جو رقم آتی ہے وہ ایک محدود اور متعین رقم ہوتی ہے اور یہ محدود رقم گھر کی ضروریات کی چیزیں خریدنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اسی طرح بچے کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ رقم جمع کرنے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے پاس جو بھی چیزیں ہیں انھیں لمبے عرصے تک محفوظ رکھے۔ مثال کے طور پر اس کا کوئی کھلونا ہے۔ اگر وہ اس کی حفاظت کرے گا اور کھیلنے کے بعد اسے سنبھال کر اس کی متعینہ جگہ پر واپس رکھ دے گا تو اس کا کھلونا زیادہ دنوں تک محفوظ رہے گا۔ یہی اصول کپڑوں، اور گھر کی دوسری اشیاء کے سلسلے میں بھی اپنایا جائے۔
خرچ کی بدلتی شکلیں
بچے کے لیے جو رقم مخصوص ہوتی ہے وہ اسے مختلف شکلوں سے ملتی ہے اور یہ رقم عمر کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ رہتی ہے۔
ابتدا میں اسے جو رقم ملتی ہے وہ چھوٹی چھوٹی نقدی یا چند سکوں کی شکل میں ہوتی ہے، جو اسے اس وقت دی جاتی ہے جب وہ کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن اس طریقے کو زیادہ دنوں تک برقرار رکھنے سے بچے کو مال خرچ کرنے اورمالی معاملات میں فیصلہ لینے کی تربیت کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ اس طرح بچہ صحیح تربیت حاصل نہیں کرپاتا۔ اس سے اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ماہ میں یا ہفتہ میں کسی متعینہ دن کچھ پیسے دیے جائیں ۔ اس کو دیے جانے والے پیسے خواہ کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں، ان سے بچے کو درج ذیل باتیں سیکھنے کو ملیں گی:
(۱) ذمہ داری کا احساس: وہ کچھ وقت کے لیے ان پیسوں کو اپنے ساتھ رکھے گا۔ اس کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ ان پیسوں کو اچھی جگہ خرچ کرے۔
(۲) خریدتے وقت اسے ترجیحات طے کرنے کا شعور آئے گا۔
(۳) ترجیح دی جانے والی چیز کے علاوہ دوسری چیزوں کو آئندہ خریدنے کے لیے رقم جمع کرنے کا شعور پیدا ہوگا۔
(۴) دوسروں کو شریک کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس کے پاس محفوظ شدہ رقم سے اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوگا کہ وہ دوسروں کوبھی دے اور اس میں اپنے دوستوں یا دوسرے لوگوں کو بھی شریک کرسکے۔
(۵) عمل خیر کا جذبہ ابھرے گا، اس کو اس بات کی آزادی ہوکہ وہ ان پیسوں میں سے کچھ حصہ اچھے کاموں کے لیے خرچ کرسکے۔ اس کے اندر دوسروں سے محبت کا جذبہ پیدا ہو۔
البتہ بچے کو کتنے پیسے یا کتنی رقم دی جائے، یہ گھر کی آمدنی اور سماجی حالات پر منحصر ہوگا۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ اس میں بھی اضافہ ہوتا رہے۔
ان باتوں سے پرہیز کریں
(۱) بچے کو جو رقم آپ دیتے ہیں، اسے آپ بچے کے لیے سزا اور انعام کے طور پر استعمال نہ کریں، ورنہ وہ سمجھے گا کہ والدین کے پاس اسے سزا دینے کا یہی واحد ہتھیار ہے۔
(۲) جیب خرچ کی مدت کے دوران بچہ اگر مزید رقم یا پیسوں کا مطالبہ کرے توآپ ’’نہیں‘‘ کہہ دیں۔ خاص طور سے اس وقت جب آپ یہ محسوس کریں کہ جیب خرچ کو صحیح طور پر استعمال نہیں کررہا ہے۔
(۳) اپنے کریڈٹ کارڈ کے استعمال اور اپنی ضرورت کی اشیاء کی خریداری کے سلسلے میں اس کے لیے نمونہ بن کر دکھائیں۔ بلکہ اپنی خرید کردہ اشیاء کی فہرست تیار کریں اور کوشش کریں کہ گھر کے لیے ایک اصول مرتب کرکے اس پر عمل پیرا ہوں۔
(۴) بچوں کو اس بات کی عادت نہ ڈالیں کہ وہ گھر کا کوئی کام کریں گے تو انھیں اس کے پیسے ملیں گے۔ کیونکہ گھر سب کا ہی ہے اور گھر کے تمام ہی افراد گھر کا کام کسی اجرت کے بغیر انجام دیتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری کے اندر انجام دیے جانے والے کام پر کوئی بھی کسی مالی منفعت کا منتظر نہیں رہتا۔ بچے کو بھی اس کی عادت نہ ڈالیں جب کہ اسے گھر کی آمدنی سے مخصوص رقم بطور جیب خرچ ملتی ہے۔
(۵) بچے کو یہ بات جاننی چاہیے کہ والدین، یا بزرگوں سے جو رقم وقتاً فوقتاً ہدیے کے طور پر اسے ملتی ہے یا عیدی کی شکل میں جو پیسے اسے ملتے ہیں، ان ذرائع کو وہ اپنے لیے پیسے حاصل کرنے کا مستقل ذریعہ نہ سمجھے، کیونکہ اس طرح کی رقم کبھی ملتی ہے اور کبھی نہیں ملتی۔ والدین کو بھی یہ بات جاننی چاہیے کہ ان ذرائع سے جو پیسے بھی اسے ملتے ہیں وہ اس کی اپنی ملکیت ہے اور ان پیسوں کو کیسے خرچ کرنا ہے، یہ والدین کی نگرانی اور رہنمائی میں اسے خود طے کرنا چاہیے۔
دوسروں کو شریک کرنے کا فائدہ
آپ کی — والدین کی — مدد اورتعاون سے بچے کے لیے اپنے پیسوں میں دوسروں کو شریک کرنے کاجذبہ بھی پیدا ہی نہیں ہوگا، بلکہ اسے اپنے اس طرزِ عمل سے خوشی کا احساس ہوگا۔ اس لیے آپ اپنے بچوں کو اس بات کا موقع دیتے رہیں کہ وہ اپنے جیب خرچ کے توسط سے گھر کے بعض امور میں حصہ لیتے رہیں، گھر کے بعض مسائل کو حل کرنے میں کچھ رقم خرچ کریں یا گھر کے ہی کسی فرد کے لیے اپنے پیسوں میں سے گفٹ وغیرہ خرید کر لے آئیں۔ اسی طرح دوستوں کے ساتھ وہ اکٹھے ہوکر کہیں جائیں تو انھیں عادت ڈالیے کہ وہ مل کر پیسے اکٹھا کریں، یا اجتماعی کھانے کے پروگرام کے لیے آپس میں پیسے جمع کریں۔ اس پہلو سے مدارس و مساجد کا کردار بہت اہم ہے۔ جہاں وہ باہمی تعاون و مشارکت کا سبق سیکھنے کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
تحریر : تیسیر الزاید ترجمہ: تنویر آفاقی

تبصرہ کیجیے