3

پانچ باتیں

حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا(ایک دن ہم لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے سیکھ لے یہ چند خاص باتیں، پھر وہ خود ان پر عمل کرے یا دوسرے عمل کرنے والوں کو بتائے؟‘‘ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ تو آپؐ نے (ازراہِ شفقت) میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیا اور گن کر یہ پانچ باتیں بتائیں۔ فرمایا: ’’جو چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں ان سے بچو، اور ان سے پورا پورا پرہیز کرو، اگر تم نے ایسا کیا تو تم لوگوں میں بہت بڑے عبادت گزار ہوجاؤگے۔ دوسری بات آپؐ نے یہ فرمائی کہ : ’’اللہ نے جو تمہاری قسمت میں لکھا ہے، اُس پر راضی اور مطمئن ہوجاؤ، اگر ایسا کرو گے تو تم بڑے سیرچشم اور دولت مند ہوجاؤگے۔ تیسری بات یہ کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر ایسا کروگے تو تم مؤمن کامل ہوجاؤ گے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ جو تم اپنے لیے چاہتے اور پسند کرتے ہو، وہی دوسرے لوگوں کے لیے بھی چاہو اور پسند کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو حقیقی مسلم اور پورے مسلمان ہوجاؤگے۔ اور پانچویں بات یہ ہے کہ زیادہ مت ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔‘‘
نبی اکرم ﷺ نے ابوہریرہؓ کا ہاتھ تھام کر جو پانچ کلمات ارشاد فرمائے ان میں پہلا یہ تھا کہ حرام چیزوں سے دور رہو، تم لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤگے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے، جن چیزوں کو اُس نے حرام قرار دیا ہے، اُن میں ضرور برائی کا پہلو ہے۔ جو شخص حرام چیزوں اور حرام کاموں سے بچا رہا وہی متقی ہے اور تقویٰ ہی مطلوب ہے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے بچ کر زندگی گزارنا نفلی عبادات سے افضل ہے۔ بلاشبہ ذکر و اذکار اور نوافل بھی قربِ الٰہی کاذریعہ ہیں مگر ممنوعات سے بچنا بھی آسان کام نہیں۔ جب انسان خوفِ خدا کے تحت گناہ کے کاموں سے بچتا ہے تو وہ مرتبے اور مقام میں عبادت گزاروں پر فوقیت پالیتا ہے۔
دوسری نصیحت آپﷺ نے یہ فرمائی کہ اللہ نے جو تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے، اس پر راضی اور مطمئن رہو۔ اگر ایسا کروگے تو سب سے زیادہ غنی ہوجاؤ گے۔ زندگی میں ہر شخص جس حالت میں ہے اس کے حق میںاللہ تعالیٰ کا وہی فیصلہ ہے، پس اگر وہ شکوہ و شکایت نہیں کرتا بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ جو حالات مجھ پر وارد ہیں وہ اللہ ہی نے وارد کیے ہیں اور اللہ حکیم و خبیر بھی ہے اور رحمن و رحیم بھی ہے، بظاہر یہ حالات کچھ اچھے نظر نہیں آتے مگر نتیجے کے اعتبار سے یہ ضرور اچھے ہیں۔ اگر یہ جذبہ انسان میں پیدا ہو جائے تو وہ ہر چیز سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ دوسروں کے مال و اولاد اور عیش و آرام کو دیکھ کر نہ اُس کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے اور نہ وہ محرومیوں کی وجہ سے پریشان ہوتا ہے، اسی کیفیت کا نام غنی النفس ہے۔ ایسا شخص اپنی محرومیوں پر افسوس نہیں کرتا بلکہ میسر نعمتوں پر نظر کرکے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔
تیسری بات نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمائی کہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کروگے تو مؤمن ہوجاؤ گے۔ پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اتنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی تلقین کی ہے۔ ہمسائے کے ساتھ ہر وقت کا ملنا ملانا ہوتا ہے۔ ہمسائے کے لیے تکلیف دہ ہونا بہت بڑا گناہ ہے۔ ہمسائے کے ساتھ ہمدردانہ رویہ تو ایمان کی علامت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوشریح ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! اس شخص کا ایمان نہیں، اللہ کی قسم اس شخص کا ایمان نہیں، اللہ کی قسم اس شخص کا ایمان نہیں۔ جب پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کون ایسا شخص ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: وہ آدمی جس کے پڑوسی اس کی شرارتوں اور آفتوں سے خوفزدہ ہوں۔‘‘
گویا ہمسائے کے لیے تکلیف دہ ہونا ایمان کے منافی ہے۔ ہمسائے کی خوشی میں شرکت کرنا اور غم اور مصیبت میں اسے تسلی دینا، ضرورت کے وقت اس کی اخلاقی اور مالی امداد کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اپنے اہل و عیال اور عزیزو اقارب کے بعد سب سے بڑا حق پڑوسی ہی کا ہے، اُس کے بعد دوسرے لوگو ںکا حق ہے۔ حقیقی ایمان اُسی کو نصیب ہے جس کے ہمسائے اس سے ہر قسم کی تکلیف، پریشانی اور بدسلوکی سے امن میں ہوں۔ وہ گھرسے باہر ہوں تو وہ ان کی عزت و آبرو اور مال و اولاد کی خبر گیری کرتا ہو۔ ہمسائے کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جبریل پڑوسی کے حق کے بارے میں مجھے برابر وصیت اور تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ وہ اس کو وارث قرار دے دیں گے۔‘‘
چوتھی بات آنحضورﷺ نے یہ ارشاد فرمائی کہ اگر تم لوگوں کے لیے وہی پسند کرنے لگو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو تو مسلم ہوجاؤگے۔دینِ اسلام تمام مسلمانوں کو رشتۂ اخوت میں منسلک کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
إنما المؤمنون إخوۃ۔ (الحجرات:۱۰)
’’تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
یہی بات رسول اللہ ﷺ نے فرمائی:
المسلم اخو المسلم۔
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔‘‘
پس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی دوسرے مسلمانوں کا خیر خواہ ہو، ان کا بھلا چاہے، کسی دوسرے مسلمان کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث نہ بنے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے کسی طور نقصان نہ پہنچائیں اور نہ اس کی اذیت کا باعث بنیں۔ اس لیے اسے بھی چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہو اور مشکل وقت میں ان کے کام آئے۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا ہمیشہ سکھ میںرہتا ہے اور اسے کسی دوسرے مسلمان بھائی کی طرف سے بدخواہی، حسد، بغض اور بدسلوکی کا خوف نہیں ہوتا۔
پس حقیقی مسلمان بننے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھائی سمجھے اور جن سہولتوں اور آسائشوں کو خود پسند کرتا ہے وہی دوسروں کے لیے پسند کرے اور جن باتوں اور کاموں سے خود بچنا چاہتا ہے ان سے دوسرو ںکوبھی بچائے اور اگرکوئی مسلمان بھائی مشکل میں پڑجائے تو اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔
پانچویں بات آپﷺ نے یہ ارشاد فرمائی کہ زیادہ مت ہنسو کیوں کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔ قہقہے لگانا او رکھلکھلا کر ہنسنا بے خوفی، آزاد خیالی اور جہالت کا مظہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زندگی بھر قہقہہ نہیں لگایا۔ کسی اچھی بات پر آپؐ صرف مسکرادیتے تھے اور یہی سنت ہے۔ مسلمان تقویٰ شعار ہوتا ہے، ہر وقت اُس کے پیشِ نظر یہ بات رہتی ہے کہ کل مجھے اپنے کیے کا حساب دینا ہے اور حساب لینے والے سے نہ میری کوئی حرکت پوشیدہ ہے اور نہ منہ سے نکالا ہوا کوئی بول۔جس شخص کے سامنے یہ بات ہو وہ کیسے کھل کھلا کر ہنسے گا؟ قہقہے وہی شخص لگائے گا جس کے دل و دماغ میں اخروی محاسبے کا خوف نہ ہوگا، وہ دنیا کی خوش حالی، دولت کی فراوانی، دوست احباب کی کثرت میں بدمست اور دنیا پرست ہوگا۔ یہی وہ شخص ہے جس کا دل مردہ ہے۔ اور اس بات کی تمنا کرتے ہیں کہ اللہ ان کی خطائیں معاف کردے اور قیامت کے دن وہ رسوائی سے بچ جائیں۔
اللہ کا خوف سب سے بڑی حکمت ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے رونے اور گڑگڑانے کی توفیق ملی ہو اور وہ المستغفرین بالاسحار میں شامل ہوکر رات کے پچھلے حصے میں خدا کے حضور بہائے گئے آنسوؤں کی قدروقیمت سے آگاہ ہو، اسے زیادہ ہنسنے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا کہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔
اس حدیث میں بتائی گئی پانچ باتیں اگر کوئی پلّے میں باندھ لے تو اس کو خدا رسیدگی کا مقام حاصل ہوجائے گا اور اس کی زندگی کے دن اطمینان اور سکون سے گزریں گے اورموت کے وقت اُس کے چہرے پر طمانیت اور مسکراہٹ نمایاں ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر محمد یونس

تبصرہ کیجیے