BOOST

اور وہ مجرم بن گیا!

عوام کی طرف سے مطالبہ کیاجارہا تھا کہ شادے پر شرعی حدود نافذ کی جائیں اور خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا کر اسے پنو کے قاتلوں کی طرح سرعام پھانسی دی جائے۔ اس نے آہنی سریے کی پے در پے ضربوں سے پنونامی ایک ۳۲ سالہ عورت کو قتل کردیا تھا۔ اس نے لاش کی بے حرمتی بھی کی تھی۔ جرم واقعی سنگین تھا اور قومی اخبارات کے علاوہ مقامی اخبارات میں ہفتہ بھر سے اس مجنونانہ حرکت اور بہیمانہ فعل کی داستانیں چھپ رہی تھیں۔ خبروں میں جو بات میری دلچسپی کاباعث تھی وہ قاتل کی تعلیم اور عمر تھی۔ وہ میٹرک پاس تھا اور اس کی عمر ۲۱؍برس تھی اور مجھے نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے کسی ایسے ہی مجرم کی جو ذرا پڑھا لکھا ہو اور جوان بھی ہو ، سابقہ زندگی کا مطالعہ کرنا اور چند نفسیاتی مفروضوں پر تحقیقات کرنا تھی۔ میں نے محکمہ داخلہ سے رابطہ کرکے اس بات کی اجازت لی تھی کہ میں ملزم سے مل سکوں اور جب تک اسے اس کے جرم کی سزا نہیں مل جاتی اس سے ملنے کے لیے متعلقہ حکام مجھے اجازت دیتے رہیں گے۔ اس سے میری پہلی ملاقات سول لائنز تھانے کی حوالات میں ہوئی۔
وہ حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے سامنے گھور رہا تھا حالانکہ وہاں سے بلند عمارات کی وجہ سے آسمان کا صرف ایک چوکھٹا ہی نظر آتا تھا۔ دوسرے نظر بندوں کی نسبت وہ کچھ متفکر بھی تھا۔ اس کی چمکیلی آنکھیں اور معصوم چہرہ صاف کہہ رہا تھا کہ ایسا نوجوان قاتل نہیں ہوسکتا۔ اس سے ملنے سے پیشتر میں نے ایف آئی آر کا مطالعہ کیا تھا اس میں پولیس نے جو کہانی لکھی تھی وہ تھی کہ پنو نامی عورت کئی دن سے محلے میں دودھ بیچنے آرہی تھی ۔ مورخہ ۲۷؍اپریل کو جب وہ دودھ بیچتی ملزم شادے کے گھر کے قریب پہنچی تو ملزم بالکونی کی چھت سے نیچے جھانک رہا تھا۔ پنو نے اس سے پوچھا کہ کیا کل کی طرح آج بھی اس کی ماں کو دودھ لینا ہے تو بالکونی ہی سے شادے نے اسے جواب دیا کہ اسے علم نہیں۔ اس کی ماں اند رہے وہ اس سے پوچھ لے۔ جب پنو دودھ دینے کے لیے اندر صحن میں داخل ہوئی تو شادے بھی بالکونی سے نیچے اتر آیا اور اس نے پنو کو دودھ کا برتن فرش پر رکھ کر کھڑا ہونے کی مہلت بھی نہیں دی اور آہنی سریا اس کے سر پر دے مارا۔ وہ بے ہوش ہوکر گر گئی تو ملزم نے مزید وار کرکے اسے قتل کردیا اور اسی جنونی کیفیت میں لاش کی بے حرمتی بھی کی۔ پھر وہ خود تھانے میں حاضر ہوا اور ڈیوٹی افسر کو بتایا کہ پیٹرول پمپ کے قریب مال و لازکے عقبی محلے کی گلی نمبر تین اور مکان نمبر بارہ میں ایک لاش پڑی ہے۔ ڈیوٹی افسر نے اس سے پوچھا کہ اسے کیسے علم ہوا کہ اس گھر میں لاش ہے تو اسی ڈیوٹی افسر کو بتایا کہ وہ گھر اس کی ماں کا ہے اور اس ہی نے اس عورت کو قتل کیا ہے۔ ڈیوٹی افسر ہڑبڑا کر اپنی نشست سے اٹھا اور اس نے شادے کو چند سپاہیوں کی تحویل میں دے کر ضابطے کی کارروائی کا آغاز کیا۔
موقع کا کوئی گواہ تو تھا نہیں، لیکن جب خود ہی اقبال جرم کرلے اور اطمینان سے آلۂ قتل بھی برآمد کرادے تو پھر قانون کی گرفت سے بچ نکلنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن قتل کا محرک کیا تھا؟ جب تھانے والے اس سے یہ پوچھتے تھے تو وہ خاموش ہوجاتا تھا۔ میری آمد کو تھانہ کے انچارج نے ایک نیک فال سے تعبیر کیا اور کہا: ’’شاید آپ ہی اس سے کچھ پوچھ سکیں، ہمیں تو وہ کچھ بتاتا ہی نہیں۔‘‘
میں نے حوالات کی سلاخوں میں سے اس سے ہاتھ ملایا۔ ابتدائی گفتگو کی اور اسے بتایا کہ میں نہ تو وکیل ہوں، نہ محکمہ خفیہ کا آدمی اور نہ ہی ڈاکٹر لیکن میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں اور اس سے چند سوالات کروں گا جن کے جوابات اس کو صحیح صحیح دینے ہوں گے۔ تب ہی میں اس کی کچھ مدد کرسکوں گا۔
’’میں کوشش کروں گا۔‘‘ اس نے بڑی خفیف مسکراہٹ سے کہا۔
’’تم ادھر حوالات میں کیوں بند ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کیونکہ میں نے ایک بے گناہ عورت کو قتل کردیا ہے۔‘‘
’’تم نے اسے کیوں قتل کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس کے چہرے کی تازگی مرجھاگئی جیسے واقعہ قتل کے ساتھ ساتھ اسے کچھ اور بھی یاد آرہا ہو۔ میں نے اس سے پھر پوچھا کہ اس نے آخر اس بے گناہ عورت کو قتل کیوں کیا۔ اس نے رک رک کر کہا:
’’مجھے … مجھے … مارو… مارو… کی ایک آواز آئی اور میں نے اسے ماردیا۔
نہیں گھر کے اندر تو کوئی تھا ہی نہیں، یہ آواز کہاں سے آرہی تھی؟ اب سوچتا ہوں تویوں لگتا ہے جیسے یہ آواز میرے اندر سے آرہی تھی‘‘ اب اس کی آنکھوں میں چمک کی بجائے حیرانی تیرنے لگی۔
’’غور کرو، کیا یہ آواز کسی ایسے شخص کی تو نہیں تھی جسے تم جانتے ہو…‘‘
’’نہیں، بس آواز تھی، میں اس کی کوئی شناخت نہیں رکھتا۔‘‘
’’کیا تم نے کبھی پہلے بھی ایسی آواز سنی تھی۔‘‘
’’نہیں، پہلے تو کبھی نہیں سنی۔‘‘
’’اچھا، جب تم اس پر سریے کے وار کررہے تھے تو کیا اس وقت بھی آواز رہی تھی۔‘‘
’’ہاں… آواز… مسلسل مارو مارو کہہ رہی تھی۔ جب وہ لہو لہان ہوگئی اور اپنے دودھ کے برتن کے ساتھ زمین پر لوٹ پوٹ ہوگئی۔ خون اور دودھ مل کر بہنے لگے تو آواز بند ہوگئی۔‘‘ وہ کہتے کہتے ہانپنے لگا۔ اس کی پیشانی پسینے سے تر ہوگئی۔ پھر اس نے ایک سرد آہ کھینچی۔ اس کی آنکھیں بھی دھندلا چکی تھیں۔
’’جب تم نے پنو کو قتل کرلیاتو پھر تم نے کیا کیا۔‘‘ میں نے ذرا تلخ لہجے میں کہا۔
’’مجھے یاد نہیں۔‘‘ وہ اندر ہی اندر کلبلایا جیسے واقعہ کی یاد سے اس کا ذہن درد محسوس کررہا ہو۔ میں نے اسے یاد دلایا:’’تم نے لاش کی بے حرمتی کیوں کی؟‘‘
’’بے حرمتی، … بے حرمتی کیا ہوتی ہے۔ میں نے اسے گھسیٹا اور دودھ سے بھیگنے سے بچایا۔‘‘
’’دودھ سے بھیگنے سے بچانے کا کیا فائدہ تھا۔ وہ تو مرچکی تھی۔‘‘
’’ہاں، ہاں وہ مرچکی تھی۔ مجھے دودھ اور خون کا اکٹھا ہونا اچھا دکھائی نہیں دے رہا تھا…‘‘ ساتھ وہ چیخیں مار مار کر رونے لگا۔
’’کیا لاش کی بے حرمتی کے لیے بھی تمہیں کسی نے مجبور کیا تھا۔‘‘
’’نہیں، نہیں … جن معنوں میں آپ بے حرمتی کہہ رہے ہیں۔ وہ میں نے نہیں کی۔‘‘ وہ زور سے چیخا ’’اور خدایا‘‘ پھر جیسے اس کی حالت غیر ہورہی ہو وہ سلاخوں کے ساتھ ہی گر کر رہ گیا۔ میں نے اپنے علم و فن کے مطابق اسے سوجانے کی ترغیب دی اور وہ دن کی روشنی اور شور و غوغا کی آوازوں کے درمیان فرش پر اوندھا ہوکر سوگیا۔ خراٹوں کی آوازیں آنے لگیں تو میں نے ڈیوٹی پر کھڑے سپاہی سے کہا کہ وہ شادے کو اس وقت تک سونے دے جب تک کہ وہ خود بیدار نہیں ہوتا۔ سپاہی حیران رہ گیا کہ وہ سوکیسے گیا ہے جبکہ وہ جتنے دن سے حوالات میں بند تھا تب سے سویا ہی نہیں تھا۔ ’’سوچکنے کے بعد ہی یہ کچھ بتا سکے گا، اس کی سوچنے کی قوت جواب دے چکی ہے۔‘‘ میں نے لوٹتے ہوئے کہا۔
٭٭٭
واپس اپنے کلینک پہنچ کر میں نے اپنے جیبی ٹیپ ریکارڈر سے اپنی اور شادے کی گفتگو کو سنا۔ میں نے اس کے جوابات کا تجزیہ کیا، میں اگر نفسیات کی شدبد نہ رکھتا ہوتا تو میں یا تو عامۃ الناس کی طرح قتل کے متعلق جذباتی رویہ اختیار کرتا یا پھر قاتل کے معصوم چہرے اور اس کی چمکتی آنکھوں کے سحر میں گرفتار ہوجاتا۔ لیکن میں کسی سے بھی متاثر نہیں تھا۔ میں شادے کی شخصیت میں اس کے لاشعور کی کارفرمائیاں دیکھ رہا تھا جس نے اسے آواز دے کرایک بے گناہ کو قتل کرنے پر آمادہ کیا تھا اور اس کو حوالات کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تھا۔ اسی لاشعور کی تلاش کرکے مجھے اپنا مقالہ لکھنا تھا لیکن اب میں ان نتائج کو جو مجھے حاصل ہونے والے تھے حکام بالا کو دکھا کر، سمجھا کر شادے کو بے گناہ ثابت کرنے کے متعلق بھی سوچ رہا تھا۔ ویسے بھی ابھی دیر تک اس کے مقدمہ کی باقاعدہ سماعت کے لیے کسی عدالت میں پیش ہونے کی تاریخ مقرر ہونے کی توقع نہ تھی۔
اسے حوالات سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔ جس روز میں جیل میں اس سے ملاقات کے لیے گیا اس روز وہ جیل کے ہسپتال میں تھا۔ اس کے پیٹ میں سخت درد تھا اور اسے بار بار قے ہوئی تھی۔ ہسپتال میں اس کی حالت خاصی خراب تھی۔ ہفتہ پہلے والی جس شخصیت کا میں نے حوالات میں مشاہدہ کیا تھا وہ بالکل غائب ہوچکی تھی۔ وہ لاغر، مرجھایا ہوا ایک پریشان حال شخص نظر آرہا تھا۔ اس کی حالت کے پیش نظر اس سے ہمدردی پیدا ہونا فطری بات تھی۔ میں نے اس کے بستر کے قریب ایک اسٹول پر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا:
’’کیسے ہو شاہ دین؟‘‘
میرے سوال پر اس نے نیم وا آنکھوں کو ذرا مزید وا کرتے ہوئے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میں نے اس سے کوئی احمقانہ سوال کیا ہو۔ کیونکہ وہ بیمار تھا، قید تھا اور ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مسکرایا۔ تھوڑی دیر سانس درست کرنے کے بعد اس نے کہا:
’’ڈاکٹر…‘‘ وہ نہ جانے مجھے کیوں ڈاکٹر سمجھ رہا تھا۔ وہ مجھے وہ ڈاکٹر تو ہرگز نہیں سمجھ رہا تھا جو بننے کے لیے میں اس سے ملاقاتیں کررہا تھا بلکہ وہ ہسپتال کے حوالے سے مجھے ڈاکٹر کہہ رہا تھا حالانکہ پہلی ملاقات ہی میں میں نے اسے بتادیا تھا کہ میں ڈاکٹر یا وکیل نہیں ہوں۔ اس نے پوچھا: ’’اخبارات میں میرے اور پنو کے بارے میں بہت کچھ چھپا ہے، کیا میری ماں کے متعلق بھی کچھ چھپا ہے؟‘‘
’’ہاں…‘‘ میں نے وثوق سے کہا کیونکہ میں نے اس کے متعلق جملہ معلومات حاصل کرنے کے لیے اخبارات اور جرم و سزا کی کہانیاں چھاپنے والے رسالے بھی پڑھے تھے اور ان سے اقتباسات حاصل کیے تھے۔ ’’صرف اس قدر کہ وہ عرصے سے اپنے دوسرے خاوند کے ساتھ رہ رہی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ اس کے بیٹے نے جو ظلم کیا ہے اس سلسلے میں اس کا نام لیا جائے۔ وہ اپنے گھر اور اپنی ملازمت کو کھونا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ چھت کی سمت گھورتا رہا اور خاموش رہا۔ میں نے اس سے پوچھا:
’’شاہ دین، کیا تم اپنے کیے پر پشیمان ہو۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ میں اس وقت پاگل ہوگیا تھا۔ اس آواز نے مجھے سوچنے سمجھنے ہی نہیں دیا۔‘‘
’’کیا تم جیل میں آکر اپنے آپ کو پابند اور خوفزدہ محسوس نہیں کررہے ۔‘‘
’’کررہا ہوں، بہتر ہوتا کہ وہ مجھے دماغی امراض کے ہسپتال میں بھیجتے… مجھے بجلی کے جھٹکے لگاتے۔‘‘
’’وہ کس لیے؟‘‘ میں نے استفسار کیا۔
’’اس لیے کہ میں جان سکتا کہ میں نے ایسا خوفناک جرم کیوں کیا ہے؟‘‘ پھر اس نے اپنی نظریں میرے چہرے پر گاڑے ہوئے کہا: ’’ویسے ایک لحاظ سے انھوں نے اچھا ہی کیا۔ میں یہاں ویسی حرکت دوبارہ تو نہیں کرسکتا ناں۔‘‘
’’تمہارا خیال ہے کہ تم پھر کسی اور کو، کسی عورت کو قتل کردیتے۔‘‘
’’ہاں، ہوسکتا ہے۔ ایسا ہوجاتا… کوئی اور آواز مجھے کچھ اور کرنے کو کہتی تو میں شاید اسی طرح وحشی درندہ بن جاتا۔‘‘ اسے گویا اپنی غلط کاری کا احساس تھا لیکن اسے اس کا سبب معلوم نہیں تھا۔
’’کیا تم پسند کرو گے کہ میں اور تم دونوں مل کر یہ تلاش کریں کہ وہ آواز جو تم نے سنی تھی اور جس نے تم سے اس قدر بھیانک جرم کرایا، کہاں سے آئی تھی…‘‘ پھر میں نے اپنا مزید تعارف کراتے ہوئے اسے بتایا: ’’اور سنو! میں وہ ڈاکٹر نہیں جو ہسپتال میں مریضوں کے ارد گرد پھر رہے ہوتے ہیں، میں ایسا ڈاکٹر بننے کی کوشش کررہا ہوں جو علم کے ذریعے انسانوں کے دماغوں کے اندر جھانک کر مدتوں کی سوئی ہوئی یادداشتوں کو کرید کر ان کی الجھنیں حل کرتے ہیں، جیسے تمہاری الجھن ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں پھر سے معصومیت جھلکنے لگی اور اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا: ’’میں پھانسی کے پھندے پر لٹکنے سے پہلے یہ ضرور چاہوں گا کہ مجھے یہ تو علم ہوجائے کہ میں نے ایسا بھیانک قدم کیوں اٹھایا۔‘‘
’’اس پر کافی وقت لگے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’پھانسی کا پھندا گلے تک آنے میں جتنا وقت ہے وہ کافی نہیں ہوگا؟‘‘ اس کا جواب سوالیہ انداز کا تھا۔ پھانسی کے پھندے کا بار بار ذکر اس کی مایوسی کا آئینہ دار تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر روشن آسمان پر نظر ڈالی جہاں سورج نے اس کے مقدر کے ستاروں کی آنکھیں چندھیار کھی تھیں۔
میں اس کے صحت یاب ہونے کی دعا کرتے ہوئے جلد ہی لوٹ آیا۔ اپنے موضوع پر تحقیق کے علاوہ میں اسے اس لحاظ سے معصوم سمجھنے لگا تھا کہ اس نے بہیمانہ فعل غیر ارادی طور پر کیا تھا اور اس پر پشیمان تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا اور قید میں وہ اس لیے خوش تھا کہ اسے دوبارہ ایسا فعل کرنے کی کوئی سہولت میسر نہ تھی۔
ہفتہ بھر میں دیگر ذرائع سے جو معلومات میں نے شاہ دین عرف شادے کے بارے میں اکٹھی کی تھیں وہ یہ تھیں کہ اس کی پیدائش سے قبل ہی اس کے ماں باپ کے تعلقات آپس میں اچھے نہ رہے تھے۔ مذہبی خیالات رکھنے کی وجہ سے اس کی ماں اس کے باپ کو سرتاج سمجھ کر اس کے ظلم و ستم کے باوجود نباہ کرتی رہی تھی۔ اس کا ایک بڑا بھائی بھی تھا۔ شادا ابھی تین سال کا نہیں ہوا تھا کہ اس کا ایک چھوٹا بھائی اور آگیا۔ اس بھائی کی آمد کے ساتھ ہی اس کا باپ ملک چھوڑ کر باہر چلاگیا اور وہاں سے اس نے اس کی ماں کو مہر کی رقم اورطلاق کی تحریر بھیج دی۔ اس کی ماں ایک اسکول میں بلاوی کے طور پر ملازم ہوگئی لیکن تنخواہ اس قدر قلیل تھی کہ اسے اپنے دونوں بڑے بچوں کو ایک یتیم خانے میں داخل کرانا پڑا۔
یتیم خانے میں داخل بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی لیکن اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اور عملے کو تنخواہیں دینے کے لیے بچوں سے بھیک بھی منگوائی جاتی تھی اور اس کے لیے کئی طریقے بلکہ انوکھے انوکھے طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔ اس کا بڑا بھائی ایک روز خیرات کی رقم اور رسیدات کی کاپی کہیں گم کر آیا تو اسے منیجر نے باورچی سے ایسی سزا دلوائی کہ اسے بخار آگیا۔ جب کئی دن بخار نہ اترا تو اسے خیراتی ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہوسکا۔ شاہ دین کو ایک تو ماں سے بچھڑنے کا دکھ تھا دوسرے اس نے بھائی کو مرتے اور پٹتے دیکھا تھا۔ وہ خوف اور دہشت کا مریض بن گیا۔ ایک روز وہ موقع پاکر یتیم خانے سے بھاگ گیا لیکن یتیم خانے کے کارکن اسے پکڑ کر واپس لے آئے۔ تربیت اور تعلیم کے نام پر اس ننھی سی جان پر اس قدر ظلم ڈھائے گئے جیسے وہ انسان نہیں کوئی حیوان یا درندہ ہو جسے سدھانا مقصود ہو۔ جسمانی سزا، بھوک، محنت، محبت و شفقت کا فقدان، ان سب کی موجودگی میں اس نے اپنے آپ کو ایسی مخلوق سمجھنا شروع کردیا جو گنہگار اور راندئہ درگار ہو۔ اندر ہی اندر وہ ان تمام اعتقادات سے نفرت کرنے لگا جو تشدد کے ذریعے اسے سکھائے جارہے تھے۔ جو زخم اس کے جسم پر لگائے جاتے وہ ان پر مرہم لگاتے ہوئے اچھے اور آسودہ دن آنے کے کھوکھلے خواب دیکھنے کی کوشش کرتا لیکن حقائق اس کا منہ چڑاتے۔ اس کے ننھے ذہن میں جتنے ہیرو موجود تھے، ان کی تلواریں، لاٹھیاں، گنڈاسے اور کمالات اس پر تشدد کرنے والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکتے تھے اور وہ اپنی ذہنی الجھنوں کو سلجھاتے سلجھاتے مردانگی کے بجائے دیوانگی کا شکار ہوگیا۔ اس کے دل و دماغ پر نفرت کا ایک آتشیں پھنکاریں مارنے والا اژدہا بیٹھ گیا اور وہ اس وقت کا انتظار کرنے لگا جب وہ جسمانی طور پر مضبوط اورطاقتور ہوکر اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکے گا۔ دس سال کی عمر میں ہی وہ اپنے اندر گھناؤنی تبدیلیاں محسوس کرنے لگا تھا۔ پانچویں جماعت پاس کرنے کے ساتھ ہی اس کی معصوم اور الہڑ روح خیالی طور پر منتقم بن چکی تھی۔
یتیم خانے کی زندگی اس کی روح پر منفی اثرات مرتب کررہی تھی۔ اس کی ماں اسے کبھی ملنے نہیں آئی۔ قومی اور مذہبی تہواروں پر اگر وہ کبھی ان کے ہاں جاتا تو وہ ماں کو اپنی نئی چھوٹی اولاد ایک لڑکے اور ایک لڑکی میں مصروف پاتا۔ مونچھوں والا اس کا سوتیلا باپ اسے گھورتا۔ اس کے سگے بھائی کو اس کی ماں نے مولوی امداد علی کی مسجد میں چھوڑ دیا تھا۔ وہ وہیں رہتا تھا اور دینی علم پڑھ رہا تھا۔ اس کی ماں چھوٹے بچوں سے بے مقصد بے تحاشا باتیںکرتی تو اسے دکھ ہوتا، سوچتا کہ اسے اللہ نے کیوں محروم زندگی کے حوالے کردیا ہے۔ دل گرفتہ، پریشان حال وہ ایک دن پھر یتیم خانے سے بھاگ گیا۔ اسے داتا دربار پر ایک درویش قسم کا انسان ملا جو اسے ملتان لے گیا۔ وہاں قاسم باغ کے قریب قبرستان کے پہلو میں درویشوں کا ایک مسکن تھا۔ دو تین درویش شاہ دین کے بھولپن سے متاثر ہوکر اسے پیار کرنے لگے لیکن ان کے پیار میں ایک خاص قسم کی بے ہودگی تھی۔ انھو ںنے اسے زبردستی بھنگ پلادی۔ نیم غنودگی کی حالت میں اسے محسوس ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی کھیل کھیلا جارہا ہے، یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔
ہوش آنے پر اس نے اپنے آپ کو نشتر ہسپتال کے ایک بستر پر پایا۔ کسی نے اسے سڑک سے اٹھا کر وہاں پہنچایا تھا۔ جب وہ صحت یاب ہوا تو وہ گاڑی میں بغیر ٹکٹ سفر کرتا واپس اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا۔ ماں نے اسے اپنے پاس رکھنے کے بجائے رنگ و روغن بنانے والے ایک کارخانے میں ملازم کرادیا۔ دن بھر کی مشقت کے بعد اسے اتنے پیسے مل جاتے کہ وہ دو وقت کی روٹی کھاسکے۔ رہنے کو ایک مشترکہ کوارٹر تھا۔ یہاں اسے پھر سے پڑھنے کا خیال آیا۔ اس نے چھٹی جماعت کی کتابیں خریدیں اور رات کے وقت کارخانے کے ایک کلرک خداداد سے پڑھنے لگا۔ کلرک نے اس کی ذہانت دیکھ کر اس سے اس قدر ہمدردی کی کہ وہ اسے کچھ کھانے پینے کو بھی دے دیتا لیکن بدقسمتی نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ کارخانے میں چوری ہوگئی اور دو مزدوروں کے ساتھ اس پر بھی شبہ کیا گیا۔ پولیس کے خوف سے اس پر جو بھی الزام لگایا گیا اس نے قبول کرلیا اور وہ بورسٹل جیل پہنچ گیا۔ مہربان کلرک اسے جیل میں بھی آکر ملتا رہا۔ جیل جانے کا اس سے یہ فائدہ ہوا کہ چاک بنانے کا ہنر سیکھنے کے ساتھ اس نے جماعت ہشتم کا ورینکلر فائنل کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ عید کا موقع آیا تو سزا میں تخفیف کرکے اسے رہا کردیا گیا۔ وہ ماں کے پاس پہنچا لیکن اس کی ماں نے اس کا استقبال سرد مہری سے کیا۔ یہ سن کر بھی کہ اس کے بیٹے نے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا ہے اسے کوئی خوشی نہ ہوئی۔
عید کا تہوار تھا، اس کے پاس کوئی نیا لباس نہیں تھا، لیکن وہ پھر بھی خوش تھا کہ چلو ماں کے پاس تو ہے۔ مزید خوشی اسے اس بات سے ہوئی تھی کہ مہنگے خاں ان دنوں جیل میں تھا، لیکن اس کی ماں جس قدر توجہ نئی اولاد پر دے رہی تھی اس سے اسے دکھ بھی ہوا۔ اس کا سگا بھائی بھی خود ہی ماں سے ملنے آیا اور کھانے پینے کی کئی سوغاتیں لایا۔ شاہ دین اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔ خود اس نے بھی بڑے بھائی سے جھجک ہی محسوس کی۔ اس کی ماں نے جب بھی کبھی اس سے بات کی تو یہی کہا کہ وہ کوئی کام کاج کرے اور اپنا خرچہ خود اٹھائے۔ وہ خود بڑی غریب ہے اور اس کا شوہر جیل میں ہے۔
وہ خداداد سے جاکر ملاتھا۔ اس نے اسے پڑھتے رہنے کی ہدایت کی۔ اس نے مزنگ کے علاقے میں صبح صبح اخبار تقسیم کرنے کا کام بھی اسے دلادیا، جس سے وہ جلدی ہی فارغ ہوجاتا پھر وہ پڑھتا۔محلے کے ایک ٹیوشن سینٹر میں جاتا۔ چھوٹے بھائی کے حوالے سے اس نے امداد علی سے بھی تعلیمی معاملات میں مدد حاصل کی۔ ایک شام جب وہ ٹیوشن سنٹر سے واپس آیا تو مہنگے خاں اس کے سواگت کے لیے جیل سے واپس آچکا تھا۔ شاہ دین کو معلوم ہوچکا تھا کہ گھوڑوں کے مسالے کے ساتھ ساتھ اس کا سوتیلا باپ منشیات کی پڑیاں بھی بیچتا تھا اور اسی سلسلے میں جیل کاٹ کر آیا تھا۔ اس نے شاہ دین کی ماں کو واضح طور پر بتادیا تھا کہ وہ اپنے گھر کے اندر کسی نکمے، کام چور پڑھا کو کو برداشت نہیں کرسکتا اور اگر اس کی ماں کو اسے ادھر رکھنا ہی ہے تو اخبار فروشی کے بعد اسے شام تک گھوڑوں کے مسالے کی دکان پر اس کا ہاتھ بٹانا ہوگا اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس کی ماں نے مسکرا کر اپنے شادے سے کہا تھا کہ اب وہ ناشتہ خود بنالیا کرے گی یا نان چنے منگوالیا کرے گی اور وہ مہنگے کے ساتھ دکان پر جایا کرے گا۔ اس ستم کیش التفات کو بھی شاہ دین نے غنیمت جانا لیکن عین ان دنوں جب میٹرک کے امتحان میں چند ہفتے باقی رہ گئے تھے۔ مہنگے خان کے ساتھ اسے بھی گرفتار کرلیا گیا۔ منشیات فروشی کے الزام میں ۔ دو سال کے اندر ہی وہ پھر بورسٹل جیل میں تھا جہاں اصلاح کے نظریے سے بھی اسے عادی مجرم کا طعنہ دیا جاتا۔
سوائے اس مہربان کلرک کے جو رنگ روغن کے کارخانے سے لے کر اب تک اس کا دوست اور خیرخواہ ثابت ہورہا تھا، کسی نے شاہ دین کے لیے کوئی تردد نہ کیا۔ کرتا بھی کون، سوائے ماں کے تھا بھی کون۔ جیل میں اب اس کی حرکات ناقابل برداشت قرار دے دی گئیں۔ محکمہ جیل خانہ جات کے ایک افسر کے زمیندار رشتہ دار نے شاہ دین کو پیرول پر رہا کرا لیا اور اپنے کھیتوں پر لے گیا۔ زمیندار دن بھر اس سے اور دیگر چند اور ایسے ہی قیدیوں سے کھیتوں پر کام لیتا اور رات کو بانس کی سیڑھی کے ذریعے تمباکو کو نرمانے کی ایک بھٹی کی اونچی چھت پر چڑھا دیتا اور سیڑھی اتارلیتا۔ کھانا بھی مناسب مقدار میں نہ ملتا پھر بھی اسے کوئی ادھوار سہانا خواب آلیتا لیکن کروٹ بدلنے پر جب حقیقت اس پر آشکارا ہوتی تو وہ مایوس ہوجاتا۔ ایک دن اس کا داؤ لگ گیا اور وہ ان کھیتوں سے بھاگ نکلا۔ٹرک پر بیٹھ کر لاہور پہنچ گیا اور پھر اپنی ماں کے گھر پہنچ گیا۔ اسے یہ اطمینان تھا کہ کم از کم مہنگے خاں گھر پر نہیں ہوگا۔ ماں بھی گھر پر نہیں تھی جب اس کی ماں واپس آئی تو اس نے اس سے پوچھا کہ وہ تو سال کے لیے اند رہوا تھا اتنی جلدی واپس کیسے آگیا ہے۔ جب ا س نے ساری حقیقت بتائی تو اس کی منت سماجت کرنے لگی کہ وہ کھیتوں پر واپس چلا جائے لیکن وہ کھیتوں پر واپس جانے کے بجائے رنگ روغن کے کارخانے چلا گیا اور خداداد کلرک سے ملا۔ اس نے بھی اسے بتایا کہ اس کا کھیتوں سے فرار جیل سے فرار تصور کیا جائے گا اور اس کی سزا بڑھ بھی سکتی ہے۔
پیرول پر رہائی حاصل کرانے والے زمیندار نے شاہ دین کے فرار کی اطلاع متعلقہ حکام کو دے رکھی تھی۔ پولیس اس کی تلاش میں اس کی ماں کے گھر تک پہنچ گئی۔ اس کی ماںنے پولیس کو بتایا کہ وہ اس کے پاس آیا تھا لیکن اس نے اسے واپس کھیتوں پر زمیندار کے پاس بھیج دیا ہے۔ پولیس نے اخبار کے ایجنٹ اور ٹیوشن سنٹر سے بھی پوچھ گچھ کی تو پولیس کو اس کا اتا پتا تو نہ ملا البتہ سیکنڈری بورڈ کی طرف سے آیا ہوا رول نمبر ملا جو اپنی رپورٹ کے ساتھ پولیس نے جیل حکام کو دے دیا۔ خداداد کلرک کے ساتھ وہ خود جیل حکام کے سامنے پیش ہوگیا اور اس نے درخواست گزاری کہ اسے پیرول پر رہائی نہیں چاہیے کیونکہ زمیندار نے اسے جیل سے بھی بدتر حالات میں رکھا تھا۔ داروغہ جیل اچھا انسان تھا، اس نے اس کی درخواست منظور کرلی اور اس کے فرار کو جرم قرار نہ دیا بلکہ جیل میں واپس آجانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے میٹرک کے امتحان کی تیاری اور امتحان دینے کی ممکنہ سہولتیں بہم پہنچائیں۔
امتحان دینے کے بعد شاہ دین کے اندر منفی تبدیلی آئی۔ اس نے اخلاقی قیدیوں سے روابط بڑھالیے، جرائم کی وارداتیں سنیں، روپیہ کمانے کے متعلق گھناؤنے کاروباروں سے واقفیت حاصل کی۔ جیل کے اندر اسمگل کیے ہوئے چرس بھرے سگرٹوں سے آسودگی حاصل کرنے کا فن سیکھا، اسمگلنگ کے ذرائع اور طریقے سیکھے۔ اس غیر رسمی تعلیم کے بعد جب وہ جیل سے رہا ہوا تو ریلوے اسٹیشن کے ارد گرد وارداتیںکرنے والے ایک ٹولے میں شامل ہوگیا اور پھر اس کا سرغنہ بن گیا۔ وہ چوری، بھیک، جیب تراشی، چرس فروشی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے حصہ لیتا۔ وہ اپنا وقت اچھا گزار رہا تھا لیکن موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی جب فٹ پاتھ اسے ٹھنڈا ٹھنڈا محسوس ہوا تو ایک مرتبہ پھر اس کے پیار کے بھوکے ذہن نے کروٹ لی اور اسے اپنی ماں کی یاد آئی۔ ایک ٹھٹھرتی صبح کو وہ اپنی ماں کے گھر کے سامنے کھڑا تھا اور اس کی جیب میں کئی سو روپے بھی تھے۔ مہنگے خاں ابھی جیل میں ہی تھا اسے دو سال قید ہوئی تھی۔
ایک ہاتھ سے تو اس کی ماں نے اس سے وہ سارے روپے تھامے جو وہ لایا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے اسے وہ کارڈ تھمایا، جو ٹیوشن سنٹر والوں نے بھیجا تھا۔ وہ تھرڈ ڈویژن میں میٹرک پاس کرچکا تھا۔ وہ کارڈ لے کر رنگ روغن کے کارخانے پہنچا لیکن اس دفعہ اس کے مہربان نے اسے یہ کہہ کر مایوس کردیا کہ تھرڈ ڈویژن اس کے کلرک بننے میں رکاوٹ ہے، تاہم وہ دیکھے گا کہ وہ اس کے لیے کیا کرسکتا ہے۔
’’خداداد، شاہ دین پر کیوں مہربان ہے؟‘‘ شاہ دین نے اپنی ذات سے باہر نکل کر کئی بار اس سوال پر غور کیا تھا، جیسی شاہ دین وہ خود نہ ہو کوئی اور ہو۔ واقعی وہ شاہ دین کوئی اور تھا جو ایک پرائمری پاس یتیم خانے کا ستایا ہوا بچہ تھا، جو محنت مزدوری کرنے رنگ روغن کے کارخانے میں آیا تھا اور خداداد نے اسے اپنے پولیو کی شکار بچی کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اپنی مجبوری کے تحت وہ اسے احسان مندی اور ہمدری کے ذریعے زیر کررہا تھا۔ شاہ دین پر جس دن یہ بات کھلی تو تھوڑی دیر کے لیے اسے خداداد بھی اپنی ماں کی طرح خود غرض نظر آیا لیکن جس طرح اس نے بار بار اپنی ماں کی زیادتیوں کو اس کی مجبوریوں کی روشنی میں نظر انداز کردیا تھا اس طرح اس نے خداداد کی مجبوری کو سمجھ کر اسے بھی معاف کردیا۔ وہ خود بھی تو کس قدر مجبور تھا۔
اس کی ماں اب اس کو خوشامد، لالچ، منت سماجت سے مجبور کررہی تھی کہ وہ کسی جگہ کوئی نوکری یا کام ڈھونڈے لیکن اس کا جینا حرام نہ کرے۔ اس دفعہ اس نے اپنی ماں کو خوش آگیں نگاہوں سے دیکھا اور کہا: ’’ماں … ذرا سوچ۔ تم نے مجھے کیا دیا ہے۔ دنیا نے مجھے کیا دیا ہے۔ اگر تم نے یہ نفرت کا بازار گرم رکھا تو میں تمہارے شوہر یا اپنے اس چھوٹے سوتیلے بھائی کی گردن توڑ دوں گا۔ تم ان نفرتوں کا پھل چکھنے کے لیے زندہ رہو گی اور پپو کے قاتل کی ماں کی طرح گلیوں میں بین کرتی پھروگی۔ تم نے بچوں کی پرورش کے نام پر ہمیشہ اپنی تنہائی غیر مرد سے سجائی ہے۔ تمہاری ذہنی بغاوتوں ہی نے تمہیں اور ہمیں بھی رسوا کیا ہے۔ اگر تم صابر و شاکر عورت ہوتیں تو ہمارا باپ تمہیں نہ چھوڑتا۔ اس نے چھوڑ بھی دیا تھا تو ہماری خاطر ہماری مرحومہ دادی تمہیں اپنے پاس رکھنے کو تیار تھی۔ تم نے اپنے ساتھ ہمیں بھی دربدر کیا۔ ایک بے کسی کی موت مرگیا، دوسرا محلے کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے…‘‘ اچانک وہ خاموش ہوگیا اور چرچ والا سگریٹ سلگا کر لمبے لمبے کش لگانے لگا۔ گھر میں ناگوار سی بو پھیل گئی لیکن وہ خود آسودہ ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر گئے۔ اپنی اداس کیفیت پر قابو پاکر اس نے اپنی جیب سے پانچ انچ لمبے پھل والا شکاری چاقو نکالا اور اسے کھولا اور چمکتے پھل کی دھار پر انگلی پھیری۔ اس کی ماں سہم گئی۔ اس نے چاقو کو پھل سے پکڑ کر اس طرح گھما کر بیرونی دروازے کی سمت پھینکا کہ وہ بند دروازے میں کھب کر رہ گیا۔ اس کی ماں دہشت زدہ سی ہوگئی اور چھوٹے بچے کو ساتھ لے کر گھر سے نکل گئی۔ اس نے دروازے سے چاقو اکھاڑا اور دروازے پر آویزاں ٹاٹ کے پردے کو درمیان میں سے پہلے افقی اور پھر راسی کاٹ سے کاٹ کر دروازہ کھلا ہی چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
اسمبلی ہال کے عقب سے ہوتا ہوا وہ قلعہ گوجر سنگھ پہنچا۔ وہاں سے ریلوے اسٹیشن چلا گیا جہاں چند بدمعاش اور لوفر لڑکے اپنے دھندے کے لیے گھوم رہے تھے۔ پچھلے دنوں وہ اس کے خلاف کچھ باتیں کرتے رہے تھے۔ جس غصے کی رو میں بہہ کر وہ ماں کے گھر سے نکلا تھا وہ ابھی باقی تھا لہٰذا وہ بڑے جارحانہ انداز میں ان کے قریب جاکھڑا ہوا۔ سب اس کو گھورنے لگے۔ اس نے اپنی جیب سے کنگ اسٹارک کاسگریٹ نکالا اور سب سے بڑے لڑکے کو کہا کہ وہ ماچس کی تیلی جلاکر اس کا سگریٹ سلگانے کے لیے پیش کرے۔ وہ لڑکا بھی اکڑ گیا اور دوسرے لڑکوں کی نظروں کی شہہ پاکر اس نے شاہ دین کے گلے کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن شاہ دین اب جیل پلٹ شادا تھا اس نے اس لڑکے کو ایسا دوہتڑ جڑا کہ وہ نیچے گرگیا۔ اس نے دوسرے لڑکوں کی طرف دیکھا چونکہ وہ سب آوارہ گرد تھے، لوگوں کی یا پولیس کی نظروں میں نہیں آنا چاہتے تھے لہٰذا بھاگ کھڑے ہوئے۔ شادے نے اپنا دایاں پاؤں گرے ہوئے لڑکے کی چھاتی پر رکھا اور ادھر ادھر دیکھ کر چاقو نکالا اور اس سے اس کی چھاتی پر انگریزی حرف ایس لکھا۔وہ پھر چھ ماہ کے لیے جیل میں بھیج دیا گیا۔
جیل میں اس نے عہد کیا کہ وہ اب اپنے اندر سے اکھڑ پن اور گستاخی کے تمام جراثیم نکال دے گا۔ ماں نے جتنا اسے محروم کیا تھا، اتنی ہی ماں کی قربت میں ہونے کا احساس اس کے اندر بڑھا تھا۔ وہ رہا ہونے کے بعد جب ماں کے پاس پہنچا تو اس کی ماں نے اس مرتبہ خاموشی کے بجائے لعن طعن و تشنیع، گالی گلوچ سے اس کا استقبال کیا۔ اسے ہی نہیں اس کے باپ اور اس کی نسل کو بھی مسلسل طوفانی کٹیلی باتوں سے دھنک کر رکھ دیا۔ اس کا سوتیلا باپ مہنگے خاں بھی جیل سے آچکا تھا۔ اس نے اسے ’’حرام کا تخم‘‘ کہا اور گھر سے نکل جانے کے لیے کہا بلکہ اس نے یہاں کہا تک کہ وہ اپنی گشتی ماں کو بھی ساتھ ہی لے جائے۔ اس کے چھوٹے بھائی نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ وہ جیل سے آیا تھا، اسے اتنے بڑے شہر میں سوائے ماں کے گھر کے اور کسی ٹھکانے کا نہ سوجھا تھا۔
٭٭٭
میرے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وہ اپنی گزشتہ زندگی سے پردے اٹھا رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا: ’’کیا یہ عجیب بات نہیں تھی کہ تم بار بار اپنی ماں کے پاس ہی جاتے تھے جبکہ وہ تمہیں اپنے پاس رکھنے پر رضا مند نہیں تھی۔‘‘
’’ہاں ڈاکٹر صاحب! لیکن ہر دفعہ میں اس امید پر اس کے پاس جاتا تھا کہ شاید اب کی بار وہ مجھ سے مختلف سلوک کرے۔ ایسی ماں کا سلوک کرے جس کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے۔ مجھے جنت ہی کی تو تلاش تھی۔‘‘
’’مختلف سلوک سے تمہارا کیا مطلب ہے۔‘‘
’’میں بورسٹل اور کیمپ دونوں جیلوں میں سوتے جاگتے یہ خواب دیکھا کرتا تھا کہ اب جب میں واپس اپنی ماں کے پاس جاؤں گا تو وہ لپک کر مجھے چھاتی سے لگالے گی اور میری بلائیں لیتے ہوئے رو رو کر کہے گی کہ اب وہ مجھے کہیں نہیںجانے دے گی۔ اپنی آنکھ کا تارا بناکر رکھے گی۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے میری طرف دیکھا اور ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا: ’’ڈاکٹر صاحب! میں نے سوچا میں ماں کے پاس رہوں گا۔ وہ مجھے چولہے کے قریب بٹھا کر کھانا کھلائے گی۔ میرے کپڑوں کو دیکھ کر کہے گی کہ ان کو بدل لو۔ بالوں میں تیل تو لگالو۔‘‘
اکیس برس کے نوجوان کی زبانی بچوں کی سی باتیں سن کر میں اپنا نفسیاتی تجزیہ بھول گیا اور مسکرا اٹھا۔ اس نے میری مسکراہٹ کو شاید طنز سمجھا اور کہا: ’’جن لڑکوں کے گھر ہوتے ہیں یا جن کا کوئی بڑا ہوتا ہے ان کے اندر بچپن کی خوشیاں زندہ رہتی ہیں۔ مناسب جوتا تلاش کرنا، اچانک نئے سلے سلائے کپڑے حاصل کرنا، کسی عزیز رشتے دار کے ہا ں جانے کے لیے ویگن کے اسٹاپ پر کھڑا ہونا، زندگی کے احساس سے بھر پور حرکات ہیں۔ میں نے آج تک کبھی ایسا نہیں کیا۔ بچپن میں بھی ضد کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ماں کے دوپٹے سے آنسو خشک کرنے کی خواہش تک بھی پوری نہیں ہوئی۔‘‘ ذرا رک کر اس نے کہا: ’’ان جیل کے کپڑوں ہی کو دیکھیں کس قدر کھلے اور بے ڈھنگے ہیں۔‘‘
اس نے میرے چہرے پر نظریں گاڑدیں۔ میں اپنا سر اس کی باتوں کی تائید میں ہلاتا رہا۔ وہ بے حد سنجیدہ تھا۔ بڑا فلسفی ہورہا تھا۔ اس نے سوال کیا: ’’ڈاکٹر صاحب! جب آپ کے پاس کوئی بھی ایسی چیز نہ ہو جس سے ملکیت کا احساس ابھرے تو آپ اپنے بارے میں کیا سوچیں گے؟‘‘ اس کا یہ سوال بڑا انوکھا اور تیکھا تھا۔ اس کے ذہن میں جانے کیا تھا۔ مجھے اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں سوجھ رہا تھا۔
’’شاہ دین!‘‘ میں نے مسکرا کر کہا: ’’اپنے اس سوال کا جواب تم خود ہی بتاؤ…‘‘ میں نے شکست تسلیم کی تو وہ مسکرایا اور اس نے کہا: ’’میں نے ایسے بہت سے سوالات جیل کے اندر حل کیے ہیں۔ اگر کسی کو ملکیت کا احساس نہ ہو تو وہ یہ بھی نہیں بتاسکتا کہ وہ کون ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اپنا وجود بھی کسی دوسرے کا لگتا ہے جیسے فلم میں ادا کار کسی دوسرے کا لباس پہن کر کوئی اور بن جاتا ہے۔‘‘ میں اس کی سوچ پر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے سمجھا جیسے میں اس کی بات کو سمجھ نہیں پار ہا۔ اس نے مزید وضاحت کی: ’’میری ہی مثال لیجیے، میرا بستر بھی میرا نہیں۔ میرا نام ہی نام ہے۔ اور وہ بھی شاہ دین نہیں رہا شادا بن گیا ہے۔‘‘
’’نہیں شاہ دین نہیں، یہ جاننے کے لیے کہ تم کون ہو، چیزوں کی ضرورت نہیں۔ تمہاری پہچان تو تمہارے اندر ہی سے ابھرے گی۔ ہر شخص کا یہی حال ہے۔ ہر ایک نام کی ایک آواز ہوتی ہے۔ آدمی کی زندگی پر اس کے نام کا بڑا اثر ہوتا ہے۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’شاید اسی لیے شاہ دین سے میرا نام شادا پڑگیا ہے۔ شادا… کیا آواز ہے اس کی؟ البتہ اس کا اثر میری زندگی پر ضرور پڑا ہے…‘‘ وہ اداس ہوگیا۔
’’انسان کی پہچان اندر سے ہی نمو پاتی ہے۔ یہ کوئی خارجی شے نہیں۔ ایک شخص اپنا احساس دوسرے سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر حاصل کرتا ہے جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو دوسرے اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جب … اس نے مجھے بات مکمل نہ کرنے دی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اب مزید گفتگو کے لیے آمادہ نہ تھا۔ میں نے بھی اصرار نہیں کیا۔
اپنے کلینک میں جب میں مقالے کو آگے بڑھانے کے لیے جزئیات پر غور کررہا تھا تو مجھے شاہ دین کی گفتگو میں صداقت ہی صداقت نظر آئی۔ جو کچھ مجھے اس کے لاشعور سے حاصل ہوا اس میںترتیب و تسلسل کی کڑیاں مجھے خود جوڑنا تھیں۔ ایسی ہی کڑیوں کی تلاش کے دوران میں مجھے نظر آیا کہ اس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اس کی ماں اس کی نسبت اس کے سوتیلے بھائی کا زیادہ خیال رکھتی ہے کیونکہ وہ اپنے شوہر کی زیادہ تابعدار ہے جبکہ وہ اس کے باپ کی زیادہ تابعدار نہیںتھی۔ اس کا باپ قد کا چھوٹا اور دمے کا مریض بھی تھا۔ اگر وہ اس کے باپ کو خوش رکھنا چاہتی تو ہم پر توجہ دیتی اب وہ اپنے موجودہ شوہر کو خوش رکھنا چاہتی تھی لہٰذا اس کے بچے کو زیادہ توجہ دے رہی تھی۔ ممتا کا یہ روپ شاہ دین کو پسند نہیں آیا تھا۔
شاہ دین سے میری ملاقاتیں جاری تھیں۔ مقدمے کی تاریخ پیشی بھی نکل آئی تھی۔ بادی النظر میں اس کی کہانی مکمل تھی۔ جس روز وہ آخری بار ماں کے گھر گیا تھا تو یہ ارادہ کرکے گیا تھا کہ وہ اب اپنی منفی ذات کو مثبت ذات میں بدل دے گا۔ دوسرے اس کو خداداد نے واضح طور پر بتادیا کہ وہ اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ پے در پے جیل جانے کی وجہ سے وہ اب ایک اخلاقی مجرم ثابت ہوچکا ہے اور کسی سزایافتہ مجرم کو سرکاری محکموں میں درجہ چہارم کی ملازمت بھی نہیں ملتی۔ ایسی ہی کسی نوکری سے شاہ دین اپنی زندگی کی راہ روشن کرنے کی بھی خواہش رکھتا تھا۔ ماں کا گھر اور جیل دونوں اس کے لیے برابر تھے، سکون اور عزت کہیں نہیں تھی۔ لیکن ماں نے تو اسے جنم دیا تھا۔ جیل والوں سے اس کی کوئی رشتہ داری تک بھی نہ تھی۔ ماں خاموشی سے، تیکھی نظروں سے اور اپنی بڑبڑاہٹ سے اس کے پندار کو ٹھیس لگاتی تھی جبکہ جیل میں ایک خصوصی جبر و تشدد کا دور دورہ تھا لیکن وہ پھر بھی جیل کے دروازے کھول کر اسے ٹھوکروں سے محفوظ کرلیتے تھے۔ وہ رات پھر سو نہ سکا تھا۔ اس نے واپس جیل جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ایسے میں پنو کی آواز آئی، اس نے اسے کل بھی دیکھا تھا بالخصوص اس کی گردن کو جو اس کی ماں کی طرح تھی۔ اس کی چوٹی بھی ماں کی طرح گندھی ہوئی تھی۔ اس کا اٹھلانا، آنکھیں گھما کر بات کرنا اور ایسے ہی کھکھلا دینا اسے بڑا برا لگا۔ تلخیاں اس کے لاشعور سے ابھر کر آنکھوں میں آگئیں اور ماں کے بجائے اس نے پنو کو قتل کردیا۔
میرے خیال کے مطابق جیل کے اندر شاہ دین اپنی زندگی کے انجام کی غیر یقینی صورتِ حال کی وجہ سے بکھرا بکھرا سا تھا۔ ایک بات واضح تھی کہ اس قدر بھیانک جرم کے باوجود وہ بے گناہ تھا۔ وہ مریض تھا۔ میں نے مقالہ کے نگران پروفیسرسے شاہ دین کے متعلق تفصیلی بحث کی اور انہیں آمادہ کرلیا کہ وہ اسلامک سائیلیٹری بورڈ میں میری اب تک کی تحقیقات پیش کریں گے اور کوشش کریں گے کہ عدالت شاہ دین کو نفسیاتی مریض قرار دے کر نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں بھجوادے تاکہ مزید تحقیق کرکے مقالے کو ایک جامع مطالعہ کا حامل بنایا جاسکے۔
٭٭٭
مزید ملاقاتوں کے باوجود میں اسے نہیں بتاسکا تھا کہ اس نے قتل کیا تھا؟ میں بتلاتا بھی تو کیسے؟ مجھے تو ابھی خود بھی کچھ معلوم نہیں ہوا تھا۔ اس کا مقدمہ شروع ہوچکا تھا۔ میں نے بھی مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دے رکھی تھی جسے عدالت نے شامل مسل کرلیا تھا لیکن اس پر ابھی بحث نہیں ہوئی تھی۔ شاہ دین مقدمے کی کارروائی کو خاموشی سے سنتا اور گاہے گاہے میری طرف ایسے دیکھتا جیسے کہہ رہا ہو کہ عدالت سے متعلقہ لوگ اور وکیل کتنے احمق ہیں کہ انہی باتوں کو دہرا رہے ہیں جو سب کو معلوم ہیں۔ ایک تاریخ پر اس کی ماں اور چھوٹا سگا بھائی بھی اس سے ملنے آئے۔ اس نے بھائی کے سر پر تو شفقت سے ہاتھ پھیرا لیکن ماں سے کوئی بات نہیں کی۔ اس کی ماں نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا:
’’شاہ دین!تو مجھ کو نہیں سمجھا۔‘‘
’’ہاں! تم مجھے سمجھی ہو، تمہاری سمجھ ہی نے مجھے خونی اور قاتل بنادیا ہے۔ کیا یہ جاننے کے لیے آئی ہو کہ کب مجھے پھانسی ملتی ہے اور تمہاری جان مجھ سے چھوٹتی ہے۔‘‘
اس کی ماں رونے لگی۔ اس نے شاہ دین کے چھوٹے بھائی کو کندھے سے پکڑا اور عدالت سے چلی گئی۔ میں نے دیکھا کہ شاہ دین کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔
عدالتی کارروائی ختم ہوئی تو شاہ دین جیل کی گاڑی آنے تک میرے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اس نے مجھے گہری نظروں سے دیکھا اور کہا: ’’ڈاکٹر صاحب! بعض اوقات آپ کی باتیں بھی مجھے ماں کی باتوں کی طرح بیمار کردیتی ہیں۔‘‘ میںنے دیکھا کہ شاہ دین اس وقت آپے میں نہیں تھا۔ سردی کے باوجود اس کا جسم پسینے میں شرابور تھا جیسے اس کے دل کو چوٹ لگی ہو۔
میری درخواست پر بھی عدالت نے غور کیا، لیکن شاہ د ین کو ذہنی مریض قرار نہیں دیا گیا۔ نہ ہی اس کی جوانی پر ترس کھایا گیا۔ اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ اپنی ملاقاتوں میں ہونے والی باتوں کے تجزیے اور میرے مرتب کردہ نتائج کی روشنی میں شاہ دین ایک عدم تحفظ کا شکار، محبت کی جبلی خواہش سے دھتکارا ہوا، بے سہارا ایک ایسا نوجوان تھا، جس کی جوانی میں اس کا بچپن گھٹ کر رہ گیا تھا۔ اس کی شخصیت کی تعمیر اس کی عمر کے مطابق نہیں ہوئی تھی۔ نفسیاتی طور پر اسے ایسے محرکات نصیب نہیں ہوئے تھے جن سے کوئی بچہ اپنے آپ کو تلاش کرتا ہے۔ اس کی خواہش تھی کہ کوئی اسے چاہے، اسے پسند کرے، اسے محبت سے اپنے پاس بٹھائے اور اس سے پوچھے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے؟ اور پھر اس کی رہنمائی کرے۔
جیل میں اسے خصوصی کوٹھڑی میں منتقل کردیا گیا۔ اس کی درخواست پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے مجھے بلا بھیجا تھا۔ کسی نے بھی عدالت عالیہ میں اس کی سزا کے خلاف اپیل نہیں کی تھی بلکہ ایسا کرنے کی مدت بھی ختم ہونے والی تھی۔ خود شاہ دین نے قانونی مدد حاصل کرنے کے لیے حکومت کو بھی کوئی درخواست نہیں دی تھی۔ اسے قانونی تقاضوں کا علم بھی کہاں تھا۔ ماتحت عدالت میں پیش ہونے والا وکیل بھی خداداد نے مہیا کیا تھا۔ وہ اب بھی اس مجرم کی ذات سے آس لگائے بیٹھا تھا۔ لیکن حیرت کی بات تھی کہ اس نے بھی شاہ دین سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔
مجھے جب اس کی کوٹھڑی میں لے جایا گیا تو اس کی حالت دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ وہ کوٹھڑی کے اندر بنے ہوئے سیمنٹ کے چبوترے پر کھردرے اور گندے کمبل کو اس طرح پکڑے ہوئے تھا جیسے وہ کوئی زندہ شے ہو اور اس کے ہاتھوں سے بھاگ نکلنے کی قدرت رکھتی ہو۔ اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچ رکھی تھیں لیکن آنسو چل رہے تھے۔ دبی دبی سسکیوں اور کراہنے کی آواز آرہی تھی۔ اس کا چہرہ کسی اندرونی کشمکش اور کرب کا اظہار کررہا تھا۔ میں نے اسے اس کانام لے کر پکارا۔ اس نے میری آواز نہیں سنی۔ وہ اپنے آپ میں الجھا ہوا کوئی اندرونی لڑائی لڑرہا تھا۔ میں نے بڑبڑاہٹ میں سے آنے والے الفاظ سنے۔ وہ ’’نہیں، نہیں اور نہ ، نہ‘‘ کہہ رہا تھا۔ چند لمحے آوازیں سننے کے بعد میںنے اسے جھنجھوڑ کر کہا: ’’شاہ دین، شاہ دین ، کیا بات ہے؟‘‘ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا جیسے اس نے میری بات ہی نہ سنی ہو۔
مجھے کوٹھڑی میں چھوڑ کر نائب داروغہ باہر نکل گیا۔ دروازہ بند کرتے وقت کنڈے کے ذرا غیر معمولی طور پر کھٹکنے سے اس نے اچانک آنکھیں کھول دیں۔ اس کا جسم اکڑ گیا، اچانک وہ جست لگا کر مجھ پر اس طرح جھپٹا کہ میں فرش پر گرگیا۔ اس کے ہاتھ میرے گلے کے گرد تھے اور آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے اور اس کے کھلے منہ سے خون خشک کردینے والی مارو، مارو کی چیخیں نکل رہی تھیں۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور مجھے کچھ یاد نہ رہا کہ میں کہاں ہوں۔
چند منٹ بعد جب مجھے ہوش آیا تو میں فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ کسی نے میرا سر اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور مجھے کچھ سونگھنے کو دیا جارہا تھا۔ کمرے میں جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر کے علاوہ بہت سے محافظ بھی تھے۔یہ محافظوں کا کمرہ تھا۔ وہیں شاہ دین بھی زنجیروں میں جکڑا پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف کرکے باندھ دیے گئے تھے وہ مجھے ایسے انداز سے دیکھ رہا تھا جیسے معذرت خواہ ہو۔ چند روز تک یہ واقعہ مختلف النوع سرخیوں کے ساتھ اخبارات میں شائع ہوتا رہا۔ ہاتھ سے بنائے گئے خاکوں کے ذریعے شاہ دین کو شیطان اور پیدائشی مجرم ثابت کیا گیا تھا لیکن میں نے اپنے مقالے میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے اس منبع کا پتہ چل گیا ہے جہاں سے مارو، مارو، مارو کی آواز شاہ دین کو سنائی دی تھی۔ اس واقعہ کے بعد میری درخواست کے باوجود مجھے شاہ دین سے ملنے نہیں دیا گیا۔ میں نے اپنے مقالے کے نگران پروفیسر ڈاکٹر متین سے بڑی التجا کی کہ کسی نہ کسی طرح وہ اپنے اثر و رسوخ سے مجھے اپنا مقالہ مکمل کرنے کے لیے شاہ دین سے ملنے کی اجازت دلائے تو پروفیسر نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کوئی مطالعہ کسی بھی مرحلے پر مکمل نہیں ہوپاتا نہ ہی اس میں کچھ اور اضافے کی گنجائش رہتی ہے۔ اس کے باوجود میں نے شاہ دین کی طرف سے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی اور ساتھ ہی ایک رٹ بھی اس امر کے لیے دائر کی کہ مجھے شاہ دین سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
رٹ کو خصوصی بنیادوں پر سناگیا۔ پروفیسر ڈاکٹر متین اور اسلامک سائیکیٹری بورڈ کا موقف بھی بطور شہادت کے طلب کیا گیا۔ میری لکھی ہوئی ’’کیس ہسٹری‘‘ اور ’’عدالتی ریکارڈ‘‘ پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ میرا وکیل ایک ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج تھا جو خود اپلائیڈ سائیکلوجی کاایم اے تھا اور جس نے عرصہ چھ سال سے ایل ایل بی کے بعد مصروفیت کی خاطر وکالت شروع کررکھی تھی۔ عدالت نے چند پابندیوں کے ساتھ نہ صرف شاہ دین کو دماغی امراض کے ہسپتال میں منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی بلکہ ڈاکٹر متین کو یہ ذمہ داری بھی سونپی کہ وہ ہسپتال کے عملے سے شاہ دین کے علاج معالجے میں تعاون کریں گے اور جب عدالت عالیہ میں شاہ دین کے مقدمہ کی تاریخ نکلے تو وہاں وہ شاہ دین کے وکیل کو تحقیقاتی مواد اور رٹ کا فیصلہ بھی پیش کرنے کو کہیں گے۔ نیز نوجوان سائیکیٹرسٹ مسٹر علی احمد کو مقالے کی خاطر شاہ دین سے ملنے کی اجازت ہوگی۔
جب میں نے پروفیسر ڈاکٹر متین سے عدالتی فیصلے کی بابت گفتگو کی تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’میں دراصل تمہیں یہ بات قبل از وقت نہیں بتانا چاہتا تھا کہ شاہ دین کے متعلق تمہاری تحلیل نفسی کے ذریعے اخذ کردہ معلومات اتنی قیمتی اور نایاب ہیں کہ میرے خیال میں تمہارے غیر مکمل مقالے پرہی تمہیں ڈاکٹریٹ دی جاسکتی ہے بلکہ یوں سمجھو کہ دی جاچکی ہے۔ لیکن میں تمہیں قتل کے مقدمے میں ملوث نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مریض مجرم کے لیے اگر تم کچھ نہ کرتے تو بھی میں ضرور کچھ کرتا۔ اب تم اگر مزید تحقیقات کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لیے میدان کھلا ہے۔‘‘
میں نے پروفیسر ڈاکٹر متین کا شکریہ ادا کیا۔ جب میں نے ان سے جانے کی اجازت طلب کی تو انھوں نے کہا: ’’جو تم جاننا چاہتے ہو، وہ میں جان چکا ہوں لیکن بہتر ہوگا کہ تم شاہ دین سے ملو اور لاشعور کی کارفرمائیاں بے نقاب کرو۔‘‘
ہسپتال میں جو کمرہ شاہ دین کو دیا گیا تھا وہ ہر لحاظ سے جیل کی کوٹھڑی سے بہتر تھا۔ جس تپاک سے وہ مجھے ملا اس میں معذرت کا پہلو نہیں بلکہ تشکر کا جذبہ تھا۔ اس نے صرف اس قدر کہا: ’’نہ جانے اسے کیاہوگیا تھا۔ اسے ایک تشنجی دورہ پڑا تھا شاید۔‘‘ میںاس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا پھر میں نے اسے تنویمی عمل کے لیے آمادہ کیا تاکہ وہ بھی جان سکے کہ اسے کیا ہوا تھا، پنو کو قتل کرتے وقت اور میری گردن دبوچتے وقت، اس نے رضا مندی تو ظاہری کردی لیکن وہ بڑا چوکس تھا لیکن میں بھی بددل نہیں ہوا۔ بالآخر وہ نیند کی کیفیت میں چلا گیا۔ نیم خوابی کی کیفیت میں اس نے کہا: ’’میں نے بڑے ڈاکٹر صاحب کو بھی بتایا تھا۔‘‘ غالباً وہ ڈاکٹر متین کا حوالہ دے رہا تھا۔ ’’اور آپ کو بھی بتاتا ہوں کہ میری آپ سے کوئی دشمنی نہ تھی نہ پنو سے۔ میں بیمار ہوں۔ مجھے سب کچھ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ میں کیا کربیٹھا ہوں۔ یہ بھی مجھے بعد میں پتہ چلا کہ میں نے پنو کو سریے مار مار کرہلاک کردیا تھا اور آپ کی گردن دبائی ہے۔‘‘
میں نے اس سے پوچھا کہ وہ مجھے یہ بتائے کہ پنو کے قتل سے چند روز پہلے کیا ہوا تھا اور میرا گلا دبانے سے چند روز پہلے کیا ہوا تھا؟
اس نے رک رک کر کہا: ’’جس روز میں نے آپ کا گلا دبایا تھا، اس سے ایک روز قبل۔ ہاں ایک ہی روز قبل مجھ پر شور مچانے کا الزام لگا کر داروغہ جی نے مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر اور میری پشت برہنہ کرکے بید لگائے تھے جبکہ میں نے کوئی شور نہیں مچایا تھا۔‘‘ میں نے دیکھا کہ تنویمی حالت میں بھی اس کے اندر ایک احتجاجی کیفیت پیدا ہورہی تھی۔ میں نے اسے تنویمی کیفیت سے نکال دیا اور میں یہ جان گیا کہ تنویمی کیفیت میں وہ اپنی سوچوں کو اگل دے گا جبکہ شعوری طور پر وہ کچھ بھی بتانے سے معذور تھا۔
مجھے پھر دو تین مرتبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے اسے تنویمی کیفیت میں مبتلا کرنا پڑا۔ جو کچھ اس نے بتایا اس کو اسی کے الفاظ میں مختصراً یوں لکھا جاسکتا ہے۔
’’میں موت کی کوٹھڑی میں تنہا تھا۔ یہ تنہائی بچپن سے ہی میرے لیے عذاب رہی ہے۔ اس روز شدید درد کا احساس مجھے جکڑے ہوئے تھا۔ یوں تو موت کا احساس بھی میرے ساتھ تھا۔ میری زندگی کی کسی کوفکر ہی نہ تھی۔ جس روز میں نے پنو کے گلے میں بانہیں ڈالنا چاہی تھیں اس روز بھی مجھے میرے سوتیلے باپ نے ایک چھڑی سے اس لیے پیٹا تھا کہ میں اس کے گھر میں کیوں ٹھہر گیا تھا۔ میں اپنے باپ کو اور خاص طور پر سوتیلے باپ کو اس کی ہی چھڑی سے خوب خوب پیٹ سکتا تھا یا اپنے چاقو سے اس کے پیٹ پر اس کی تصویر بناسکتاتھا لیکن مجھے ماں اور بھائی کا خیال تھا۔ اگر میں چھڑی کی ضربیں برداشت نہ کرتا تو میری ماں اور بھائی بے سہارا ہوجاتے۔ ماں سے گھر کی چار دیواری اور بھائی سے گھر کی چھت چھن جاتی۔ میں نے سوچا، چلو چھڑی کی جلتی لاسوں پر میری ماں کا نرم گرم ہاتھ تو لگے گا ہی وہ میرے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے مجھے پیار سے تھپکے گی، میری بلائیںلے گی۔ شاید میری حالت پر اس کی آ نکھوں سے میرے لیے کوئی آنسو ہی ٹپکے۔‘‘
مجھے یاد آیا کہ شاہ دین پہلے بھی مجھے بتا چکا تھا کہ وہ مختلف سلوک کی توقع پر ہی بار بار ماں کے پاس جاتا تھا۔ پٹنے کے بعد بھی وہ اسی گھر میں اسی لیے رک گیا تھا کہ جیل کی نسبت وہ گھر اسے بہتر محسوس ہوتا تھا کہ وہاں اس کا کوئی اپنا رہتا ہے۔ اسے اپنے جیل جانے کا فیصلہ بھی برا لگا تھا۔
میں جب بھی اسے تنویمی کیفیت میں لاتا وہ بات جیل سے شروع کرتا تھا۔ ایک اور موقع پر اس نے تنویمی حالت میں کہا: ’’مجھے ٹکٹکی سے اتار کر کوٹھڑی میں لایا گیا تو میں نے دیکھا کہ میرا کھانا پہلے سے ہی چبوترے پر رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے جسم کو گرم کرنے کے لیے کھانے کی طرف بڑھا تو مجھے یوں لگا کہ میں انسان نہیں حیوان ہوں۔ کھانا ہی ایسا تھا۔ کھردرے کمبل نے میرے زخموں کو اور کھرچا تو میں اور مایوس ہوگیا۔ جیسے تمام شور تھم گئے ہوں اور ہر چیز کی حرکت رک گئی ہو اور کوئی انجانی قوت مجھے ارد گرد کی دنیا سے علیحدہ کررہی ہو۔ اس احساس کے ساتھ ایک خوف کی لہر میری ریڑھ کی ہڈی میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی جس نے سارے جسم کو اپنے قابو میں کرلیا۔ اندرونی طور پر بھی مجھے کچھ رکتا ہوا محسوس ہوا۔ ایسی کیفیت کو میں پہلے بھی محسوس کرچکا تھالیکن اتنی شدت سے نہیں۔ خوفزدہ حالت میں، میں نے کھلی فضامیں بھاگ جانا چاہا لیکن جیل کی کوٹھڑی کا دروازہ میری راہ میں سد سکندری بن گیا اور میں نڈھال ہوکر چبوترے پر ڈھے گیا۔ میرے ذہن میں نفرت و شکست کے زور دار نعرے گونجنے لگے۔ اس خود فراموشی کے عالم میں شاید میں نے آپ کے کندھے کو چھوا تھا۔ آپ ہی میرے سچے ہمدرد تھے لیکن آپ کا کندھا مجھے اپنے سوتیلے باپ کا کندھا نظر آیا، اس سپاہی کا کندھا نظر آیا جس نے مجھے ننگا کرکے بید لگائے تھے۔ پھر مجھے مارو، مارو کی آواز نے جکڑ لیا۔ میں پھر اپنے ہاتھوں کو روک نہیںسکتا تھا، بس مجھے اتنا ہی یاد ہے۔‘‘
میں کافی کچھ سمجھ گیا تھا۔ اگر اس نے یہی کچھ ڈاکٹر متین کو بتایا تھا تو میرا ’’شخصیت کا مطالعہ‘‘ مثبت معیار کا رہا تھا لیکن ہزاروں لاکھوں مجرموں کی سوانح شاید شاہ دین سے بھی زیادہ دردناک ہوں لیکن ان کا مطالعہ پولیس اور عدالتوں کا موضوع تو ہے نہیں۔ ہمارے ارد گرد ایسے کتنے ہی بچے ہیں جو شاہ دین جیسی محرومیوں کا شکار ہیں اور ان کے ذہنوں میں سراب چل رہے ہیں۔
شاہ دین کافی عرصے ہسپتال میں رہا اور اسے ایک خطرناک مریض سمجھا جاتا رہا۔ پھر وہ رہا ہوگیا اور خداداد نے اپنے کارخانے کے مالک سے مل کر اسے ملازم تو کرادیا لیکن وہ میرے پاس آتا رہتا ہے۔ قانون کی نظر بھی اس پر ہے اور نفسیات کی بھی۔ خداددا کی بیٹی کو بھی میں نے ہڈیوں کے ہسپتال بھیجا جہاں وہ آپریشن کے بعد دوڑنے کے قابل تو نہیں لیکن ایک بیساکھی سے چلنے کے قابل ہوگئی ہے۔ اس نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا کہ وہ شاہ دین کے اندر ٹوٹے ہوئے اپنائیت کے احساس کو جوڑنے میں کوشاں ہے۔
پنو کی بات تو رہ ہی گئی۔
پنو کے متعلق اس نے بتایا تھا کہ وہ صرف دودھ ہی نہیں بیچا کرتی تھی بلکہ اپنے خانہ بدوش ساتھیوں کے ساتھ مل کر چوری کی وارداتیں بھی کرلیا کرتی تھی۔ جب آتی تھی تو دروازے کی جھریوں سے اندر دیکھا کرتی تھی۔ اپنی اسی کیفیت کے تحت جب وہ پٹ جانے کے باعث گردوپیش سے کٹا ہوا تھا تو پروین نے اس کو دودھ کی خرید کے متعلق پوچھ کر پریشان کردیا تھا۔ اس نے پروین کو ماں سے ملنے کے متعلق کہا تھا۔ پھر اسے یاد آیا کہ ماں تو غصے سے صبح ہی سے گھر سے نکل گئی تھی۔ پنو کی گردن اسے اپنی ماں کی گردن کی طرح نظر آئی اور اس نے اسے گلے لگانا چاہا بلکہ اس کے گلے لگ کر رونا چاہا۔ اس نے یہ سمجھا کہ وہ اس پر مجرمانہ حملے کا ارادہ رکھتا ہے اس کی ماں بھی اسے پنو کی طرح ہمیشہ غلط ہی سمجھتی تھی۔ اس کے لاشعور میں ماں سے نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا اور اس نے ماں کو سمجھ کر پنو کو قتل کرڈالا۔
پنو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہوگیا تھا کہ اس پر کسی قسم کا مجرمانہ حملہ نہیں کیا گیا۔ اخبارات نے محض داستان کے لیے بات کو بڑھا کر بیان کیا ہے۔
شاہ دین دن رات خدا سے دعا مانگتا ہے کہ وہ مریضانہ حالت میں سرزد ہونے والا اس کا جرم معاف فرمائے۔
(مرسلہ: اقبال احمد ریاض، وانم باڑی، ماخوذ اردو ڈائجسٹ، لاہور)

شیئر کیجیے
Default image
قاضی ذوالفقار احمد

تبصرہ کیجیے